روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 6 از 13

10: باقی مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم اس قرآن کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو اس کی وجہ خود ان کی کتابوں میں مذکور ہے وہ یہ ہے: 

ترجمہ مقبول: صفحہ 167 پر سیدنا علیؓ کا فرمان نقل کیا گیا ہے اصل عبارت: 

ائمہ علیہم السلام نے یہ حق مخصوص جنابِ صاحبِ العصر کا ہے کہ قرآنِ مجید کو اسی حد پر پڑھوائیں گے جس حد پر وہ زمانہِ رسولِ اللہﷺ میں پڑھا جاتا تھا۔

نیز ترجمہ مقبول صفحہ 479 پر یوں مرقوم ہے اصل عبارت: 

ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کر دیں، تم اس کو اس کے حال پر پڑھنے دو، اور تغیر کرنے والوں کا عذاب کم نہ کرو ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو قرآنِ مجید کو اس کی حالت پر لانا جنابِ صاحبِ العصر امام مہدی علیہ السلام کا حق ہے، اور انہی کے وقت میں وہ حسبِ تنزیلِ خدا تعالیٰ پڑھا جائے گا۔

مناظر شیعہ: مولوی اسماعیل صاحب

یہ دیکھیے میرے ہاتھ میں اہلِ سنت والجماعت کی کتاب نور الانوار ہے اس کے صفحہ نمبر 7 پر لکھا ہے: 

اما الكتاب فهو القراٰن المُنزَّل علی الرَّسول علَيْه السلام المكتوب فی المصَاحِفِ المنقولُ عنہ نقلاً متواتراً   بِلَا شُبْہَۃٍ۔ 

ترجمہ: بہر حال کتاب اللہ وہ قرآن ہے جو کہ رسول اللہﷺ پر اترا اور مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور آنحضرتﷺ سے تواتر کے ساتھ بغیر کسی شک و شبہ کے نقل کیا گیا ہے۔

قرآن کے متواتر ہونے کے ثبوت میں جب شیعی مناظر نے یہ مذکورہ بالا عبارت اہلِ سنت کی کتاب سے پیش کی تو اہلِ سنت و الجماعت کے صدر جناب فاتحِ اعظم مولانا اللہ یار خان صاحبؒ آف چکڑالہ اور مناظرِ اہلِ سنت حضرت علامہ تونسویؒ نے فرمایا کہ مولوی اسماعیل کچھ حواس باختہ ہو رہے ہیں ان کو اپنا مسلک اپنی کتابوں سے ثابت کرنا چاہیے لہٰذا اپنے مذہب کی کتاب سے اپنے اصول کے مطابق ایسی عبارت پیش کریں جس سے قرآنِ مجید کا متواتر ہونا ثابت ہو مگر یہ اپنے اصول اور کتابوں سے قیامت تک موجودہ قرآنِ مجید کا متواتر قطعاً ثابت نہیں کر سکتے حالانکہ ان کے نزدیک قرآن کا محرف ہونا متواتر ہے۔

بے چارہ شیعی مناظر سخت پریشان اور بدحواس ہو گیا اور بہت سا وقت اس عالمِ بدحواسی میں ضائع کرنے کے بعد تقریر شروع کی:  

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 الٓمّٓ ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔ (سورۃ البقرہ آیت 1، 2)

اللہ تعالیٰ نے تو کھلے الفاظ میں فرمایا کہ قرآنِ مجید میں کوئی شبہ نہیں۔  

حضرات! قرآن متواتر ہے متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کافر، یہودی اور مسلمانوں کی جب ایک بڑی جماعت کسی چیز کے متعلق کہہ دے تو اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جیسے وجودِ مکہ، مدینہ، بغداد، کوفہ وغیرہ۔ کہاں ان کے مخبرین کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے؟ قرآن کا تو تواتر طبقاتی ہے، لہٰذا اس میں بھی راویوں کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں۔

باقی مولوی عبد الستار صاحبؒ نے جو فصل الخطاب کی روایت پیش کی ہے، اس کے متعلق ہمارے علامہ نقی تفسیر آلاء الرحمٰن کے مقدمہ کے صفحہ 25 پر رقم طراز ہیں کہ فصل الخطاب کی یہ روایت مرسل اور مقطوع ہے، ان کے راویوں کا علم نہیں ہے۔

مناظر اہل سنت و الجماعت: علامہ تونسوی مدظلہ

کتنے تعجب کی بات ہے کہ جس قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ: 

لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت 2)

فرماتا ہے اور شیعی مناظر اسی کو پڑھتا بھی ہے، پھر ظلم یہ ہے کہ شیعہ مذہب اسی قرآن کو محرف اور غلط کہتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر کفر کے ستون ہیں اور اس میں رسول اللہﷺ کی ہتک ہے۔

اور مولوی صاحب کی یہ بات کتنی لغو اور غلط ہے کہ متواتر میں راویوں سے بحث نہیں کی جاتی۔ کافر، یہودیوں وغیرہ کی جب ایک بڑی جماعت کہہ دے تو اس میں شک نہیں ہوتا؟

تو مولوی صاحب کے اس اصول سے مولوی اسماعیل کا اعتقاد ہوگا کہ مکہ اور عرب اور دنیا کے کافروں کے بے شمار لوگوں نے رسول اللہﷺ اور قرآنِ مجید کو جھوٹا کہا ہے کیا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟  

اسی طرح عیسائیوں کی بے شمار تعداد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا اور مانا ہے کیا ان کا یہ تواتر مولوی اسماعیل کے نزدیک معتبر ہے؟  

اور اسی طرح تمام یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ طاہرہ مریم کے متعلق طوفان باندھا کیا ان یہودیوں کا یہ تواتر ان کے نزدیک معتبر ہے؟  

اور کیا شیعہ عقائد کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سے لے کر آج تک اہلِ سنت و الجماعت کے کروڑوں افراد کے نزدیک خلیفۃ الرسول سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافتِ برحق کا اعتقاد جو کہ تواتر سے چلا آ رہا ہے معتبر اور صحیح ہے؟

تو رسول اللہﷺ کے بعد جس طرح موجودہ قرآن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نقل کیا اور اس قرآن پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تواتر و اجماع ہے، اسی طرح خلافتِ صدیق پر بھی اجماع ہے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع اور تواتر قرآن کے متعلق صحیح و معتبر ہے تو خلافتِ صدیق کے متعلق بھی صحیح اور معتبر ہے تو اب اگر قرآن کو تواتر و اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے صحیح مانتے ہو تو خلافتِ صدیق کو بھی صحیح مان کر اختلاف اور جھگڑا ختم کر لو۔

باقی رہی یہ بات کہ مکہ اور مدینہ اور بغداد و کوفہ وغیرہ کی خبر عام لوگوں سے سن کر یقین کر لیا جاتا ہے اور راویوں سے بحث نہیں کی جاتی کیونکہ تواتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بے شمار راویوں کو جھوٹا اور غلط بیانی کرنے والا خیال نہیں کیا جاتا۔  

آج بھی اگر کسی شہر کے متعلق بہت سے لوگوں کی بے شمار جماعت خبر دے، مگر ان سب کو سننے والا جھوٹا تصور کرے، تو ایسے لوگوں کا تواتر ان کے نزدیک اس شہر کا وجود ثابت نہ کر سکے گا۔  

اسی طرح شیعہ کے نزدیک رسول اللہﷺ سے موجودہ قرآن کو لینے والی تمام کی تمام جماعت جھوٹی تھی تو ان کی یہ نقل شیعہ کے نزدیک قطعاً قابلِ اعتبار نہ ہوگی۔

مناظر شیعہ:ہماری مرآۃ العقول میں تواترِ معنوی تو لکھا ہے، مگر قرآن کی کمی و بیشی کے متعلق مولوی عبد الستار نے اپنی طرف سے بناوٹ کر کے کہہ دیا ہے وہاں کمی و بیشی کا ثبوت نہیں ہے ہمارے سیدنا علیؓ نے تو فرمایا ہے:  

صفحہ 6 از 13