مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 5 از 10
2: یہ روایت منسوخ التلاوۃ کی بحث میں تفسیر الاتقان کے اندر بیان کی گئی ہے۔ بے چارے مولوی اسماعیل کو تحریف کی کوئی روایت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے نہیں ملتی۔ اس لیے منسوخ التلاوۃ کی روایات کو پڑھ پڑھ کر اپنا ٹائم پورا کرتا ہے۔ مولوی صاحب! ذرا غور کیجیے اور چشمہ لگا کر دیکھیے کہ یہ روایت تفسیر الاتقان کی بحث الثالث: ما نسخ تلاوتۃ کے اندر موجود ہے۔ سیدنا ابنِ عمرؓ کا مقصد یہی ہے کہ قرآن مجید کا بہت سا حصہ منسوخ ہو جانے کی وجہ سے اس مصحف میں نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے پورا قرآن مجید یاد ہے۔ اس لیے کہ جو منسوخ ہو چکا وہ بھی تو قرآن ہی تھا۔
3: نسخ پر ذَھَبَ کا لفظ دال ہے اگر تحریف کا بیان مقصود ہوتا تو یوں فرماتے: قَدْ اَسْقَطَ الْمُحَرِّفُوْنَ قُرْاٰنًا کَثِیْرًا۔ 
حالانکہ یہ الفاظ نہیں فرمائے۔ بلکہ فرمایا: ذَھَبَ قُرْاٰنٌ کَثِیْرٌ بہت سا قرآن چلا گیا بوجہ نسخ کے نہ کہ بوجہ تحریف کے۔ سیدنا ابنِ عمرؓ کے مزاج میں اس قسم کی احتیاط بہت تھی۔ چنانچہ وہ فرمایا کرتے تھے: کوئی یہ نہ کہے صُمْتُ رَمَضَانَ کُلَّہٗ۔
میں نے کل رمضان کے روزے رکھے کیونکہ کل رمضان میں رات بھی داخل ہے اور کوئی شخص رات کو روزہ نہیں رکھتا۔
مناظر شیعہ:
مومنو! یہ اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان ہے۔ جس کے صفحہ 72 پر ہے:  
عن عمر بن الخطاب مرفوعًا: القراٰن الفُ الفِ حرف و من قراہ صابرًا محتسبًا کان لہ بکل حرف زوجة من حور عین
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے دس لاکھ حرف تھے مگر موجودہ قرآن میں تو دس لاکھ نہیں۔ تو آپ کی کتابوں سے تحریفِ قرآن ثابت ہوگئی یا نہیں؟ یہ روایت ضعیف بھی نہیں ہے کیونکہ لکھا ہے رِجَالُہٗ ثِقَاتٌ۔ 
اس کے راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔ تو تونسوی صاحب! ذرا سوچ کر ہوش سے جواب دیجیے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل تو دھوکے کے سوا اپنے دامنِ علم میں کچھ رکھتے ہی نہیں۔ جو روایت انہوں نے پڑھی ہے جس کو یہ نہایت ثقہ اور معتبر ثابت کر رہے ہیں، یہ روایت تو ضعیف ہے۔ آگے لکھا ہے: 
رجالہ ثقات الشیخ الطبرانی محمد بن عبید بن اٰدم تکلم فیہ الذھبی لھذا الحدیث
اس روایت کے باقی راوی تو ثقہ ہیں مگر طبرانی کا استاد جو محمد بن عبید بن آدم ہے اس کے متعلق ذہبی نے کلام کیا ہے اور اس کو ضعیف کہا ہے۔ اسی روایت کے متعلق میزان الاعتدال صفحہ 99 پر لکھا ہے: 
محمد بن عبید تفرد بخبر باطل
کہ محمد بن عبید ہی صرف اکیلا اس روایتِ باطلہ کو بیان کرتا ہے دیکھیے یہ میزان الاعتدال میں ثابت ہے کہ یہ روایت باطلہ ہے اور محمد بن عبید اکیلا ہی اس کا راوی ہے جو غیر معتبر ہے لہٰذا اس روایت سے استدلال بھی باطل ہے۔
1: اگر بالفرض اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس روایت کے آگے لکھا ہوا ہے: 
قد حمل ذلک علی ما نسخ رسمہ من القراٰن
اس روایت کے اندر منسوخ اور غیر منسوخ دونوں کو شمار کر کے دس لاکھ کہا گیا ہے اب اگر موجودہ قرآن کے الفاظ کم ہیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اب تو صرف غیر منسوخ ہی باقی ہیں الفاظ و آیاتِ منسوخہ تو شمار سے نکل چکی ہیں۔ لہٰذا اس سے تحریف کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟
مناظر شیعہ:
مولوی عبد الستار صاحب! قرآن کو تمہارے سیدنا عثمانِ غنیؓ نے جلایا اور عدمِ ایمان بالقران کا الزام ہم کو دیتے ہو بخاری شریف جلد سوم میں ہے:وامر من سواه من القراٰن فی كل صحيفة او مصحف ان یحرق
حضرت عثمانِ غنیؓ نے حکم دیا کہ قرآن جلا دیے جائیں۔ آپ بتائیں گے قرآن جلانے والے تم اور منکر ہم؟ تو جن لوگوں نے قرآن کو جلایا ہو انہوں نے کون سا قرآن باقی چھوڑا؟ جو کہ اصلی تو نہ ہوگا بلکہ محرف ہی ہوگا۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! ذرا ایمان سے کہیے گا اگر ہم دشمنِ قرآن تھے اور ہم نے قرآن کو جلایا تو پھر بتائیں کہ یہ صحیح قرآن آپ کو کس نے دیا؟ اور یہ کیسے آیا؟ اس کو کس نے جمع کیا؟ آپ کی کتابیں اور ساری دنیا گواہ ہے کہ اس کے جامع اور محافظ بزرگانِ دین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔
1: اگر بالفرض تم اس بات پر اصرار و تکرار کرو کہ قرآن مجید جلایا گیا تو پھر بتاؤ کہ اصلی قرآن ہم کو کس نے دیا؟ آپ کے مذہب کے لحاظ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور دیگر ائمہ اس کے غیر محرف ہونے کے قائل نہیں۔  
جب قرآن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلیفہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہی جمع کیا تو پھر جلانے کی جو روایت آپ پیش کر رہے ہیں وہ قرآن کو جلانے کے متعلق نہیں بلکہ ما سوائے قرآن تفسیری نوٹ اور متروک اور منسوخ قرأتوں کے الفاظ ہیں۔
2: اَنْ یُّحْرَقَ کے الفاظ میں بھی محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ یُحْرَق کا ے حطی ہے یا یُخْرَقَ  بخاۓ معجمہ ہے جس کے معنیٰ پھاڑنے ہیں ساتھ ساتھ یہ بات بھی کتابوں میں مرقوم ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یاد داشت کے طور پر تفسیری الفاظ جو منسوخ التلاوۃ آیات اپنے مصاحف میں لکھ رکھی تھیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہی کو پھاڑنے جلانے کا حکم دیا کیونکہ اگر ان کو باقی رہنے دیا جاتا تو آئندہ مسلمانوں کی نسلوں کو اشتباہ اور غلط فہمی ہوتی اور قرآن و غیر قرآن کا فرق معلوم نہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو نہیں جلایا بلکہ وہ چیز جلائی جو مسلمانوں کے ایمان میں خلل انداز ہوتی اصلی قرآن کو محفوظ اور مروج کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو تمام مسلمانوں کی طرف سے اس کارِ خیر کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
علاوہ ازیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی سیدنا عثمانِ غنیؓ کے اس عمل میں شریک اور مشیر تھے۔ جیسا کہ خود سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
تفسیر الاتقان صفحہ 75:  
قال علی لا تقولوا فی عثمان الا خيرًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عثمانِ غنیؓ کے حق میں قرآن کے معاملے میں سوائے نیکی کے کچھ نہ کہو۔
2: فَوَاللهِ مَا فَعَلَ الَّذِی فَعَلَ فِی الْمَصَاحِفِ اِلَّا عَنْ مَلَاٍمِّنَّا۔ 
ترجمہ: کیونکہ انہوں نے قرآن کے متعلق جو کچھ معاملہ کیا وہ ہمارے مشورے سے کیا۔
صفحہ 5 از 10