روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان - سنی شیعہ مناظرے |…

روئیداد مناظرہ باگڑ سرگانہ ضلع ملتان

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 9 از 13

مناظر شیعہ:مولوی عبد الستار صاحب جس قدر روایتیں پیش کر رہے ہیں یہ ہمارے نزدیک ضعیف اور مجروح ہیں مقبول ترجمہ کی روایتیں پیش کرتے ہیں حالانکہ مقبول ایک عام آدمی تھا جس کو ہم سے بھی کم علم تھا ایسے شخص کی بات ہم پر کیسے حجت ہو سکتی ہے؟ اصولِ کافی کی روایتیں ضعیف ہیں ایسی ضعیف روایتیں پیش کر کے ہمارا عقیدہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟

چونکہ اب مولوی اسماعیل شیعہ مناظر کے پاس نہ تو عدمِ تحریف کی کوئی روایت تھی جو پیش کرتا، اور نہ تحریف ثابت کرنے والی علامہ عبد الستار صاحب کی پیش کردہ بے شمار روایتوں کا کوئی جواب تھا، بے چارہ اِدہر اُدہر کی دو چار باتیں کہہ کے بصدِ مشکل ٹائم پورا کرتا رہا۔

مناظر اہل السُنت:1: اگر تحریف کی روایات ضعیف ہیں تو عدمِ تحریف کی صحیح اور واضح روایات کہاں ہیں؟

2: اگر مولوی مقبول کا ترجمہ ضعیف اور ناقابلِ اعتبار ہوتا تو شیعہ علماء اور مجتہدین کے یہ کلمات اور تقریظات کیوں لکھے ہوئے ہیں کہ کتابِ الٰہی کو اگر زبانِ اردو میں دیکھنا ہو تو مقبول ترجمہ دیکھیے اور سمجھیے اور یہ تفسیرِ اہلِ بیتؓ ہے کیا ان شیعہ مجتہدین سید کلبِ حسین مجتہد، سید محمد دہلوی، احمد علی لکھنؤی کا علم آپ سے کم تھا؟

3: جو چیزیں میں نے مقبول ترجمہ سے پیش کی ہیں وہ مولوی مقبول کی اپنی بات نہیں ہے، بلکہ ائمہ معصومین کے ایسے اقوال ہیں جو شیعہ کی معتبر ترین کتابوں سے منقول ہیں۔

4: اصولِ کافی کی روایتیں اگر ضعیف اور مجروح ہیں تو آپ کے امامِ غائب امام مہدی نے کس لیے فرمایا: ھذا کافٍ لشیعتنا

ترجمہ: ہمارے شیعوں کے لیے یہی کتاب کافی ہے۔

جس طرح کہ اصولِ کافی کے سر ورق پر ابتداءً مرقوم ہے۔

5: اگر یہ روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے مشائخِ شیعہ کا اعتقادِ تحریف نہ ہوتا دیکھیے تفسیرِ صافی کے صفحہ 14 پر موجود ہے:  

وَاَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائخِنَا فِی ذٰلِكَ فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْاِسْلَامِ محمد بن يعقوب الكلينی اِنَّهٗ كَانَ يَعْتَقِدُ التَّحْرِيْفَ وَ النُّقْصَانَ فِی الْقُرْاٰنِ۔ 

وَكَذٰلِكَ اُسْتَاذُهٗ عَلِیُّ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ الْقُمِّی فَاِنَّ تَفْسِيْرَهٗ مَمْلُوٌّ مِنْهُ وَ لَهٗ غُلُوٌّ فِيْهِ۔  

وَكَذٰلِكَ  شیخ احمد بن ابی طالب الطبرسی فانہ ایضانسج علٰی  مِنْو الِہِماَ فِی الْاحتجاج

ترجمہ: ہمارے بزرگوں کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی قرآنِ مجید میں تحریف اور نقصان کے قائل تھے اور اسی طرح ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کہ ان کی تفسیر بھی ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کو اس عقیدے میں غلو ہے اور اسی طرح شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کہ انہوں نے بھی کتابِ احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے طرز پر چلے ہیں۔

غور کیجیے کہ اگر روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے اتنے بڑے بڑے مشائخ ان روایات کو دیکھ کر تحریف کا عقیدہ کیوں رکھتے؟

6: عن ابی جعفر قال نزل جبریل ھذہ الٰایۃ علٰی محمدﷺ ھٰکذا: فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِی قِيْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔  

دیکھیے! موجودہ قرآن میں دونوں جگہ اٰل محمد حقھم کے الفاظ موجود نہیں ہیں سیدنا محمد باقرؒ کے نزدیک شیعہ مذہب کے مطابق تحریف ہو گئی یا نہیں؟

7: ترجمہ مقبول صفحہ 637: وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى  اٰدَمَ  مِنْ قَبْلُ كَلِمَاتٍ فِی مُحَمَّدٍ وَّ عَلِیٍّ وَّ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ وَالْاَئِمَّةِ  مِنْ ذُرِّیَّتِهِمْ فَنَسِیَ۔

سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: واللہ! رسولِ خداﷺ پر یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی۔  

غور کیجیے! موجودہ قرآن میں كلماتٍ فی محمد وعلی و فاطمہ غیرہ الفاظ موجود نہیں ہیں، بلکہ موجودہ قرآن میں آیت یوں ہے: 

وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ الخ۔ (سورۃ طٰہ: آیت 115)

فرمائیے! تحریف ہوئی یا نہیں؟

مناظر شیعہ:فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْاِسْلَامِ اس عبارت کا مطلب ہے کہ ظاہر بین علماء کا یہی خیال ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی وغیرہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں ورنہ ہمارے محققین علماء تحریف کے قائل نہیں ظاہر بین اور ہوتے ہیں اور محققین اور ہوتے ہیں ہمارے محققین علماء شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی، ان چاروں نے تصریح کی ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی لہٰذا ہمارے نزدیک ان محققین کا قول معتبر ہے اور یہی شیعہ کے نزدیک صحیح ہے اور باقی غلط ہے۔

بے چارہ شیعہ مناظر انہی مذکورہ بالا اپنے چار مولویوں کے اقوال دہراتا رہا، مگر کسی امامِ معصوم کا کوئی واضح قول عدمِ تحریف کے متعلق پیش نہ کر سکا جب کہ دوسری طرف سے مناظرِ اہلِ سنت مناظرِ تونسویؒ نے شیعہ کی معتبر کتابوں سے ائمہ معصوم کے تحریف ثابت کرنے والے اقوال کا انبار لگا دیا اور شیعہ مناظر سے بار بار مطالبہ کیا کہ جس طرح میں نے آپ کی کتابوں سے ائمہ معصومین کے اقوال و احادیث سے تحریف کو ثابت کیا ہے، تم اس قسم کا کوئی ایک معتبر، صحیح اور واضح قول عدمِ تحریف کا بیان کرو مگر بے چارہ شیعہ مناظر نہایت لا جواب اور عاجز ہو کر رہ گیا۔

مناظر اہل سنت:حضرات! میں تو سمجھتا تھا کہ یہاں میرے مناظرے کے لیے شیعہ حضرات لکھنؤ وغیرہ سے کسی اہلِ علم اور اپنے مذہب کو سمجھنے سوچنے کی لیاقت و قابلیت رکھنے والے آدمی کو لائیں گے۔ اب دیکھیے کہ آپ کا مولوی اسماعیل: 

اَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائِخِنَا فِیْ ذٰلِکَ فَالظَّاهِرُ الخ۔

کا ترجمہ ظاہر بینِ علماء کر رہا ہے اس بے چارے کو تو اپنے مذہب کی کتابوں کی خبر تک بھی نہیں یہ تو صرف اہلِ بیتِ رسولﷺ اور خلفاء و صحابہ رسولﷺ پر تبرّا کر سکتا ہے دیکھیے! میں ان کی اسی عبارت کا ترجمہ ان کے مذہب کے علماء سے نقل کرتا ہوں:  

دیباچہ مقبول ترجمہ (شیعہ) صفحہ 47 پر مرقوم ہے:  

اب رہا ہمارے بزرگ علماء کا اس بارے میں اعتقاد، تو یہ کھلی بات ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی طاب ثراہ قرآنِ مجید میں تحریف اور کمی کے قائل ہیں چند سطور کے بعد لکھتے ہیں:  

صفحہ 9 از 13