مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 4 از 10

ترجمہ: علامہ بیہقی نے فرمایا: کہ یہ روایت بطورِ نقل کے ثابت نہیں ہوسکتی۔

حضرات! غور کیجیے بے چارہ اسماعیل! اہلِ سنت کو کیسی موضوع اور باطل روایت سے الزام دینا چاہتا ہے کیوں کہ بے چارے کو کوئی صحیح اور معتبر چیز تو دستیاب ہو ہی نہیں سکتی پھر کچھ نہ کچھ تو کہے ہی تاکہ خانہ پُری ہو جائے۔

مناظر شیعہ:مومنین کرام! یہ میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان ہے۔ اس کے صفحہ 316 پر ہے:  

عن حمیدة بنت ابی یونس قالت: قرئ علٰی ابی وھو ابن ثمانین سنةً فی مصحف عائشة اِنَّ اللهَ وَ مَلَائِكَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ وَ عَلَی الَّذِیْنَ یصلونَ الصُّفوفَ الْاُوَلَ قَالَتْ: قَبْلَ اَنْ یُغَیِّر عثمان المَصَاحف۔

دیکھیے آج قرآن میں وَ عَلَی الَّذِیْنَ یصلونَ الصُّفوفَ الْاُوَلَ کے الفاظ موجود نہیں ہیں جو کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے تغیر کرنے سے پہلے موجود تھے تو اہلِ سنت کے نزدیک یہ تحریف ثابت ہوگئی۔

مناظر اہل سنت:

حضرات! مولوی اسماعیل کی پیش کردہ روایت صحیح نہیں نہ اس کی کوئی سند معلوم ہے نہ اس کے راوی معلوم ہیں محدثین کی ایک جماعت ان تمام روایات کی منکر ہے جیسا کہ اسی تفسیر الاتقان کے صفحہ 318 پر موجود ہے۔

1: بالفرض اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ یہ روایت تفسیر الاتقان کی کس بحث میں ہے حضرات! یہ بے چارہ تو محض دھوکا دیتا ہے یہ روایت منسوخ التلاوۃ کی بحث الثالث: ما نسخ تلاوته کے تحت تفسیر الاتقان کے صفحہ 316 پر درج ہے۔ توعلی الذین یصلون الصفوف الاول  کے الفاظ منسوخ ہیں نہ کہ محرف اور نسخ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا: مَا نَنسَخْ مِنْ اٰیۃٍالخ۔ اور تحریف انسانوں کا فعل ہے تو اس میں تحریف نہیں بلکہ نسخ ہے جن لوگوں کو پتہ نہ تھا یا پہلے جن لوگوں کے پاس یہ الفاظ موجود تھے، سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اپنے زمانے میں ان تفسیری نوٹوں اور منسوخ التلاوۃ آیتوں کو مصحف سے نکال دیا تاکہ مسلمانوں کو آئندہ دھوکا نہ لگ جائے۔ ہمارے اہلِ سنت میں سے کسی نے ان الفاظ کو تحریف کی قسم نہیں سمجھا اور نہ یہ تحریف ہے۔ جب سیدنا عثمانِ غنیؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کوشش میں تھے کہ خالص قرآن جس میں نہ تفسیری نوٹ ہو نہ کوئی منسوخ التلاوۃ آیت موجود ہو لکھا جائے، تو ایسے منسوخ التلاوۃ الفاظ کو خارج کر دینے کا نام تحریف کیسے ہو سکتا ہے؟

مناظر شیعہ:حضرات! دیکھیے فتح القدیر جلد دوم صفحہ 53 پر مرقوم ہے اور در منثور میں بھی ہے:  

عن ابن مسعود قال کنا نقرء علٰی عھد رسول اللهﷺ یٰآیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّکَ اِنَّ عَلِیًّا مَّوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔ 

دیکھیے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم عہد رسول اللہﷺ میں یٰآَ یُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ والی آیت کی اخیر میں اِنَّ عَلِیًّا مَّوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ پڑھا کرتے تھے لیکن اب موجودہ قرآن میں مَوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کے الفاظ نہیں تو یہ اہلِ سنت کے نزدیک تحریف ثابت ہوگی۔

مناظر اہل سنت:

مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو اہلِ سنت کی کوئی ایک روایت دکھا دو منہ مانگا انعام لے لو در منثور جیسی ضعیف روایات نقل کرنے والی کتابوں کے حوالے سے کچھ ثابت نہیں ہوگا۔ جو روایت تم نے پیش کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو بکر بن عیاش ہے۔ جس کے متعلق میزان الاعتدال میں ہے:  ضعیف الحافظ کثیر الغلط وھمی کہ ابو بکر بن عیاش کا حافظہ نہایت کمزور تھا اور بے شمار غلط روایات کرتا تھا۔  
امام احمدؒ کا قول ہے کہ وہ حد سے زیادہ کثیر الغلط ہے ابنِ مبارکؒ کا قول ہے کہ حدیث پر بہت جلد جرأت کرنے والا ابو بکر بن عیاش سے بڑھ کر میں نے نہیں دیکھا۔  
ابو بکر بن عیاش کے علاوہ اس روایت میں ایک راوی عاصم ہے میزان الاعتدال میں ابنِ عُلیّہ اور یحییٰ بن قطان کا یہ قول منقول ہے کہ عاصم نام کے جتنے راوی ہیں ان کا حافظہ خراب ہے۔ اور اس روایت کی سند کا تو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا تھی اور کیسی تھی۔ لہٰذا ایسی کمزور روایت کسی طرح قابلِ اعتماد نہیں ہے۔  

مولوی اسماعیل صاحب! اس روایت کی پوری اور صحیح سند ثابت کر دیں تو منہ مانگا انعام لیں۔  
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے، 
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں 
مخفی نہ رہے کہ ہمارے علماءِ اہلِ سنت میں سے کسی نے اس روایت کو تحریف نہیں سمجھا۔ اور نہ ایسی ضعیف روایت سے متواتر قرآن مجید کے اندر تحریف ثابت ہو سکتی ہے۔
مناظر شیعہ:مومنو! یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب تفسیر الاتقان ہے اس کے صفحہ 316 پر ہے: کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے:  
لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ: قَدْ اَخَذْتُ الْقُرْاٰنَ کُلّہٗ۔ قَدْ ذَھَبَ مِنْہُ قُرْاٰنٌ کَثِیْرٌ۔  
کوئی یہ نہ کہے کہ میں پورا قرآن یاد کر چکا ہوں کیونکہ قرآن کا بہت سا حصہ چلا گیا۔  
دیکھیے۔ اہلِ سنت کے امام پیشوا سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرما رہے ہیں کہ بہت سا قرآن چلا گیا ہے۔ یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔
مناظر اہل سنت:
تفسیر الاتقان کی یہ روایت سند کے لحاظ سے نہایت ہی کمزور ہے۔ اس روایت میں راوی ہے اسماعیل بن ابراہیم۔ جس کے متعلق محمد بن عبد اللہ نے فرمایا: ضعیف جدًّا کہ نہایت ہی ضعیف ہے۔ قال ابن المدینی: ضعیف و کذا ضعّفہ غیر واحد۔ کہ علامہ ابنِ مدینی نے فرمایا کہ اسماعیل راوی ضعیف ہے اور اس طرح بہت سے محدثین نے اس کو ضعیف بیان کیا ہے۔ منسوخ(میزان الاعتدال صفحہ 99 )
1: جب اس روایت کے راوی ضعیف ہیں تو روایت قابلِ اعتبار نہیں۔ چہ جائیکہ قرآن مجید کو جو متواتر ہے اس کے مقابلے میں تحریفِ قرآن ثابت کرے۔
صفحہ 4 از 10