Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگانے والے شیعہ گروہ کے ساتھ نکاح کا حکم


سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگانے والے شیعہ گروہ کے ساتھ نکاح کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ: ایک شخص نے اپنی اولاد کا رشتہ شیعہ لوگوں میں کیا ہوا ہے جس کی تمام برادری شیعہ ہے، اور اس کا حقیقی بھائی بھی شیعہ ہے، اور اس کا کھانا پینا بھی شیعہ لوگوں کے ساتھ اور رسومات شیعہ لوگوں کے ادا کرتا ہے مثلاً کڑھائی سیدنا عباسؓ کی جو مشہور ہیں وہ پکاتا ہے اور ان کی مجالس میں اصحاب ثلاثہؓ کو جو سبّ کرتے ہیں وہ ان کو حق پر سمجھتا ہے، اور ان کی مجلس میں شامل رہتا ہے اور پھر اس کی اولاد بھی یقیناً شیعہ ہے اور وہ ایسے شیعہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر بہتان عظیم بھی باندھتے ہیں اور اس اپنی اولاد کے لئے اہلِ سنت والجماعت کے آدمی سے رشتے لینا چاہتا ہے کیا اس کی اولاد کو اہلِ سنت والجماعت کا آدمی شریعتِ محمدیہﷺ کے مطابق رشتے دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جو شیعہ ایسا ہو کے ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا منکر ہو مثلاً اس کا عقیدہ ہو کہ (معاذ اللّٰہ) سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر جو تہمت لگائی گئی تھی وہ صحیح ہے وامثال ذالک: تو یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

بنا بریں صورت مسئولہ اگر واقعی یہ شخص سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر بہتان عظیم باندھتا ہے تو اس شخص کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں۔

(فتویٰ مفتی محمودؒ:جلد:1:صفحہ:247)