روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 8 از 13

2: اس روایت میں بِمَا فِيْهِ نَجَوْتُمْ میں ما موصولہ موجود ہے جو استغراق کے معنیٰ پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ قرآن کامل ہے اب مولوی عبد السّتار صاحب کی ساری شیخی اور مطالبہ کی حقیقت کھل گئی جو بار کہہ رہا تھا کہ کوئی روایت کسی امام معصوم کی دکھا دو جس سے قرآن کا کامل و مکمل ہونا ثابت ہو یہ روایت سیدنا علی المرتضیٰؓ کی نہایت واضح طور پر قرآن کے کامل و مکمل ہونے پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ آپ نے دیکھا: کلہ کا لفظ موجود ہے، ما موصولہ موجود ہے، نَجَوْتُمْ مِنَ النَّارِ اور دَخَلْتُمُ الْجَنَّۃَ موجود ہے اب میں دیکھوں کہ مولوی عبد الستار صاحب اس روایت کو کہاں لے جاتے ہیں۔

مولوی اسماعیل صاحب، شیعہ مناظر نے اس روایت پر بہت کچھ زور دیا اور بار بار کہتا رہا اس روایت کا جواب دیجیے گویا اس بے چارے کے نزدیک یہ روایت بڑی مایہ ناز اور لاجواب روایت تھی۔

مناظر اہل سنت :علامہ تونسوی

سبحان اللہ! بار بار مطالبہ اور تاکید در تاکید کے بعد مولوی اسماعیل بیچارے نے نہایت فخر و ناز کے ساتھ روایت پیش کی، مگر افسوس ہے کہ کس قدر بد دیانتی یا جہالت کا مظاہرہ کیا دیکھیے! یہ میرے ہاتھ میں احتجاجِ طبرسی ہے، اس کے صفحہ 77 پر كُلُّهٗ قُرْاٰنٍ یہ پورا قرآن ہے کے الفاظ سیدنا طلحہؓ کے ہیں، سیدنا علیؓ کے الفاظ نہیں ہیں کس قدر دیدہ دلیری ہے کہ ایسے سفید جھوٹ مناظرہ میں ہمارے سامنے بول رہے ہیں۔

احتجاج طبرسی کے اس صفحہ پر اصل عبارت یوں ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا طلحہؓ سے فرمایا:  

فَاَخْبِرْنِی عَمَّا كَتَبَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ اَقُرْاٰنٌ كُلُّهٗ اَمْ فِيْهِ مَا لَيْسَ بِقُرْاٰنٍ۔ 

ترجمہ: پس مجھے خبر دیجیے اس سے کہ جو کچھ عمرؓ اور عثمانؓ نے لکھا ہے، وہ سارے کا سارا قرآن ہے یا اس میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو غیر قرآن ہیں؟

تو حضرت طلحہؓ نے جواب دیا: قُرْاٰنٌ كُلُّهٗ

ترجمہ: وہ سارا قرآن ہے۔

مولوی اسماعیل صاحب! کس احتجاج میں سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے کہ یہ پورا قرآن ہے؟

2: اِنْ اَخَذْتُمْ بِمَا فِيْهِ  نجوتم من النار ودخلتم الجنۃ

مولوی اسماعیل کی مایہ ناز روایت کی قلعی خود ان کے ملا خلیل قزوینی نے کھول کر رکھ دی ہے۔ صافی شرح اصول کافی جزء ششم صفحہ 76 پر لکھتے ہیں:

واقعہ عجیبہ:

جس وقت حضرت علامہ تونسوی مدظلہ نے اس روایت کے جواب کے لیے ملا خلیل قزوینی کی کتاب صافی شرح اصولِ کافی اٹھائی اور فرمایا کہ میں اس روایت کا مطلب شیعہ کی اس کتاب سے بیان کر کے واضح کرتا ہوں کہ مولوی اسماعیل صاحب کی بیان کردہ روایت کی حقیقت کیا ہے، تو مولوی اسماعیل بے چارہ نہایت سراسیمہ اور بدحواس ہو کر علامہ تونسوی کی تقریر کے دوران میں کود پڑا کہ یہ اس روایت کے معنیٰ خود کریں، ہماری کتاب پیش نہ کریں ہم اپنی اس کتاب کے معنیٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔  

جس پر علامہ تونسوی مدظلہ نے فرمایا: میری بات اور میرا ترجمہ تمہارے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں۔ روایت بھی تمہاری ہے، ترجمہ اور معنیٰ بھی تمہارے مشائخ اور کتابوں سے بیان کرتا ہوں مولوی اسماعیل صاحب اپنے مذہبِ شیعہ کی کتابوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟ بعدہ کتابِ مذکور سے روایت کا معنیٰ اور مفہوم پیش کیا گیا شیعہ ملا خلیل قزوینی اپنی کتاب صافی شرح اصولِ کافی صفحہ 76 پر مولوی اسماعیل کی اس مایہ ناز روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ:  

مراد این است کہ با وجود اسقاط و اختلاف در قرارت آن قدر باقی مانده کہ صریح باشد در امامت اہل بیت معصومین

ترجمہ: سیدنا علیؓ کی مذکورہ روایت میں فرمانِ نجات سے مراد یہ نہیں کہ قرآن کامل و مکمل ہے، بلکہ اس روایت سے مراد یہ ہے کہ باوجود یکہ قرآن سے بہت کچھ گرا دیا گیا اور قراءت کو مختلف کیا گیا، لیکن اتنا قدر باقی ہے جو اہلِ بیتؓ معصومین کی امامت پر صراحتاً دلالت کرتا ہے۔  

ملا خلیل اس روایت کا مطلب یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن کامل و مکمل ہے، بلکہ وہ تو اس روایت کے مقصد میں بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قرآن ناقص و محرف ہے با وجودِ اسقاط کے لفظ پر غور فرمائیے۔

3: مولوی اسماعیل صاحب کا یہ جاہلانہ استدلال بھی قابلِ تعجب ہے کہ ما موصولہ استغراقیہ ہوتا ہے کیا مولوی صاحب کے نزدیک قرآنِ مجید میں جو فرمایا گیا ہے: وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرہ: آیت 151)

کیا اس ما موصولہ میں استغراق کے معنیٰ ہو سکتے ہیں؟ اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔  

علاوہ ازیں اگر بالفرض اس روایت میں ما موصولہ استغراق کے لیے فرض کر لیا جائے تب بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو کچھ اس قرآن میں ہے اس پر عمل کرو گے تو نجات پاؤ گے گو فی نفسہٖ قرآن خود کامل و مکمل نہیں، تاہم اس ادہورے اور ناقص کے سارے احکام پر عمل کر لو، نجات پا جاؤ گے، جس طرح خود شیعہ ملا خلیل نے معنیٰ کیے ہیں پھر اس ما کے موصولہ استغراقیہ ماننے سے قرآن کے کامل و مکمل ہونے کا کیسے ثبوت ہو گیا؟

4: اصولِ کافی صفحہ 263 پر مرقوم ہے:  

نَزَلَ جَبْرَيْلُ بِهٰذِهِ الْاٰيَةِ عَلٰى مُحَمَّدٍﷺ هٰكَذَا: اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فِیْ عَلِیٍّ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۔  

دیکھیے! موجودہ قرآن میں فِی ْ عَلِّیٍ کا لفظ نہیں ہے۔ قرآن ناقص ہوا یا نہ ہوا؟

4: ترجمہ مقبول صفحہ 412 میں سیدنا جعفر صادقؒ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا:  

لَقَدْ جَآءَنَا رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِنَا عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتْنَا حَرِيْصٌ عَلَيْنَا بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ  

حالانکہ موجودہ قرآن میں یوں ہے:

لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت 128)

دیکھیے! آپ کے امامِ معصوم کے نزدیک قرآن کو کتنا بگاڑا اور بدلا گیا ہے۔

صفحہ 8 از 13