روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 13

مناظرہ 1: مدعی اہلِ سنت و الجماعت کا کہ اہلِ تشیع کے نزدیک ائمہ معصومین کی روایات سے موجود قرآنِ کریم محرف و مبدل ہے۔

مناظرہ اہلِ سنت: حضرت علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسویؒ

الحمد للّٰہ رب العالمین، و العاقبة للمتقین، و السلام علی محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔  

اما بعد:  اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)

حضرات! جس مبارک کتاب کی محافظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ داری اٹھائی ہے، اور جسے آں حضرت محمدﷺ اور آپﷺ کے اہلِ بیتِ کرامؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی جاں فشانی و قربانی سے ہم تک پہنچایا ہے، اس کے متعلق شیعہ مذہب یہ کہتا ہے کہ اس میں کفر کے ستون قائم کیے گئے ہیں کمی پیشی، تحریف و تبدیل اور جناب رسولِ اکرمﷺ کی توہین کی گئی۔

یہ میرے ہاتھ میں الاحتجاج طبرسی، شیعہ، صفحہ 137 ہے: 

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا:  

ثُمَّ دَفَعَهُمُ الِْاضْطِرَارُ بِوُرُوْدِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهِمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ، تَاْوِيْلَهٗ، اِلیٰ جَمْعِهٖ، وَتَاْلِيْفِهٖ، وَتَضْمِيْنِهٖ مِنْ تِلْقَائِهِمْ مَا يُقِيْمُوْنَ بِهٖ دَعَائِمَ كُفْرِهِمْ۔  

ترجمہ: پھر جب ان منافقوں سے وہ مسائل پوچھے جانے لگے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، تو مجبور ہو کر قرآن کو جمع کیا، اس کی تاویل کی، اور قرآن میں وہ باتیں بڑھائیں جن سے وہ اپنے کفر کے ستون قائم کریں۔  

غور کیجیے! سیدنا علی المرتضیٰؓ امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون قائم کر دیے گئے۔

تفسیر الصافی صفحہ 11:  عَنْ اَبِی جَعْفَر عليه السلام: لَوْلَا اَنَّهٗ زِيْدَ فِی كِتَابِ اللهِ وَنُقِصَ مِنْهُ مَا خَفِیَ حَقُّنَا عَلَى ذِی حِجىٰ۔  

سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں: اگر قرآن میں اضافہ نہ کیا گیا ہوتا اور کمی نہ کی گئی ہوتی تو ہمارا حق کسی عقلمند پر پوشیدہ نہ ہوتا۔  

خیال فرمائیے! سیدنا محمد باقرؒ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ قرآن میں کمی و بیشی کر دی گئی ہے۔

اصولِ کافی صفحہ 262: عن ابی  عبد الله عليہ السلام: وَمَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فِی وِلَايَةِ عَلِیٍّ وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا هَكَذَا نَزَلَتْ۔  

ترجمہ: سیدنا ابی عبد اللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی: مَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا۔ 

موجودہ قرآن میں فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْاَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ۔ کے الفاظ نہیں ہیں معلوم ہوا کہ موجودہ قرآن ناقص ہے۔

الاحتجاج طبرسی، صفحہ 131: سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا: اِنَّهُمْ اَثْبَتُوا فِی الْكِتَابِ مَا لَمْ يَقُلْهُ اللهُ لِيُلَبِّسُوْا عَلَى الْخَلِيْفَةِ۔  

ترجمہ: ان منافقوں نے قرآن میں وہ باتیں بڑھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی تھیں، تاکہ مخلوقِ خدا کو فریب دیں۔  

دوستو! سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جامعینِ قرآن نے ایسی چیزیں درج کر دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائیں۔

تفسیر الصافی، صفحہ 11:  وَعَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَام: اِنَّ الْقُرْاٰنَ قَدْ طُرِحَ مِنْهُ اٰیٌ كَثِيْرَةٌ، وَلَمْ يُزَدْ فِيْهِ اِلَّا حُرُوْفٌ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے: بہ تحقیقِ قرآن سے بہت سی آیات گرا دی گئیں، مگر جو زیادہ کیا گیا وہ کہیں کہیں حرف بڑھا دیا گیا ہے۔  

دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی بہت سی، بے شمار آیات گرا دی گئیں۔

فصلُ الخطاب از شیعہ، صفحہ 7:  عَنْ اَبِی ذَرِّ الْغِفَارِیّؓ: اَنَّهُ لَمَّا تُوْفِّیَ رَسُوْلُ اللهِﷺ جمع عَلِیّ عليه السلام القراٰن وَجَاءَ بِهٖ اِلَى الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، وَعَرَضَهٗ عَلَيْهِمْ لِمَا قَدْ اَوْصَاهُ بِذٰلِكَ رَسُوْلُ اللهِﷺ، فَلَمَّا فَتَحَهٗ اَبُو بَكْرٍ، خَرَجَ فِی اَوَّلِ صَفْحَةٍ فَتَحَهَا فَضَائِحُ الْقَوْمِ، فَوَثَبَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا عَلِیُّ اُرْدُدْهُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيْهِ. فَاَخَذَهٗ  عَلِیٌّ عليه السلام وَانْصَرَفَ. ثُمَّ اُحْضِرَ زَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ، وَكَانَ قَارِیاً لِلْقُرْاٰنِ ، فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ: اِنَّ عَلِيًّا جَاءَنَا بالْقُرْاٰنِ وَفِيْهِ فَضَائِحُ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، وَقَدْ رَاَيْنَا اَنْ نُؤَلِّفَ الْقُرْاٰنَ وَنُسْقِطّ مِنْهُ مَا كَانَ فَضِيْحَةً وَهَتْكًا لِلْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ، فَاَجَابَهٗ زَيْدٌ اِلٰى ذٰلِكَ۔

ترجمہ: سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے قرآن کو جمع کیا اور مہاجرین و انصار کے پاس لائے اور ان پر پیش کیا، کیونکہ رسول اللہﷺ کی اس کے متعلق وصیت تھی۔ جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے قرآن کا پہلا صفحہ کھولا تو اس پر قوم کی برائیاں تھیں بس سیدنا عمر فاروقؓ ڈر گئے اور کہنے لگے: اے علیؓ! اسے لے جاؤ، ہمیں اس کی حاجت نہیں پس حضرت علیؓ وہ قرآن لے کر واپس چلے گئے اس کے بعد سیدنا زید بن ثابتؓ کو بلایا گیا، جو قرآن کے قاری تھے تو سیدنا عمرؓ نے ان سے کہا کہ سیدنا علیؓ ہمارے پاس قرآن لائے تھے جس میں مہاجرین و انصار کی ہتک اور معائب تھے اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ قرآن جمع کریں اور اس میں سے مہاجرین و انصار کی ہتک والی آیات گرا دیں تو سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: میں ایسا کر دیتا ہوں۔

حضرات! غور کیجیے، یہ روایت کھلم کھلا ثابت کرتی ہے کہ سیدنا علیؓ کا قرآن اور تھا جس میں مہاجرین و انصار کے ہتک اور معائب تھے اب موجودہ قرآن میں تو مہاجرین و انصار کی تعریف ہے تو ثابت ہوا کہ قرآن شیعہ کے نزدیک محرف و مبدل ہے، اور وہ سیدنا علیؓ والا قرآن نہیں ہے۔

مرآة العقول جلد اول، صفحہ 171: قال جعفر بن محمد الصادق: اما والله لو قُرِئ القراٰن كما انزل لَالفيتمونا فيه مُسَمَّئين۔  

صفحہ 3 از 13