Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان جنگیں جو ہوتی رہیں۔ رحماء بینہم کہاں رہ گیا؟

  مولانا اللہ یار خاں

اعتراض:۔ صحابہ ؓ کے درمیان جنگیں جو ہوتی رہیں۔ رحماء بینہم کہاں رہ گیا؟

الجواب:۔

معترض کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو فرمایا وہ ٹھیک نہیں۔ کوئی ایماندار تو یہ اعتراض نہیں کر سکتا۔ جس کا قرآن پر ایمان ہو۔ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ مؤرخین نے جو واقعات بیان کئے ہیں وہ قرآن کے احکام کو رَد نہیں کر سکتے۔

اگر جھگڑے ہی رحماءبینہم کی تردید کرتے ہیں۔ تو جھگڑے کس کے درمیان ہوئے؟

اگر حضرت عائشہؓ اور حضرت امیر معاویہؓ ، رحماء بینہم کا مصداق نہیں تو حضرت علیؓ اور وہ جنہیں تُم اہل بیت کہتے ہو وہ رحماء بینہم کا مصداق کیسے رہ گئے؟

جب تمام صحابہؓ اور اہلِ بیت ،رحماء بینہم سے خارج ہیں تو اس کا مصداق بھی تو لکھیں۔۔۔ چلیں  تاریخ سے ہی دکھائیے۔

حضرت امیر معاویہؓ کا مطالبہ قصاصِ عثمانؓ کا تھا ۔ رافضی مؤرخین نے اسکو خلافت کا جھگڑا بنا ڈالا۔

اور بعد میں آنے والے تمام مؤرخین مکھی پر مکھی مارتے گئے۔

سورۃ الحجرات بین دلیل ہے کہ صحابہؓ کے جھگڑے عناد، لالچ یا کسی دنیوی غرض کے تحت نہیں تھے۔

اس لئے اس سورہ میں صحابہؓ کے اخلاق بتائے تاکہ رحماء بینہم کی صفت اُٹھ نہ جائے۔ مثلاً مومن یا تو نیک ہے یا بد۔رحماء بینہم تب رہیں گے جب نیک صورت قائم رہے۔اگر نیک ہے تو حاضر ہے یا غائب۔

حاضر ہے تو فرمایا

’’لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ‘‘

یہ فتنہ پیدا کرنے والی صفات ہیں۔

غائب ہے تو فرمایا ــ

’’ لَا یَغتب بعضکم بعضا۔۔۔۔۔۔الخ ۔

غیبت سے فتنہ اٹھتا ہے لہٰذا رحماء بینہم کا وصف اُٹھ جائے گا۔

پس رحماء کی صفت کے مصداق صحابہؓ اور اہلِ بیت ہمیشہ رہے۔ اس اعتراض کے ساتھ اس حقیقت پر بھی غور کرو کہ اگر رحماء بینہم کا وصف نہ رہے۔ تو اشداء علی الکفار مان لیں تو بتاؤ اہلِ بیت کو کس کھاتے میں ڈالو گے۔

ہوئے تم دوست جس کے

دشمن اُسکا آسماں کیوں ہو