مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 10

رہا مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں سیدنا ابنِ مسعودؓ سے معوذتین کے انکار کی روایت ہے تو اس کا جواب سنیے:  

علامہ بحر العلوم فرنگی محلی شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیں:  

وَمَنْ اَسْنَدَ الْاِنْکَارَ الی ابن مَسْعود فَلَا يُعْبَأ بِسَنَدِہٖ عِنْدَ مُعَارَضَۃِ ھٰذِہِ الْاَسَانِيْدِ الصحيحۃِ بالاجماع والمتلّقات بالقبول عند العلماءِ الکِرامِ بَلِ الْاُمَّۃِ کَافَّۃً کُلِّھَا، فَظَھَرَ انّ نِسْبَۃ الْاِنْکَارِ الی ابن مسعود باطِلٌ۔  

ترجمہ: جس نے یہ انکار سیدنا ابنِ مسعودؓ کی طرف منسوب کیا ہے اس کی سند الائقِ توجہ نہیں جب کہ اس کے خلاف یہ صحیح سندیں موجود ہیں جن پر اجماع ہے اور جن کو علماءِ کرام بلکہ تمام امت نے قبول کیا ہے۔ پس صاف طور پر معلوم ہوا کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ کی طرف معوذتین کی قرآنیت کے انکار کو منسوب کرنا بالکل باطل اور غلط ہے۔

2: بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے انکار کی روایت صحیح ہے، تو روایات کے درمیان تطبیق دینے سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ پہلے معوذتین کی کتابت فی المصاحف کے قائل نہ تھے، نہ اس لیے کہ وہ کلام اللہ نہیں، بلکہ اس لیے کہ باوجودیکہ کلام اللہ ہیں مگر جھاڑ پھونک رقیہ کے لیے نازل ہوئی ہیں پھر اس خیال سے رجوع کر لیا، جیسا کہ صحیح طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ اپنے شاگردوں کو معوذتین قرآن میں پڑھاتے تھے، جو کہ رجوع پر صاف دلالت ہے۔

3: موجودہ قرآنِ مجید اہلِ سنت کے نزدیک سیدنا ابی بن کعبؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا ابنِ مسعودؓ وغیرہم سے متواتر طور پر منقول ہے متواتر کا خبرِ واحد مقابلہ نہیں کر سکتی بلکہ متواتر کے مقابلے میں خبرِ واحد مردود اور نا قابلِ قبول ہوتی ہے لہٰذا انکار کی روایت جو خبرِ واحد ہے، اہلِ سنت کی متواتر روایات کے مقابلے میں کالعدم ہو گی۔

مولوی اسماعیل جو یہ کہتے ہیں کہ منکرِ معوذتین تمہارے نزدیک کافر ہے یا نہیں؟

تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ تفسیر اتقان: صفحہ، 114 پر ہے: 

قال النووی فی شرح المهذب: انّ المعوذتين والفاتحة من القراٰن وانّ مَنْ جَحَد منها شيئا كفر وما نُلقل عن ابن مسعود باطل ليس بصحيح۔

ترجمہ: علامہ نووی شرحِ مہذب میں فرماتے ہیں کہ معوذتین اور فاتحہ قرآن میں ہیں جو شخص ان کی قرآنیت کا منکر ہو وہ کافر ہے اور سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو انکار نقل کیا جاتا ہے وہ باطل اور غیر صحیح ہے یعنی وہ ان کی قرآنیت کے قائل تھے، منکر نہ تھے۔

محلّی ابنِ حزم صفحہ، 13 جزء 1 مسئلہ 21 وَاَنَّ الْقُرْاٰنَ الَّذِیْ فِی المَصَاحِفِ بِاَیْدِی الْمُسْلِمِيْنَ شَرْقًا وَغَرْبًا فَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ مِنْ اَوَّلِ الْقُرْاٰنِ اِلٰى اٰخِرِ المعوذتين كَلَام اللَّه عزّوجَلّ و وَحْيُهٗ اَنْزَلَهٗ عَلٰى قلب نبيّه محمدﷺ مَنْ كَفَرَ بِحَرْفٍ مِنْهُ فَهُوَ كَافِرٌ وَكُلُّ مَارُوِیَ عَنْ ابن مسعود مِنْ اَنّ المعوذتين و اُمَّ القُرْاٰن لم تکن فی مُصْحَفہٖ فَکِذْبٌ مَوْضوعٌ  لَا يَصحُّ وَاِنَّما صَحَّت عنه قِرَاءَةُ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بن حُبَیْشٍ۔

ترجمہ:تحقیق جو قرآن مصاحف میں مسلمانوں کے ہاتھ میں مشرق سے مغرب تک ہیں، اولِ قرآن سے لے کر معوذتین کے اخیر تک موجود ہے یہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کا کلام اور وحی ہے جو اس نے اپنے نبی محمدﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا جو شخص اس کہ کسی ایک حرف کا بھی منکر ہو وہ کافر ہے اور سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو یہ روایت کی گئی ہے کہ معوذتین اور فاتحہ ان کے مصحف میں نہ تھے تو یہ روایت جھوٹ اور موضوع ہے، صحیح نہیں اس سے جو کچھ صحیح ہے وہ عاصم کی قرأت ہے جو زر بن حبیش سے ہے (جس میں معوذتین اور فاتحہ درج ہیں)

تو حضرات! یہ اہلِ سنت و الجماعت کی تحقیق کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ قطعاً معوذتین اور فاتحہ کی قرآنیت کے منکر نہ تھے بلکہ ان کی طرف یہ نسبت کرنا غلط ہے اور موضوع اور کذب ہے تو بے چارہ اسمعیل ایسی موضوع روایت سے اہلِ سنت کو منکرِ قرآن یا تحریف کا قائل بتاتا ہے حالانکہ ان کے مذہب کی معتبر روایات ائمہ معصومین کی قرآن کو محرف و مبدل کہتی ہیں اب ان کے جواب میں اہلِ سنت کو موضوع روایات سے اپنے ساتھ ملانا چاہتا ہے۔

مناظر شیعہ:حضرات! یہ اہلِ سنت صرف قرآن کے منکر نہیں بلکہ یہ رسول اللہﷺ کو مغلوب الشیطان سمجھتے ہیں۔ بتائیے میں آپ کے سامنے کیا کیا بیان کروں دیکھیے ان کی کتاب تفسیر جلالین صفحہ 284 پر موجود ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے قریش کی مجلس میں سورۃ النجم پڑھی تو شیطان نے آپﷺ کی زبان پر یہ شعر پڑھا دیا۔  

تِلْكَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَ اِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔  

جس میں بتوں کی تعریف و توصیف کی گئی بتاؤ جب ان کے مذہب میں رسول اللہﷺ کی زبان پر شیطان بول سکتا ہے تو قرآن پر کیا اعتبار ہے؟ یہ ہے سنیوں کا قرآن ماننا تونسوی صاحب! اگر ہمت ہے تو جواب دیجیے میں دیکھوں گا کہ آپ کیسے حاضرین کی عقدہ کشائی کرتے ہیں اور میری پکڑ سے کس طرح دامن چھڑاتے ہیں۔

مناظر اہل سنت:

حاضرین! میں نے مولوی اسماعیل کے ہر استدلال و اعتراض کا دندان شکن جواب پیش کیا ہے میں اس کی طرح نہیں ہوں کہ کسی استدلال کا جواب نہ دے سکوں جیسا کہ کل کا مناظرہ آپ کو یاد ہوگا کہ یہ بے چارہ کوئی جواب نہ دے سکا البتہ دھوکہ بازی میں یہ اپنی نظیر آپ ہی ہے اب اس کے اس حوالہ: تِلْكَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی کی حقیقت بھی غور سے سن لیجیے تفسیرِ کبیر صفحہ 186 اور اسی جلالین شریف کی صفحہ 284 کے حاشیہ نمبر 7 پر موجود ہے:

1: قال الامام رازی: اِنَّھَا بَاطِلَةٌ مَوْضُوْعَةٌ۔ 

ترجمہ: امام رازی نے فرمایا کہ: تلک الغرانیق العلی والی روایت باطل اور موضوع ہے۔

2: قال ابنِ خزیمہ: اِنَّھَا مِنْ وَضْعِ الزَّنَادِقَةِ۔

ترجمہ: ابنِ خزیمہ نے فرمایا کہ تلک الغرانیق العلی والی روایت بے دینوں کی بنائی ہوئی جھوٹی ہے۔

3: قال القاضی عیاض: اِنَّھَا بَاطِلَةٌ لَا تَصِحُّ عَقْلًا وَ نَقْلًا۔

ترجمہ: قاضی عیاض نے فرمایا کہ یہ روایت باطل اور جھوٹ ہے جو عقل اور نقل دونوں طرح سے صحیح نہیں۔

4: قال البیہقی: غَیْرُ ثَابِتٍ نَقْلًا۔  

صفحہ 3 از 10