یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 9 از 19
پھر نادر شاہ نے ترکمانی زبان میں مجھے پوچھا کہ احمد پاشا کا کیا حال ہے میں نے کہا بخریت ہیں پھر کہنے لگا کیا تم کو معلوم ہے کہ میں نے تم کو کیوں بلایا ہے میں نے کہا نہیں کہا میں نے تم کو اس لئے بلایا ہے کہ میری سلطنت میں اس وقت دو مذہبی گروہ ہیں سُنی اور شیعہ اور ترکستان اور افغانستان کے لوگ ایرانیوں سے یہ کہتے ہیں کہ تم کافر ہو اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میری سلطنت میں ایسے لوگ ہوں جو ایک دوسرے کو کافر کہیں اس لئے آپ میری طرف سے وکیل ہیں اور آپ کا کام یہ ہوگا کہ آپ ان تمام کفریات کو دور کر کے سب کو ایک کر دیں تاکہ کوئی ایک دوسرے کو کافر نہ کہے اور سب آپس میں متفق ہو جائیں اور یہ تمام کارروائی آپ مجھ تک اور احمد پاشا تک بے کم و کاست پہنچا دیں اور اس کے بعد نادر شاہ نے مجھے یہ بھی حکم دیا کہ میں ظہر کے بعد ملا باشی علی اکبر سے ملوں اور یہ کہ میرا دار الضیافت اعتماد الدولہ کے پاس ہے یعنی میری ضیافت اور رہائیش کا انتظام اعتماد الدولہ کرے گا پھر نادر شاہ نے مجھے رخصت کیا میں وہاں سے ایسی حالت میں نکلا کہ خوشی کے مارے پھولا نہیں سماتا تھا کیونکہ ایرانیوں کا مذہبی معاملہ میرے ہاتھ میں آگیا تھا میں دار الضیافت میں آکر تھوڑی دیر ٹھہرا تھا کہ اتنے میں اعتماد الدولہ آگیا اور مجھے کھانا کھلانے کے لئے بلایا اور میری مہمانی کی خدمت کے لئے نظر علی خاں اور عبدالکریم بیگ اور ابوذر بیگ مقرر کئے گئے تھے جب میں اعتماد الدولہ کے پاس پہنچا تو میں نے اسے السلام علیکم کہا اور اس نے بیٹھے ہوئے میرے سلام کا جواب دیا اور میری تعظیم کے لئے کھڑا نہ ہوا اور اس کا یہ فعل مجھے بہت ناگوار معلوم ہوا اور میں نے دل میں یہ خیال کیا کہ نادر شاہ نے مجھے حکم دیا ہےکہ میں تمام کفریات کو مٹا دوں اس لئے بسم اللہ اعتماد الدولہ کے قتل سے کرنی چاہئیے کیونکہ اس نے عمداً ایک عالم کی تحقیر کی ہے لیکن جب میں بیٹھا تو اعتماد الدولہ فوراً کھڑا ہو گیا اور مجھے مرحبا کہا میں نے دیکھا کہ وہ ایک طویل القامت گورے رنگ کا آدمی ہے جس کی لمبی داڑھی پر وسمہ لگا ہوا تھا اور نہایت عقلمند اور علمی مذاکرات کو سمجھنے والا انسان تھا اور اس کی طبیعت کا میلان اہلِ سنّت و الجماعت کی طرف تھا بہرحال جب وہ کھڑا ہوگیا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ ان لوگوں کی رسم ہے کہ مہمان کے بیٹھ جانے کے بعد اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے ہیں میں نے اس کے پاس کھانا کھایا اور اس کے بعد حکم آگیا کہ میں ملا باشی علی اکبر کے ساتھ مناظرہ کروں میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میری جلو میں میری ضیافت کے منتظمین جا رہے تھے راستہ میں ایک شخص لمبے قد کا ملا جو بظاہر پٹھان قدر معلوم ہوتا تھا اس نے مجھے السلام علیکم اور مرحبا کہا میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اس نے کہا کہ میں ملا حمزہ قلنجانی افغانوں کا مفتی ہوں میں نے اس سے پوچھا کہ تم عربی زبان بولنی جانتے ہو اس نے کہا ہاں میں نے کہا کہ نادر شاہ نے مجھے تفصیلاً یہ نہیں بتایا کہ ایرانی رافضیوں کے کون کون سے کفریات کو دور کر دیا جائے اور شاید وہ بعض کفریات پر اڑ بیٹھیں یا ان کے بعض کفریات ایسے ہوں جو مجھے معلوم نہ ہوں کیونکہ مجھے ان کے مذہب کے تمام جزئیات سے واقفیت نہیں ہے لہٰذا برائے مہربانی اثنائے گفتگو میں اگر آپ ان کی کفریات پر آگاہ ہوں تو مجھے بتا دینا تاکہ میں اس کے دور کرنے کی کوشش کروں ملا حمزہ نے کہا کہ آپ بالکل نادر شاہ کی بات پر دھوکا نہ کھائیں کیونکہ نادر شاہ اسی صورت میں رافضیوں کے تمام کفریات کو دور کرنے کے لئے تیار ہو گا جب کہ آپ ملا باشی علی اکبر کے ساتھ مباحثہ کر کے اسے مغلوب کر لیں گے اس لئے آپ کو نہایت استقلال اور حزم و احتیاط کے ساتھ بحث کرنی ہوگی میں نے کہا کہ ملا باشی کے ساتھ بحث کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے یہ ڈر ہےکہ یہ لوگ ناانصافی کریں گے اور یہاں ہم اگر غالب بھی ہو جائیں تو پھر بھی نادر شاہ کو جا کر یہی کہیں گے کہ سُنی ہار گئے ہیں اور ہر ایک بات کو الٹی کر کے بتایا کریں گے ملا حمزہ نے کہا کہ آپ اس کی کچھ پروا نہ کریں کیونکہ نادر شاہ نے اصلیت کو دریافت کرنے کے لئے جاسوسوں کا ایسے طریق سے جال بچھایا ہے کہ کوئی شخص خلافِ واقع بات اس تک نہیں پہنچا سکتا ہے ہر ایک جاسوس کے اوپر دوسرا جاسوس نگراں مقرر کیا گیا ہے اور پھر کسی جاسوس کو یہ خبر نہیں کہ دوسرا جاسوس کونسا ہے اس لئے یہ بالکل ناممکن ہے کہ بادشاہ پر اصلیت پوشیدہ رہ جائے جب میں ملا باشی علی اکبر کے خیمے کے پاس پہنچا تو وہ پیادہ پا میرے استقبال کے لئے نکلا ملاباشی علی اکبر گندم گون کوتاہ قد کا آدمی تھا میں اپنے گھوڑے سے اترا اور اس نے مرحبا کہہ کر اپنی مسند کے اوپر مجھے بٹھایا اور خود میرے سامنے اس طرح بیٹھ گیا جیسے استاد کے سامنے شاگرد بیٹھتا ہے اس کے بعد سلسلہ کلام شروع ہو گیا ملا باشی نے ملا حمزہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آج ہادی خواجہ بحرُ العلم کو دیکھا ہے ہادی خواجہ حنفی المذہب بخارا کا قاضی تھا جو بحرُ العلم کہلاتا تھا اس کو بھی نادر شاہ نے مع دیگر چھ علماء کے بلایا تھا چنانچہ میرے آنے سے چار دن پہلے یہ لوگ نادر شاہ کے کیمپ میں پہنچ گئے تھے ملاحمزہ نے کہا کہ ہاں میں نے ہادی خواجہ بحرُ العلم کو دیکھا ہے ملاباشی علی اکبر نے کہا کہ معلوم نہیں وہ کس طرح بحرُ العلم کہلاتا ہے جب کہ علم کے نام سے بھی وہ واقف نہیں ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق شیعوں کے دلائل
صفحہ 9 از 19