یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 8 از 19
 اس کے بعد ہم شاہی خیمہ تک پہنچے جو بڑے بڑے سات ستونوں پر نصب کیا گیا تھا اور پھر اس محل تک آئے جس کو کشک خانہ کہتے ہیں یہ کشک خانہ تقریباً پندرہ خیموں پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے بالمقابل نصب کئے ہوئے ہوتے ہیں اور جو ایوان دار قبہ نما شکل کی طرح ہوتے ہیں ان خیموں کی وہ جانب شاہی خیمے کے متصل تھی اس کے درمیان ایک تیسرا پردہ تھا جس کے دروازے پر پردے معلق تھے اور شاہی خیمے کے داہنے جانب جو خیمے تھے ان پر تقریباً چار ہزار رائفل بردار سپاہی دن رات پہرہ دیتے تھے اور بائیں جانب کے خیمے خالی تھے جس میں صرف کرسیاں بچھائی ہوئی تھیں جب میں کشک خانہ کے قریب پہنچا تو گھوڑے سے اتر پڑا اور میرے استقبال کے لئے ایک شخص نکلا جس نے میری بڑی تعظیم کی اور احمد پاشا اور اس کے خاص آدمیوں کی بابت مجھے پوچھتا رہا مجھے تعجب آتا تھا کہ یہ شخص اور اس کے خاص آدمیوں کا اس قدر کس طرح واقف ہوا لیکن اس نے خود ہی میرے اس تعجب کو دور کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام عبدالکریم بیگ ہے اور میں احمد پاشاہ کے پاس مدت تک ملازم رہا ہوں اور ان ایام میں ایرانی سلطنت کی طرف سے ایلچی بن کر سلطنت عثمانیہ کی طرف جا رہا ہوں اسی اثنا میں نو آدمی اور آگئے اور عبدالکریم بیگ ان کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو گیا لیکن میں بیٹھا رہا انہوں نے مجھے السلام علیکم کہا جس کا میں نے جواب دیا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگ کون ہیں لیکن عبدالکریم بیگ نے میرا ان سے تعارف کرایا اور کہا کہ یہ معیار الممالک حسن خاں اور یہ مصطفیٰ خاں ہے اور یہ نظر علی خاں ہے اور یہ مرزا ذکی ہے اور یہ مرزا کافی ہے جب میں نے معیار الممالک کا نام سنا تو میں کھڑا ہو گیا اس پر اس ان سب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مرحبا کہا یہ معیار الممالک نادر شاہ کا وزیراعظم کرجی النسل اور شاہ حسین مقبول کا چچا زادہ بھائی تھا پھر انہوں نے مجھے کہا کہ مہربانی کیجئے۔اور بادشاہ کی ملاقات کے لئے تشریف لے چلیں میں چل پڑا اور انہوں نے اس پردے کو جو سرا پردہ کے درمیان میں تھا اٹھایا جس کے بعد ایک دوسرا پردہ نظر آیا اور ان دونوں سرا پردوں کے درمیان تقریباً تین گز کا فیصلہ تھا انہوں نے مجھے وہاں ٹھہرا کر کہا کہ جہاں کہیں ہم ٹھہر جائیں گے وہاں آپ بھی ٹھہر جائیں اور جب ہم چلنے لگیں تو آپ بھی چلیں یہاں سے ہم کسی قدر بائیں جانب کو چلے جہاں سرا پردہ ختم ہو گیا تھا اور یہاں دفعتہً میری نظر ایک بہت بڑے برقعے پر پڑی جو سرا پردوں سے گھرا ہوا تھا اور دور سے دکھائی دیتا تھا اور جس کے اندر بہت سے خیمے تھے جس میں اس کی عورتیں اور تمام حرم رہتا تھا اتنے میں میری نظر شاہی خیمے پر جا پڑی اور میں نے دیکھا کہ نادر شاہ ایک بہت بلند کرسی پر جلو افروز ہے یہ خیمہ مجھ سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر تھا جب نادر شاہ نے مجھے دیکھا تو میرا نام لے کر بلند آواز سے مرحبا کہتے ہوئے کہا کہ احمد شاہ نے مجھے خبر دی ہے کہ میں نے عبداللہ آفندی کو آپ کے پاس بھیجا ہے پھر نادر نے مجھے کہا کہ آگے آئیے میں تقریباً دس قدم آگے بڑھا اور ٹھہر گیا اور میرے داہنے جانب تمام خوانین تھے۔اور بائیں جانب عبد الکریم بیگ تھا نادر شاہ نے پھر کہا آگے آئیے پھر دس قدم آگے بڑھا اور اسی طرح کرتے ہوئے میں تقریباً پانچ گز کے فاصلے پر پہنچ گیا۔ 
 نادر کا حلیہ
 نادر شاہ کی نشست سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک طویل القامت آدمی ہے اس کے سر پر مربع شکل کا ایک عجمی کلاہ تھا جس پر ریشمی پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس پر یاقوت موتی ہیرے غرض ہر ایک قسم کے نفیس جواہر لگے ہوئے تھے نادر شاہ کی گردن میں بھی موتیوں اور جواہر کے ہار تھے اور بازوں پر بھی کپڑے کے ٹکڑے پر نفیس جواہرات لگا کر کے کپڑے کو بازوؤں کے ساتھ سیا ہوا تھا چہرے سے عمر رسیدہ معلوم ہوتا تھا اگلے دانت گر گئے تھے اور تقریباً اسّی 80 سال کی عمر کا معلوم ہوتا تھا داڑھی اگرچہ وسمے سے سیاہ کی ہوئی تھی لیکن خوبصورت معلوم ہوتی تھی اور کمانی شکل کے کشادہ ابرو بہت خوبصورت تھے آنکھوں میں کسی قدر زردی تھی لیکن خوبصورتی سے خالی نہ تھیں خلاصہ یہ کہ وہ ایک خوبصورت انسان تھا اور جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کی ہیبت میرے دل سے زائل ہو گئی۔
نادر سے گفتگو اور مباحثہ کی تیاری
صفحہ 8 از 19