جس میں مدعی شیعہ مناظر تھا اور مجیب مناظر اہل سنت تھا:
مناظر شیعہ:
بعد از خطبہ: حضرت! مجھے اس وقت اہلِ سنت کے عدمِ ایمان بالقرآن کو دلائل سے ثابت کرنا ہے یہ میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کے اصولِ فقہ کی معتبر کتاب نور الانوار ہے اس میں موجود ہے:
وَقَوْلُہٗ بِلَا شُبْھَۃٍ اِحْتِرَازٌ عَنِ التَّسْمِیَۃِ لِاَنَّ فِیْھَا شُبْھَۃً، وَلِھٰذَا لَمْ یُکَفَّرْ جَاحِدُھَا۔
مطلب یہ ہے کہ بسم اللہ کے قرآن ہونے میں شبہ ہے، اس لیے اس کا منکر کافر نہیں دیکھیے! اہلِ سنت بسم اللہ کو قرآن نہیں مانتے۔
مناظرِ اہلِ سنت:بعد از خطبہ: حضرات!
بہت شور سنتے تھے پہلو میں، دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ بے چارے مولوی اسماعیل صاحب نے کتنے داؤں پیچ سے کام لیا میں نے پہلے مناظرے میں ان کے ائمہ معصومین کی روایات سے ثابت کر دیا کہ اہلِ تشیع کا نہ موجودہ قرآن پر ایمان ہے اور نہ ہو سکتا ہے مگر مولوی اسماعیل نے نہ ہمارے کسی امام کا کوئی قول پیش کیا، اور نہ حضراتِ خلفاءِ راشدینؓ کا کوئی قول نقل کیا، اور نہ ہمارے مشائخ میں سے کسی کا اعتقادِ تحریف پیش کیا نور الانوار کی جو عبارت اس نے پیش کی ہے وہ بھی پوری نہیں پڑھی خیانت سے کام لیا ہے اس عبارت سے آگے متصل یہ الفاظ صاف طور پر موجود ہیں:
وَالْاَصَحُّ اَنَّھَا مِنْہُ۔
سب سے معتبر صحیح قول یہی ہے کہ بسم اللہ قرآن میں سے ہے۔
غور کیجیے! اس نے کس قدر دیدہ دلیری اور مکر و فریب سے کام لیا ہے۔
2: مولوی اسماعیل صاحب! ذرا سوچو تو سہی! اگر اہلِ سنت بسم اللہ کے قرآن میں سے ہونے کے منکر ہیں تو پھر بسم اللہ کو قرآنِ مجید میں کس نے درج کیا ہے؟ جب کہ موجودہ قرآن اہلِ سنت کے اسلاف اور بزرگوں کا جمع کیا ہوا ہے، اور ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ کو لکھا گیا اگر اہلِ سنت بسم اللہ کو قرآن نہ مانتے تو ہر سورت کی ابتداء میں بسم اللہ کو کیوں لکھتے؟ آپ یہ ثابت کیجیے کہ ہمارے سوا کسی نے بسم اللہ کو قرآنِ شریف میں درج کیا ہے۔
3: اہلِ سنت کی حدیث کی معتبر کتاب مشکوٰۃ شریف صفحہ 193 پر ہے بسم اللہ کے نزول کے متعلق صاف طور پر منقول ہے:
عن ابن عباس قال قال رسول اللهﷺ لَا يُعْرَفُ فَصْلُ السُّوْرَۃِ حَتّٰى يُنْزَلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ (رواہ ابو داؤد)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سورت سے دوسری سورت کو اس وقت تک جدا نہیں سمجھتے تھے جب تک کہ آپ پر بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نازل نہ ہوتی تھی۔
یعنی ہر سورت کو جدا کرنے کے لیے بسم اللہ کو نازل کیا گیا تو متواتر طور پر اس کا قرآنِ مجید میں ہر سورت کی ابتداء میں درج ہونا، اس کے قرآن ہونے کے لیے کافی ثبوت ہے مگر اس کے ساتھ یہ حدیثِ شریف تو صراحتاً بتا رہی ہے کہ بسم اللہ کا نزول ہوا اور یہ قرآن ہے۔
4: نور الانوار کے اس مقام پر بسم اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ تحریف کے متعلق نہیں ہے کہ بسم اللہ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں قرآن میں نہ تھی، بعد میں درج کی گئی بلکہ صاحبِ نور الانوار اس بات کو یقینی مانتے ہیں کہ بسم اللہ کو رسول اللہﷺ نے خود قرآنِ مجید میں ہر سورت کی ابتداء میں رکھا۔
صاحبِ نور الانوار جس شبہ کا ذکر کر رہے ہیں وہ ایک علمی عالمانہ بحث کی بناء پر ہے، جس کو بیچارہ اسماعیل کیا سمجھے؟ وہ یہ کہ علماءِ اہلِ سنت کا اس باب میں اختلاف ہے کہ رسول اللہﷺ نے بسم اللہ کو کس حکمت اور غرض کے لیے ہر سورت کی ابتداء میں لکھوایا؟ آیا فصلِ سورت کے لیے لکھوایا یا ہر سورت کا جز سمجھ کر لکھوایا؟
تحریفِ قرآن تو تب ہوتی کہ آپﷺ کے بعد کسی نے تغییر و تبدل کیا ہوتا جیسا کہ میں نے تمہاری معتبر کتابوں سے تحریف کی روایات پیش کی ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد قرآنِ مجید میں شیعہ کے نزدیک کمی و بیشی اور تغیر و تبدل کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس میں کفر کے ستون کھڑے کیے گئے۔
مناظرِ شیعہ:
نور الانوار صفحہ 8 پر موجود ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ یوں پڑھتے تھے: فَاقْطَعُوْا اَیْمَانَھُمَا اور آپ کے موجودہ قرآن میں اَیْمَانَھُمَا نہیں ہے بلکہ اَیْدِیَھُمَا ہے دیکھو! یہ تحریف نہیں ہے؟ میں دیکھوں گا کہ مولوی عبد الستار صاحب میرے اس استدلال کا کیا جواب دیتے ہیں۔
مناظر اہل سنت:حضرت! مولوی اسماعیل بے چارہ تحریف اور اختلافِ قرأت کے فرق کو غالباً نہیں سمجھ سکتا، یا محض فریب کاری سے کام لے رہا ہے مولوی اسماعیل اختلافِ قرأت کو دھوکہ دے کر تحریف کہہ رہا ہے یہ تو صاحبِ نور الانوار دوسری قراءت نقل کر رہے ہیں کہ اَیْمَانَھُمَا ایسی قرأت بھی کی جاتی تھی۔
2: موجودہ قرآنِ مجید میں صرف قرأتِ متواترہ ہی ہے جو اَیْدِیَھُمَا کی ہے، اور اَیْمَانَھُمَا کی قرأت منسوخ ہو چکی ہے جیسا کہ اسی نور الانوار صفحہ 122 پر منسوخ التلاوت کی مثال میں فَاقْطَعُوْآ اَیْمَانَھُمَا کو بھی ذکر کیا ہے مولوی اسماعیل صاحب! پبلک بخوبی جانتی ہے کہ آپ سوائے دھوکہ دہی کے کچھ نہیں جانتے۔
مناظر شیعہ:اہلِ سنت کا فتاویٰ قاضی خان ہے جس کے صفحہ 888 پر ہے:
ومن زعم ان المعوذتین لیستا من القراٰن، ذکر فی النوازل اَنَّہٗ لَا یَکُوْنُ کَافِرًا۔
ترجمہ: یعنی جو معوذتین کو قرآن نہ سمجھے، نوازل میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ شخص کافر نہ ہوگا نوازل امام محمد کی تصنیف ہے اب میں دیکھوں گا کہ مولوی عبد الستار صاحب اپنے امام محمد کی اس کتاب کے فتوے کا کیا جواب دیتے ہیں۔
مناظر اہل سنت:
معوذتین کی قرآنیت متواترہ ہے اور تمام امت کے نزدیک مجمع علیہ ہے اور معوذتین کی قرآنیت کا منکر اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک کافر ہے متواترہ کے مقابلے میں کوئی خبرِ واحد اور کسی کی انفرادی رائے قابلِ قبول نہیں ہو سکتی، اور مذہب کے مجمع علیہ مسئلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی جب کہ فتاویٰ قاضی خان میں بھی ذکر بصیغہ مجہول ہے، اور یہی اس کے ضعف کے لیے کافی ہے فتاویٰ قاضی خان کا مصنف تحریف کا قائل نہیں اس نے تو یہ لکھا ہے کہ نوازل میں یہ ذکر کیا گیا ہے معلوم نہیں کس نے کہا ہے؟ معتبر ہے یا غیر معتبر؟
مولوی اسماعیل صاحب! قرآنِ مجید ہمارا ہے اور ہم قرآنِ مجید کے ہیں معوذتین کے متعلق اہلِ سنت کے علماء اور بزرگانِ دین کے فتاویٰ سنیے:
1:قال النووی فی شرح المھذب: اجمع المسلمونَ علی ان المعوذتین والفاتحَۃ من القراٰن، وان من جحد منھا شَیْئًا کَفَرَ۔
ترجمہ: علامہ نوویؒ نے شرحِ مہذب میں فرمایا ہے کہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ معوذتین اور فاتحہ قرآن ہیں جو شخص ان میں سے کسی کی قرآنیت کا منکر ہو وہ کافر ہے۔
2: محلی لابن حزم صفحہ 13، جز 1، مسئلہ 21:
وان القراٰن الذی فِی المصَاحِفِ بِاَیْدِی الْمُسْلِمِیْنَ شَرْقًا وَّ غَرْبًا، فَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ مِن اوّلِ الْقُرْاٰنِ اِلٰی اٰخِرِ المعوّذتَیْن کَلام اللهِ عزّوجَلّ وَوَحْیُہٗ اَنْزَلَہٗ عَلٰی قَلْبِ نبیّہ محمّدٍﷺ، مَنْ کَفَرَ بِحَرْفٍ مِنْہُ فَھُوَ کَافِرٌ۔
ترجمہ: جو قرآنِ مجید مسلمانوں کے ہاتھ میں شرقاً و غرباً ہے، ان مصاحف میں اولِ قرآن سے لے کر معوذتین کے آخر تک، یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام اور وہی ہے جو اس نے اپنے نبی کریمﷺ کے قلبِ مبارک پر اتارا تھا جو شخص اس کے ایک حرف کا بھی منکر ہو وہ کافر ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! ان فتاویٰ پر نظر نہیں پڑتی؟ دیکھیے! معوذتین کا بلکہ ان کے کسی ایک حرف کا منکر اہلِ سنت کے نزدیک کافر اور خارج از اسلام ہے۔
مناظرِ شیعہ:مومنو! میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی معتبر کتاب تفسیر الاتقان ہے جس کے صفحہ 113 پر مرقوم ہے:
نُقِلَ فِی بَعْضِ الْکُتُبِ الْقَدِیْمَۃِ انّ ابن مسعودؓ کانَ یُنْکِرُ کَوْنَ سُورۃ الْفَاتحۃ والمعوّذتین من القراٰن۔
ترجمہ: بعض قدیم کتابوں میں نقل کیا گیا ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ فاتحہ اور معوذتین کے قرآن ہونے کے منکر تھے۔
دیکھیے! اہلِ سنت کا پیر و مرشد ابنِ مسعودؓ الحمد اور معوذتین کو قرآن نہ سمجھتا تھا اب مولوی عبد الستار صاحب فرمائیں کہ اہلِ تشیع قرآن کو محرف کہتے ہیں؟ یہ اہلِ سنت کے پیشوا و مقتدا قرآن کے منکر ہیں؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! میں مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر ہمارے اسلاف اور پیشوا الحمد اور معوذتین کو قرآن نہیں مانتے تھے، تو موجودہ قرآن میں الحمد اور معوذتین کو کس نے لکھا ہے؟ کیا یہ قرآن ہمارے مرشدوں اور پیشواؤں کا جمع کیا ہوا نہیں ہے؟ کیا آپ کے شیعوں نے اس کو جمع کر کے الحمد اور معوذتین کو اس میں شامل کیا ہے؟
جب کہ قرآنِ مجید ہمارا جمع کیا ہوا ہے۔ اگر ہم معوذتین کو اور الحمد کی قرآنیت کے منکر ہوتے تو ہم ان کو خارج کر دیتے۔ ہمارا قرآن میں ان کو لکھنا صراحتاً ثابت کرتا ہے کہ ہم ان کی قرآنیت کے قائل ہیں۔
2: الحمد اور معوذتین کا قرآن میں ہونا متواتر ہے اور میں اس کے ساتھ ساتھ امامِ معصوم کے قول سے معوذتین کا قرآن ہونا ثابت کرتا ہوں دیکھیے مشکوٰۃ شریف صفحہ 80 پر ہے سیدنا عقبہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا:
یا عقبۃ الا اُعلّمک خیر سورتین قرءتا فعلمنی: قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس۔
ترجمہ: اے عقبہؓ! کیا میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھا دوں؟ پس آپ نے مجھے
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۞ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۞ سکھائیں۔
اور اس روایت میں آگے یہ بھی ذکر ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے صبح کی نماز میں صرف انہی دو سورتوں کو پڑھا دیکھیں! معصوم کے قول و فعل سے ان کی قرآنیت ثابت ہو گئی۔
3: مولوی اسماعیل صاحب بیچارہ سوائے مکر و فریب کے کچھ نہیں جانتا اسی الاتقان کی اسی نقل کردہ عبارت کے آگے لکھا ہوا ہے:
اَنَّ نَقْلَ ھٰذَا الْمَذْھَبِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ نَقْلٌ بَاطِلٌ۔
ترجمہ: ابنِ مسعودؓ سے اس بات کی نقل کہ وہ الحمد اور معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے، یہ نقلِ باطل ہے۔
مناظرہ: شیعہ:
مومنینِ کرام! میں مولوی عبد الستار سے پوچھتا ہوں کہ کیا سیدنا ابنِ مسعودؓ آپ کے بزرگ ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں، تو پھر وہ معوذتین کی قرآنیت کے منکر کیوں تھے؟
یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے جیسا کہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب الاتقان فی علوم القرآن: جلد 1 صفحہ114 پر لکھا ہے:
علامہ ابنِ حجرؒ بھی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں جانتے تھے۔
لہٰذا آپ جواب دیجیے کہ جو شخص معوذتین کو قرآن نہ مانے، وہ اہلِ سنت کے نزدیک مسلمان ہے یا کافر؟
مومنو! یاد رکھو مولوی عبد الستار میرے اس سوال کا ہرگز جواب نہ دے سکے گا میں نے اہلِ سنت کے کئی متعدد علماء کو شکست دے چکا ہوں، کوئی بھی میرے سامنے اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔
مناظرہ: اہلِ سنت:
حضرات! دیکھیے بے چارہ مولوی اسماعیل بار بار یہی کہہ رہا ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ معوذتین کی قرآنیت کے منکر تھے حالانکہ اسی تفسیر اتقان کے صفحہ 114 پر مرقوم ہے:
قال ابن حزم فی المحلی: ھذا کذب علٰی ابن مسعود موضوع، انما صح عنہ قراءۃ عاصم عن زد عنہ، وفیھا المعوذتان والفاتحۃ
ترجمہ: ابنِ حزمؒ نے محلّی میں فرمایا کہ یہ سیدنا ابنِ مسعودؓ پر جھوٹ اور موضوع ہے کہ وہ معوذتین اور فاتحہ کو قرآن نہ جانتے تھے سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو صحیح طور پر منقول ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ نے اپنے شاگرد ابو زر کو، اور ان سے حضرت عاصم قاری نے جو قرأت پڑھی، اس میں معوذتین اور فاتحہ پڑھائی۔
دیکھیے! سیدنا ابنِ مسعودؓ نے قرآن پڑھاتے وقت اپنے شاگرد کو معوذتین اور فاتحہ پڑھائیں اگر وہ ان کی قرآنیت کے منکر ہوتے تو پھر ان کو کیوں پڑھاتے؟
خود سیدنا ابنِ مسعودؓ کی روایت در المنثور: جزء ششم میں مرقوم ہے:
اخرج الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابن مسعود عن النبیﷺ قال: لقد انزل علیّ اٰياتٌ لم يُنزل مثلُھُنّ، المعوذتان
ترجمہ: طبرانی اپنی کتاب میں نہایت عمدہ سند کے ساتھ سیدنا عبد اللہ ابنِ مسعودؓ سے نقل کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مجھ پر ایسی آیات نازل کی گئیں جن کی مثل نازل نہیں کی گئیں، اور وہ معوذتین ہیں۔
لیجیے! یہ خود سیدنا ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے کہ معوذتین حضورِ اکرمﷺ پر نازل ہوئیں اب تو ان کی قرآنیت خود سیدنا ابنِ مسعودؓ نے نقل کر دی، پھر وہ ان کے منکر کیسے ہوئے؟
رہا مولوی اسماعیل کا یہ کہنا کہ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں سیدنا ابنِ مسعودؓ سے معوذتین کے انکار کی روایت ہے تو اس کا جواب سنیے:
علامہ بحر العلوم فرنگی محلی شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیں:
وَمَنْ اَسْنَدَ الْاِنْکَارَ الی ابن مَسْعود فَلَا يُعْبَأ بِسَنَدِہٖ عِنْدَ مُعَارَضَۃِ ھٰذِہِ الْاَسَانِيْدِ الصحيحۃِ بالاجماع والمتلّقات بالقبول عند العلماءِ الکِرامِ بَلِ الْاُمَّۃِ کَافَّۃً کُلِّھَا، فَظَھَرَ انّ نِسْبَۃ الْاِنْکَارِ الی ابن مسعود باطِلٌ۔
ترجمہ: جس نے یہ انکار سیدنا ابنِ مسعودؓ کی طرف منسوب کیا ہے اس کی سند الائقِ توجہ نہیں جب کہ اس کے خلاف یہ صحیح سندیں موجود ہیں جن پر اجماع ہے اور جن کو علماءِ کرام بلکہ تمام امت نے قبول کیا ہے۔ پس صاف طور پر معلوم ہوا کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ کی طرف معوذتین کی قرآنیت کے انکار کو منسوب کرنا بالکل باطل اور غلط ہے۔
2: بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے انکار کی روایت صحیح ہے، تو روایات کے درمیان تطبیق دینے سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ پہلے معوذتین کی کتابت فی المصاحف کے قائل نہ تھے، نہ اس لیے کہ وہ کلام اللہ نہیں، بلکہ اس لیے کہ باوجودیکہ کلام اللہ ہیں مگر جھاڑ پھونک رقیہ کے لیے نازل ہوئی ہیں پھر اس خیال سے رجوع کر لیا، جیسا کہ صحیح طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ اپنے شاگردوں کو معوذتین قرآن میں پڑھاتے تھے، جو کہ رجوع پر صاف دلالت ہے۔
3: موجودہ قرآنِ مجید اہلِ سنت کے نزدیک سیدنا ابی بن کعبؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا ابنِ مسعودؓ وغیرہم سے متواتر طور پر منقول ہے متواتر کا خبرِ واحد مقابلہ نہیں کر سکتی بلکہ متواتر کے مقابلے میں خبرِ واحد مردود اور نا قابلِ قبول ہوتی ہے لہٰذا انکار کی روایت جو خبرِ واحد ہے، اہلِ سنت کی متواتر روایات کے مقابلے میں کالعدم ہو گی۔
مولوی اسماعیل جو یہ کہتے ہیں کہ منکرِ معوذتین تمہارے نزدیک کافر ہے یا نہیں؟
تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ تفسیر اتقان: صفحہ، 114 پر ہے:
قال النووی فی شرح المهذب: انّ المعوذتين والفاتحة من القراٰن وانّ مَنْ جَحَد منها شيئا كفر وما نُلقل عن ابن مسعود باطل ليس بصحيح۔
ترجمہ: علامہ نووی شرحِ مہذب میں فرماتے ہیں کہ معوذتین اور فاتحہ قرآن میں ہیں جو شخص ان کی قرآنیت کا منکر ہو وہ کافر ہے اور سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو انکار نقل کیا جاتا ہے وہ باطل اور غیر صحیح ہے یعنی وہ ان کی قرآنیت کے قائل تھے، منکر نہ تھے۔
محلّی ابنِ حزم صفحہ، 13 جزء 1 مسئلہ 21 وَاَنَّ الْقُرْاٰنَ الَّذِیْ فِی المَصَاحِفِ بِاَیْدِی الْمُسْلِمِيْنَ شَرْقًا وَغَرْبًا فَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ مِنْ اَوَّلِ الْقُرْاٰنِ اِلٰى اٰخِرِ المعوذتين كَلَام اللَّه عزّوجَلّ و وَحْيُهٗ اَنْزَلَهٗ عَلٰى قلب نبيّه محمدﷺ مَنْ كَفَرَ بِحَرْفٍ مِنْهُ فَهُوَ كَافِرٌ وَكُلُّ مَارُوِیَ عَنْ ابن مسعود مِنْ اَنّ المعوذتين و اُمَّ القُرْاٰن لم تکن فی مُصْحَفہٖ فَکِذْبٌ مَوْضوعٌ لَا يَصحُّ وَاِنَّما صَحَّت عنه قِرَاءَةُ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بن حُبَیْشٍ۔
ترجمہ:تحقیق جو قرآن مصاحف میں مسلمانوں کے ہاتھ میں مشرق سے مغرب تک ہیں، اولِ قرآن سے لے کر معوذتین کے اخیر تک موجود ہے یہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کا کلام اور وحی ہے جو اس نے اپنے نبی محمدﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا جو شخص اس کہ کسی ایک حرف کا بھی منکر ہو وہ کافر ہے اور سیدنا ابنِ مسعودؓ سے جو یہ روایت کی گئی ہے کہ معوذتین اور فاتحہ ان کے مصحف میں نہ تھے تو یہ روایت جھوٹ اور موضوع ہے، صحیح نہیں اس سے جو کچھ صحیح ہے وہ عاصم کی قرأت ہے جو زر بن حبیش سے ہے (جس میں معوذتین اور فاتحہ درج ہیں)
تو حضرات! یہ اہلِ سنت و الجماعت کی تحقیق کہ سیدنا ابنِ مسعودؓ قطعاً معوذتین اور فاتحہ کی قرآنیت کے منکر نہ تھے بلکہ ان کی طرف یہ نسبت کرنا غلط ہے اور موضوع اور کذب ہے تو بے چارہ اسمعیل ایسی موضوع روایت سے اہلِ سنت کو منکرِ قرآن یا تحریف کا قائل بتاتا ہے حالانکہ ان کے مذہب کی معتبر روایات ائمہ معصومین کی قرآن کو محرف و مبدل کہتی ہیں اب ان کے جواب میں اہلِ سنت کو موضوع روایات سے اپنے ساتھ ملانا چاہتا ہے۔
مناظر شیعہ:حضرات! یہ اہلِ سنت صرف قرآن کے منکر نہیں بلکہ یہ رسول اللہﷺ کو مغلوب الشیطان سمجھتے ہیں۔ بتائیے میں آپ کے سامنے کیا کیا بیان کروں دیکھیے ان کی کتاب تفسیر جلالین صفحہ 284 پر موجود ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے قریش کی مجلس میں سورۃ النجم پڑھی تو شیطان نے آپﷺ کی زبان پر یہ شعر پڑھا دیا۔
تِلْكَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَ اِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔
جس میں بتوں کی تعریف و توصیف کی گئی بتاؤ جب ان کے مذہب میں رسول اللہﷺ کی زبان پر شیطان بول سکتا ہے تو قرآن پر کیا اعتبار ہے؟ یہ ہے سنیوں کا قرآن ماننا تونسوی صاحب! اگر ہمت ہے تو جواب دیجیے میں دیکھوں گا کہ آپ کیسے حاضرین کی عقدہ کشائی کرتے ہیں اور میری پکڑ سے کس طرح دامن چھڑاتے ہیں۔
مناظر اہل سنت:
حاضرین! میں نے مولوی اسماعیل کے ہر استدلال و اعتراض کا دندان شکن جواب پیش کیا ہے میں اس کی طرح نہیں ہوں کہ کسی استدلال کا جواب نہ دے سکوں جیسا کہ کل کا مناظرہ آپ کو یاد ہوگا کہ یہ بے چارہ کوئی جواب نہ دے سکا البتہ دھوکہ بازی میں یہ اپنی نظیر آپ ہی ہے اب اس کے اس حوالہ: تِلْكَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی کی حقیقت بھی غور سے سن لیجیے تفسیرِ کبیر صفحہ 186 اور اسی جلالین شریف کی صفحہ 284 کے حاشیہ نمبر 7 پر موجود ہے:
1: قال الامام رازی: اِنَّھَا بَاطِلَةٌ مَوْضُوْعَةٌ۔
ترجمہ: امام رازی نے فرمایا کہ: تلک الغرانیق العلی والی روایت باطل اور موضوع ہے۔
2: قال ابنِ خزیمہ: اِنَّھَا مِنْ وَضْعِ الزَّنَادِقَةِ۔
ترجمہ: ابنِ خزیمہ نے فرمایا کہ تلک الغرانیق العلی والی روایت بے دینوں کی بنائی ہوئی جھوٹی ہے۔
3: قال القاضی عیاض: اِنَّھَا بَاطِلَةٌ لَا تَصِحُّ عَقْلًا وَ نَقْلًا۔
ترجمہ: قاضی عیاض نے فرمایا کہ یہ روایت باطل اور جھوٹ ہے جو عقل اور نقل دونوں طرح سے صحیح نہیں۔
4: قال البیہقی: غَیْرُ ثَابِتٍ نَقْلًا۔
ترجمہ: علامہ بیہقی نے فرمایا: کہ یہ روایت بطورِ نقل کے ثابت نہیں ہوسکتی۔
حضرات! غور کیجیے بے چارہ اسماعیل! اہلِ سنت کو کیسی موضوع اور باطل روایت سے الزام دینا چاہتا ہے کیوں کہ بے چارے کو کوئی صحیح اور معتبر چیز تو دستیاب ہو ہی نہیں سکتی پھر کچھ نہ کچھ تو کہے ہی تاکہ خانہ پُری ہو جائے۔
مناظر شیعہ:مومنین کرام! یہ میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان ہے۔ اس کے صفحہ 316 پر ہے:
عن حمیدة بنت ابی یونس قالت: قرئ علٰی ابی وھو ابن ثمانین سنةً فی مصحف عائشة اِنَّ اللهَ وَ مَلَائِكَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ وَ عَلَی الَّذِیْنَ یصلونَ الصُّفوفَ الْاُوَلَ قَالَتْ: قَبْلَ اَنْ یُغَیِّر عثمان المَصَاحف۔
دیکھیے آج قرآن میں وَ عَلَی الَّذِیْنَ یصلونَ الصُّفوفَ الْاُوَلَ کے الفاظ موجود نہیں ہیں جو کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے تغیر کرنے سے پہلے موجود تھے تو اہلِ سنت کے نزدیک یہ تحریف ثابت ہوگئی۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل کی پیش کردہ روایت صحیح نہیں نہ اس کی کوئی سند معلوم ہے نہ اس کے راوی معلوم ہیں محدثین کی ایک جماعت ان تمام روایات کی منکر ہے جیسا کہ اسی تفسیر الاتقان کے صفحہ 318 پر موجود ہے۔
1: بالفرض اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو مولوی اسماعیل صاحب سے پوچھیے کہ یہ روایت تفسیر الاتقان کی کس بحث میں ہے حضرات! یہ بے چارہ تو محض دھوکا دیتا ہے یہ روایت منسوخ التلاوۃ کی بحث الثالث: ما نسخ تلاوته کے تحت تفسیر الاتقان کے صفحہ 316 پر درج ہے۔ توعلی الذین یصلون الصفوف الاول کے الفاظ منسوخ ہیں نہ کہ محرف اور نسخ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا: مَا نَنسَخْ مِنْ اٰیۃٍالخ۔ اور تحریف انسانوں کا فعل ہے تو اس میں تحریف نہیں بلکہ نسخ ہے جن لوگوں کو پتہ نہ تھا یا پہلے جن لوگوں کے پاس یہ الفاظ موجود تھے، سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اپنے زمانے میں ان تفسیری نوٹوں اور منسوخ التلاوۃ آیتوں کو مصحف سے نکال دیا تاکہ مسلمانوں کو آئندہ دھوکا نہ لگ جائے۔ ہمارے اہلِ سنت میں سے کسی نے ان الفاظ کو تحریف کی قسم نہیں سمجھا اور نہ یہ تحریف ہے۔ جب سیدنا عثمانِ غنیؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کوشش میں تھے کہ خالص قرآن جس میں نہ تفسیری نوٹ ہو نہ کوئی منسوخ التلاوۃ آیت موجود ہو لکھا جائے، تو ایسے منسوخ التلاوۃ الفاظ کو خارج کر دینے کا نام تحریف کیسے ہو سکتا ہے؟
مناظر شیعہ:حضرات! دیکھیے فتح القدیر جلد دوم صفحہ 53 پر مرقوم ہے اور در منثور میں بھی ہے:
عن ابن مسعود قال کنا نقرء علٰی عھد رسول اللهﷺ یٰآیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّکَ اِنَّ عَلِیًّا مَّوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔
دیکھیے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم عہد رسول اللہﷺ میں یٰآَ یُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ والی آیت کی اخیر میں اِنَّ عَلِیًّا مَّوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ پڑھا کرتے تھے لیکن اب موجودہ قرآن میں مَوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کے الفاظ نہیں تو یہ اہلِ سنت کے نزدیک تحریف ثابت ہوگی۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو اہلِ سنت کی کوئی ایک روایت دکھا دو منہ مانگا انعام لے لو در منثور جیسی ضعیف روایات نقل کرنے والی کتابوں کے حوالے سے کچھ ثابت نہیں ہوگا۔ جو روایت تم نے پیش کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو بکر بن عیاش ہے۔ جس کے متعلق میزان الاعتدال میں ہے: ضعیف الحافظ کثیر الغلط وھمی کہ ابو بکر بن عیاش کا حافظہ نہایت کمزور تھا اور بے شمار غلط روایات کرتا تھا۔
امام احمدؒ کا قول ہے کہ وہ حد سے زیادہ کثیر الغلط ہے ابنِ مبارکؒ کا قول ہے کہ حدیث پر بہت جلد جرأت کرنے والا ابو بکر بن عیاش سے بڑھ کر میں نے نہیں دیکھا۔
ابو بکر بن عیاش کے علاوہ اس روایت میں ایک راوی عاصم ہے میزان الاعتدال میں ابنِ عُلیّہ اور یحییٰ بن قطان کا یہ قول منقول ہے کہ عاصم نام کے جتنے راوی ہیں ان کا حافظہ خراب ہے۔ اور اس روایت کی سند کا تو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا تھی اور کیسی تھی۔ لہٰذا ایسی کمزور روایت کسی طرح قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! اس روایت کی پوری اور صحیح سند ثابت کر دیں تو منہ مانگا انعام لیں۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے،
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
مخفی نہ رہے کہ ہمارے علماءِ اہلِ سنت میں سے کسی نے اس روایت کو تحریف نہیں سمجھا۔ اور نہ ایسی ضعیف روایت سے متواتر قرآن مجید کے اندر تحریف ثابت ہو سکتی ہے۔
مناظر شیعہ:مومنو! یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب تفسیر الاتقان ہے اس کے صفحہ 316 پر ہے: کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے:
لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ: قَدْ اَخَذْتُ الْقُرْاٰنَ کُلّہٗ۔ قَدْ ذَھَبَ مِنْہُ قُرْاٰنٌ کَثِیْرٌ۔
کوئی یہ نہ کہے کہ میں پورا قرآن یاد کر چکا ہوں کیونکہ قرآن کا بہت سا حصہ چلا گیا۔
دیکھیے۔ اہلِ سنت کے امام پیشوا سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرما رہے ہیں کہ بہت سا قرآن چلا گیا ہے۔ یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔
مناظر اہل سنت:
تفسیر الاتقان کی یہ روایت سند کے لحاظ سے نہایت ہی کمزور ہے۔ اس روایت میں راوی ہے اسماعیل بن ابراہیم۔ جس کے متعلق محمد بن عبد اللہ نے فرمایا: ضعیف جدًّا کہ نہایت ہی ضعیف ہے۔ قال ابن المدینی: ضعیف و کذا ضعّفہ غیر واحد۔ کہ علامہ ابنِ مدینی نے فرمایا کہ اسماعیل راوی ضعیف ہے اور اس طرح بہت سے محدثین نے اس کو ضعیف بیان کیا ہے۔ منسوخ(میزان الاعتدال صفحہ 99 )
1: جب اس روایت کے راوی ضعیف ہیں تو روایت قابلِ اعتبار نہیں۔ چہ جائیکہ قرآن مجید کو جو متواتر ہے اس کے مقابلے میں تحریفِ قرآن ثابت کرے۔
2: یہ روایت منسوخ التلاوۃ کی بحث میں تفسیر الاتقان کے اندر بیان کی گئی ہے۔ بے چارے مولوی اسماعیل کو تحریف کی کوئی روایت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے نہیں ملتی۔ اس لیے منسوخ التلاوۃ کی روایات کو پڑھ پڑھ کر اپنا ٹائم پورا کرتا ہے۔ مولوی صاحب! ذرا غور کیجیے اور چشمہ لگا کر دیکھیے کہ یہ روایت تفسیر الاتقان کی بحث الثالث: ما نسخ تلاوتۃ کے اندر موجود ہے۔ سیدنا ابنِ عمرؓ کا مقصد یہی ہے کہ قرآن مجید کا بہت سا حصہ منسوخ ہو جانے کی وجہ سے اس مصحف میں نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے پورا قرآن مجید یاد ہے۔ اس لیے کہ جو منسوخ ہو چکا وہ بھی تو قرآن ہی تھا۔
3: نسخ پر ذَھَبَ کا لفظ دال ہے اگر تحریف کا بیان مقصود ہوتا تو یوں فرماتے: قَدْ اَسْقَطَ الْمُحَرِّفُوْنَ قُرْاٰنًا کَثِیْرًا۔
حالانکہ یہ الفاظ نہیں فرمائے۔ بلکہ فرمایا: ذَھَبَ قُرْاٰنٌ کَثِیْرٌ بہت سا قرآن چلا گیا بوجہ نسخ کے نہ کہ بوجہ تحریف کے۔ سیدنا ابنِ عمرؓ کے مزاج میں اس قسم کی احتیاط بہت تھی۔ چنانچہ وہ فرمایا کرتے تھے: کوئی یہ نہ کہے صُمْتُ رَمَضَانَ کُلَّہٗ۔
میں نے کل رمضان کے روزے رکھے کیونکہ کل رمضان میں رات بھی داخل ہے اور کوئی شخص رات کو روزہ نہیں رکھتا۔
مناظر شیعہ:
مومنو! یہ اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان ہے۔ جس کے صفحہ 72 پر ہے:
عن عمر بن الخطاب مرفوعًا: القراٰن الفُ الفِ حرف و من قراہ صابرًا محتسبًا کان لہ بکل حرف زوجة من حور عین
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے دس لاکھ حرف تھے مگر موجودہ قرآن میں تو دس لاکھ نہیں۔ تو آپ کی کتابوں سے تحریفِ قرآن ثابت ہوگئی یا نہیں؟ یہ روایت ضعیف بھی نہیں ہے کیونکہ لکھا ہے رِجَالُہٗ ثِقَاتٌ۔
اس کے راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔ تو تونسوی صاحب! ذرا سوچ کر ہوش سے جواب دیجیے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل تو دھوکے کے سوا اپنے دامنِ علم میں کچھ رکھتے ہی نہیں۔ جو روایت انہوں نے پڑھی ہے جس کو یہ نہایت ثقہ اور معتبر ثابت کر رہے ہیں، یہ روایت تو ضعیف ہے۔ آگے لکھا ہے:
رجالہ ثقات الشیخ الطبرانی محمد بن عبید بن اٰدم تکلم فیہ الذھبی لھذا الحدیث
اس روایت کے باقی راوی تو ثقہ ہیں مگر طبرانی کا استاد جو محمد بن عبید بن آدم ہے اس کے متعلق ذہبی نے کلام کیا ہے اور اس کو ضعیف کہا ہے۔ اسی روایت کے متعلق میزان الاعتدال صفحہ 99 پر لکھا ہے:
محمد بن عبید تفرد بخبر باطل
کہ محمد بن عبید ہی صرف اکیلا اس روایتِ باطلہ کو بیان کرتا ہے دیکھیے یہ میزان الاعتدال میں ثابت ہے کہ یہ روایت باطلہ ہے اور محمد بن عبید اکیلا ہی اس کا راوی ہے جو غیر معتبر ہے لہٰذا اس روایت سے استدلال بھی باطل ہے۔
1: اگر بالفرض اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس روایت کے آگے لکھا ہوا ہے:
قد حمل ذلک علی ما نسخ رسمہ من القراٰن
اس روایت کے اندر منسوخ اور غیر منسوخ دونوں کو شمار کر کے دس لاکھ کہا گیا ہے اب اگر موجودہ قرآن کے الفاظ کم ہیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اب تو صرف غیر منسوخ ہی باقی ہیں الفاظ و آیاتِ منسوخہ تو شمار سے نکل چکی ہیں۔ لہٰذا اس سے تحریف کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟
مناظر شیعہ:
مولوی عبد الستار صاحب! قرآن کو تمہارے سیدنا عثمانِ غنیؓ نے جلایا اور عدمِ ایمان بالقران کا الزام ہم کو دیتے ہو بخاری شریف جلد سوم میں ہے:وامر من سواه من القراٰن فی كل صحيفة او مصحف ان یحرق
حضرت عثمانِ غنیؓ نے حکم دیا کہ قرآن جلا دیے جائیں۔ آپ بتائیں گے قرآن جلانے والے تم اور منکر ہم؟ تو جن لوگوں نے قرآن کو جلایا ہو انہوں نے کون سا قرآن باقی چھوڑا؟ جو کہ اصلی تو نہ ہوگا بلکہ محرف ہی ہوگا۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! ذرا ایمان سے کہیے گا اگر ہم دشمنِ قرآن تھے اور ہم نے قرآن کو جلایا تو پھر بتائیں کہ یہ صحیح قرآن آپ کو کس نے دیا؟ اور یہ کیسے آیا؟ اس کو کس نے جمع کیا؟ آپ کی کتابیں اور ساری دنیا گواہ ہے کہ اس کے جامع اور محافظ بزرگانِ دین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔
1: اگر بالفرض تم اس بات پر اصرار و تکرار کرو کہ قرآن مجید جلایا گیا تو پھر بتاؤ کہ اصلی قرآن ہم کو کس نے دیا؟ آپ کے مذہب کے لحاظ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور دیگر ائمہ اس کے غیر محرف ہونے کے قائل نہیں۔
جب قرآن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلیفہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہی جمع کیا تو پھر جلانے کی جو روایت آپ پیش کر رہے ہیں وہ قرآن کو جلانے کے متعلق نہیں بلکہ ما سوائے قرآن تفسیری نوٹ اور متروک اور منسوخ قرأتوں کے الفاظ ہیں۔
2: اَنْ یُّحْرَقَ کے الفاظ میں بھی محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ یُحْرَق کا ے حطی ہے یا یُخْرَقَ بخاۓ معجمہ ہے جس کے معنیٰ پھاڑنے ہیں ساتھ ساتھ یہ بات بھی کتابوں میں مرقوم ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یاد داشت کے طور پر تفسیری الفاظ جو منسوخ التلاوۃ آیات اپنے مصاحف میں لکھ رکھی تھیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہی کو پھاڑنے جلانے کا حکم دیا کیونکہ اگر ان کو باقی رہنے دیا جاتا تو آئندہ مسلمانوں کی نسلوں کو اشتباہ اور غلط فہمی ہوتی اور قرآن و غیر قرآن کا فرق معلوم نہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو نہیں جلایا بلکہ وہ چیز جلائی جو مسلمانوں کے ایمان میں خلل انداز ہوتی اصلی قرآن کو محفوظ اور مروج کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو تمام مسلمانوں کی طرف سے اس کارِ خیر کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
علاوہ ازیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی سیدنا عثمانِ غنیؓ کے اس عمل میں شریک اور مشیر تھے۔ جیسا کہ خود سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
تفسیر الاتقان صفحہ 75:
قال علی لا تقولوا فی عثمان الا خيرًا
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عثمانِ غنیؓ کے حق میں قرآن کے معاملے میں سوائے نیکی کے کچھ نہ کہو۔
2: فَوَاللهِ مَا فَعَلَ الَّذِی فَعَلَ فِی الْمَصَاحِفِ اِلَّا عَنْ مَلَاٍمِّنَّا۔
ترجمہ: کیونکہ انہوں نے قرآن کے متعلق جو کچھ معاملہ کیا وہ ہمارے مشورے سے کیا۔
اب فرمائیے کہ جب سیدنا عثمانِ غنیؓ کے اس عمل میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت شریک ہے اور یہ سب نیک عمل اور بھلائی کا عمل تھا تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے کیا قصور کیا؟
تفسیر الاتقان صفحہ 76 پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا یہ قول بھی ثابت ہے:
قال علیٌّ لَوْ وُلِّيْتُ لَعَمِلْتُ باالْمَصَاحِفِ الَّتِیْ عَمِلَ بِهَا عُثْمَانُ۔
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میری امارت اور ولایت میں قرآن کا معاملہ پیش آتا تو میں مصاحف سے وہی معاملہ کرتا جو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے کیا۔
دیکھیے مولوی اسماعیل صاحب! سیدنا عثمانِ غنیؓ کے عمل کی پاکیزگی سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ابو الائمہ کے ارشادات نے دیکھا دی اب بھی اگر تم لوگ نہ مانو تو اپنی قسمت پر روتے رہو۔
مناظر شیعہ:
دیکھیے یہ اصول کرخی اہلِ سنت کے اصول کی معتبر کتاب ہے۔ اس کے صفحہ 7 پر ہے:
اِنَّ كُلَّ اٰيَةٍ تُخَالِفُ قَوْلَ اَصْحَابِنَا فَاِنَّھَا تُحْمَلُ عَلَی النَّسْخِ۔
دیکھیے اہلِ سنت کے نزدیک ان کے اصحاب بھی قرآن کو منسوخ کر سکتے ہیں اور اصحاب کے قول کو قرآن پر فوقیت دیتے ہیں۔ گویا اہلِ سنت اصحاب کو مانتے ہیں اور قرآن کو نہیں مانتے۔ یہ ہے ان کا ایمان بالقران۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! ہماری تفسیر الاتقان کے صفحہ 318 پر یہ اصول موجود ہے:
غَیْر جَائز نَسْخُ شَئ من الْقُرْاٰن بَعْد وفات النبیﷺ
ترجمہ: رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد قرآن میں سے کسی چیز کا نسخ جائز نہیں ہے۔
1: تو جب ہمارا یہ اصول ہے کہ آں حضرت محمدﷺ کی وفات کے بعد نسخ بالکل محال ہے، کیونکہ نسخ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی طرف بذریعہ وحی بھیجتا ہے۔ تو جناب رسولﷺ کی وفات کے بعد تو وہ حقِ نسخ کسی کو کس طرح پہنچ سکتا ہے؟ اس لیے آپﷺ کی وفات کے بعد کوئی شخص یا کوئی جماعت قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ جب ہمارا یہ اصول ہے تو کب ہم اصحاب کے قول سے قرآن میں نسخ کر سکتے ہیں؟
2: یہ تو مولوی اسماعیل صاحب کی جہالت ہے کہ اصول کرخی سے ہمارا مذہب انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اہلِ سنت اصحاب کے قول سے قرآن میں نسخ کر دیتے ہیں۔ یہ بھی اسماعیل صاحب کا جہلِ مرکب ہے کہ اصول کرخی کی عبارت اصحابنا سے حضرت محمدﷺ کے اصحابِ کرامؓ مراد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہاں سے مراد ائمہِ حنفیہ ہیں نہ کہ اصحابِ رسولﷺ۔
اصول کرخی کی اس عبارت کا مقصد یہ ہے کہ جب کسی عالم اور عامی کے سامنے اپنے ائمہِ مجتہدین کا کوئی ایسا قول پیش آ جائے جو بظاہر کسی آیت کے مخالف نظر آئے، تو اس مقلد کو جب کہ اطمینان اور یقین ہے کہ اس کے ائمہِ مجتہدین قرآن اور حدیث کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکتے، بلکہ ان کے تمام مسائل قرآن اور حدیث پر مبنی تھے، تو اب وہ یہ اعتقاد کرے کہ جب ائمہ کا قول کسی آیت کے ظاہری مفہوم کے مخالف ہے تو ان ائمہ کو اس آیت کی نسبت سے کوئی دوسری آیت یا کوئی متواتر حدیثِ صحیح معلوم ہوگی۔ اس لیے انہوں نے اس آیت کے خلاف یہ حکمِ صحیح اور مسئلہ بیان کیا ہے۔ کیونکہ شاید منسوخ تھی اور دوسری آیت میں بیان کردہ مسئلہ ثابت تھا، جس کا اس وقت تک اس شخص کو علم حاصل نہیں ہو سکا۔
اصول کرخی کی اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو آیت اصحاب کے قول کے مخالف ہو بس اس آیت کو منسوخ کر دو بوجہ اصحاب کے قول کے۔ مولوی اسماعیل بیچارہ یا تو دھوکہ اور فریب بازی سے کام لینا چاہتا ہے یا بوجہ جہالت کے اس کا مطلب نہیں سمجھتا۔
مناظر شیعہ:
اہلِ سنت کی معتبر کتاب شرح مواقف کے صفحہ 68 پر ہے:
اَلنَّبِی اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ وھوابّ لھم۔
حضرات! اب موجودہ قرآن میں و ھو اب لھم کے الفاظ نہیں ہیں یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:حضرات! اس روایت کو بھی تحریف سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی قرأت میں و ازواجہ امھٰتھم کے بعد و ھو اب لھم کا جملہ تفسیری طور پر منقول ہے جس کی تفسیری ہونے کو و ھو کا لفظ ازواجہ امھٰتھم کے بعد واضح کرتا ہے۔
1: یہ آیت سورۃ الاحزاب کی ہے اور سورۃ الاحزاب کی بہت سی آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ جیسا کہ نور الانوار صفحہ 211 پر ہے:
مانسخ من القراٰن فی حیاۃالرسولﷺ بالانساکماروی ان سورۃالاحزاب کانت تعدل سورۃالبقرہ۔الخ
دیکھیے اس سے ثابت ہوا کہ سورۃ الاحزاب سورۃ البقرہ کے برابر تھی اور اس کی بہت سی آیات حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ میں منسوخ کی گئیں۔ تو ھو اب لھم بھی انہی منسوخہ آیات میں سے ہے۔ لہٰذا تحریف پر آپ کا استدلال باطل ہے۔ جب تک اس آیت کو اختلافِ قرأۃاور نسخ سے خارج ثابت نہ کریں ہم تو دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ ھو اب لھم یا تو قرأت کا اختلاف تھا یا منسوخ ہو گئے تحریف کا قول ہم میں سے کسی کا نہیں اور ہمارے اسلاف اور علماء میں سے کسی نے اس کو تحریف پر محمول نہیں کیا۔
مناظر شیعہ:مومنو! اہلِ سنت کے نزدیک دو سورتیں قرآن میں تھیں لیکن اب نہیں ہیں تفسیر الاتقان صفحہ 318 پر ہے:
اما رفع رسمہ من القراٰن ولم یرفع من القلوب حفظہ سورتی القنوت فی الوتروتسمّٰی سورتی الخلع والحفد
ترجمہ: من جملہ ان صورتوں اور آیات کے جن کے نقوش قرآن سے اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کی یاد دلوں سے نہیں گئی، وہ وتر کی قنوت والی دو سورتیں ہیں جن کا نام سورۃ خلع اور سورۃ حفد ہے۔
لو حضرات! اب تو قرآن میں سورۃ خلع اور سورۃ حفد کا نام و نشان بھی نہیں ہے تو یہ تحریف نہیں تو کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل ! مجلس نہیں پڑھ رہے تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو اس عبارت کا ما قبل کیوں نہیں پڑھتے؟
قال ابو الحسن المنادی فی کتابہ الناسخ والمنسوخ۔ دیکھیے چونکہ یہ کلام ناسخ و منسوخ میں چل رہا ہے اور دو سورتیں اسی منسوخ کی قسم سے تھیں جس کا ذکر تفسیر اتقان میں ہو رہا ہے یعنی یہ دو سورتیں بھی منسوخ ہو گئیں۔
اس لیے مولوی اسماعیل بے چارے ناسخ و منسوخ کے الفاظ حقیقت ظاہر کرنے والے چھوڑ کر آگے پڑھنا شروع کر دیا کہ شاید میرا یہ مکر کامیاب ہو جائے لیکن خدا کی قدرت جو لفظ پڑھے وہ بھی ان سورتوں کے منسوخ ہونے کا اظہار کرتے ہیں جیسے کے ما رفع رسمہ من القران کے الفاظ منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں لہٰذا اس کو تحریف سے ذرا بھی واسطہ نہیں۔
مناظر شیعہ:
مومنو! اہلِ سنت کی کتاب مشکوٰۃ شریف کے صفحہ 273 پر ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
قالت: کان فیما انزل من القراٰن: عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن بخمس معلومات فتوفی رسول اللهِﷺ وھن فیما یقرء من القراٰن
ترجمہ: یعنی قرآن میں عشر رضعات معلومات یحرمن نازل ہوا تھا پھر خمس معلومات سے وہ منسوخ ہوا رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت خمس معلومات قرآن میں پڑھا جاتا تھا مگر اب تو قرآن مجید میں خمس معلومات کے الفاظ کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل ! یہ بھی آیاتِ منسوخہ میں سے ہے۔ ہمارے علماء میں سے کسی نے بھی اس روایت سے تحریف کے معنیٰ نہیں سمجھے دیکھیے اس روایت کے حاشیہ نمبر 8 پر لکھا ہے:
فیما یقرء من القراٰن: ای عند بعض من لم یَبْلُغْہ النسخ کان یَقْرَءُہٗ عَلی الرَّسْمِ الاول
یعنی یہ خمسٍ معلومات کے الفاظ منسوخ تو حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہو چکے تھے۔ مگر جن لوگوں کو نسخ کا علم نہ ہوا تھا وہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی ان لفظوں کو پڑھا کرتے تھے۔ مگر جب ان کو نسخ کی خبر پہنچی تو سب نے متفقہ طور پر ان منسوخ الفاظ کو ترک کر دیا۔ تو یہ منسوخ ہے نہ کہ محرف۔ مولوی صاحب! اس روایت کو تحریف سے کوئی تعلق نہیں۔
منسوخ کے متعلق تفسیر الاتقان صفحہ 318 پر ہے:
ثم لا ہخلوذلك من ان يكون فى زمان النبى ﷺ حتى اذا توفى لا يكون متلوا من القراٰن او يموت وهو متلو موجود بالرسم ثم ينسيه الله الناس يعرفه من اذهانهم وغير جائز نسخ شئ من القراٰن بعد وفات النبىﷺ
ترجمہ: یہ لازمی بات ہے کہ نسخ حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہوا تھا مگر اس کی یہ صورتیں ہوتی ہیں کہ بعض منسوخ آیات آپ کی وفات کے وقت ہی قرآن میں متلو اور موجود نہ ہوں، یا آپﷺ کی وفات کے وقت وہ موجود اور متلو ہوں، پھر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے دلوں سے ان منسوخ آیات کو اٹھا لے اور ان کو بھلوا دے۔ اور قرآن میں سے کسی لفظ کا نسخ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد جائز نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ خمس رضعات منسوخ تو حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہو چکی تھی۔ مگر بعض لوگوں کو نسخ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے کی نوبت آئی۔ پھر بعد میں دوسرے لوگوں کے ذریعے ان کو نسخ کا علم ہو گیا اور وہ آیت بالکلیہ منسوخ ہو گئی۔
اگر مولوی اسماعیل صاحب میں کچھ ہمت اور علمی قابلیت ہے تو اختلافِ قرأت اور منسوخ شدہ آیت کے علاوہ کوئی تحریف کی ایک روایت پیش کریں۔ جس طرح کہ میں نے ان کتابوں سے روایاتِ تحریفِ متواترہ معتبرہ ائمہِ معصومین کی دیکھائی تھیں کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون ہیں شراب خور لوگوں کے لیے ہےاس قرآن میں نبی کریمﷺ کی ہتک درج کی گئی ہے۔ اور مرتدین نے ائمہ و علیؓ کا نام متعدد مقامات سے گرا دیا ہے۔ تحریف اس کا نام ہے۔ اس قسم کی کوئی روایت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے کوئی شیعہ مجتہد قیامت تک نہیں دکھا سکتا۔
مناظر شیعہ:
مومنینِ کرام! میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی مشہور کتاب سنن ابنِ ماجہ ہے اس کے صفحہ 141 پر مرقوم ہے:
عن عائشة قالت: لقد نزلت اٰية الرجم، ورضاعة الكبير عشرا، ولقد كان فی صحيفة تحت سريری، فلما مات رسول اللهﷺ وتشاغلنا بموته، دخل داجن فاكلها
دیکھیے! سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آیتِ رجم اور دس رضاعت والی آیات نازل ہوئی تھیں۔ جس دن حضورِ اکرمﷺ کا انتقال ہوا تو ان آیات کو بکری کھا گئی۔
تو ثابت ہوا کہ اہلِ سنت کے قرآن کو بکری کھا گئی اور اہلِ سنت کا قرآن ناقص اور ادھورا رہ گیا۔ موجودہ قرآن میں کہیں بھی آیتِ رجم اور عشررضعات کا ذکر نہیں۔
بتائیے تونسوی صاحب! ہمارا قرآن ناقص ہے یا آپ کا؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! ہمارے قرآن کا خدا محافظ ہے:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)
لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ الخ۔(سورۃ فصلت: آیت 42)
قرآن صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بَلۡ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِىۡ صُدُوۡرِ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الخ۔(سورۃ العنکبوت: آیت 49)
بلکہ یہ آیاتِ بینات ہیں جو سمجھ والوں کے سینوں میں موجود ہیں۔
رجم کی آیت بوجہ منسوخِ التلاوت ہونے کے قرآن میں درج نہیں نہ اس لیے کہ اس کو بکری کھا گئی
تفسیر الاتقان صفحہ 316 پر ہے:
1: آیتِ رجم کو الثالث ما نسخ تلاوتهٗ کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
2: نور الانوار صفحہ 212 پر آیتِ رجم الشیخ والشیخة کو منسوخ التلاوۃ دون الحکم کی مثال میں ذکر کیا گیا ہے۔
3: خود شیعہ کی کتاب تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 180 پر ہے:
ومنھا مایرتفع اللفظ ویثبت الکحم کایۃ العجم فقد قیل انھا کانت منزلۃ فرفع لفظھا۔
اور منسوخ کے اقسام میں سے وہ آیات بھی ہیں جن کے صرف الفاظ منسوخ کر کے اٹھا لیے گئے تو معلوم ہوا یہ آیتِ رجم منسوخ ہے نہ کہ محرف۔
اسی طرح عشر رضعات والی آیات بھی منسوخ ہے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف صفحہ 272 پر صاف طور پر مرقوم ہے:
عن عائشہؓ قالت کان فیما انزل من القراٰن عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن
ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ قرآن میں عشر رضعات معلومات کی حرمت نازل ہوئی تھی، پھر منسوخ کر دی گئی۔
معلوم ہوا کہ عشر رضعات کا قرآن میں درج نہ ہونا بوجہِ نسخ کے ہے، نہ اس لیے کہ اس کو بکری کھا گئی۔
مولوی صاحب! اگر منسوخ چیزوں کو بکری کھا گئی تو اہلِ سنت کے قرآن میں کون سا نقص آ گیا؟
بلکہ اگر بالفرض غیر منسوخ قرآن کے ورقوں کو بھی کوئی بکری یا دشمنِ قرآن کھا جائے تو اہلِ سنت کے سینے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے موجود ہیں۔
اگر ہمت ہے تو کوئی ایک روایت تحریف کی لائیں۔ عوام کو دھوکہ نہ دیجیے۔
مناظر شیعہ
دیکھیے! اہلِ سنت کی صحیح بخاری جلد دوم، صفحہ 648 پر ہے:
عن ابن عباس قال کانت عکاظ وذوالجنتہ وذوالمجازا سواق الجاھلیّۃ فتأثموا ان یتجروا فی الموسم فنزلت لیا عَلَیْکُم ْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِن ْ رَّبِّکُمْ فیمواسمِ الحج
دیکھیے! موجودہ قرآن میں فی مواسم الحج کے الفاظ نہیں ہیں۔
تو یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟
اور روایت بھی بخاری کی ہے، جس کو اہلِ سنت اصح الکتاب بعد کتاب اللہ سمجھتے ہیں۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل صاحب! بیچارہ عالمانہ باتوں سے تو بالکل کورا ہے اس کو معلوم نہیں کہ فی مواسم الحج جار مجرور نزلت کے متعلق ہے، نہ کہ آیت کا حصہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت مواسمِ الحج کے متعلق نازل ہوئی۔
2: حاشیہ صحیح بخاری صفحہ 238 پر فی مواسم الحج کے متعلق لکھا ہے:
کلام الراوی ذکرہ تفسیرا للاٰیة الکریمة۔
3: تفسیر الاتقان صفحہ 111 پر ہے:
ما زید فی القراءةِعلی وجهِ التفسیر قرأۃ ابن عباس لیا علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم فی مواسم الحج (اخرجھا البخاری)
دیکھیے! ہمارے علماء صاف طور پر لکھ رہے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے الفاظ فی مواسم الحج تفسیری الفاظ ہیں، نہ کہ جزوِ آیت۔
4: بخاری شریف کے حاشیہ صفحہ 238 پر فی مواسم الحج کے متعلق یہ بھی لکھا ہوا ہے:
من الْقرأۃ الشاذۃ وحکمھا عند الائمۃ حکم التفسیر
یعنی یہ الفاظ تفسیری ہیں۔
غرض یہ کہ ہمارے تمام ائمہ و علماء نے تمہاری پیش کردہ روایات کو تفسیر قرار دیا ہے، یا اختلافِ قرأت اور نسخ سے متعلق بتایا ہے کسی نے بھی ان روایات کو تحریف سے متعلق نہیں گردانا۔
بخلاف اس کے، میں نے تمہاری کتابوں سے جو روایاتِ تحریف پیش کی تھیں، ان کا مطلب تمہارے علماء و مشائخ نے بھی تحریف بیان کیا تھا۔ نہ ان کو تفسیر سے کوئی تعلق تھا، اور نہ اختلافِ قراءت یا نسخ سے اور تمہاری روایات کے مطابق تمہارے مشائخ کا اعتقاد تھا کہ قرآن میں تحریف اور کمی بیشی ہو گئی۔
مناظر شیعہ:
حضرات! مولوی عبد الستار صاحب بار بار کہتا ہے کہ ہماری کوئی معتبر اور صحیح روایت پیش کرو۔
لیجیے! یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح بخاری ہے اس کے صفحہ 743 پر ہے:
عن ابن عباس قال لما نزلت: وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ورھطک منھم المخلصین
دیکھیے مومنینِ کرام! اب موجودہ قرآن میں ورھطک منھم المخلصین کے الفاظ موجود نہیں۔
اب تو اہلِ سنت کی بڑی سے بڑی کتاب سے ثابت ہو گیا کہ قرآن ناقص ہے۔
تو تونسوی صاحب! ذرا سوچ کر جواب دیجیے۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل بیچارہ اپنی فیس کی خاطر دھوکے بازی سے دریغ نہیں کرتا۔
حالانکہ رھطک منھم المخلصین پر اسی بخاری شریف پر جو حاشیہ لکھا ہوا ہے اس میں صاف طور پر مرقوم ہے:
تفسیر لقولہ عشیرتک وقراءۃ قرءھا ابن عباس ثم نسخت تلاوتھا
یعنی رھطک منھم المخلصین یہ عشیرتک کی تفسیر ہے اور یہ ایک قرأت ہے جس کو سیدنا ابنِ عباسؓ نے پڑھا تھا، پھر اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی۔
حضرات غور کیجیے! صاف الفاظ ہیں کہ منسوخ ہو گئی۔
بیچارے اسماعیل کو تحریف کی رو کوئی روایت اہلِ سنت کی کتاب سے ملتی نہیں۔ اسی لیے اَلغریق یتثبت بکل حشیش( یعنی ڈوبنے والا ہر تنکے کا سہارا لیتا ہے۔)کے طور کبھی اختلافِ قرأت کی روایت پڑھتا ہے اور کبھی منسوخ آیات کو پڑھ دیتا ہے، تاکہ ٹائم پورا ہو اور فیس مل جائے۔
مناظر اہل تشیع:
مومنین کرام! اہلِ سنت کی تفسیر خازن جلد سوم، صفحہ 95 پر ہے:
انزل الله باسماء سبعین منافِق واٰبائھم۔
ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ نے 70 منافقوں کے نام مع قیدِ ولدیت نازل فرمائے تھے۔
اب تونسوی صاحب! فرمائیے کہ وہ 70 نام موجودہ قرآن میں کہاں ہیں؟
جب نہیں ہیں تو کیا اہلِ سنت کے نزدیک قرآن محرف اور ناقص ہوا یا نہیں؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! سورۃ التوبہ کے اندر ہماری روایات کے مطابق نسخ ہوا تھا جیسا کہ نور الانوار صفحہ 211 پر ہر اور معالم التنزیل کے اندر موجود ہے:
قال ابن عباس: انزل الله ذکر سبعین رجلا من المنافقین باسمائھم واسماء اٰبائھم ثم نسخ ذکر الاسماء رحمة للمؤمنین لئلا یعیر بعضھم بعضا لان اولادھم کانوا مؤمنین۔
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے 70 منافقوں کے نام ان کے آباء کے نام کے ساتھ نازل فرمائے تھے۔ مگر پھر ناموں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے منسوخ کر دیا بوجہ مومنین پر رحمت کرنے کے، کیونکہ ان منافقوں کی اولاد مسلمان ہو چکی تھی، تاکہ ایک دوسرے پر طعن و عار نہ کریں۔
دیکھیے! یہ 70 نام منسوخ ہو گئے تھے۔
مولوی صاحب! ذرا غور کیجیے۔ یہ منسوخ ہیں یا تحریف ہیں۔
اگر ہمت ہے تو دنیا بھر کے شیعہ حضرات مل کر اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے تحریف کی روایت دکھا کر ایک ہزار روپے انعام لیں۔
میں تمہاری کتابوں سے سینکڑوں روایات دکھا سکتا ہوں کہ موجودہ قرآن محرف اور مبدل ہے۔
مناظر اہل تشیع:
دیکھیے حضرات! تفسیر الاتقان کے صفحہ 82 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے قرآن جمع کیا تھا۔
قال علی لما مات رسول اللهﷺ الیت ان لا اخذ علیّ ردائی الا لصلوة جمعة حتی اجمع القراٰن فجمعتہ
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد قسم کھائی کہ نمازِ جمعہ کے علاوہ کسی کاروبار کے لیے خاص کپڑا اوڑھ کر نہ نکلوں گا جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں۔ بس آپ نے قرآن کو جمع کیا۔
حضرات! اب اہلِ سنت کے پاس سیدنا علیؓ کا جمع کردہ قرآن نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا جمع کیا ہوا قرآن لیا ہے اور سیدنا علیؓ کا جمع کردہ قرآن چھوڑ دیا ہے۔
مولوی عبد الستار صاحب! اگر ہمت ہے تو میرے سوال کا جواب دے کہ سیدنا علیؓ کا جو قرآن تمہاری کتابوں سے ثابت ہے وہ کہاں ہے؟ اور تم لوگوں نے اس کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل بیچارے کو دھوکہ دہی کے سوا کوئی فن آتا ہی نہیں کیا کرے؟ اور تو کچھ اس کے پاس ہے نہیں، اس لیے دھوکے سے اپنی کامیابی چاہتا ہے۔
اس سے پوچھو کہ اس روایت کو آگے کیوں نہیں پڑھتا؟ یہ جو آگے لکھا ہوا ہے:
قال ابن حجر: ھذا الاثر ضعیف لانقطاعہ۔
علامہ ابنِ حجرؒ نے فرمایا کہ سیدنا علیؓ سے یہ قول نقل کرنا ضعیف ہے، کیونکہ سیدنا علیؓ تک اس کی سند نہیں پہنچتی۔
دیکھیے! ایسی فضول اور کمزور روایت سے سیدنا علیؓ کا قرآن ثابت کرتا ہے۔
معتبر روایت لیجیے الاتقان فی علوم القرآن صفحہ 85 پر ہے:
قال علیّ لا تقولوا فی عثمان الا عثمان الا خیراً فواللہ مقبول الذی فعل فی المصاحف الا ون ملا منا
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ کے حق میں سوائے نیکی کے کچھ نہ کہو۔ کیونکہ انہوں نے قرآن کے متعلق جو کچھ کیا ہمارے مشورے سے کیا۔
تو سیدنا علیؓ کا قرآن یہی تھا اور انہی کے مشورے سے جمع ہوا تھا۔
2: دوسری تفسیر الاتقان صفحہ 86 پر ہے:
قال علی: لو ولیتُ لعملتُ بالْمصاحف التی عمل بھا عثمان۔
ترجمہ: سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر میری ولایت و حکومت ہوتی تو میں بھی قرآنِ مجید کے متعلق یہی کرتا جو سیدنا عثمانؓ نے کیا۔ کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہمارے مشورے سے کیا۔
تو سیدنا علیؓ کو یہ قرآن، سیدنا عثمانؓ والا ہی پسند اور منظور تھا۔ کوئی دوسرا قرآن ان کے پاس نہ تھا۔ اس لیے ہمیشہ یہی قرآن پڑھا کرتے تھے۔
مناظر شیعہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ ایک شخص کو طَعَامُ الْاَثِیْمِ بار بار پڑھا رہے تھے، مگر وہ تھا طعام البثیم پڑھتا تھا لفظ اَثِیْم نہ پڑھ سکتا تھا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے ان کو فرمایا: چلو طعام الفاجر پڑھ لو۔
اور دیکھیے! اہلِ سنت اپنی طرف سے کمی پیشی، تغیر و تبدل کر لیتے ہیں۔ (تفسیر الاتقان: صفحہ67)
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل! اگر کوئی تحریف کی روایت ہے تو دکھاؤ، ورنہ خواہ مخواہ کیوں وقت ضائع کر رہے ہو؟
میرا تو دعویٰ ہے کہ ساری دنیا کے شیعہ مجتہد اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے کوئی ایک روایت نہیں دکھا سکتے۔
یہ جو تم نے روایت پیش کی ہے کہ وہ اَثِیْم نہیں پڑھ سکتا تھا معذور تھا اور ایسے معذور کے لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے دوسری قراءت بیان کر دی کہ وہ پڑھ لو۔
تو یہ اختلافِ قرأت کا بیان ہے ہمارے علماء نے اس روایت کو اختلافِ قراءت کی بحث میں داخل اور شمار کیا ہے اور اسی اختلافِ قرأت کی وجہ سے اس معذور کو سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نےطعام الفاجر پڑھایا۔ یہ کوئی تحریف نہیں ہے بلکہ دوسری قرأت کا اظہار کیا۔
مناظر شیعہ:
سیدنا عمرؓ قرآن کو جمع کرنے کے وقت آیتِ رجم کو لائے تھے کہ اس کو لکھا جائے۔ جیسا کہ تفسیر الاتقان میں ہے:
اِنَّ عُمَرَ اَتٰی بِاٰیَةِ الرَّجْمِ فلم یکتبھا لانہ کان وحدہ
مولوی عبد الستار صاحب بتائیے! آپ کے سیدنا عمرؓ آیتِ رجم کو کیوں لائے تھے؟ اگر وہ آیتِ رجم کو قرآن نہ سمجھتے تو لکھوانے کے لیے نہ لاتے مگر وہ اکیلے تھے، ان کا کہنا نہ مانا گیا۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ تمہارے نزدیک قرآن کم ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! آیتِ رجم کا باقی الحکم اور منسوح التلاوت ہونا فریقین اہلِ سنت اور شیعہ کو مسلّم ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب کو تو اپنی کتاب سے بھی واقفیت نہیں۔
دیکھیے! شیعہ کی کتاب تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 180 پر ہے:
منھا ما یرتفع اللفظ ویثبت الحکم کاٰیۃ العجم فقد قیل انھا کانت منزلۃ فرفع لفظھا
اسی طرح ہم اہلِ سنت کی کتاب تفسیر الاتقان صفحہ 316 پر اس آیت الرجم کو ما نسخ التلاوۃ کے تحت ذکر کیا گیا ہے اور نور الانوار میں بھی منسوخ التلاوۃ کی مثال میں آیتِ رجم کو ذکر کیا گیا ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو تحریف کی روایت دکھایئے۔
باقی یہ بات کہ سیدنا عمرؓ لکھوانے کے لیے کیوں لائے تھے تو اس کا جواب یہ ہے:
سیدنا عمرؓ اپنی فراستِ خدا داد سے جانتے تھے کہ آئندہ نسلیں رجم سے انکار کر دیں گی۔ تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ اگر اس آیتِ منسوخہ کو حاشیہ مصحف پر یادداشت کے طور پر لکھ دیا جائے تو اچھا ہوگا قرآن کے اندر نہیں لکھوانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ مسند امام احمد میں ہے:
فی ناحية من المصحف۔
ترجمہ: یعنی مصحف کے کنارے پر لکھوانا چاہتے تھے۔
اور علامہ اسفرائینی کی کتاب الناسخ والمنسوخ میں ہے: علی حاشیة المصحف
اور تفسیر روح المعانی جلد 18 سورۃ النور صفحہ 79 پر ہے کہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا:
لو لا ان یقال ان عمر زاد فی الکتاب لکتبتھا فی حاشیۃ المصاحف الشریف
اور یہی الفاظ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر مظہری جلد ششم صفحہ 422 پر ہیں کہ سیدنا عمرؓ قرآن کے حاشیہ پر لکھوانا چاہتے تھے، نہ کہ قرآن کے اندر درج فرمانے کا خیال رکھتے تھے۔
تو تحریفِ قرآن سے اس روایت کو دور کا بھی واسطہ نہیں ہو سکتا اگر سیدنا عمرؓ اس کو قرآن سمجھتے تو ضرور لکھواتے، کیونکہ خلافت ان کی تھی۔ شیعہ کے نزدیک تو وہ ہر چیز کر سکتے تھے۔ تو بتائیں اگر وہ ضرور لکھوانا چاہتے تو کون روک سکتا تھا؟
مناظر شیعہ:
اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان صفحہ 310 پر ہے:
قال عمر لعبد الرحمٰن بن عوف الم تجد فیما انزل علینا ان جاھدوا کما جاھدتم اول مرۃ فانا لا نجدھا قال اسقطت فیما اُسقط من القراٰن
دیکھیے! سیدنا عمرؓ سے سیدنا عبد الرحمٰنؓ کہہ رہے ہیں کہ جو حصہ قرآن کا ساقط کیا گیا ہے، اس کے ساتھ یہ آیت بھی ساقط کر دی گئی ہے۔ تو یہ تحریف کو کھلم کھلا ثابت کرتی ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! یہ روایت بھی تفسیر الاتقان میں آیاتِ منسوخہ کی بحث میں لائی گئی ہے تحریف سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔
علاوہ اس کے سیدنا عمرؓ کا سیدنا عبد الرحمٰنؓ سے پوچھنا بھی واضح دلیل ہے نسخ کی کیونکہ شیعہ کے زعم میں تحریف کرنے والے تو یہی خلفاءِ راشدینؓ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ تھے۔ اور سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت میں جو کچھ ہوتا تھا سیدنا عمرؓ کے مشورے سے ہوتا تھا۔
مولوی اسماعیل صاحب! اگر اس آیت کا منسوخ نہ ہونا ثابت کر دیں تو البتہ ایک بات ہو گئی۔ لیکن ان کا تو سارا سلسلہ ہی دھوکے بازی اور فریب کاری کا ہے۔ خدا ان کو راہِ راست پر چلنے کی توفیق دے۔
مناظر شیعہ:
آپ کی کتاب نور الانوار میں لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نماز فارسی زبان میں ادا کرنا جائز ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے امام تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔
مناظر اہل سنت:
مولوی صاحب! ذرا سوچ کر بات کرو۔ یہی موضوعِ بحث مسئلہ تحریفِ قرآن ہے، نہ کہ قرأۃ فی الصلوٰۃ آپ یا تو تحریف کے معنیٰ نہیں سمجھتے، یا جان بوجھ کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
ذرا حوالہ دیجیے کہ امام صاحبؒ نے کہاں لکھا ہے کہ قرآن محرف ہے؟
نور الانوار کے صفحہ 6 پر درج ہے:
ھُوَ اِسْمٌ للِنَّظْمِ وَالمَعَنٰی جَمِیْعًا۔
ترجمہ: یعنی قرآن شریف معنیٰ اور لفظ دونوں کا نام ہے۔
باقی رہا قرأۃ فی الصلوٰۃ کا مسئلہ تو اس کو موضوعِ تحریفِ قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن آپ کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے سنائے دیتا ہوں۔ توجہ سے سنیے:
نبراس صفحہ 228 پر ہے جو کہ ہمارے عقائد کی کتاب ہے:
الصحیح ان الامام رجع الٰی قول صاحبیہ وھو عدم الجوازفی الفارسیة۔
ترجمہ: صحیح بات یہ ہے کہ امام صاحبؒ فارسی میں قرأت کرنے کے معاملے میں صاحبین کی طرح ناجائز ہونے کے قائل تھے اور تمام تر احناف کا اس پر عمل ہے اور یہی قولِ مفتیٰ بہ ہے۔
اس کے بعد سرگانہ برادری نے کہا کہ رھطک منھم المخلصین کا منسوخ ہونا کہاں لکھا ہے؟
تو علامہ تونسوی صاحب نے ان کو بھی بخاری شریف کے حاشیہ سے ان الفاظ کا منسوخ ہونا دکھا دیا اس کے بعد سرگانہ برادری نے اس موضوع کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔