روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 13

وغیرہ وغیرہ مگر قیامت تک شیعہ مذہب اس قسم کی کوئی نص پیش نہیں کر سکتے جب خلافتِ بلا فصل سیدنا علیؓ اور باقی ائمہ کی امامت کو نصِ صریح سے ثابت کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اہلِ سنت و الجماعت سے کہتے ہیں کہ تم اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت منصوص من اللہ ثابت کرو حالانکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت اصولِ دین سے نہیں بلکہ دینی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے کہاں اور اصولِ دین توحید و رسالت و قیامت اور کہاں دینی مسائل اور فروعاتِ دین ان دونوں کے برابر سمجھنا انتہائی جہالت و حماقت ہے کیونکہ شیعہ خلافت اور امامت کے منصوص من اللہ اور اصول دین ہونے کے مدعی ہیں اور 12 اماموں کو جناب رسول اللہﷺ کے برابر مانتے ہیں اور باقی انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھتے ہیں تو جیسے جناب رسول اللہﷺ کی رسالت قرآن میں واضح اور منصوص بالاسم ہے، اسی طرح اماموں کی امامت بھی منصوص بالاسم قرآن مجید سے ثابت کریں کیونکہ ائمہ شیعوں کے نزدیک حضورِ اکرمﷺ کے مثل ہیں اور خلفاء کی خلافت کا اہلِ سنت کے نزدیک منصوص بالاسم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ تمام خلفاء غلامانِ محمدﷺ ہیں، نہ کہ مثلِ محمدﷺ لیکن اب شیعوں کا بارہ ائمہ کی خلافت و امامت کا منصوص بالاسم قرآنِ مجید میں ہونا تو درکنار، صرف ایک سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل بھی قرآن سے ثابت نہیں کر سکتے تو کہتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے غدیرِ خم (جنگل کے تالاب) پر من كنت مولاه فھذا علی مولاه کا اعلان فرمایا تھا جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل اصولِ دین میں سے ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اس کا اعلان  نہ قرآن میں نہ حدیثِ متواترہ میں، نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اللہ میں، نہ مسجدِ نبوی میں، اور نہ عرفات و منیٰ میں جہاں ہزاروں کا مجمع تھا بلکہ ایسا ضروری اعلان ایک جنگل کے تالاب پر اور وہ بھی گول مول الفاظ میں، جن کے معنیٰ خلافتِ بلا فصل قطعاً نہیں ہو سکتے تو اس کے جواب میں سرا سیمہ ہو کر رقص جمل کرنے لگتے ہیں۔ 

وَمَا تَوْفِيقِی اِلَّا بِاللهِ

سبب مناظرہ:

باگڑ سرگانہ ضلع ملتان میں ایک معروف مقام ہے جہاں ایک شریف اور معزز قوم سرگانہ آباد ہے جو اہلِ سنت ہے اس مقام کے ارد گرد کچھ ذمہ دار جو سرگانہ برادری کے ہیں وہ اہلِ تشیع سے تعلق رکھتے ہیں آپس کے برادرانہ تعلقات اور میل جول کے باعث دونوں پارٹیوں میں شیعہ سنی مذاکرات ہو جایا کرتے تھے چونکہ شیعہ حضرات کو عموماً مذہبی تعصب زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ان کے پیہم اصرار پر دونوں فریق کے درمیان طے پایا کے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے باگڑ سرگانہ میں برادرانہ محبت سے ایک مجلسِ مناظرہ قائم کی جائے چنانچہ ہر دو پارٹیوں کے نمائندے، سید گلاب شاہ صاحب، عالم شیعہ ساکنِ شہر ملتان کے ساتھ مل کر حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان کے پاس آئے اور شرائطِ مناظرہ تقریباً دو ماہ پہلے طے کیں پھر 13 اکتوبر 1956ء کو ہر فریق اپنے اپنے علماء و مناظرین کو باگڑ سرگانہ لے آیا اور تین دن تک نہایت امن و امان سے مناظرہ ہوتا رہا۔

شرائط مناظرہ:

جن پر دونوں فریق نے دو ماہ پہلے دستخط کر دیے تھے موضوع مقررہ من جانب اہلِ سنت و الجماعت:  

1: تحریفِ قرآن از روئے کتبِ شیعہ۔ 

2: سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلا فصل بنصِ قرآن و حدیث متواترہ صحیح از کتب اہلِ سنت و الجماعت۔

موضوع مقررہ از جانب اہلِ تشیع:  

1: حقانیت خلافت اصحابِ ثلاثہؓ بقرآنِ کریم و حدیث رسول اللہﷺ۔

2: مسئلہ فدک

یہ لطیفہ بھی ذکر کر دینا خالی از لطف نہیں کہ وہ دو ماہ پہلے شرائط طے کرتے وقت نہایت سوچ بچار کے بعد دوسرا موضوع شیعہ حضرات نے مسئلہ فدک مقرر کیا تھا مگر جب عین مناظرے کی حالت میں شیعہ مناظر مولوی محمد اسماعیل تحریفِ قرآن کے دلائل میں لا جواب اور مبہوت ہوئے تو انہوں نے مسئلہ فدک کے موضوع کو چھوڑ کر اس قسم کا دعویٰ باطل کر دیا کہ اہلِ سنت کے نزدیک بھی قرآن، اہلِ تشیع کی طرح محرف ہے اس لیے میں مسئلہ فدک کی بجائے اہلِ تشیع کی طرف سے دوسرا موضوع اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کا محرف و مغير ہونا مقرر کرتا ہوں چنانچہ مناظرِ اہلِ سنت نے نہایت فراخ دلی سے اس کو اجازت دے دی کہ تم اپنا دوسرا موضوع جو چاہو رکھ لو، مجھے منظور ہے اس لیے دوسرا مسئلہ فدک کی بجائے مسئلہ تحریفِ قرآن اہلِ سنت کے نزدیک عین مناظرہ میں مقرر ہوا جس سے عام پبلک کے علاوہ خود شیعہ حضرات پر یہ حقیقت بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ شیعہ مناظر، اہلِ سنت کے مناظر کے مقابلے میں لا جواب ہو کر اس قسم کی فرار کی راہیں اختیار کر رہا ہے۔

شرائط مناظرہ میں یہ ایک اصولی شرط لکھی گئی کہ کسی فریق کے مناظر کو ایک موضوع کی بحث کے درمیان دوسرا کوئی موضوع چھیڑنے کی اجازت نہ ہوگی اور کوئی مناظر خلطِ مبحث نہ کرے گا ورنہ اس کی شکست تصور ہوگی نیز یہ ضروری ہو گا کہ ایک موضوع ختم ہونے کے بعد دوسرا موضوع شروع کیا جائے، کیونکہ خلط ملط کرنے سے حق پوری طرح عوام کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔

اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق

اسماء اہل سنت و الجماعت:

مناظر:مناظرِ اعظم حضرت علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ۔  

صدر: فاتحِ اعظم حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب آف چکڑالہ۔ 

معین:امامِ پاکستان علامہ سید احمد شاہ صاحب بخاریؒ چکڑالوی۔ 

ان حضرات کے علاوہ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان اور حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ رحمہم اللہ تعالیٰ بھی موجود تھے۔  

سرپرستِ محترم: حاجی مہر شوق محمد صاحب سرگانہ

اسماء اہل تشیع:

مناظر: مولوی محمد اسماعیل، صدر دارُ التبلیغ گوجرہ  

صدر: مولوی امیر محمد قریشی  

معین:تلمیذِ مولوی محمد اسماعیل، سید ضمیر الحسن، سید گلاب شاہ ملتانی، مولوی مشتاق احمد ڈیروی، مولوی سیف اللہ جعفری اور مولوی غلام محمد محمودی بھی تھے۔  

سرپرستِ محترم: مہر حق نواز سرگانہ

نیز یہ طے پایا کہ دونوں مناظرین کی پہلی تقریریں 15، 15 منٹ ہوں گی اور بعد میں 10، 10 منٹ ہوں گی۔

تفصیلِ مناظرہ:

صفحہ 2 از 13