روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 10 از 13

یہی حالت ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کی ہے ان کی تفسیر ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کا یہ اعتقاد بڑے شد و مد سے ہے، جیسا کہ ہم نے تھوڑا سا اوپر دکھلایا ہے یہی حالت شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے انداز پر لکھا ہے۔

دیکھیے حضرات! خود علماءِ شیعہ فالظاهر کے وہی معنیٰ کر رہے ہیں جو ہم نے کیے ہیں، کہ فالظاهرکے معنیٰ یہ تو کھلی بات ہے سے کیا ہے مولوی اسماعیل کی طرح ظاہر بین اس کے معنیٰ کسی نے نہیں کیے یہ خود اس کی شکست اور لاجوابی کا اقرار ہے کہ اب ترجمے بھی غلط کر رہا ہے۔

2: شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی تمام شیعہ مذہب والوں میں ان چار مولویوں کے سوا کوئی ایک تنفس بھی ایسا نہیں جو تحریفِ قرآن کا قائل نہ ہو صرف ان چار شخصوں کے اقوال بھی بطورِ تقیہ کے ہیں۔

3: ائمہ معصومین کے اقوال اور متواتر روایاتِ تحریف کے مقابلے میں ان چار مولویوں کے قول کی کیا وقعت ہے؟ مولوی اسماعیل صاحب! آج ائمہ معصومین کو چھوڑ کر غیر معصومین مولویوں کے پیچھے کیوں دوڑے جا رہے ہیں؟ لوگوں کو تو کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ائمہ معصومین والا ہے، آج ائمہ معصومین کا مذہب منظور نہیں ہے؟ دیکھیے! امامِ معصوم کا قول احتجاجِ طبرسی صفحہ 137 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:  

وَالَّذِی بَدَا فِی الْكِتَابِ مِنَ الْاِزْرَاءِ عَلَى النبیﷺ مِنْ فِرْقَةِ الْمُلْحِدِيْنَ۔ 

ترجمہ: کتاب قرآنِ مجید میں جو برائی نبی کریمﷺ کی ہے یہ ملحدوں کی طرف سے ہے یعنی جامعینِ قرآن کی بڑھائی ہوئی ہے۔

دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ ملحدوں نے اس قرآن میں نبی کریمﷺ کی برائی کو داخل کر دیا تو آپ کے شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ وغیرہ نے اس برائی کو قرآن سے نکال دیا ہے۔

نیز تفسیر صافی صفحہ 13 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے ایک شخص کو آیات کے ربط کے متعلق جواب دیا:  

فَهُوَ مِمَّا قُدِّمَتْ ذِكْرُهٗ مِنْ اِسْقَاطِ الْمُنَافِقِيْنَ مِنَ الْقُرْاٰنِ بَيْنَ الْقَوْلِ فِی الْيَتٰمٰى وَبَيْنَ نِكَاحِ النِّسَاءِ مِنَ الْخِطَابِ وَالْقَصَصِ اَكْثَرُ مِنْ ثُلُثِ الْقُرْاٰنِ۔ 

ترجمہ: پس اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کر چکا ہوں کہ منافقوں نے قرآن میں سے بہت کچھ نکال ڈالا فِی الْيَتٰمٰى اور فَانْكِحُوْا کے درمیان میں بہت سے احکام اور قصے تھے جو تہائی قرآن دس پاروں سے زیادہ تھے وہ نکال ڈالے گئے اسی وجہ سے بے ربطی ہو گئی۔

البتہ شیخ صدوق اور شریف مرتضیٰ وغیرہ کا قول تب معتبر ہوتا جب وہ اس کی تائید میں کسی امامِ معصوم کا قول پیش کرتے اب تو ان مولویوں کا یہ قول یقیناً بطورِ تقیہ ہے۔

مناظر شیعہ:

حضرات! مولوی عبد الستار بار بار کہتا ہے کہ امامِ معصوم کا قول پیش کرو دیکھیے میں امامِ معصوم کا قول پیش کرتا ہوں۔

فروعِ کافی جلد سوم، کتاب الروضۃ صفحہ 26 پر ہے: اَقَامُوْا حُرُوْفَہٗ وَ حَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔ 

ترجمہ: جامعینِ قرآن نے حروف کو قائم رکھا اور اس کے حدود کو محرف کر دیا۔  

یہ ہمارے سیدنا محمد باقرؒ کا قول ہے اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن کے حروف میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی گئی، صرف احکام و معانی میں تحریف کی گئی اور امام کے اس قول کے ہوتے ہوئے باقی روایات ضعیف ہیں۔

اور ہماری تفسیر صافی کے صفحہ 14 پر مرقوم ہے:  

الصحیح من مذہب اصحابنا خلافہٗ 

ترجمہ: صحیح مذہب ہمارے اصحاب کا اس کے خلاف یعنی تحریف کے خلاف ہے۔

دیکھیے! صاحبِ تفسیر صافی لکھ رہے ہیں کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی اور آگے اس کی دلیل بھی صاحبِ تفسیر صافی نے پیش کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کی حفاظت اور قراءت اور جمع کرنے کا کتنا زبردست اہتمام کیا۔ جس چیز کا اتنا زبردست اہتمام کیا جائے، کیا وہ چیز بھی محرف اور غلط ہو سکتی ہے؟

دیکھیے مولوی عبد الستار صاحب! اگر ہمارا قرآن پر ایمان نہ ہوتا تو یہ ہمارے بزرگ اس طرح کیوں لکھتے؟

مناظر اہل سنت:مولوی اسماعیل صاحب نے فروعِ کافی سے جو روایت سیدنا باقرؒ کی پیش کی ہے: 

اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔

اس روایت میں تمام قرآنِ مجید کے حروف اور الفاظ کا قائم رکھنا کہاں لکھا ہے؟ اس میں تو مطلق حروف کو قائم رکھنے کا ذکر ہے، نہ تمام کا۔

علاوہ ازیں سیدنا محمد باقرؒ کی اسی روایت میں باقی امتوں کے متعلق بھی بعینہٖ یہی الفاظ سیدنا محمد باقرؒ نے فرمائے ہیں: 

اَنْ اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔

یعنی یہود و نصاریٰ اممِ سابقہ نے تورات و انجیل وغیرہ کے حروف قائم رکھے اور حدود کو محرف کیا۔ اب مولوی اسماعیل صاحب بتائیں، کیا اممِ سابقہ نے تورات و انجیل کے پورے الفاظ و حروف قائم رکھے اور وہ بھی قرآن کی طرح محفوظ ہیں؟ باقی صاحبِ تفسیر صافی کا الصحیح من مذہبناکہنا تقیہ پر محمول ہے دوسرے ائمہ معصومین کے اقوال اس کے خلاف ہیں تیسرے یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو دلیل صاحبِ تفسیر صافی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اہتمام کے متعلق لکھی ہے، کیا وہ آپ کے نزدیک معتبر ہو سکتی ہے؟ جب کہ آپ کے مذہب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خائن اور غاصب و ظالم بلکہ کافر و مرتد ہیں مولوی اسماعیل صاحب! تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو، کسی جنگل میں ماتم و نوحہ خانی نہیں کر رہے کچھ سوچ سمجھ کر بولیے۔

دیکھیے! امامِ معصوم کا قول اصولِ کافی صفحہ 471:  

عن ابی عبداللّٰہ علیہ السلام قال: اِنَّ الْقُرْاٰنَ الَّذِی جَآءَ بِهٖ جبريل عليه السلام الى محمدﷺ سَبْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ اٰيَۃٍ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: بہ تحقیق جو قرآن جبرئیل علیہ السلام محمدﷺ پر لائے تھے وہ سترہ ہزار آیات تھیں۔

دیکھیے! آپ کا قول امامِ معصوم فرما رہے ہیں کہ جو قرآن جبرئیل علیہ السلام حضرت محمدﷺ کی طرف لائے وہ سترہ ہزار آیات تھیں، مگر موجودہ قرآن کی سات ہزار سے بھی کم آیات ہیں اب فرمائیے! قرآن مکمل رہا؟ نیز احتجاجِ طبرسی صفحہ 135 پر ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  

صفحہ 10 از 13