حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن وسنت کی نظر…

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن وسنت کی نظر میں

  مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری

صفحہ 1 از 3

حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں

خلاصۂ کائنات، فخرِ موجودات، باعثِ کُن فیکون، محبوبِ ربِ دو جہاں، سیدِ انس و جن، سرورِ کونین، تاجدارِ عرب و عجم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی درس گاہ کے بلاواسطہ اور براہِ راست شاگرد، مسجدِ نبوی کے تربیت یافتہ، وحی ربانی قرآن مقدس کے اولین مخاطب حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت وہ مقدس و پاکیزہ جماعت ہے جو اپنی بے شمار اور اَن گنت خصوصیات اور فضائل و مناقب میں تمام سابقہ و لاحقہ اقوام و اُمم میں بے نظیر اور فقید المثال ہے نہ اولین میں اس برگزیدہ طبقہ کی نظیر و مثال ہے اور نہ آخرین میں کوئی قوم و امت اس جماعت کے ہم رُتبہ ہو سکتی ہے، یہی وہ طبقہ ہے جو زمانۂ جاہلیت (قبلِ ایمان) میں اگرچہ معاصی اور گناہوں میں مبتلا تھے؛ لیکن ایمان قبول کرنے اور ہدایتِ خداوندی سے مستفیض ہونے کے بعد رحمان و رحیم اور پروردگارِ عالم سے اتنے قریب ہو گئے کہ مردود شیطان دیکھتے ہی دُم دبا کر بھاگ جاتا تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وہ مقدس گروہ قرآن و سنت، مذہب و شریعت اور تہذیب و تمدن کا رنگ قبول کرنے والا اور اپنی تمام تر سابقہ بے ڈھنگی روش اور طور طریقوں کو یکسر چھوڑ کر رحمانی زندگی اور سیرتِ نبوی کی ایسی جیتی جاگتی تصویر بن گیا کہ کہنے والا کہنے پر مجبور ہو گیا کہ
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا
اور خود کائنات کا پالن ہار ان کی تعریف و توصیف بیان کرتا ہے، دنیاوی زندگی اور حیاتِ فانی ہی میں اپنی رضامندی اوران کی مغفرت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے خاص مقامِ رحمت جنت کی بشارت و خوش خبری سُناتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
 ‌رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ
(سورۃ البينة: آیت، 8)
ترجمہ: اللہ ان سے خوش ہو گا اور وہ اس سے خوش ہوں گے۔ 
دوسرے مقام پر ان کے ہدایت یافتہ اور بامراد ہونے کو یوں بیان فرماتا ہے،  
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏
(سورۃ البقرة: آیت، 5)
 ایک موقع پر حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی قبولیت کو اور پھر ان کے ایمان کو معیار اور کسوٹی کا درجہ دیتے ہوئے ارشاد ہے:  
اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ
(سورۃ البقرة: آیت، 13)
ترجمہ: تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں 
اور کبھی حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی ربط و تعلق اور محبت و الفت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے 
رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ (سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ 
حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قلوب تقویٰ و طہارت میں نہایت مزکّٰی و مصفّٰی تھے، اسی کو قرآن یوں بیان کرتا ہے:  
اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ (سورۃ الحجرات: آیت، 3)
ترجمہ: یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کر لیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔
اور دشمنانِ اسلام اور کفار و مشرکین کے مقابلے میں ان کی مضبوطی اور طاقت کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں 
معصیت و گناہ سے اس گروہ کی نفرت و کراہت کو کلام پاک ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ 
وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ
 (سورۃ الحجرات: آیت، 7)
ترجمہ: اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔
اور شارحِ قرآن کریم، مبینِ مرادِ خداوندی، مہبطِ وحی حضرت نبی پاکﷺ نے بھی صادق و مصدوق ارشادات اور فرمودات میں حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب اور ان ذواتِ قدسی صفات کی تعریف و توصیف خوب خوب بیان فرمائی ہے۔ خلیفۂ ثانی فاروقِ اعظم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 
قال رسول اللہﷺ: أکرموا أصحابی فإنھم خیارکم ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم الخ
(سنن نسائی بحوالہ مشکاۃ المصابیح: صفحہ، 554)
ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اعزاز و اکرام کرو کیوںکہ وہ تم سے بہتر ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔ 
دوسری روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے:
عَنْ جَابِرٍؓ عَنِ النَّبِیِّﷺ قال: لا تَمْسَ النَّارُ مُسْلِماً راٰنِی أو رأی من راٰنِی
(سنن ترمذی بحوالہ مشکاۃ المصابیح: صفحہ، 554)
ترجمہ: آگ اس شخص کو نہ چھو پائے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے صحابی کو دیکھا ہو گا۔ 
ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:  
عن ابنِ عمر رضی اللہ عنہما قال قال رسول اللہﷺ: إذا رأیتم الَّذِیْنَ یَسُبُّوْنَ أصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا: لَعْنَۃُ اللہ عَلی شَرِّکُمْ
 (سنن ترمذی بحوالہ مشکاۃ المصابیح: صفحہ، 554)
ترجمہ: جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے ساتھیوں کو برا بھلا کہہ رہے ہوں تو یوں کہو کہ اللہ کی لعنت تمہارے شر پر۔ 
اسی طرح ایک روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال النبیﷺ: لا تسبوا اَصْحَابِی فَلَوْ أنَّ أحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ أحُدٍ ذَہَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أحَدِہِمْ وَلاَ نَصِیْفَہٗ
(متفق علیہ بحوالہ مشکاۃ المصابیح: صفحہ، 553) 
ترجمہ: تم لوگ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا مت کہو! کیوںکہ (وہ تم سے بہت افضل ہیں) اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کرے گا تب بھی وہ ان کے ایک مُد یا نصف مُد کو نہیں پہنچ پائے گا۔ 
ایک روایت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
عَن عمران بن حصین قال قال رسول اللہﷺ: خَیْرُ اُمَّتِی قَرْنِی ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ الخ
(متفق علیہ بحوالہ مشکاۃ المصابیح: صفحہ، 553)
ترجمہ: میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے لوگ پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔
صفحہ 1 از 3