یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 7 از 19
 اور ہم سب ان ایرانیوں کے ساتھ جو ہمارے لینے کے لیے آئے تھے دوشنبے کے دن عصر سے پہلے بتاریخ 22 شوال بغداد سے نجف کی طرف روانہ ہوئے میں راستہ میں طرفین کے دلائل سوچ رہا تھا اور ہر ایک دلیل پر جو عتراض کرنا ممکن ہو سکتا تھا اس کا جواب بھی تیار کر لیتا تھا یہاں تک کہ میں نے ایک سو سے زیادہ دلائل تیار کر لیے اور ہر ایک دلیل پر اعتراض اور اس کا جواب بھی سوچ لیا اور اس طرح گویا کئی سو دلائل ذہن میں جمع ہو گئے راستہ میں مجھے بول الدم کی بیماری بھی لاحق ہو گئی جب ہم رئیس بن مزید کے گاؤں میں پہنچے جو اس وقت نادر شاہ کے قبضے میں تھا تو وہاں اہلِ سنّت و الجماعت کے بعض آدمی مجھے ملے جنہوں نے بتایا کہ نادر شاہ نے اس مباحثے کے لئے جو مشہور مفتی بھی اس کو اپنے علاقے میں مل سکتا تھا بلالیا ہے جن کی تعداد اب 70 مفتیوں تک پہنچ گئی ہے اور وہ سب کے سب رافضی ہیں جب میں نے یہ سنا تو "لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم اور انا للہ وانا اليه راجعون" پڑھا اور اس وقت میری طبیعت عجیب کش مکش میں پڑی ہوئی تھی کیونکہ میں یہ خیال کرتا تھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ میں بحث کرنے کے لئے نہیں آیا تو یہ بھی کمزوری کی دلیل ہے جس سے اہلِ سنّت کی کمزوری ثابت ہو گی اور بنا بنایا کام بگڑ جائے گا اور اگر مباحثے میں شریک ہو جاؤں تو پھر یہ ڈر ہے کہ کہیں یہ رافضی لوگ نادر شاہ کے سامنے مباحثہ کے اصلی حالات کو دوسری شکل میں ظاہر کریں اور انصاف کا خون ہو جائے لیکن بہت کچھ غور کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ نادر شاہ کے روبرو مباحثہ کرنے پر زور دیا جائے اور میں نادر شاہ سے یہی کہوں گا کہ آپ اپنے سامنے مناظرہ کرائیں اور اس کے علاوہ ایک ایسا منصف بھی مقرر کر دیں جو نہ سُنی ہو اور نہ شیعہ بلکہ یہودی یا عیسائی ہو تاکہ کسی کی طرفداری کا احتمال نہ رہے اور میں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر اہلِ کتاب میں سے کوئی منصف مقرر کیا گیا تو میں اس سے یہ کہوں گا کہ دیکھ ہم دونوں فریق نے تجھے حاکم بنایا ہے اور یہ یاد رکھ کہ خدا تعالیٰ کے رو برو تجھ کو جواب دینا ہے اس لئے ہماری باتوں کو اچھی طرح سمجھ کر تو نے فیصلہ کرنا ہو گا میں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر وہ یہودی یا عیسائی شیعوں کی طرفداری کرے گا تو میں آخری دم تک لڑوں گا خواہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ ضائع ہو جائے اس کے بعد مذکورہ بالا گاؤں سے ہم چہار شنبہ کی رات کے وقت میں نکلے اور رات میں خفیف سی بارش بھی ہو رہی تھی اور سخت سردی کے علاوہ اس قدر تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ انسان اپنے ہاتھ کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا اور یہ رات وہی تھی جس کی بابت ایک حماسی شاعر کہتا ہے۔
"فی ليلة من جمادى ذات اندية لا يبصر الكلب فی ارجاها الطنبا"
 بہر حال رات بھر چلنے کے بعد صبح کے قریب ہم ذوالکفل نبیؑ کے مشہد تک پہنچے اور کچھ تھوڑی دیر مشہد کے مکان کے باہر ہم نے آرام کیا اور فجر کی نماز ہم نے دندآن نامی کنوئیں پر پڑھی یہ مقام حلہ اور نجف کے درمیان نصف پر واقع ہے۔
شیخ آفندی کی قوتِ ایمانی
 اس اثنا میں نادر شاہ کا ایک قاصد دوڑتا ہوا آپہنچا اور مجھ سے کہنے لگا کہ جلدی کریں کیونکہ بادشاہ آپ کو بلاتا ہے میرے اور نادر شاہ کے خیمے کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا اور میں نے قاصد سے پوچھا کہ نادر شاہ کی کیا عادت ہے کہ جب کسی بادشاہ کا ایلچی اس کے پاس آتا ہے وہ اسی طرح راستے میں سے ہی اس کو بلا لیتا ہے یا کچھ دیر ٹھہرانے کے بعد اسے باریابی کا موقع دیتا ہے اس نے کہا صرف آپ کے ساتھ ہی ایسا کیا گیا ہےکہ آپ کو راستے سے ہی بلا لیا ہے ورنہ اور کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ اس کو ٹھہرانے کے بغیر ہی بلا لیا ہو میں اس سے گھبرایا اور دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جلدی بلانے کی غرض شاید یہی ہو کہ وہ مجھے مجبور کرےگا کہ تم "امامیہ" مذہب کی تصدیق کرو ممکن ہے کہ جبر کرنے سے پہلے وہ مجھے دنیاوی لالچ میں پھنسائے اور اگر میں دنیاوی لالچ میں نہ آیا تو پھر مجھ پر جبر کرے گا لیکن میں نے مصمّم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہی ہو کلمہ حق کے کہنے سے باز نہ رہوں گا اگر جان بھی چلی جائے تو پرواہ نہیں لیکن راستی کو نہ چھوڑوں گا اور کوئی دنیاوی طاقت مجھے حق کہنے سے نہیں روک سکے گی میرے دل میں اس وقت یہ خیال تھا کہ اسلام آنحضرتﷺ کی وفات کی وجہ سے چلتے چلتے رک گیا تھا اور پھر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی وجہ سے چلنے لگا اور پھر مسئلہ خلق القرآن کے وقت اس کی رفتار رک گئی لیکن امام احمد بن حنبلؒ کی وجہ سے پھر چلنے لگا اور اب پھر رک گیا ہے لہٰذا اگر میں ثابت قدم رہا تو یہ چلتا رہے گا اور اگر میں ٹھہر گیا تو یہ بھی ہمیشہ کے لئے ٹھہر جائے گا اور اس کی ترقی رک جائے گی کیونکہ اسلام کا ٹھہرنا یا چلنا علمائے کاملین کے ثبات قدم پر موقوف ہے اور چونکہ اس علاقے کے لوگ میری نسبت حُسنِ ظن رکھتے ہیں لہٰذا اگر میں اس امتحان میں ناکام رہا تو عام اہلِ سنّت شیعہ ہو جائیں گے اور اگر کامیاب ہو گیا تو اس کا اثر بھی بہت ہوگا بہر حال میں نے اپنے آپ کو موت کے لئے تیار کر دیا تھا اور کلمۂ شہادت پڑہتا ہوا اس مقام تک پہنچا جہاں سے دو بڑے بڑے بلند جھنڈے نظر آتے تھے میں نے ان کی بابت پوچھا تو کہا گیا کہ یہ جھنڈے شاہی خیمہ کے گردا گرد نصب کئے جاتے ہیں تاکہ فوجی افسروں کو یہ معلوم ہو جائے کہ بادشاہ اس خیمے کے اندر ہے اور وہ اپنے اپنے مناصب اور مراتب کے مطابق ان جھنڈوں کے یمیں اور یسار میں حسبِ قوانینِ مقررہ اتر پڑیں۔
 شیخ علیہ الرحمتہ نادری دربار میں
صفحہ 7 از 19