صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عقل و بصیرت کی روشنی میں…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عقل و بصیرت کی روشنی میں

  مولانا قاری عبدالعزیز صاحب شوقی رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2
پھر تقریباً سوا لاکھ افراد میں سے چند گنے چنے افراد تو لائق شاگرد ثابت ہوں اور باقی سب نالائق۔ کیا دُنیا جہان کی قدیم و جدید تاریخ میں کوئی ایسا شاندار ریکارڈ دکھایا جا سکتا ہے؟ یا اس ذلت کے الزام کے لیے اللہ کے حبیبﷺ کے سوا اِن مہربانوں کو اور کوئی ملا ہی نہیں؟ پھر جس اُستاد کے اس قدر لاکھوں شاگرد ناکارہ ہوں اُن میں چند کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے، ان کے لائق ہونے کی کیا ضمانت ہے؟ ممکن ہے ان لاکھوں کی طرح یہ چند شاگرد بھی امتحان میں فیل ہوں، بہرحال معصوم نظر والوں کو سوچنا چاہیے کہ استاد و شاگرد اور رسولﷺ و اصحاب کرام رضی اللہ عنہم میں فرق پیدا کر کے انہوں نے نوبت کہاں تک پہنچائی ہے؟ کہ ایک کی عداوت دوسرے کے انکار کا باعث بنی جا رہی ہے۔ ہاں اگر در پردہ مقصد ہی یہ ہو کہ رسالت کا انکار کر دیا جائے (جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے) تو پھر کوئی بحث ہے نہ شکایت۔
3: ایک مصلح کا کمال یہ ہے کہ جو لوگ اس کے حلقۂ تربیت میں آ جائیں اُن میں اس کی اصلاح کا اثر کامل طور پر موجود ہو، اگر اصلاح کا اثر کسی مصلح کے گرد جمع ہو جانے والوں میں قطعاً نہ پایا جائے یا اثر موجود تو ہو؛ لیکن دیر پا نہ ہو تو ایسے شخص کو مصلح شاید کہہ لیا جائے؛ لیکن اس کو باکمال مصلح نہیں کہا جا سکتا۔
ہمارا ایمان ہے کہ رسول اکرمﷺ دُنیا کے اکمل ترین مصلح ہیں، قیامت تک اس امت میں اصلاح کے جس قدر بھی سلسلے پائے جائیں گے اُن سب کا مرکز حضور اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی ہے اور جس طرح اللہ رب العزت نے آپﷺ کو تمام دیگر کمالات سے پورے طور پر عنایت فرمایا۔ اب اگر حقائق سے آنکھیں بند کر کے یہ کہہ دیا جائے کہ رسولِ کریمﷺ کی شانِ مصلحت کا پر تو صرف معدودے چند حضرات کرام رضی اللہ عنہم پر پڑا باقی تمام حضرات کرام رضی اللہ عنہم محروم ہی رہے یا اس سے متاثر ہی نہیں ہوئے، تو کوئی انصاف والا اگر موجود ہے تو بتائے کہ یہ رسولِ اکرمﷺ کے مصلحانہ کمالات کی تعظیم ہے یا تنقیص؟
اس دور میں اگر کوئی آپﷺ کا پیرو و اصلاح و تجدید کا جذبہ لے کر اٹھتا ہے اور چند ہی روز میں اپنی مخلصانہ جدوجہد سے لاکھوں انسانوں کی کایا پلٹ کر دیتا ہے تو اس کے اثرات بھی برسوں نہیں صدیوں تک فنا نہیں ہوتے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ فیض ہوتا ہے آقائے مدنیﷺ کی اطاعت و اتباع کا، تو خود سرکارِ مدینہﷺ کے مصلحانہ کمالات کا اثر اور نتیجہ کیا ہونا چاہیے؟ لوگ کہنے کو تو ایک بات منہ سے نکال دیتے ہیں؛ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے اوراس کا اثر کہاں کہاں تک پہنچے گا؟ کسی قدر بھی عمیق نظر سے کام لیا جائے تو یہ بات صاف طور پر واضح ہو جائے گی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عداوت اور ان کے انکارِ ایمان کے پردہ میں اعتقادِ رسالت کی بنیادیں متزلزل ہیں۔ جس شخص کو رسالت و نبوت پر اعتماد ہو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عقیدت سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔

صفحہ 2 از 2