بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم:
فائدہ جلیلہ
شیعہ مذہب میں عقیدہِ تحریفِ قرآن یعنی موجودہ قرآن ناقص و زائد ہے اور اصلی قرآن کے خلاف ہے یہ عقیدہِ امامت کی طرح بلکہ اس سے کچھ زائد روایاتِ متواترہ سے ثابت ہے۔
1: کتبِ معتبرہِ شیعہ میں تحریفِ قرآن کی روایتیں زائد از دو ہزار ہیں اور یہ روایاتِ امامت سے بھی زیادہ ہیں۔
2: شیعہ محدثین نے روایاتِ تحریف کو ائمہِ معصومین سے روایت کیا ہے۔
3: یہ زائد از دو ہزار روایتیں بقولِ محدثینِ شیعہ، متواتر اور مستفیض ہیں جیسا کہ اہلِ سنت کے نزدیک قرآنِ مجید کا صحیح، کامل و مکمل اور غیر محرف ہونا متواتر ہے۔
4: یہ زائد دو ہزار روایتیں علماءِ شیعہ کی تصریح کے مطابق، تحریفِ قرآن پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں۔
5: موجودہ قرآن کے کامل و مکمل اور غیر محرف ہونے کی کوئی ایک روایت بھی کتبِ شیعہ میں کسی ایک امامِ معصوم سے نہیں ملتی گویا کہ موجودہ قرآنِ مجید شیعوں کے نزدیک خبرِ واحدِ صحیح معتبر کے برابر بھی نہیں۔
6: شیعہ میں مشائخ و مجتہدین کا ان روایاتِ زائد از دو ہزار کے مطابق قرآنِ مجید کے محرف اور ناقص ہونے پر بڑے شد و مد سے اعتقاد ہے۔
7: روایاتِ تحریفِ قرآن شیعہ کی بڑی بڑی معتبر کتابوں میں ہیں، جن کتابوں پر شیعہ مذہب کا دار و مدار ہے۔
8: شریف مرتضیٰ، شیخ صدوق، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی ان گنتی کے چار اشخاص کے سوا تمام شیعہ تحریفِ قرآن کے عقیدے میں متفق اور متحد ہیں۔
9: مگر ان چار اشخاص کا قول، حضراتِ ائمہِ معصومین کے بے شمار اقوالِ تحریف کے مقابلے میں کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے؟
ب: ان چاروں کا انکارِ تحریف بھی ازراہ تقیہ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی تائید میں کوئی روایت ائمہِ معصومین کی پیش نہیں کی۔
ج: زائد از دو ہزار روایاتِ تحریف کا کوئی جواب نہیں دیا۔
د: روایاتِ تحریف کو اگرچہ ضعیف تو کہہ دیا مگر وجہِ ضعف کی کچھ بھی بیان نہیں کی۔
ھ: موجودہ قرآنِ مجید کے کامل و مکمل ہونے کی دلیل ان چاروں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دین داری اور ان کی مساعیِ جمیلہ کو بنایا ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ جب شیعہ مذہب کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ فاسق و فاجر اور مرتد و منافق اور دشمنانِ دین اور دشمنانِ اہلِ بیتؓ تھے، تو ان کی دین داری اور حفظِ قرآن کی مساعیِ جمیلہ پر کیسے اعتبار ہو سکتا ہے؟
10: شیعہ علماء میں سے جو لوگ اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ قرآن کو غیر محرف اور کامل و مکمل مانتے ہیں، تو ان کا اہلِ سنت کی طرح یہ فرض تھا کہ وہ قائلینِ تحریف کو کافر کہتے اور سمجھتے مگر شیعہ علماء میں سے کوئی بھی قائلینِ تحریف کو کافر نہیں کہتا۔
جب شیعہ علماء اپنا ایمان موجودہ قرآن کے کامل و مکمل اور غیر محرف ہونے پر ثابت نہیں کر سکتے، تو اہلِ سنت سے کہتے ہیں کہ اگر ہماری کتابوں میں روایاتِ تحریف ہیں تو تمہاری کتابوں میں بھی روایاتِ تحریف موجود ہیں اور اس کے ثبوت میں کتبِ اہلِ سنت سے نسخِ تلاوت اور اختلافِ قرأت کی روایات کو خواہ مخواہ تحریف کی روایات قرار دے کر پیش کرتے ہیں مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح ہم نے تمہاری روایاتِ تحریف ان اقراروں کے ساتھ پیش کی ہیں کہ یہ روایاتِ تحریف متواتر ہیں، اور تحریف پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں، اور ائمہِ معصومین کی روایات ہیں، اور تمہارے مشائخ و علماء کا ان روایات کے مطابق تحریفِ قرآن کا اعتقاد ہے، اسی طرح تم بھی کوئی روایت ہمارے علماء و مشائخ کی ان اقراروں کے ساتھ پیش کرو، یا ہمارے مشائخ میں سے کسی ایک متنفس کا عقیدہ پیش کرو کہ وہ تحریفِ قرآن کا معتقد ہو تو وہ مبہوت ہو جاتے ہیں اور زبان و قلم پر مہر لگ جاتی ہے اہلِ سنت میں سے آج تک کوئی ایک متنفس بھی تحریفِ قرآن کا قائل و معتقد نہیں ہوا تمام اہلِ سنت بالاتفاق معتقدِ تحریف کو کافر کہتے ہیں۔
فائدہ دوم:مسئلہ خلافت میں، چونکہ شیعہ عقیدے میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل توحید و رسالت و قیامت کی طرح اصولِ دین میں سے ہے۔ جس کا منکر کافر و مرتد ہے لہٰذا ایسے اصولِ دین کے لیے صریح نصِ قرآن کا ہونا ضروری ہے بناءً علیہ، شیعہ علماء سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ خلافتِ بلا فصل سیدنا علیؓ اور تمام بارہ ائمہ کی امامت کو توحید و رسالت و قیامت کی طرح قرآنِ مجید کی نصِ صریح سے واضح اور صاف الفاظ میں ثابت کرو جیسا کہ توحید و رسالت اور قیامت کے متعلق متعدد صریح اور واضح نصوص موجود ہیں مثلاً:
لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 136)
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الخ۔(سورۃ آل عمران: آیت 18)
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔(سورۃ الصافات: آیت 35)
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 87)
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ الخ۔(سورۃ آلِ عمران: آیت 144)
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ الخ۔(سورۃ الاحزاب: آیت 40)
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ الخ۔(سورۃ الفتح آیت 29)
اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا الخ۔(سورۃ غافر: آیت 59)
لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ۞(سورۃ القیامہ: آیت 1)
وغیرہ وغیرہ مگر قیامت تک شیعہ مذہب اس قسم کی کوئی نص پیش نہیں کر سکتے جب خلافتِ بلا فصل سیدنا علیؓ اور باقی ائمہ کی امامت کو نصِ صریح سے ثابت کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اہلِ سنت و الجماعت سے کہتے ہیں کہ تم اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت منصوص من اللہ ثابت کرو حالانکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت اصولِ دین سے نہیں بلکہ دینی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے کہاں اور اصولِ دین توحید و رسالت و قیامت اور کہاں دینی مسائل اور فروعاتِ دین ان دونوں کے برابر سمجھنا انتہائی جہالت و حماقت ہے کیونکہ شیعہ خلافت اور امامت کے منصوص من اللہ اور اصول دین ہونے کے مدعی ہیں اور 12 اماموں کو جناب رسول اللہﷺ کے برابر مانتے ہیں اور باقی انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھتے ہیں تو جیسے جناب رسول اللہﷺ کی رسالت قرآن میں واضح اور منصوص بالاسم ہے، اسی طرح اماموں کی امامت بھی منصوص بالاسم قرآن مجید سے ثابت کریں کیونکہ ائمہ شیعوں کے نزدیک حضورِ اکرمﷺ کے مثل ہیں اور خلفاء کی خلافت کا اہلِ سنت کے نزدیک منصوص بالاسم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ تمام خلفاء غلامانِ محمدﷺ ہیں، نہ کہ مثلِ محمدﷺ لیکن اب شیعوں کا بارہ ائمہ کی خلافت و امامت کا منصوص بالاسم قرآنِ مجید میں ہونا تو درکنار، صرف ایک سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل بھی قرآن سے ثابت نہیں کر سکتے تو کہتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے غدیرِ خم (جنگل کے تالاب) پر من كنت مولاه فھذا علی مولاه کا اعلان فرمایا تھا جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل اصولِ دین میں سے ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اس کا اعلان نہ قرآن میں نہ حدیثِ متواترہ میں، نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اللہ میں، نہ مسجدِ نبوی میں، اور نہ عرفات و منیٰ میں جہاں ہزاروں کا مجمع تھا بلکہ ایسا ضروری اعلان ایک جنگل کے تالاب پر اور وہ بھی گول مول الفاظ میں، جن کے معنیٰ خلافتِ بلا فصل قطعاً نہیں ہو سکتے تو اس کے جواب میں سرا سیمہ ہو کر رقص جمل کرنے لگتے ہیں۔
وَمَا تَوْفِيقِی اِلَّا بِاللهِ
سبب مناظرہ:
باگڑ سرگانہ ضلع ملتان میں ایک معروف مقام ہے جہاں ایک شریف اور معزز قوم سرگانہ آباد ہے جو اہلِ سنت ہے اس مقام کے ارد گرد کچھ ذمہ دار جو سرگانہ برادری کے ہیں وہ اہلِ تشیع سے تعلق رکھتے ہیں آپس کے برادرانہ تعلقات اور میل جول کے باعث دونوں پارٹیوں میں شیعہ سنی مذاکرات ہو جایا کرتے تھے چونکہ شیعہ حضرات کو عموماً مذہبی تعصب زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ان کے پیہم اصرار پر دونوں فریق کے درمیان طے پایا کے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے باگڑ سرگانہ میں برادرانہ محبت سے ایک مجلسِ مناظرہ قائم کی جائے چنانچہ ہر دو پارٹیوں کے نمائندے، سید گلاب شاہ صاحب، عالم شیعہ ساکنِ شہر ملتان کے ساتھ مل کر حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان کے پاس آئے اور شرائطِ مناظرہ تقریباً دو ماہ پہلے طے کیں پھر 13 اکتوبر 1956ء کو ہر فریق اپنے اپنے علماء و مناظرین کو باگڑ سرگانہ لے آیا اور تین دن تک نہایت امن و امان سے مناظرہ ہوتا رہا۔
شرائط مناظرہ:
جن پر دونوں فریق نے دو ماہ پہلے دستخط کر دیے تھے موضوع مقررہ من جانب اہلِ سنت و الجماعت:
1: تحریفِ قرآن از روئے کتبِ شیعہ۔
2: سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلا فصل بنصِ قرآن و حدیث متواترہ صحیح از کتب اہلِ سنت و الجماعت۔
موضوع مقررہ از جانب اہلِ تشیع:
1: حقانیت خلافت اصحابِ ثلاثہؓ بقرآنِ کریم و حدیث رسول اللہﷺ۔
2: مسئلہ فدک
یہ لطیفہ بھی ذکر کر دینا خالی از لطف نہیں کہ وہ دو ماہ پہلے شرائط طے کرتے وقت نہایت سوچ بچار کے بعد دوسرا موضوع شیعہ حضرات نے مسئلہ فدک مقرر کیا تھا مگر جب عین مناظرے کی حالت میں شیعہ مناظر مولوی محمد اسماعیل تحریفِ قرآن کے دلائل میں لا جواب اور مبہوت ہوئے تو انہوں نے مسئلہ فدک کے موضوع کو چھوڑ کر اس قسم کا دعویٰ باطل کر دیا کہ اہلِ سنت کے نزدیک بھی قرآن، اہلِ تشیع کی طرح محرف ہے اس لیے میں مسئلہ فدک کی بجائے اہلِ تشیع کی طرف سے دوسرا موضوع اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کا محرف و مغير ہونا مقرر کرتا ہوں چنانچہ مناظرِ اہلِ سنت نے نہایت فراخ دلی سے اس کو اجازت دے دی کہ تم اپنا دوسرا موضوع جو چاہو رکھ لو، مجھے منظور ہے اس لیے دوسرا مسئلہ فدک کی بجائے مسئلہ تحریفِ قرآن اہلِ سنت کے نزدیک عین مناظرہ میں مقرر ہوا جس سے عام پبلک کے علاوہ خود شیعہ حضرات پر یہ حقیقت بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ شیعہ مناظر، اہلِ سنت کے مناظر کے مقابلے میں لا جواب ہو کر اس قسم کی فرار کی راہیں اختیار کر رہا ہے۔
شرائط مناظرہ میں یہ ایک اصولی شرط لکھی گئی کہ کسی فریق کے مناظر کو ایک موضوع کی بحث کے درمیان دوسرا کوئی موضوع چھیڑنے کی اجازت نہ ہوگی اور کوئی مناظر خلطِ مبحث نہ کرے گا ورنہ اس کی شکست تصور ہوگی نیز یہ ضروری ہو گا کہ ایک موضوع ختم ہونے کے بعد دوسرا موضوع شروع کیا جائے، کیونکہ خلط ملط کرنے سے حق پوری طرح عوام کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔
اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق
اسماء اہل سنت و الجماعت:
مناظر:مناظرِ اعظم حضرت علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ۔
صدر: فاتحِ اعظم حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب آف چکڑالہ۔
معین:امامِ پاکستان علامہ سید احمد شاہ صاحب بخاریؒ چکڑالوی۔
ان حضرات کے علاوہ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان اور حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ رحمہم اللہ تعالیٰ بھی موجود تھے۔
سرپرستِ محترم: حاجی مہر شوق محمد صاحب سرگانہ
اسماء اہل تشیع:
مناظر: مولوی محمد اسماعیل، صدر دارُ التبلیغ گوجرہ
صدر: مولوی امیر محمد قریشی
معین:تلمیذِ مولوی محمد اسماعیل، سید ضمیر الحسن، سید گلاب شاہ ملتانی، مولوی مشتاق احمد ڈیروی، مولوی سیف اللہ جعفری اور مولوی غلام محمد محمودی بھی تھے۔
سرپرستِ محترم: مہر حق نواز سرگانہ
نیز یہ طے پایا کہ دونوں مناظرین کی پہلی تقریریں 15، 15 منٹ ہوں گی اور بعد میں 10، 10 منٹ ہوں گی۔
تفصیلِ مناظرہ:
مناظرہ 1: مدعی اہلِ سنت و الجماعت کا کہ اہلِ تشیع کے نزدیک ائمہ معصومین کی روایات سے موجود قرآنِ کریم محرف و مبدل ہے۔
مناظرہ اہلِ سنت: حضرت علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسویؒ
الحمد للّٰہ رب العالمین، و العاقبة للمتقین، و السلام علی محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔
اما بعد: اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)
حضرات! جس مبارک کتاب کی محافظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ داری اٹھائی ہے، اور جسے آں حضرت محمدﷺ اور آپﷺ کے اہلِ بیتِ کرامؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی جاں فشانی و قربانی سے ہم تک پہنچایا ہے، اس کے متعلق شیعہ مذہب یہ کہتا ہے کہ اس میں کفر کے ستون قائم کیے گئے ہیں کمی پیشی، تحریف و تبدیل اور جناب رسولِ اکرمﷺ کی توہین کی گئی۔
یہ میرے ہاتھ میں الاحتجاج طبرسی، شیعہ، صفحہ 137 ہے:
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا:
ثُمَّ دَفَعَهُمُ الِْاضْطِرَارُ بِوُرُوْدِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهِمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ، تَاْوِيْلَهٗ، اِلیٰ جَمْعِهٖ، وَتَاْلِيْفِهٖ، وَتَضْمِيْنِهٖ مِنْ تِلْقَائِهِمْ مَا يُقِيْمُوْنَ بِهٖ دَعَائِمَ كُفْرِهِمْ۔
ترجمہ: پھر جب ان منافقوں سے وہ مسائل پوچھے جانے لگے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، تو مجبور ہو کر قرآن کو جمع کیا، اس کی تاویل کی، اور قرآن میں وہ باتیں بڑھائیں جن سے وہ اپنے کفر کے ستون قائم کریں۔
غور کیجیے! سیدنا علی المرتضیٰؓ امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون قائم کر دیے گئے۔
تفسیر الصافی صفحہ 11: عَنْ اَبِی جَعْفَر عليه السلام: لَوْلَا اَنَّهٗ زِيْدَ فِی كِتَابِ اللهِ وَنُقِصَ مِنْهُ مَا خَفِیَ حَقُّنَا عَلَى ذِی حِجىٰ۔
سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں: اگر قرآن میں اضافہ نہ کیا گیا ہوتا اور کمی نہ کی گئی ہوتی تو ہمارا حق کسی عقلمند پر پوشیدہ نہ ہوتا۔
خیال فرمائیے! سیدنا محمد باقرؒ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ قرآن میں کمی و بیشی کر دی گئی ہے۔
اصولِ کافی صفحہ 262: عن ابی عبد الله عليہ السلام: وَمَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فِی وِلَايَةِ عَلِیٍّ وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا هَكَذَا نَزَلَتْ۔
ترجمہ: سیدنا ابی عبد اللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی: مَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا۔
موجودہ قرآن میں فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ۔ کے الفاظ نہیں ہیں معلوم ہوا کہ موجودہ قرآن ناقص ہے۔
الاحتجاج طبرسی، صفحہ 131: سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا: اِنَّهُمْ اَثْبَتُوا فِی الْكِتَابِ مَا لَمْ يَقُلْهُ اللهُ لِيُلَبِّسُوْا عَلَى الْخَلِيْفَةِ۔
ترجمہ: ان منافقوں نے قرآن میں وہ باتیں بڑھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی تھیں، تاکہ مخلوقِ خدا کو فریب دیں۔
دوستو! سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جامعینِ قرآن نے ایسی چیزیں درج کر دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائیں۔
تفسیر الصافی، صفحہ 11: وَعَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَام: اِنَّ الْقُرْاٰنَ قَدْ طُرِحَ مِنْهُ اٰیٌ كَثِيْرَةٌ، وَلَمْ يُزَدْ فِيْهِ اِلَّا حُرُوْفٌ۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے: بہ تحقیقِ قرآن سے بہت سی آیات گرا دی گئیں، مگر جو زیادہ کیا گیا وہ کہیں کہیں حرف بڑھا دیا گیا ہے۔
دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی بہت سی، بے شمار آیات گرا دی گئیں۔
فصلُ الخطاب از شیعہ، صفحہ 7: عَنْ اَبِی ذَرِّ الْغِفَارِیّؓ: اَنَّهُ لَمَّا تُوْفِّیَ رَسُوْلُ اللهِﷺ جمع عَلِیّ عليه السلام القراٰن وَجَاءَ بِهٖ اِلَى الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، وَعَرَضَهٗ عَلَيْهِمْ لِمَا قَدْ اَوْصَاهُ بِذٰلِكَ رَسُوْلُ اللهِﷺ، فَلَمَّا فَتَحَهٗ اَبُو بَكْرٍ، خَرَجَ فِی اَوَّلِ صَفْحَةٍ فَتَحَهَا فَضَائِحُ الْقَوْمِ، فَوَثَبَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا عَلِیُّ اُرْدُدْهُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيْهِ. فَاَخَذَهٗ عَلِیٌّ عليه السلام وَانْصَرَفَ. ثُمَّ اُحْضِرَ زَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ، وَكَانَ قَارِیاً لِلْقُرْاٰنِ ، فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ: اِنَّ عَلِيًّا جَاءَنَا بالْقُرْاٰنِ وَفِيْهِ فَضَائِحُ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، وَقَدْ رَاَيْنَا اَنْ نُؤَلِّفَ الْقُرْاٰنَ وَنُسْقِطّ مِنْهُ مَا كَانَ فَضِيْحَةً وَهَتْكًا لِلْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، فَاَجَابَهٗ زَيْدٌ اِلٰى ذٰلِكَ۔
ترجمہ: سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے قرآن کو جمع کیا اور مہاجرین و انصار کے پاس لائے اور ان پر پیش کیا، کیونکہ رسول اللہﷺ کی اس کے متعلق وصیت تھی۔ جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے قرآن کا پہلا صفحہ کھولا تو اس پر قوم کی برائیاں تھیں بس سیدنا عمر فاروقؓ ڈر گئے اور کہنے لگے: اے علیؓ! اسے لے جاؤ، ہمیں اس کی حاجت نہیں پس حضرت علیؓ وہ قرآن لے کر واپس چلے گئے اس کے بعد سیدنا زید بن ثابتؓ کو بلایا گیا، جو قرآن کے قاری تھے تو سیدنا عمرؓ نے ان سے کہا کہ سیدنا علیؓ ہمارے پاس قرآن لائے تھے جس میں مہاجرین و انصار کی ہتک اور معائب تھے اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ قرآن جمع کریں اور اس میں سے مہاجرین و انصار کی ہتک والی آیات گرا دیں تو سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: میں ایسا کر دیتا ہوں۔
حضرات! غور کیجیے، یہ روایت کھلم کھلا ثابت کرتی ہے کہ سیدنا علیؓ کا قرآن اور تھا جس میں مہاجرین و انصار کے ہتک اور معائب تھے اب موجودہ قرآن میں تو مہاجرین و انصار کی تعریف ہے تو ثابت ہوا کہ قرآن شیعہ کے نزدیک محرف و مبدل ہے، اور وہ سیدنا علیؓ والا قرآن نہیں ہے۔
مرآة العقول جلد اول، صفحہ 171: قال جعفر بن محمد الصادق: اما والله لو قُرِئ القراٰن كما انزل لَالفيتمونا فيه مُسَمَّئين۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قرآن اسی طرح پڑھا جائے جس طرح نازل کیا گیا تو تم یقیناً ہمیں اس میں ہمارا نام پاؤ گے۔
سیدنا جعفر صادقؒ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اصلی و صحیح قرآن میں ائمہ کے نام لکھے ہوئے تھے، مگر اس موجودہ قرآن میں ائمہ کے نام نہیں۔ تو معلوم ہوا قرآن محرف ہوا۔
تفسیر مقبول صفحہ 407: اَلتَّائِبُوۡنَ الۡعَابِدُوۡنَ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 112)
کافی میں منقول ہے کہ سیدنا محمد باقرؒ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو سیدنا باقرؒ نے فرمایا: یوں نہیں ہے، بلکہ اَلتَّائِبِيْنَ الْعَابِدِيْنَ ہے۔
غور کیجیے! اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ قرآن میں التائبون العبدون الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 112) غلط ہے۔
تفسیرِ قمی صفحہ 129: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: نزلت: فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ وَاِلیٰ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ۔
مگر موجودہ قرآن میں وَاِلیٰ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ موجود نہیں ہے تو شیعہ کے نزدیک امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہوا کہ موجودہ قرآن میں یہ آیت غلط و محرف ہے۔
اصولِ کافی صفحہ 671: پر مرقوم ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنا قرآن جمع کر کے مہاجرین و انصار کے پاس لائے تھے مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:
وَاللهِ مَا تَرَوْنَهٗ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هٰذَا اَبَدًا:
ترجمہ: خدا کی قسم، آج کے بعد اس قرآن کو کبھی نہیں دیکھو گے۔
تو غور کیجیے میں نے ائمہِ معصومین کے یہ 10 اقوال شیعہ کی معتبر کتابوں سے پیش کیے ہیں اگر مناظر میں ہمت ہے تو میری ہر ایک دلیل کا جواب دے، اور اپنی کسی معتبر کتاب سے 12 ائمہ میں سے کسی ایک معصوم کا کوئی ایک معتبر تفصیلی قول پیش کر دے جس میں موجود ہو کہ موجودہ قرآن بغیر کسی تحریف و تبدیل اور کمی و بیشی کے کامل و مکمل ہے میرا دعویٰ ہے کہ شیعہ مناظر دنیا بھر کی اپنی معتبر کتب سے امامِ معصوم کا قیامت تک معتبر قول اس قسم کا پیش نہیں کر سکتا۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔
تقریر مناظر اہل تشیع مولوی محمد اسماعیل گوجروی
بعد از خطبہ:
مومنو! قرآنِ مجید میں ہے:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)
ترجمہ: ہم نے قرآنِ مجید کو نازل فرمایا اور ہم خود اس کے محافظ ہیں۔
تو جب اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے تو کون اس کو محرّف و مبدّل کر سکتا ہے؟ اور نصِ قرآن کے مقابلے میں کوئی روایت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اور نہ ہم تحریف و تبدیل کے قائل ہیں۔
مولوی عبد الستار صاحبؒ بار بار تفسیر الصافی کے حوالے پیش کرتا ہے دیکھیے میرے ہاتھ میں یہ تفسیر الصافی ہے اسی آیتِ مذکورہ بالا کے نیچے لکھا ہوا ہے:
مِنَ التَّحْرِيْفِ وَالتَّغْيِيْرِ وَالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ۔
ترجمہ: یعنی: ہم خود قرآن کو تحریف، تغییر، زیادتی اور کمی سے محفوظ رکھیں گے۔
تو دیکھیے! ہمارے نزدیک قرآنِ مجید ہر قسم کی تحریف و تغییر، کمی اور بیشی سے محفوظ ہے ہمارا اسی پر عمل ہے ہم اسی قرآن کو پڑھتے، پڑھاتے ہیں نمازوں میں پڑھتے ہیں ہمارا اور کوئی قرآن نہیں ہے لہٰذا ہمارا اس پر ایمان ہے۔
2: دیکھیے! ہمارے پیر و مرشد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنَّا لَمْ نُحَكِّمِ الرِّجَالَ وَاِنَّمَا حَكَّمْنَا الْقُرْاٰنَ، وَهٰذَا الْقُرْاٰنُ اِنَّمَا هُوَ خَطٌّ مَسْطُوْرٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ۔ (نہج البلاغہ: جلد 2 صفحہ 7)
ترجمہ: ہم نے لوگوں کو فیصل نہیں بنایا، بلکہ ہم نے قرآن کو فیصل مانا اور یہ قرآن صرف دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے۔
دیکھیے! ہمارے سیدنا علی المرتضیٰؓ اسی قرآن کو مانتے ہیں جو دو گتوں کے درمیان ہے اور اسی پر ہم اہلِ تشیع کا ایمان ہے۔
3: اصولِ کافی: صفحہ 39، پر مرقوم ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:
فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللهِ فَخُذُوهُ وَمَا خَالَفَ كِتَابَ اللهِ فَدَعُوهُ۔
ترجمہ: جو حدیث کتابِ اللہ کے موافق ہو اسے مان لو، اور جو حدیث کتابِ اللہ کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو۔
غور کیجیے! ہمارے نزدیک قرآنِ مجید کا یہ مرتبہ ہے کہ اس کے مقابلے میں ہم کوئی حدیث اور روایت نہیں مانتے تو ہم اہلِ تشیع کا اسی قرآن پر ایمان ہے۔
4: قرآنِ مجید متواتر و طبقاتی ہے اخبارِ آحاد اس کو معرّف ثابت نہیں کر سکتیں اور جو روایات مولوی عبد الستار صاحب نے الاحتجاج طبرسی وغیرہ کتبِ شیعہ سے پیش کی ہیں، یہ تمام روایات موضوع ہیں، یہ غلط ہیں۔
چونکہ قرآن متواتر و طبقاتی ہے، اس لیے مولوی عبد الستار صاحبؒ بھی تحریف کے ثبوت کے لیے متواتر و طبقاتی روایات پیش کریں باقی کسی قسم کی کوئی روایت ہمارے نزدیک تحریف ثابت نہیں کر سکتی۔
تو مولوی عبد الستار صاحبؒ ایسی ضعیف روایات سے شیعہ مذہب کے متعلق کیسے ثابت کر سکتا ہے کہ ان کے نزدیک موجودہ قرآن کامل و مکمل نہیں؟ یا اس میں تحریف و تبدیل کی گئی ہے؟ یا اس قرآن کے ذریعے کفر کے ستون کھڑے ہوتے ہیں؟
اگر ہمارے نزدیک یہ قرآن کفر کے ستون کھڑے کرتا، تو پھر ہم اسے کیوں پڑھتے؟ اور بچوں کو کیوں پڑھاتے؟ دنیا کے سامنے اسٹیجوں پر وعظ کیوں کرتے؟
مناظرینِ اہل سنت: علامہ تونسوی
بعد از خطبہ: فرمایا کہ مناظرِ شیعہ کوئی ایک روایت بھی اس قسم کی پیش نہیں کر سکتا جس سے یہ ثابت ہو کہ موجودہ قرآنِ مجید محرّف و مبدّل نہیں ہے۔
باقی اس نے جو آیت: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ الخ (سورۃ الحجر: آیت 9)
پڑھی ہے، اس کے پڑھنے کا ان کو کوئی حق نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک تو قرآن کی تمام آیات مشکوک ہیں پہلے اپنا قرآن پر ایمان ثابت کریں، پھر قرآن پر استدلال کریں یہ تو مصادرہ علی المطلوب ہے جو کہ باطل ہے۔
2: علاوہ ازیں اسے قابلِ غور یہ امر ہے کہ فی الواقع یہ بات بالکل حق اور ٹھیک ہے کہ قرآنِ مجید کی محافظت کا وعدہ اللہ نے پورا فرمایا ہے، کہ قرآنِ مجید کے زیر و زبر تک کو بھی کوئی نہیں بدل سکا مگر اس جگہ سوال اور بحث یہ ہو رہی ہے کہ آیا شیعہ مذہب نے خداوندِ تعالیٰ کے اس وعدہ کو سچا سمجھا ہے؟ لہٰذا یہ اپنے نظریہ اور اعتقاد کا ثبوت پیش کریں کہ جس قرآن کا خداوندِ تعالیٰ خود محافظ ہے، شیعہ حضرات اس کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔
3: مولوی اسماعیل بیچارے اپنی کتابوں سے بھی واقف نہیں ان کی معتبر کتاب صافی شرح کافی کتاب فضل القرآن جزء ششم، باب النوادر، صفحہ 76 پر آیت: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ الخ۔ (سورۃ الحجر: آیت 9)
کے متعلق لکھا ہوا ہے:
پس دلالت نمے کند بر محفوظ بودن جمیع قرآن۔
ترجمہ: پس یہ آیت پورے قرآنِ مجید کے محفوظ ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔
اور اس عبارت کے بعد یہ لکھا ہوا ہے:
حفظ قرآن دلالت بریں نمےکند کہ نزدِ ہمہ کس محفوظ باشد، چہ مے تواند کہ نزدِ امام زماں و جمعے کہ صاحبِ سرا ویند محفوظ باشد۔
ترجمہ: حفظِ قرآن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سب لوگوں کے پاس محفوظ ہو، بلکہ ممکن ہے کہ امامِ زمانہ اور ان کے خاص لوگوں کے پاس محفوظ ہو۔
تو مولوی اسماعیل ان عبارتوں کی موجودگی میں کس منہ سے اس آیت کو پیش کرتے ہیں؟
4: تفسیر صافی کا شیعہ مناظر نے جو حوالہ پیش کیا ہے:
اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ مِنَ التَّحْرِيفِ وَالتَّغْيِيرِ وَالزِّيَادَۃِ وَالنُّقْصَانِ۔
یہ تو صاحبِ تفسیر صافی نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مقصد بیان کیا ہے اس میں شک نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو تحریف، تغیر، زیادتی اور نقصان سے محفوظ رکھا ہے۔
مگر سوال شیعہ عقیدہ اور نظریہ کا ہے کہ ایک طرف تو یہ شیعہ مفسر قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ کرنے کا وعدہ بیان کرتا ہے، اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؓ کی روایات سے ثابت ہے کہ قرآنِ کریم محرف ہے، اور ہمارے مشائخِ شیعہ کا اعتقاد بھی یہی ہے کہ موجودہ قرآن محرف و مبدل ہے۔
پھر اس اختلاف کو یوں رفع کرتے ہیں کہ ائمہ اہلِ بیتؓ اور مشائخِ شیعہ کا اعتقاد اس موجودہ قرآن کے محرف اور کم و بیش ہونے کے متعلق بالکل صحیح ہے، اور: اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۞ (سورۃ الحجر: آیت 9)
کے مخالف نہیں کیونکہ اصل قرآن امام مہدی اور ان کے رازداروں کے پاس محفوظ ہے اور موجودہ قرآن جو کہ شرقاً غرباً لوگوں کے پاس ہے، یہ محرف ہے، اور اس کے محرف ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
علاوہ ازیں میں نے تحریری روایات، امامِ معصوم کے اقوال پیش کیے تھے مولوی اسماعیل کو اگر ہمت ہے تو امامِ معصوم کا قول پیش کریں کہ قرآن محرف نہیں۔
5: نہج البلاغہ، جلد دوم، صفحہ 7 کی جو روایت شیعی مناظر نے پیش کی تھی، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآنِ کریم غیر محرف ہے اس میں تو صرف قرآن کو فیصل مانا گیا ہے بسا اوقات آدمی دوسروں کی کتاب اور غیروں کو اپنا فیصل بنا لیتا ہے جیسے ایک مناظر دوسرے مناظر سے کہتا ہے: چلو ہم تمہارے مذہب کی فلاں کتاب کو فیصل بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ اس مناظر کے نزدیک دوسرے مذہب والی کتاب ہمارے نزدیک صحیح اور درست ہے۔
سیدنا علیؓ نے الزامی طور پر ان کو فرمایا کہ تم کیوں اعتراض کرتے ہو جب کہ ہم نے کسی انسان کو نہیں بلکہ قرآن کو جو تمہارے نزدیک اعتراض کے قابل نہیں حکم بنا دیا، تو اعتراض کی کوئی وجہ نہیں۔
6: ممکن ہے سیدنا علیؓ کے یہ الفاظ تقیہ کے طور پر ہوں۔
7: شیعی مناظر کا یہ جواب اصولِ کافی صفحہ 39 پر ہے کہ جو روایت کتاب اللہ کے موافق ہو لے لو، اور جو مخالف ہو چھوڑ دو تو اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ آپﷺ کے الفاظ موجودہ قرآن کے متعلق ہیں، بلکہ آپﷺ کے الفاظ تو اصلی قرآن کے متعلق ہیں جو شیعہ اعتقاد کے مطابق امام مہدی اور ان کے راز داروں کے پاس ہے۔
بحث تو اس امر میں ہے کہ آیا موجودہ قرآنِ مجید شیعہ کے نزدیک صحیح اور غیر محرف کتاب اللہ ہے یا نہیں؟ اس کو تو ثابت نہیں کر سکے۔ اس کے ثبوت کے بغیر احادیث کی جانچ پڑتال کی طرف کیسے کود پڑے؟ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تقیہ کے طور پر ہو۔ احتمالِ تقیہ کو رفع کیجیے۔
8: روایاتِ تحریف شیعہ کتابوں میں متواتر ہیں، تو یہ خبرِ واحد متواتر حدیث کے مقابلے میں قابلِ اعتبار نہیں۔
9: مرآۃ العقول: صفحہ 534 ملا باقر مجلسی فرماتے ہیں:
وَعِندِی اَنَّ الْاَخْبَارَ فِی هٰذَا الْبَابِ مُتَوَاتِرَةٌ مَعْنًى، وَطَرْحُ جَمِيعِهَا يُوجِبُ رَفْعَ الِاعْتِمَادِ عَنِ الْاَخْبَارِرَاْساً بَلْ ظَنِّی اَنَّ الْاَخْبَارَ فِی ھٰذَا الْبَابِ لَا یُقْصِرُ عَنْ اَخْبَارِ الْاِمَامَۃِ فَکَیْفَ یُثْبِتُوْنَھَا بِالْخَبَرِ۔
ترجمہ: میرے نزدیک تحریفِ قرآن کی روایتیں اپنے معنیٰ میں متواتر ہیں، اور ان تمام روایتوں کو ترک کرنے اور بے اعتبار سمجھنے سے پورے فنِ حدیث بے اعتبار ہو جائے گا بلکہ جہاں تک مجھے علم ہے تحریفِ قرآن کی روایتیں مسئلہِ امامت کی روایتوں سے کم نہیں۔ اگر روایاتِ تحریف کا اعتبار نہ کیا جائے تو پھر مسئلہِ امامت جو کہ روایت ہی سے ثابت ہے، کیسے ثابت ہوگا؟
لیجیے حضرت مولوی اسماعیل جو کہتے تھے کہ تحریفِ قرآن کی روایات متواتر نہیں، ان کا یہ قول بھی غلط ہو گیا خود ان کی اپنی کتابوں میں تصریح موجود ہے کہ مسئلہِ امامت کی طرح تحریف کی روایات متواتر ہیں۔
اب مولوی اسماعیل پر لازم ہے کہ قرآن کے محرف نہ ہونے کی متواتر روایات پیش کریں حالانکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ان کے نزدیک موجودہ قرآن کی پوزیشن ایک صحیح خبرِ واحد کے برابر بھی نہیں البّتہ ان کے نزدیک اس قرآن کے محرف ہونے کی روایات معناً متواتر ہیں، جن سے موجودہ قرآن ان کے نزدیک محرف اور غلط ثابت ہو سکتا ہے مگر ان کے پاس متواتر تو بجائے خود کوئی ایک صحیح اور واضح روایت کسی ایک بھی امامِ معصوم کی ثابت نہیں ہے کہ موجودہ قرآن کامل و مکمل ہے اور جب کہ رسول کریمﷺ سے موجودہ قرآن نقل کرنے والوں کی ساری کی ساری جماعت کافر، مرتد، غاصب اور ظالم ہے، پھر قرآن ان کے نزدیک کیسے قابلِ اعتبار اور متواتر ہے؟
10: باقی مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم اس قرآن کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو اس کی وجہ خود ان کی کتابوں میں مذکور ہے وہ یہ ہے:
ترجمہ مقبول: صفحہ 167 پر سیدنا علیؓ کا فرمان نقل کیا گیا ہے اصل عبارت:
ائمہ علیہم السلام نے یہ حق مخصوص جنابِ صاحبِ العصر کا ہے کہ قرآنِ مجید کو اسی حد پر پڑھوائیں گے جس حد پر وہ زمانہِ رسولِ اللہﷺ میں پڑھا جاتا تھا۔
نیز ترجمہ مقبول صفحہ 479 پر یوں مرقوم ہے اصل عبارت:
ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کر دیں، تم اس کو اس کے حال پر پڑھنے دو، اور تغیر کرنے والوں کا عذاب کم نہ کرو ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو قرآنِ مجید کو اس کی حالت پر لانا جنابِ صاحبِ العصر امام مہدی علیہ السلام کا حق ہے، اور انہی کے وقت میں وہ حسبِ تنزیلِ خدا تعالیٰ پڑھا جائے گا۔
مناظر شیعہ: مولوی اسماعیل صاحب
یہ دیکھیے میرے ہاتھ میں اہلِ سنت والجماعت کی کتاب نور الانوار ہے اس کے صفحہ نمبر 7 پر لکھا ہے:
اما الكتاب فهو القراٰن المُنزَّل علی الرَّسول علَيْه السلام المكتوب فی المصَاحِفِ المنقولُ عنہ نقلاً متواتراً بِلَا شُبْہَۃٍ۔
ترجمہ: بہر حال کتاب اللہ وہ قرآن ہے جو کہ رسول اللہﷺ پر اترا اور مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور آنحضرتﷺ سے تواتر کے ساتھ بغیر کسی شک و شبہ کے نقل کیا گیا ہے۔
قرآن کے متواتر ہونے کے ثبوت میں جب شیعی مناظر نے یہ مذکورہ بالا عبارت اہلِ سنت کی کتاب سے پیش کی تو اہلِ سنت و الجماعت کے صدر جناب فاتحِ اعظم مولانا اللہ یار خان صاحبؒ آف چکڑالہ اور مناظرِ اہلِ سنت حضرت علامہ تونسویؒ نے فرمایا کہ مولوی اسماعیل کچھ حواس باختہ ہو رہے ہیں ان کو اپنا مسلک اپنی کتابوں سے ثابت کرنا چاہیے لہٰذا اپنے مذہب کی کتاب سے اپنے اصول کے مطابق ایسی عبارت پیش کریں جس سے قرآنِ مجید کا متواتر ہونا ثابت ہو مگر یہ اپنے اصول اور کتابوں سے قیامت تک موجودہ قرآنِ مجید کا متواتر قطعاً ثابت نہیں کر سکتے حالانکہ ان کے نزدیک قرآن کا محرف ہونا متواتر ہے۔
بے چارہ شیعی مناظر سخت پریشان اور بدحواس ہو گیا اور بہت سا وقت اس عالمِ بدحواسی میں ضائع کرنے کے بعد تقریر شروع کی:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
الٓمّٓ ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔ (سورۃ البقرہ آیت 1، 2)
اللہ تعالیٰ نے تو کھلے الفاظ میں فرمایا کہ قرآنِ مجید میں کوئی شبہ نہیں۔
حضرات! قرآن متواتر ہے متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کافر، یہودی اور مسلمانوں کی جب ایک بڑی جماعت کسی چیز کے متعلق کہہ دے تو اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جیسے وجودِ مکہ، مدینہ، بغداد، کوفہ وغیرہ۔ کہاں ان کے مخبرین کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے؟ قرآن کا تو تواتر طبقاتی ہے، لہٰذا اس میں بھی راویوں کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں۔
باقی مولوی عبد الستار صاحبؒ نے جو فصل الخطاب کی روایت پیش کی ہے، اس کے متعلق ہمارے علامہ نقی تفسیر آلاء الرحمٰن کے مقدمہ کے صفحہ 25 پر رقم طراز ہیں کہ فصل الخطاب کی یہ روایت مرسل اور مقطوع ہے، ان کے راویوں کا علم نہیں ہے۔
مناظر اہل سنت و الجماعت: علامہ تونسوی مدظلہ
کتنے تعجب کی بات ہے کہ جس قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ:
لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت 2)
فرماتا ہے اور شیعی مناظر اسی کو پڑھتا بھی ہے، پھر ظلم یہ ہے کہ شیعہ مذہب اسی قرآن کو محرف اور غلط کہتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر کفر کے ستون ہیں اور اس میں رسول اللہﷺ کی ہتک ہے۔
اور مولوی صاحب کی یہ بات کتنی لغو اور غلط ہے کہ متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی۔ کافر، یہودیوں وغیرہ کی جب ایک بڑی جماعت کہہ دے تو اس میں شک نہیں ہوتا؟
تو مولوی صاحب کے اس اصول سے مولوی اسماعیل کا اعتقاد ہوگا کہ مکہ اور عرب اور دنیا کے کافروں کے بے شمار لوگوں نے رسول اللہﷺ اور قرآنِ مجید کو جھوٹا کہا ہے کیا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟
اسی طرح عیسائیوں کی بے شمار تعداد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا اور مانا ہے کیا ان کا یہ تواتر مولوی اسماعیل کے نزدیک معتبر ہے؟
اور اسی طرح تمام یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ طاہرہ مریم کے متعلق طوفان باندھا کیا ان یہودیوں کا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟
اور کیا شیعہ عقائد کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سے لے کر آج تک اہلِ سنت و الجماعت کے کروڑوں افراد کے نزدیک خلیفۃ الرسول سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافتِ برحق کا اعتقاد جو کہ تواتر سے چلا آ رہا ہے معتبر اور صحیح ہے؟
تو رسول اللہﷺ کے بعد جس طرح موجودہ قرآن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نقل کیا اور اس قرآن پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تواتر و اجماع ہے، اسی طرح خلافتِ صدیق پر بھی اجماع ہے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع اور تواتر قرآن کے متعلق صحیح و معتبر ہے تو خلافتِ صدیق کے متعلق بھی صحیح اور معتبر ہے تو اب اگر قرآن کو تواتر و اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے صحیح مانتے ہو تو خلافتِ صدیق کو بھی صحیح مان کر اختلاف اور جھگڑا ختم کر لو۔
باقی رہی یہ بات کہ مکہ اور مدینہ اور بغداد و کوفہ وغیرہ کی خبر عام لوگوں سے سن کر یقین کر لیا جاتا ہے اور راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کیونکہ تواتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بے شمار راویوں کو جھوٹا اور غلط بیانی کرنے والا خیال نہیں کیا جاتا۔
آج بھی اگر کسی شہر کے متعلق بہت سے لوگوں کی بے شمار جماعت خبر دے، مگر ان سب کو سننے والا جھوٹا تصور کرے، تو ایسے لوگوں کا تواتر ان کے نزدیک اس شہر کا وجود ثابت نہ کر سکے گا۔
اسی طرح شیعہ کے نزدیک رسول اللہﷺ سے موجودہ قرآن کو لینے والی تمام کی تمام جماعت جھوٹی تھی تو ان کی یہ نقل شیعہ کے نزدیک قطعاً قابلِ اعتبار نہ ہوگی۔
مناظر شیعہ:ہماری مرآۃ العقول میں تواترِ معنوی تو لکھا ہے، مگر قرآن کی کمی و بیشی کے متعلق مولوی عبد الستار نے اپنی طرف سے بناوٹ کر کے کہہ دیا ہے وہاں کمی و بیشی کا ثبوت نہیں ہے ہمارے سیدنا علیؓ نے تو فرمایا ہے:
1: فَالْقُرْاٰنُ خَط مَسْطُوْرٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ۔
ترجمہ: یعنی قرآن دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے۔
باقی مولوی عبد الستار صاحبؒ بار بار احتجاجِ طبرسی کی زندیق والی روایت کو پڑھ رہا ہے۔
2: مومنین کرام! زندیق کی روایت بھی کبھی قابلِ اعتبار ہوتی ہے؟
3: باقی سیدنا علیؓ کے قرآن میں جو زیادتی تھی وہ ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کی تھی، جن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نکال ڈالا۔
مناظر اہل سنت و الجماعت: علامہ تونسوی مدظلہ
الحمدللہ کہ اب مولوی اسماعیل نے تسلیم کر لیا کہ تحریفِ قرآن کی روایتیں متواتر بالمعنیٰ ہیں مگر اس بات کا کوئی معنیٰ سمجھ میں نہیں آتا کہ مولوی عبد الستار صاحبؒ کمی و بیشی کے متعلق بناوٹ کر رہا ہے تحریف کس چیز کا نام ہے؟
لیجیے! یہ آپ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 140 پر مرقوم ہے سیدنا علیؓ نے فرمایا:
زَادُوْا فِيْهِ مَا ظَھَرَ تَنَاکُرُہٗ وَتَنَافُرُہٗ۔
ترجمہ: انہوں نے زیادہ کر دیا قرآن مجید میں وہ کچھ جس کا منکر اور نا قابلِ قبول ہونا واضح ہے۔
اور آپ کی کتاب تفسیر صافی صفحہ 11 پر ہے:
لَوْ لَا اَنَّهٗ زِيْدَ وَنُقِصَ فِی الْقُرْاٰنِ مَا خَفِی حَقُّنَا عَلَى ذِی حِجٰی۔
ترجمہ: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قرآن کے اندر زیادتی اور کمی کی گئی، تو ہمارا حق کسی عقلمند پر پوشیدہ نہ رہتا۔
مولوی اسماعیل! ذرا گوشِ ہوش سے سنیں اور سوچ سمجھ کر جواب دیں کہ یہ امام معصوم کمی و بیشی قرآن کے متعلق فرما رہے ہیں، یا عبد الستار اپنی طرف سے بناوٹ کر رہا ہے؟
2: آپ نے نہج البلاغہ کی یہ روایت جو سیدنا علیؓ سے پیش کی ہے کہ قرآن دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے، اس میں یہ کہاں ہے کہ دو گتوں کے درمیان والا قرآن غیر محرف اور کامل و مکمل ہے؟ بلکہ اسی دو گتوں والے قرآن کے متعلق تو دوسری روایات میں سیدنا علیؓ سے صاف الفاظ میں منقول ہے کہ اس میں کفر کے ستون ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہے، اور منافقوں نے اس میں بہت سی آیتیں گرا دی ہیں۔
3: حضرات! اسی مولوی اسماعیل کو آپ میرے مناظرہ کے لیے لائے ہیں جو اتنی جاہلانہ باتیں کرتا ہے کہ یہ زندیق کی روایت ہے جو قابلِ اعتبار نہیں اس بیچارے اسماعیل کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ یہاں سائل زندیق ہے، قائل اور راوی زندیق نہیں روایت تب نا قابلِ قبول ہوتی جب قائل یا راوی زندیق ہوتا یہاں تو قائل سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں جو زندیق کو اس کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں اور اس کی تسلی کرا رہے ہیں اور اس روایت کے آخر میں ثابت ہے کہ سیدنا علیؓ کے سمجھانے سے اس زندیق کی تسلی ہو گئی اور اس نے سیدنا علیؓ کی امامت اور بزرگی کو مان لیا، یعنی مومن کامل ہو گیا۔
اسماعیل صاحب! ہوش سے بات کرو یہ تم علامہ لکھنؤی کے فیض یافتہ شاگرد تونسوی سے بات کر رہے ہو، کسی جنگل میں ماتم اور نوحہ خوانی نہیں کر رہے۔
علاوہ ازیں اسی احتجاجِ طبرسی کے صفحہ 2 پر ہے کہ ہم نے روایات کی سندیں اس لیے بیان نہیں کیں:
لِوُجُوْدِالِْاجْمَاعِ اَوْمُوَا فَقَتِہٖ لماَ دَلَّتِ الْعُقُوْلُ عَلَیْہِ اَولاِشْتِھَارِہٖ
ترجمہ: کیونکہ ان روایاتِ احتجاجِ طبرسی پر یا تو اجماع ہے، یا یہ روایتیں عقل کے موافق ہیں، یا مشہور ہیں۔ مولوی صاحب! اب فرمائیے اگر یہ روایت زندیق کی ہوتی تو صاحبِ احتجاج کیوں درج کرتے یا ایسی زبردست توثیق کیوں کرتے؟
4: مولوی اسماعیل صاحب! آپ کا یہ قول کتنا لغو ہے کہ حضرت علیؓ کے قرآن سے ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹ نکالے گئے یاد رکھیے: ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کو نکالنے کا نام تحریف نہیں رکھا جاتا کیونکہ تحریف اصل قرآن کے الفاظ میں کمی و بیشی جو انسانوں کی طرف سے کی جائے اس کا نام ہے اور ناسخ و منسوخ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور تفسیری نوٹ اصل کتاب اللہ میں شامل اور داخل نہیں ہوتے کہ ان کو تحریف کہا جائے۔
ذرا غور تو کیجیے! امام معصوم فرماتے ہیں کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہے کیا ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کو گرانے سے کفر کے ستون قائم ہو جاتے ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہو جاتی ہے؟
مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو کسی امام معصوم کی ایک معتبر روایت ایسی پیش کیجیے جس میں عدمِ تحریف کی تصریح کی گئی ہو۔
5: یہ دیکھیے دیباچہ مقبول ترجمہ کے صفحہ 33 پر مرقوم ہے:
تفسیر عیاشی میں سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ قرآنِ مجید کی آیتیں تو بہت سی گرا دی گئی ہیں، مگر جو زیادہ کیا گیا ہے وہ کہیں کہیں کوئی حرف بڑھا دیا گیا ہے۔
6: مقبول ترجمہ کے صفحہ 404 پر اصول کافی کے حوالہ سے مرقوم ہے:
فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۔
سیدنا جعفر صادقؒ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: یوں نہیں ہے، دراصل یہ تھا وَالْمَاْمُوْنُوْنَ۔
مولوی صاحب! اب بتائیے قرآن کی تحریف ہوئی یا نہیں؟
7: اور كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ الخ۔ (سورۃ آلِ عمران: آیت 110)
کے متعلق مقبول ترجمہ کے صفحہ 125 پر مرقوم ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ یہ آیت یوں نازل ہوئی تھی: اِنْتُمْ خَيۡرُ اَئِمَّةٍ اور خَيۡرَ اُمَّةٍکی سخت تردید فرمائی امام معصوم کا قول ہے، سوچ کر جواب دیجیے۔
مناظر شیعہ:
مولوی عبد الستار صاحب بار بار مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کوئی ایک روایت عدمِ تحریف کی پیش کیجیے لو! میں قرآن کے کامل و مکمل ہونے کے لیے واضح روایت پیش کرتا ہوں۔
ہمارے مولا علیؓ نے فرمایا: كُلُّهٗ قُرْاٰنٌ یہ پورا قرآن ہے۔
اور اس کے آگے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا:
اِنْ اَخَذْتُمْ بِمَا فِيْهِ نَجَوْتُمْ مِنَ النَّارِ وَدَخَلْتُمُ الْجَنَّۃَ فَاِنَّ فِيْهِ حُجَّتَنَا وَبَيَانَ حَقِّنَا وَفَرْضَ طَاعَتِنَا۔
ترجمہ: اگر تم نے اس قرآن کو پکڑا تو جہنم سے نجات پاؤ گے اور جنت میں داخل ہو جاؤ گے کیوں کہ اس قرآن میں ہماری حجت ہے اور ہمارے حق کا بیان ہے اور ساری طاعت کا فرض ہونا مذکور ہے۔
دیکھیے! سیدنا علی المرتضیٰؓ اس قرآن کو نجات کا موجب قرار دے رہے ہیں معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک یہ قرآن کامل و مکمل ہے، ورنہ ادھورے قرآن سے کیسے نجات حاصل ہو سکتی ہے؟
2: اس روایت میں بِمَا فِيْهِ نَجَوْتُمْ میں ما موصولہ موجود ہے جو استغراق کے معنیٰ پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ قرآن کامل ہے اب مولوی عبد السّتار صاحب کی ساری شیخی اور مطالبہ کی حقیقت کھل گئی جو بار کہہ رہا تھا کہ کوئی روایت کسی امام معصوم کی دکھا دو جس سے قرآن کا کامل و مکمل ہونا ثابت ہو یہ روایت سیدنا علی المرتضیٰؓ کی نہایت واضح طور پر قرآن کے کامل و مکمل ہونے پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ آپ نے دیکھا: کلہ کا لفظ موجود ہے، ما موصولہ موجود ہے، نَجَوْتُمْ مِنَ النَّارِ اور دَخَلْتُمُ الْجَنَّۃَ موجود ہے اب میں دیکھوں کہ مولوی عبد الستار صاحب اس روایت کو کہاں لے جاتے ہیں۔
مولوی اسماعیل صاحب، شیعہ مناظر نے اس روایت پر بہت کچھ زور دیا اور بار بار کہتا رہا اس روایت کا جواب دیجیے گویا اس بے چارے کے نزدیک یہ روایت بڑی مایہ ناز اور لاجواب روایت تھی۔
مناظر اہل سنت :علامہ تونسوی
سبحان اللہ! بار بار مطالبہ اور تاکید در تاکید کے بعد مولوی اسماعیل بیچارے نے نہایت فخر و ناز کے ساتھ روایت پیش کی، مگر افسوس ہے کہ کس قدر بد دیانتی یا جہالت کا مظاہرہ کیا دیکھیے! یہ میرے ہاتھ میں احتجاجِ طبرسی ہے، اس کے صفحہ 77 پر كُلُّهٗ قُرْاٰنٍ یہ پورا قرآن ہے کے الفاظ سیدنا طلحہؓ کے ہیں، سیدنا علیؓ کے الفاظ نہیں ہیں کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ ایسے سفید جھوٹ مناظرہ میں ہمارے سامنے بول رہے ہیں۔
احتجاج طبرسی کے اس صفحہ پر اصل عبارت یوں ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا طلحہؓ سے فرمایا:
فَاَخْبِرْنِی عَمَّا كَتَبَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ اَقُرْاٰنٌ كُلُّهٗ اَمْ فِيْهِ مَا لَيْسَ بِقُرْاٰنٍ۔
ترجمہ: پس مجھے خبر دیجیے اس سے کہ جو کچھ عمرؓ اور عثمانؓ نے لکھا ہے، وہ سارے کا سارا قرآن ہے یا اس میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو غیر قرآن ہیں؟
تو حضرت طلحہؓ نے جواب دیا: قُرْاٰنٌ كُلُّهٗ
ترجمہ: وہ سارا قرآن ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! کس احتجاج میں سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے کہ یہ پورا قرآن ہے؟
2: اِنْ اَخَذْتُمْ بِمَا فِيْهِ نجوتم من النار ودخلتم الجنۃ
مولوی اسماعیل کی مایہ ناز روایت کی قلعی خود ان کے ملا خلیل قزوینی نے کھول کر رکھ دی ہے۔ صافی شرح اصول کافی جزء ششم صفحہ 76 پر لکھتے ہیں:
واقعہ عجیبہ:
جس وقت حضرت علامہ تونسوی مدظلہ نے اس روایت کے جواب کے لیے ملا خلیل قزوینی کی کتاب صافی شرح اصولِ کافی اٹھائی اور فرمایا کہ میں اس روایت کا مطلب شیعہ کی اس کتاب سے بیان کر کے واضح کرتا ہوں کہ مولوی اسماعیل صاحب کی بیان کردہ روایت کی حقیقت کیا ہے، تو مولوی اسماعیل بے چارہ نہایت سراسیمہ اور بدحواس ہو کر علامہ تونسوی کی تقریر کے دوران میں کود پڑا کہ یہ اس روایت کے معنیٰ خود کریں، ہماری کتاب پیش نہ کریں ہم اپنی اس کتاب کے معنیٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
جس پر علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا: میری بات اور میرا ترجمہ تمہارے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں۔ روایت بھی تمہاری ہے، ترجمہ اور معنیٰ بھی تمہارے مشائخ اور کتابوں سے بیان کرتا ہوں مولوی اسماعیل صاحب اپنے مذہبِ شیعہ کی کتابوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟ بعدہ کتابِ مذکور سے روایت کا معنیٰ اور مفہوم پیش کیا گیا شیعہ ملا خلیل قزوینی اپنی کتاب صافی شرح اصولِ کافی صفحہ 76 پر مولوی اسماعیل کی اس مایہ ناز روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
مراد این است کہ با وجود اسقاط و اختلاف در قرارت آن قدر باقی مانده کہ صریح باشد در امامت اہل بیت معصومین
ترجمہ: سیدنا علیؓ کی مذکورہ روایت میں فرمانِ نجات سے مراد یہ نہیں کہ قرآن کامل و مکمل ہے، بلکہ اس روایت سے مراد یہ ہے کہ باوجود یکہ قرآن سے بہت کچھ گرا دیا گیا اور قراءت کو مختلف کیا گیا، لیکن اتنا قدر باقی ہے جو اہلِ بیتؓ معصومین کی امامت پر صراحتاً دلالت کرتا ہے۔
ملا خلیل اس روایت کا مطلب یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن کامل و مکمل ہے، بلکہ وہ تو اس روایت کے مقصد میں بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قرآن ناقص و محرف ہے با وجودِ اسقاط کے لفظ پر غور فرمائیے۔
3: مولوی اسماعیل صاحب کا یہ جاہلانہ استدلال بھی قابلِ تعجب ہے کہ ما موصولہ استغراقیہ ہوتا ہے کیا مولوی صاحب کے نزدیک قرآنِ مجید میں جو فرمایا گیا ہے: وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرہ: آیت 151)
کیا اس ما موصولہ میں استغراق کے معنیٰ ہو سکتے ہیں؟ اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
علاوہ ازیں اگر بالفرض اس روایت میں ما موصولہ استغراق کے لیے فرض کر لیا جائے تب بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو کچھ اس قرآن میں ہے اس پر عمل کرو گے تو نجات پاؤ گے گو فی نفسہٖ قرآن خود کامل و مکمل نہیں، تاہم اس ادہورے اور ناقص کے سارے احکام پر عمل کر لو، نجات پا جاؤ گے، جس طرح خود شیعہ ملا خلیل نے معنیٰ کیے ہیں پھر اس ما کے موصولہ استغراقیہ ماننے سے قرآن کے کامل و مکمل ہونے کا کیسے ثبوت ہو گیا؟
4: اصولِ کافی صفحہ 263 پر مرقوم ہے:
نَزَلَ جَبْرَيْلُ بِهٰذِهِ الْاٰيَةِ عَلٰى مُحَمَّدٍﷺ هٰكَذَا: اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فِیْ عَلِیٍّ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۔
دیکھیے! موجودہ قرآن میں فِی ْ عَلِّیٍ کا لفظ نہیں ہے۔ قرآن ناقص ہوا یا نہ ہوا؟
4: ترجمہ مقبول صفحہ 412 میں سیدنا جعفر صادقؒ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا:
لَقَدْ جَآءَنَا رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِنَا عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتْنَا حَرِيْصٌ عَلَيْنَا بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ
حالانکہ موجودہ قرآن میں یوں ہے:
لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت 128)
دیکھیے! آپ کے امامِ معصوم کے نزدیک قرآن کو کتنا بگاڑا اور بدلا گیا ہے۔
مناظر شیعہ:مولوی عبد الستار صاحب جس قدر روایتیں پیش کر رہے ہیں یہ ہمارے نزدیک ضعیف اور مجروح ہیں مقبول ترجمہ کی روایتیں پیش کرتے ہیں حالانکہ مقبول ایک عام آدمی تھا جس کو ہم سے بھی کم علم تھا ایسے شخص کی بات ہم پر کیسے حجت ہو سکتی ہے؟ اصولِ کافی کی روایتیں ضعیف ہیں ایسی ضعیف روایتیں پیش کر کے ہمارا عقیدہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟
چونکہ اب مولوی اسماعیل شیعہ مناظر کے پاس نہ تو عدمِ تحریف کی کوئی روایت تھی جو پیش کرتا، اور نہ تحریف ثابت کرنے والی علامہ عبد الستار صاحب کی پیش کردہ بے شمار روایتوں کا کوئی جواب تھا، بے چارہ اِدہر اُدہر کی دو چار باتیں کہہ کے بصدِ مشکل ٹائم پورا کرتا رہا۔
مناظر اہل السُنت:1: اگر تحریف کی روایات ضعیف ہیں تو عدمِ تحریف کی صحیح اور واضح روایات کہاں ہیں؟
2: اگر مولوی مقبول کا ترجمہ ضعیف اور ناقابلِ اعتبار ہوتا تو شیعہ علماء اور مجتہدین کے یہ کلمات اور تقریظات کیوں لکھے ہوئے ہیں کہ کتابِ الٰہی کو اگر زبانِ اردو میں دیکھنا ہو تو مقبول ترجمہ دیکھیے اور سمجھیے اور یہ تفسیرِ اہلِ بیتؓ ہے کیا ان شیعہ مجتہدین سید کلبِ حسین مجتہد، سید محمد دہلوی، احمد علی لکھنؤی کا علم آپ سے کم تھا؟
3: جو چیزیں میں نے مقبول ترجمہ سے پیش کی ہیں وہ مولوی مقبول کی اپنی بات نہیں ہے، بلکہ ائمہ معصومین کے ایسے اقوال ہیں جو شیعہ کی معتبر ترین کتابوں سے منقول ہیں۔
4: اصولِ کافی کی روایتیں اگر ضعیف اور مجروح ہیں تو آپ کے امامِ غائب امام مہدی نے کس لیے فرمایا: ھذا کافٍ لشیعتنا
ترجمہ: ہمارے شیعوں کے لیے یہی کتاب کافی ہے۔
جس طرح کہ اصولِ کافی کے سر ورق پر ابتداءً مرقوم ہے۔
5: اگر یہ روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے مشائخِ شیعہ کا اعتقادِ تحریف نہ ہوتا دیکھیے تفسیرِ صافی کے صفحہ 14 پر موجود ہے:
وَاَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائخِنَا فِی ذٰلِكَ فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْاِسْلَامِ محمد بن يعقوب الكلينی اِنَّهٗ كَانَ يَعْتَقِدُ التَّحْرِيْفَ وَ النُّقْصَانَ فِی الْقُرْاٰنِ۔
وَكَذٰلِكَ اُسْتَاذُهٗ عَلِیُّ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ الْقُمِّی فَاِنَّ تَفْسِيْرَهٗ مَمْلُوٌّ مِنْهُ وَ لَهٗ غُلُوٌّ فِيْهِ۔
وَكَذٰلِكَ شیخ احمد بن ابی طالب الطبرسی فانہ ایضانسج علٰی مِنْو الِہِماَ فِی الْاحتجاج
ترجمہ: ہمارے بزرگوں کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی قرآنِ مجید میں تحریف اور نقصان کے قائل تھے اور اسی طرح ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کہ ان کی تفسیر بھی ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کو اس عقیدے میں غلو ہے اور اسی طرح شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کہ انہوں نے بھی کتابِ احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے طرز پر چلے ہیں۔
غور کیجیے کہ اگر روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے اتنے بڑے بڑے مشائخ ان روایات کو دیکھ کر تحریف کا عقیدہ کیوں رکھتے؟
6: عن ابی جعفر قال نزل جبریل ھذہ الٰایۃ علٰی محمدﷺ ھٰکذا: فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِی قِيْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔
دیکھیے! موجودہ قرآن میں دونوں جگہ اٰل محمد حقھم کے الفاظ موجود نہیں ہیں سیدنا محمد باقرؒ کے نزدیک شیعہ مذہب کے مطابق تحریف ہو گئی یا نہیں؟
7: ترجمہ مقبول صفحہ 637: وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ كَلِمَاتٍ فِی مُحَمَّدٍ وَّ عَلِیٍّ وَّ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ وَالْاَئِمَّةِ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمْ فَنَسِیَ۔
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: واللہ! رسولِ خداﷺ پر یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی۔
غور کیجیے! موجودہ قرآن میں كلماتٍ فی محمد وعلی و فاطمہ غیرہ الفاظ موجود نہیں ہیں، بلکہ موجودہ قرآن میں آیت یوں ہے:
وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ الخ۔ (سورۃ طٰہ: آیت 115)
فرمائیے! تحریف ہوئی یا نہیں؟
مناظر شیعہ:فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْاِسْلَامِ اس عبارت کا مطلب ہے کہ ظاہر بین علماء کا یہی خیال ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی وغیرہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں ورنہ ہمارے محققین علماء تحریف کے قائل نہیں ظاہر بین اور ہوتے ہیں اور محققین اور ہوتے ہیں ہمارے محققین علماء شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی، ان چاروں نے تصریح کی ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی لہٰذا ہمارے نزدیک ان محققین کا قول معتبر ہے اور یہی شیعہ کے نزدیک صحیح ہے اور باقی غلط ہے۔
بے چارہ شیعہ مناظر انہی مذکورہ بالا اپنے چار مولویوں کے اقوال دہراتا رہا، مگر کسی امامِ معصوم کا کوئی واضح قول عدمِ تحریف کے متعلق پیش نہ کر سکا جب کہ دوسری طرف سے مناظرِ اہلِ سنت مناظرِ تونسویؒ نے شیعہ کی معتبر کتابوں سے ائمہ معصوم کے تحریف ثابت کرنے والے اقوال کا انبار لگا دیا اور شیعہ مناظر سے بار بار مطالبہ کیا کہ جس طرح میں نے آپ کی کتابوں سے ائمہ معصومین کے اقوال و احادیث سے تحریف کو ثابت کیا ہے، تم اس قسم کا کوئی ایک معتبر، صحیح اور واضح قول عدمِ تحریف کا بیان کرو مگر بے چارہ شیعہ مناظر نہایت لا جواب اور عاجز ہو کر رہ گیا۔
مناظر اہل سنت:حضرات! میں تو سمجھتا تھا کہ یہاں میرے مناظرے کے لیے شیعہ حضرات لکھنؤ وغیرہ سے کسی اہلِ علم اور اپنے مذہب کو سمجھنے سوچنے کی لیاقت و قابلیت رکھنے والے آدمی کو لائیں گے۔ اب دیکھیے کہ آپ کا مولوی اسماعیل:
اَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائِخِنَا فِیْ ذٰلِکَ فَالظَّاهِرُ الخ۔
کا ترجمہ ظاہر بینِ علماء کر رہا ہے اس بے چارے کو تو اپنے مذہب کی کتابوں کی خبر تک بھی نہیں یہ تو صرف اہلِ بیتِ رسولﷺ اور خلفاء و صحابہ رسولﷺ پر تبرّا کر سکتا ہے دیکھیے! میں ان کی اسی عبارت کا ترجمہ ان کے مذہب کے علماء سے نقل کرتا ہوں:
دیباچہ مقبول ترجمہ (شیعہ) صفحہ 47 پر مرقوم ہے:
اب رہا ہمارے بزرگ علماء کا اس بارے میں اعتقاد، تو یہ کھلی بات ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی طاب ثراہ قرآنِ مجید میں تحریف اور کمی کے قائل ہیں چند سطور کے بعد لکھتے ہیں:
یہی حالت ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کی ہے ان کی تفسیر ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کا یہ اعتقاد بڑے شد و مد سے ہے، جیسا کہ ہم نے تھوڑا سا اوپر دکھلایا ہے یہی حالت شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے انداز پر لکھا ہے۔
دیکھیے حضرات! خود علماءِ شیعہ فالظاهر کے وہی معنیٰ کر رہے ہیں جو ہم نے کیے ہیں، کہ فالظاهرکے معنیٰ یہ تو کھلی بات ہے سے کیا ہے مولوی اسماعیل کی طرح ظاہر بین اس کے معنیٰ کسی نے نہیں کیے یہ خود اس کی شکست اور لاجوابی کا اقرار ہے کہ اب ترجمے بھی غلط کر رہا ہے۔
2: شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی تمام شیعہ مذہب والوں میں ان چار مولویوں کے سوا کوئی ایک تنفس بھی ایسا نہیں جو تحریفِ قرآن کا قائل نہ ہو صرف ان چار شخصوں کے اقوال بھی بطورِ تقیہ کے ہیں۔
3: ائمہ معصومین کے اقوال اور متواتر روایاتِ تحریف کے مقابلے میں ان چار مولویوں کے قول کی کیا وقعت ہے؟ مولوی اسماعیل صاحب! آج ائمہ معصومین کو چھوڑ کر غیر معصومین مولویوں کے پیچھے کیوں دوڑے جا رہے ہیں؟ لوگوں کو تو کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ائمہ معصومین والا ہے، آج ائمہ معصومین کا مذہب منظور نہیں ہے؟ دیکھیے! امامِ معصوم کا قول احتجاجِ طبرسی صفحہ 137 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:
وَالَّذِی بَدَا فِی الْكِتَابِ مِنَ الْاِزْرَاءِ عَلَى النبیﷺ مِنْ فِرْقَةِ الْمُلْحِدِيْنَ۔
ترجمہ: کتاب قرآنِ مجید میں جو برائی نبی کریمﷺ کی ہے یہ ملحدوں کی طرف سے ہے یعنی جامعینِ قرآن کی بڑھائی ہوئی ہے۔
دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ ملحدوں نے اس قرآن میں نبی کریمﷺ کی برائی کو داخل کر دیا تو آپ کے شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ وغیرہ نے اس برائی کو قرآن سے نکال دیا ہے۔
نیز تفسیر صافی صفحہ 13 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے ایک شخص کو آیات کے ربط کے متعلق جواب دیا:
فَهُوَ مِمَّا قُدِّمَتْ ذِكْرُهٗ مِنْ اِسْقَاطِ الْمُنَافِقِيْنَ مِنَ الْقُرْاٰنِ بَيْنَ الْقَوْلِ فِی الْيَتٰمٰى وَبَيْنَ نِكَاحِ النِّسَاءِ مِنَ الْخِطَابِ وَالْقَصَصِ اَكْثَرُ مِنْ ثُلُثِ الْقُرْاٰنِ۔
ترجمہ: پس اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کر چکا ہوں کہ منافقوں نے قرآن میں سے بہت کچھ نکال ڈالا فِی الْيَتٰمٰى اور فَانْكِحُوْا کے درمیان میں بہت سے احکام اور قصے تھے جو تہائی قرآن دس پاروں سے زیادہ تھے وہ نکال ڈالے گئے اسی وجہ سے بے ربطی ہو گئی۔
البتہ شیخ صدوق اور شریف مرتضیٰ وغیرہ کا قول تب معتبر ہوتا جب وہ اس کی تائید میں کسی امامِ معصوم کا قول پیش کرتے اب تو ان مولویوں کا یہ قول یقیناً بطورِ تقیہ ہے۔
مناظر شیعہ:
حضرات! مولوی عبد الستار بار بار کہتا ہے کہ امامِ معصوم کا قول پیش کرو دیکھیے میں امامِ معصوم کا قول پیش کرتا ہوں۔
فروعِ کافی جلد سوم، کتاب الروضۃ صفحہ 26 پر ہے: اَقَامُوْا حُرُوْفَہٗ وَ حَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔
ترجمہ: جامعینِ قرآن نے حروف کو قائم رکھا اور اس کے حدود کو محرف کر دیا۔
یہ ہمارے سیدنا محمد باقرؒ کا قول ہے اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن کے حروف میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی گئی، صرف احکام و معانی میں تحریف کی گئی اور امام کے اس قول کے ہوتے ہوئے باقی روایات ضعیف ہیں۔
اور ہماری تفسیر صافی کے صفحہ 14 پر مرقوم ہے:
الصحیح من مذہب اصحابنا خلافہٗ
ترجمہ: صحیح مذہب ہمارے اصحاب کا اس کے خلاف یعنی تحریف کے خلاف ہے۔
دیکھیے! صاحبِ تفسیر صافی لکھ رہے ہیں کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی اور آگے اس کی دلیل بھی صاحبِ تفسیر صافی نے پیش کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کی حفاظت اور قراءت اور جمع کرنے کا کتنا زبردست اہتمام کیا۔ جس چیز کا اتنا زبردست اہتمام کیا جائے، کیا وہ چیز بھی محرف اور غلط ہو سکتی ہے؟
دیکھیے مولوی عبد الستار صاحب! اگر ہمارا قرآن پر ایمان نہ ہوتا تو یہ ہمارے بزرگ اس طرح کیوں لکھتے؟
مناظر اہل سنت:مولوی اسماعیل صاحب نے فروعِ کافی سے جو روایت سیدنا باقرؒ کی پیش کی ہے:
اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔
اس روایت میں تمام قرآنِ مجید کے حروف اور الفاظ کا قائم رکھنا کہاں لکھا ہے؟ اس میں تو مطلق حروف کو قائم رکھنے کا ذکر ہے، نہ تمام کا۔
علاوہ ازیں سیدنا محمد باقرؒ کی اسی روایت میں باقی امتوں کے متعلق بھی بعینہٖ یہی الفاظ سیدنا محمد باقرؒ نے فرمائے ہیں:
اَنْ اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوْا حُدُوْدَہٗ۔
یعنی یہود و نصاریٰ اممِ سابقہ نے تورات و انجیل وغیرہ کے حروف قائم رکھے اور حدود کو محرف کیا۔ اب مولوی اسماعیل صاحب بتائیں، کیا اممِ سابقہ نے تورات و انجیل کے پورے الفاظ و حروف قائم رکھے اور وہ بھی قرآن کی طرح محفوظ ہیں؟ باقی صاحبِ تفسیر صافی کا الصحیح من مذہبناکہنا تقیہ پر محمول ہے دوسرے ائمہ معصومین کے اقوال اس کے خلاف ہیں تیسرے یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو دلیل صاحبِ تفسیر صافی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اہتمام کے متعلق لکھی ہے، کیا وہ آپ کے نزدیک معتبر ہو سکتی ہے؟ جب کہ آپ کے مذہب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خائن اور غاصب و ظالم بلکہ کافر و مرتد ہیں مولوی اسماعیل صاحب! تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو، کسی جنگل میں ماتم و نوحہ خانی نہیں کر رہے کچھ سوچ سمجھ کر بولیے۔
دیکھیے! امامِ معصوم کا قول اصولِ کافی صفحہ 471:
عن ابی عبداللّٰہ علیہ السلام قال: اِنَّ الْقُرْاٰنَ الَّذِی جَآءَ بِهٖ جبريل عليه السلام الى محمدﷺ سَبْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ اٰيَۃٍ۔
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: بہ تحقیق جو قرآن جبرئیل علیہ السلام محمدﷺ پر لائے تھے وہ سترہ ہزار آیات تھیں۔
دیکھیے! آپ کا قول امامِ معصوم فرما رہے ہیں کہ جو قرآن جبرئیل علیہ السلام حضرت محمدﷺ کی طرف لائے وہ سترہ ہزار آیات تھیں، مگر موجودہ قرآن کی سات ہزار سے بھی کم آیات ہیں اب فرمائیے! قرآن مکمل رہا؟ نیز احتجاجِ طبرسی صفحہ 135 پر ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لَوْ شَرَحْتُ لَكَ كُلَّ مَا اُسْقِطَ وَحُرِّفَ وَ بُدِّلَ مِمَّا يَجْرِی ھٰذَا الْمَجْرٰى لَطَالَ وَ ظَھَرَ مَا تَحْظُرُ التَّفِیَّۃُ اِظْھَارَہٗ۔
ترجمہ: اگر میں تجھ سے وہ تمام آیتیں بیان کر دوں جو قرآن میں سے نکال ڈالی گئیں اور تحریف کی گئیں اور بدل دی گئیں اور جو اسی قسم کی کاروائیاں ہوئیں، تو بہت طول ہو جائے اور تقیہ جس چیز سے روکتا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔
غور کیجیے کہ آپ کی معتبر کتاب میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کیا آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا صحیح مذہب یہی ہے کہ تحریف نہیں ہوئی؟
مناظر شیعہ:
حضرات! رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنِّی تَارِكٌ فِيْكُمْ الثَّقَلَيْنِ كِتَابُ اللهِ وَعِتْرَتِی الخ۔
ترجمہ: میں تم میں کتاب اللہ اور اپنے اہلِ بیتؓ کو پیچھے چھوڑ رہا ہوں یہ دونوں حوضِ کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔
تو ہمارے نزدیک اہلِ بیتؓ کے ائمہ معصومین مسلمانوں کی امامت و ہدایت کے لیے ہر زمانہ اور ہر وقت میں موجود ہیں خدا کی زمین امامِ ضامن حجۃ اللہ سے قیامت تک خالی نہیں ہو سکتی۔ تو جب تک اہلِ بیتؓ موجود ہیں، قرآن کتابِ اللہ بھی ان کے ساتھ ضرور موجود ہو گی لہٰذا جب ہمارے نزدیک ائمہ اہلِ بیتؓ موجود ہیں، وہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن کامل و مکمل اہلِ بیتؓ کی طرح موجود ہے۔
2: شیخ صدوق نے رسالہ اعتقادیہ کے صفحہ 75 پر فرمایا ہے: ان روایاتِ تحریف کا اعتبار کریں تو قرآن سے اعتبار اٹھ جاتا ہے، لہٰذا یہ روایاتِ تحریف مردود ہیں تو ہمارا اعتقاد یہی ہے کہ تحریف کی روایات ضعیف ہیں اور ہم قرآن کو اہلِ بیتؓ کی طرح اس زمین پر موجود اور کامل یقین کرتے ہیں مولوی عبد الستار ان ضعیف روایات کو دیکھ کر مغالطے میں مبتلا ہے اور کہتا ہے تم قرآن کو محرف مانتے ہو اور ہم سے بار بار مطالبہ کرتا ہے کہ تم اپنا ایمان قرآن پر ثابت کرو اور کوئی ایک روایت کسی امامِ معصوم کی عدمِ تحریف کے متعلق دکھاؤ حالانکہ میں کئی روایات دکھا چکا ہوں۔
مناظر اہل سنت:
اہلِ بیتؓ کے موجود ہونے سے موجودہ قرآن کا غیر محرف ہونا شیعہ کے نزدیک کس طرح ثابت ہو جاتا ہے؟ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ شیعہ مذہب نے اہلِ بیتؓ اور قرآنِ مجید دونوں کو یک قلم دنیا سے نیست و نابود کر دینے کا اعتقاد گھڑا ہے سوائے بارہ اماموں کے تمام اہلِ بیتؓ کو قابلِ امامت نہیں سمجھا، اور گیارہ اماموں کا زمانہ گزرنے کے بعد بارہویں امام کو غار میں غائب کر کے اصل قرآن کو بھی اس کے ساتھ غائب کر دیا۔ تو آپ کے نزدیک اس وقت روئے زمین پر نہ امام ہے نہ قرآن جہاں امام ہے وہاں قرآن ہے جیسا کہ آپ کی تفسیر صافی کے صفحہ 15 پر بھی یہی مرقوم ہے۔
2: اگر تحریف کی روایات ضعیف ہیں تو آپ کے بزرگوں اور مشائخ کا اعتقادِ تحریفِ قرآن کے متعلق کیوں ہے؟ مولوی اسماعیل صاحب کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ مولوی عبد الستار کو مغالطہ ہے؟ کیا آپ کے مشائخ اور بزرگوں کو بھی مغالطہ ہے؟
اب میں مولوی اسمعیل صاحب سے پوچھتا ہوں: اگر روایاتِ تحریف کمزور ہیں اور تحریفِ قرآن کا اعتقاد غلط ہے، تو آپ کے یہ مشائخ محمد بن یعقوب کلینی اور علی بن ابراہیم قمی وغیرہ وغیرہ جو تحریفِ قرآن کا اعتقاد رکھتے تھے، وہ کافر تھے یا مومن؟ اگر آپ تحریفِ قرآن کا اعتقاد رکھنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو آپ اپنے مشائخ کے متعلق کفر کا فتویٰ لکھ دیجیے آپ کا ہمارا مناظرہ اسی پر ختم ہے۔
جب علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ نے اس فتوے کا مطالبہ کیا تو شیعہ علماء جتنے موجود تھے سب کے چہرے فق ہو گئے اور مولوی امیر محمد صاحب صدرِ شیعہ نے اٹھ کر کہا کہ بس! اس موضوع پر کافی بحث ہو چکی ہے اس موضوع کو ختم کر دینا چاہیے۔
تو علامہ تونسوی نے کہا کہ آپ ان مشائخ کے متعلق کفر کا فتویٰ لکھ دیجیے، بس مناظرہ ختم ہے مگر علماءِ شیعہ نے لا جواب ہو کر انتہائی رسوائی برداشت کی اور علامہ تونسوی مدظلہ کے استدلال کا کوئی جواب نہ دے سکے نہ روایت کا کوئی جواب تھا، اور نہ اپنے علماء اور مشائخ کو کافر کہنے کی جرأت تھی، اور نہ اپنے ان مشائخ کا دامن تحریفِ قرآن کے عقیدے سے پاک و صاف کر سکے۔
علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا کہ شیعہ کی معتبر کتاب فصل الخطاب صفحہ 67 میں ہے:
كان لامير المؤْمنين عليه السلام قراٰناً مخصوصاً جمعه بنفسہٖ بعد وفات رسول اللهِﷺ وعَرَضَہٗ عَلَى الْقَوْمِ فَاَعْرَضُوا عَنْهُ فَججَبَہٗ عَنْ اَعْيُنِهِمْ وَكَانَ عِنْدَ وُلْدِہٖ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَتَوَارَثُہٗ اِمَامٌ عَنْ اِمَامٍ كَسَائِرِ خَصَائِصِ الْاِمَامَۃِ وَ خَزَائِنِ النُّبُوَّۃِ وَهُوَ عِنْدَ الْحُجَّۃِ عَجَّلَ اللهُ فَرَجَہٗ يُظْهِرُہٗ لِلنَّاسِ بَعْدَ ظُهُوْرِہٖ وَيَاْمُرُھُمْ بِقِرَاءَتِہٖ وَهُوَ مُخَالِفٌ لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ الْمَوْجُوْدِ مِنْ حَيْثُ التَّاْلِيْفِ وَ تَرْتِيْبِ السُّوَرِ وَ الْاٰيَاتِ بَلِ الْكَلِمَاتِ اَيْضًا وَ مِنْ جِھَۃِ الزِّيَادَۃِ وَ النَّقِيْصَۃِ۔
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰؓ کا ایک مخصوص قرآن تھا جس کو انہوں نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد خود جمع کیا تھا اور وہ قرآن مخصوص لوگوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے منہ موڑ لیا پس انہوں نے اس قرآن کو ان کی آنکھوں سے چھپا لیا اور وہ آپ کی اولاد میں سے صرف اماموں کے پاس تھا جو ایک امام کے بعد دوسرا امام اس کو لے لیتا تھا، جس طرح کہ وہ دوسرے خصائصِ امامت اور خزائنِ نبوت لیتا تھا اور وہی مخصوص قرآن حجۃ اللہ امام مہدی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جلدی غار سے باہر لائے۔ امام مہدی اس قرآن کو لوگوں کے لیے ظاہر کریں گے اور وہ اس موجودہ قرآن کے مخالف ہے: الفاظ کی ترتیب میں، اور سورتوں اور آیتوں کی ترتیب میں، بلکہ خود کلمات اور لفظوں میں بھی مخالف ہے، اور زیادتی اور کمی کے باعث بھی مخالف ہے۔
دیکھیے! یہ ہے آپ کے شیعہ مذہب کا اعتقاد جو آپ کی کتابوں میں صراحتاً درج ہے مجھے کیا مغالطہ ہے؟
مناظر شیعہ:مولوی عبد الستار صاحب! آپ کی معتبر کتاب تحفہ اثناءِ عشریہ میں شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ امامیہ کی تمام روایات میں موجود ہے کہ اہلِ بیتؓ اسی قرآن کو پڑھتے تھے تو اگر ائمہ اہلِ بیتؓ کے نزدیک یہ قرآن غلط ہوتا تو اس کو کیوں پڑھتے؟
باقی مولوی عبد الستار نے اصولِ کافی کی جو روایت سترہ ہزار آیات کی پیش کی، اس میں ناسخ و منسوخ مراد ہیں یعنی کل ناسخ و منسوخ آیات مل کر سترہ ہزار تھیں مگر جب منسوخ آیات نہ رہیں تو پھر موجودہ یہی چند ہزار آیات رہ گئیں تو اس روایت سے موجودہ قرآن کے غیر مکمل ہونے پر استدلال کیسے ہو سکتا ہے؟
مناظر اہل سنت :تحفہ اثناءِ عشریہ میں شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ نے امامیہ کے اس غلط عقیدہ تحریفِ قرآن کی تردید میں یہ استدلال کیا ہے یہ استدلال آپ کے شیعہ مذہب کے بانیانِ موجدین کی تردید میں ہے، جنہوں نے ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف روایاتِ تحریف کو منسوب کر کے تحریفِ قرآن کا عقیدہ گھڑا تھا
تو حضرت شاہ محدث دہلویؒ ان کی تردید میں فرما رہے ہیں کہ اگر ائمہ کرام تحریف کے قائل ہوتے تو خود تمہاری روایات میں یہ کیوں ثابت ہے کہ وہ اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے تھے۔
تو شاہ صاحبؒ کے استدلال کا یہ مقصد ہے کہ شیعہ مذہب کا جو تحریفِ قرآن کے متعلق عقیدہ ہے وہ غلط ہے اہلِ سنت و الجماعت کے علماء کو یہ حق ہے کہ عقیدہ تحریف کے مقابلے میں اہلِ بیتؓ کے اس قرآن کو پڑھنے پڑھانے سے صداقتِ قرآن پر استدلال کریں۔
مگر شیعہ مذہب کا مولوی اپنی کتابوں کی زائد از دو ہزار روایاتِ متواترہ صریحہ جو مثبتِ تحریفِ قرآن ہیں، ان کو چھوڑ کر صرف اہلِ بیتؓ کے پڑھنے پڑھانے سے شیعہ مذہب کا عقیدہ عدمِ تحریف کے متعلق کیسے ثابت کر سکتا ہے؟ جب کہ ان کے نزدیک ائمہ اہلِ بیتؓ کے پڑھنے پڑھانے کی تاویل خود شیعہ کتابوں میں یوں کی گئی ہے کہ امامِ مہدی کی آمد تک کسی کو اصلی قرآن پڑھنے پڑھانے کی اجازت نہیں۔
جیسا کہ اصولِ کافی صفحہ 671 پر ہے: سیدنا جعفر صادقؒ نے ایک شخص سے اصلی قرآن کے کچھ الفاظ سنے تو امام نے فرمایا:
كَفّ عَنْ هٰذِهِ الْقِرَاءَةِ، اِقْرَاْ كَمَا يَقْرَا النَّاسُ حَتّٰى يَقُوْمَ الْقَائِمُ عليه السلام، فَاِذَا قَامَ الْقَائِمُ قَرَاَ كِتَابَ اللّٰهِ عَلٰى حَدِّهٖ۔
ترجمہ: کہ اس قرأت سے باز رہو اور اس طرح پڑھو جس طرح لوگ پڑھتے ہیں، یہاں تک کہ امامِ مہدی آ جائے جس وقت امامِ مہدی آئیں گے تو کتاب اللہ کو اصلی طریقہ پر پڑھیں گے۔
مقبول ترجمہ صفحہ 1067 پر ہے: حضرت علیؓ نے فرمایا: آج اس کا موقع نہیں ہے کہ قرآنِ مجید کی اصلاح کر کے عوام کو ہیجان میں لایا جائے ائمہ میں یہ حق مخصوص جنابِ صاحب العصر امامِ مہدی کا حق ہے کہ قرآنِ مجید کو اسی حد پر پڑھوائیں گے جس حد پر وہ زمانہ رسولِ اللہﷺ میں پڑھا جاتا تھا۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ائمہ اہلِ بیتؓ اس کو کیوں پڑھتے تھے؟ تو دیکھیں، خود آپ کے مذہب نے اس کی وجہ ظاہر کر دی کہ امامِ مہدی کے سوا دوسرے اماموں کو اصلی قرآن پڑھوانے کا حق نہیں تھا اس لیے وہ اس قرآن کو پڑھتے تھے، نہ کہ اس لیے پڑھتے تھے کہ یہ قرآن کامل و مکمل ہے۔
2: اصولِ کافی کی 17 ہزار آیات والی روایت کے جواب میں آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ ناسخ و منسوخ کو ملا کر سترہ ہزار تھیں اصولِ کافی کا شارح ملا خلیل قزوینی تو لکھتا ہے:
مراد این است کہ بسیائی ازاں قرآن ساقط شده در مصاحف مشهوره نیست
اور چند سطور کے بعد لکھتا ہے کہ
دعوائے ایں کہ قرآن ہمین است کہ در مصاحف مشهوره است خالی از اشکال نیست
اور اس کے بعد اس قسم کے دلائل پیش کیے کہ موجودہ قرآن محفوظ اور کامل و مکمل نہیں ہے۔ اگر 17 ہزار سے کمی کی وجہ ناسخ و منسوخ ہوتی تو وہ اس کی وجہِ تحریفِ قرآن کے بجائے نسخ کو بیان کرتا مگر ملا خلیل صاحب نے تحریف کو کمیِ قرآن کی وجہ بتایا، نسخ کا نام بھی نہیں لیا۔
تفسیرِ صافی شیعہ صفحہ 13 پر ہے اور دیباچہ مقبول صفحہ 44 پر ہے: صاحبِ تفسیرِ صافی فرماتے ہیں کہ ان تمام حدیثوں سے اور طریقۂ اہلِ بیتؓ سے جو اور روایات ہم تک پہنچی ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو قرآنِ مجید اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے، یہ پورا پورا نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ پر نازل کیا گیا اس میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو تنزیلِ خدا کے خلاف ہے، اور اس میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جس میں تحریف و تغییر کی گئی ہے، اور کتنی ہی چیزیں اس میں سے گرا دی گئی ہیں از جملہ نامِ علیؓ تو بہت سے موقعوں سے، اور لفظِ آلِ محمد چند جگہوں سے، اور منافقوں کے نام خاص موقعوں سے، اور اسی طرح کچھ اور چیزیں اور یہ تو کھلی بات ہے کہ موجودہ ترتیب خدا اور رسول اللہﷺ کی پسندیدہ ترتیب تو ہرگز نہیں ہے۔
نیز مقبول ترجمہ صفحہ 1011 پر ہے: تفسیرِ قمی میں سیدنا محمد باقرؒ سے منقول ہے کہ جبرئیلِ امین نے رسولِ اکرمﷺ کو یہ آیت یوں پہنچائی تھی: ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ كَرِھُوْا مَااَنْزَلَ اللّٰهُ فِی عَلِی ٍّمگر مرتدین نے نام اڑا دیا پس اس کا نتیجہ بھگتیں گے۔
نیز مقبول ترجمہ صفحہ 479 پر ہے: معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن میں ظاہر اعراب لگائے گئے تو شراب خوار خلفاء کی خاطر يُعْصَرُوْنَ کو يَعْصِرُوْنَ سے بدل کر معنیٰ کو زیر و زبر کیا گیا یائے مجہول کو معروف سے بدل کر لوگوں کے لیے ان کے کرتوت کی معرفت آسان کر دی۔
مولوی اسماعیل صاحب! آپ اپنے مذہب کی ان کتابوں کے جواب دیجیے ادہر ادہر نہ بھاگنے دوں گا۔
محدث دہلوی صاحبؒ بھی آپ کے مذہب کے متعلق اسی تحفہ اثناءِ عشریہ کے صفحہ 215 پر لکھ چکے ہیں کہ امامیہ میں سے اثناءِ عشریہ کہتے ہیں کہ یہ کلامِ پاک جو اس وقت مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ تمام منزل من اللہ نہیں، بلکہ اس میں لوگوں نے کچھ الفاظ زائد کر دیے آگے لکھتے ہیں: اور اس کی بہت سی آیتیں اور سورتیں گرا دی گئی ہیں شاہ عبد العزیز صاحبؒ کے نزدیک شیعہ کا قرآن کے متعلق یہ عقیدہ ہے۔
مناظر شیعہ:
مولوی عبدالستار صاحب! جو روایتیں بیان کی ہیں ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں میں قرآن کو کامل و مکمل سمجھتا ہوں ہمارے شیخ صدوق وغیرہ قرآن کو کامل و مکمل سمجھتے ہیں اور شیخ صدوق کے رسالے کی عبارت پڑھی جس پر سرگانہ برادری کے ایک آدمی نے مولوی اسماعیل صاحب سے کہا کہ آپ ذرا عبارت اور اس کا ترجمہ آرام اور سکون سے پڑھیں ہم آپ کی بات وجہِ تیزی سے پورے طور پر سمجھ میں نہیں آ رہی۔
تو اس پر مولوی اسماعیل صاحب جو بہانہ تلاش کر رہے تھے، بگڑ گئے اور گالی گلوچ شروع کر دی کہ بے وقوفو! جاہلو! تم کو اس کی مولانا محمد عبد الستار صاحب تونسوی کی بات سمجھ میں آتی ہے، میری بات سمجھ میں نہیں آتی؟ پھر جب مخاطبین نے کہا کیا عالم کا خُلق یہی ہوتا ہے کہ وہ گالیاں دے؟ تو شرمسار ہو کر لوگوں سے معافی مانگی اور حواس باختہ ہونے کی وجہ سے ادہر ادہر کی باتوں میں بس، بصدِ مشکل اپنا ٹائم پورا کیا۔
مناظرِ اہل سنت:حضرات! میں نے شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں: اصولِ کافی، تفسیرِ قمی، احتجاجِ طبرسی، تفسیرِ صافی، مقبول ترجمہ، فصل الخطاب وغیرہ سے ائمہ معصومین کے معتبر اور واضح اقوال و احادیث جو محرف، تحریفِ قرآن پر صراحتاً دلالت کرتے ہیں، بلکہ ان روایاتِ تحریف کے زائد از دو ہزار ہونے کا اقرار کو فصل الخطاب کے صفحہ 227 سے پیش کیا ہے جس کا جواب اسماعیل بیچارے تو کیا، دنیا بھر کے شیعوں سے محال ہے میں تو دعوے سے بار ہا کہہ چکا ہوں کہ شیعہ کتب میں کسی امامِ معصوم سے موجودہ قرآن کے کامل و مکمل غیرِ محرف ہونے کی ایک بھی معتبر اور واضح روایت نہیں مل سکتی اور مولوی اسماعیل صاحب اب تک اس قسم کی کوئی روایت پیش نہیں کر سکے، اور نہ قیامت تک کوئی شیعہ عالم اور مجتہد میرے سامنے پیش کر سکتا ہے۔
هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞ (سورۃ النمل: آیت 64)