مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 10

مولوی اسماعیل صاحب! قرآنِ مجید ہمارا ہے اور ہم قرآنِ مجید کے ہیں معوذتین کے متعلق اہلِ سنت کے علماء اور بزرگانِ دین کے فتاویٰ سنیے:

1:قال النووی فی شرح المھذب: اجمع المسلمونَ علی ان المعوذتین والفاتحَۃ من القراٰن، وان من جحد منھا  شَیْئًا کَفَرَ۔  

ترجمہ: علامہ نوویؒ نے شرحِ مہذب میں فرمایا ہے کہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ معوذتین اور فاتحہ قرآن ہیں جو شخص ان میں سے کسی کی قرآنیت کا منکر ہو وہ کافر ہے۔

2: محلی لابن حزم صفحہ 13، جز 1، مسئلہ 21:  

وان القراٰن الذی فِی المصَاحِفِ بِاَیْدِی الْمُسْلِمِیْنَ شَرْقًا وَّ غَرْبًا، فَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ مِن اوّلِ الْقُرْاٰنِ اِلٰی اٰخِرِ المعوّذتَیْن کَلام اللهِ عزّوجَلّ وَوَحْیُہٗ اَنْزَلَہٗ عَلٰی قَلْبِ نبیّہ محمّدٍﷺ، مَنْ کَفَرَ بِحَرْفٍ مِنْہُ فَھُوَ کَافِرٌ۔

ترجمہ: جو قرآنِ مجید مسلمانوں کے ہاتھ میں شرقاً و غرباً ہے، ان مصاحف میں اولِ قرآن سے لے کر معوذتین کے آخر تک، یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام اور وہی ہے جو اس نے اپنے نبی کریمﷺ کے قلبِ مبارک پر اتارا تھا جو شخص اس کے ایک حرف کا بھی منکر ہو وہ کافر ہے۔  

مولوی اسماعیل صاحب! ان فتاویٰ پر نظر نہیں پڑتی؟ دیکھیے! معوذتین کا بلکہ ان کے کسی ایک حرف کا منکر اہلِ سنت کے نزدیک کافر اور خارج از اسلام ہے۔

مناظرِ شیعہ:مومنو! میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی معتبر کتاب تفسیر الاتقان ہے جس کے صفحہ 113 پر مرقوم ہے:  

نُقِلَ فِی بَعْضِ الْکُتُبِ الْقَدِیْمَۃِ انّ ابن مسعودؓ کانَ یُنْکِرُ کَوْنَ سُورۃ الْفَاتحۃ والمعوّذتین من القراٰن۔  

ترجمہ: بعض قدیم کتابوں میں نقل کیا گیا ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ فاتحہ اور معوذتین کے قرآن ہونے کے منکر تھے۔  

دیکھیے! اہلِ سنت کا پیر و مرشد ابنِ مسعودؓ الحمد اور معوذتین کو قرآن نہ سمجھتا تھا اب مولوی عبد الستار صاحب فرمائیں کہ اہلِ تشیع قرآن کو محرف کہتے ہیں؟ یہ اہلِ سنت کے پیشوا و مقتدا قرآن کے منکر ہیں؟

مناظر اہل سنت:

حضرات! میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر ہمارے اسلاف اور پیشوا الحمد اور معوذتین کو قرآن نہیں مانتے تھے، تو موجودہ قرآن میں الحمد اور معوذتین کو کس نے لکھا ہے؟ کیا یہ قرآن ہمارے مرشدوں اور پیشواؤں کا جمع کیا ہوا نہیں ہے؟ کیا آپ کے شیعوں نے اس کو جمع کر کے الحمد اور معوذتین کو اس میں شامل کیا ہے؟  

جب کہ قرآنِ مجید ہمارا جمع کیا ہوا ہے۔ اگر ہم معوذتین کو اور الحمد کی قرآنیت کے منکر ہوتے تو ہم ان کو خارج کر دیتے۔ ہمارا قرآن میں ان کو لکھنا صراحتاً ثابت کرتا ہے کہ ہم ان کی قرآنیت کے قائل ہیں۔

2: الحمد اور معوذتین کا قرآن میں ہونا متواتر ہے اور میں اس کے ساتھ ساتھ امامِ معصوم کے قول سے معوذتین کا قرآن ہونا ثابت کرتا ہوں دیکھیے مشکوٰۃ شریف صفحہ 80 پر ہے سیدنا عقبہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا:  

یا عقبۃ الا اُعلّمک خیر سورتین قرءتا فعلمنی: قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس۔  

ترجمہ: اے عقبہؓ! کیا میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھا دوں؟ پس آپ نے مجھے

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۞ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۞ سکھائیں۔

اور اس روایت میں آگے یہ بھی ذکر ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے صبح کی نماز میں صرف انہی دو سورتوں کو پڑھا دیکھیں! معصوم کے قول و فعل سے ان کی قرآنیت ثابت ہو گئی۔

3: مولوی اسماعیل صاحب بیچارہ سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں جانتا اسی الاتقان کی اسی نقل کردہ عبارت کے آگے لکھا ہوا ہے:  

اَنَّ نَقْلَ ھٰذَا الْمَذْھَبِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ نَقْلٌ بَاطِلٌ۔  

ترجمہ: ابنِ مسعودؓ سے اس بات کی نقل کہ وہ الحمد اور معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے، یہ نقلِ باطل ہے۔

مناظرہ: شیعہ:

مومنینِ کرام! میں مولوی عبد الستار سے پوچھتا ہوں کہ کیا سیدنا ابنِ مسعودؓ آپ کے بزرگ ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں، تو پھر وہ معوذتین کی قرآنیت کے منکر کیوں تھے؟

یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے جیسا کہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب الاتقان فی علوم القرآن: جلد 1 صفحہ114 پر لکھا ہے:  

علامہ ابنِ حجرؒ بھی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں جانتے تھے۔

لہٰذا آپ جواب دیجیے کہ جو شخص معوذتین کو قرآن نہ مانے، وہ اہلِ سنت کے نزدیک مسلمان ہے یا کافر؟

مومنو! یاد رکھو مولوی عبد الستار میرے اس سوال کا ہرگز جواب نہ دے سکے گا میں نے اہلِ سنت کے کئی متعدد علماء کو شکست دے چکا ہوں، کوئی بھی میرے سامنے اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔

مناظرہ: اہلِ سنت:

حضرات! دیکھیے بے چارہ مولوی اسماعیل بار بار یہی کہہ رہا ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے حالانکہ اسی تفسیر اتقان کے صفحہ 114 پر مرقوم ہے:  

قال ابن حزم فی المحلی: ھذا کذب علٰی ابن مسعود موضوع، انما صح عنہ قراءۃ عاصم عن زد عنہ، وفیھا المعوذتان والفاتحۃ

ترجمہ: ابنِ حزمؒ نے محلّی میں فرمایا کہ یہ سیدنا ابنِ مسعودؓ پر جھوٹ اور موضوع ہے کہ وہ معوذتین اور فاتحہ کو قرآن نہ جانتے تھے سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو صحیح طور پر منقول ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ نے اپنے شاگرد ابو زر کو، اور ان سے حضرت عاصم قاری نے جو قرأت پڑھی، اس میں معوذتین اور فاتحہ پڑھائی۔

دیکھیے! سیدنا ابنِ مسعودؓ نے قرآن پڑھاتے وقت اپنے شاگرد کو معوذتین اور فاتحہ پڑھائیں اگر وہ ان کی قرآنیت کے منکر ہوتے تو پھر ان کو کیوں پڑھاتے؟

خود سیدنا ابنِ مسعودؓ کی روایت در المنثور: جزء ششم میں مرقوم ہے:  

اخرج الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابن مسعود عن النبیﷺ قال: لقد انزل علیّ اٰياتٌ لم يُنزل مثلُھُنّ، المعوذتان

ترجمہ: طبرانی اپنی کتاب میں نہایت عمدہ سند کے ساتھ سیدنا عبد اللہ ابنِ مسعودؓ سے نقل کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مجھ پر ایسی آیات نازل کی گئیں جن کی مثل نازل نہیں کی گئیں، اور وہ معوذتین ہیں۔

لیجیے! یہ خود سیدنا ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے کہ معوذتین حضورِ اکرمﷺ پر نازل ہوئیں اب تو ان کی قرآنیت خود سیدنا ابنِ مسعودؓ نے نقل کر دی، پھر وہ ان کے منکر کیسے ہوئے؟

صفحہ 2 از 10