مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 6 از 10
اب فرمائیے کہ جب سیدنا عثمانِ غنیؓ کے اس عمل میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت شریک ہے اور یہ سب نیک عمل اور بھلائی کا عمل تھا تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے کیا قصور کیا؟
تفسیر الاتقان صفحہ 76 پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا یہ قول بھی ثابت ہے: 
قال علیٌّ لَوْ وُلِّيْتُ لَعَمِلْتُ باالْمَصَاحِفِ الَّتِیْ عَمِلَ بِهَا عُثْمَانُ۔  
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میری امارت اور ولایت میں قرآن کا معاملہ پیش آتا تو میں مصاحف سے وہی معاملہ کرتا جو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے کیا۔
دیکھیے مولوی اسماعیل صاحب! سیدنا عثمانِ غنیؓ کے عمل کی پاکیزگی سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ابو الائمہ کے ارشادات نے دیکھا دی اب بھی اگر تم لوگ نہ مانو تو اپنی قسمت پر روتے رہو۔
مناظر شیعہ:
دیکھیے یہ اصول کرخی اہلِ سنت کے اصول کی معتبر کتاب ہے۔ اس کے صفحہ 7 پر ہے:  
اِنَّ كُلَّ اٰيَةٍ تُخَالِفُ قَوْلَ اَصْحَابِنَا فَاِنَّھَا تُحْمَلُ عَلَی النَّسْخِ۔  
دیکھیے اہلِ سنت کے نزدیک ان کے اصحاب بھی قرآن کو منسوخ کر سکتے ہیں اور اصحاب کے قول کو قرآن پر فوقیت دیتے ہیں۔ گویا اہلِ سنت اصحاب کو مانتے ہیں اور قرآن کو نہیں مانتے۔ یہ ہے ان کا ایمان بالقران۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! ہماری تفسیر الاتقان کے صفحہ 318 پر یہ اصول موجود ہے:  
غَیْر جَائز نَسْخُ شَئ من الْقُرْاٰن بَعْد وفات النبیﷺ
ترجمہ: رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد قرآن میں سے کسی چیز کا نسخ جائز نہیں ہے۔
1: تو جب ہمارا یہ اصول ہے کہ آں حضرت محمدﷺ کی وفات کے بعد نسخ بالکل محال ہے، کیونکہ نسخ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی طرف بذریعہ وحی بھیجتا ہے۔ تو جناب رسولﷺ کی وفات کے بعد تو وہ حقِ نسخ کسی کو کس طرح پہنچ سکتا ہے؟ اس لیے آپﷺ کی وفات کے بعد کوئی شخص یا کوئی جماعت قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ جب ہمارا یہ اصول ہے تو کب ہم اصحاب کے قول سے قرآن میں نسخ کر سکتے ہیں؟
2: یہ تو مولوی اسماعیل صاحب کی جہالت ہے کہ اصول کرخی سے ہمارا مذہب انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اہلِ سنت اصحاب کے قول سے قرآن میں نسخ کر دیتے ہیں۔ یہ بھی اسماعیل صاحب کا جہلِ مرکب ہے کہ اصول کرخی کی عبارت اصحابنا سے حضرت محمدﷺ کے اصحابِ کرامؓ مراد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہاں سے مراد ائمہِ حنفیہ ہیں نہ کہ اصحابِ رسولﷺ۔
اصول کرخی کی اس عبارت کا مقصد یہ ہے کہ جب کسی عالم اور عامی کے سامنے اپنے ائمہِ مجتہدین کا کوئی ایسا قول پیش آ جائے جو بظاہر کسی آیت کے مخالف نظر آئے، تو اس مقلد کو جب کہ اطمینان اور یقین ہے کہ اس کے ائمہِ مجتہدین قرآن اور حدیث کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکتے، بلکہ ان کے تمام مسائل قرآن اور حدیث پر مبنی تھے، تو اب وہ یہ اعتقاد کرے کہ جب ائمہ کا قول کسی آیت کے ظاہری مفہوم کے مخالف ہے تو ان ائمہ کو اس آیت کی نسبت سے کوئی دوسری آیت یا کوئی متواتر حدیثِ صحیح معلوم ہوگی۔ اس لیے انہوں نے اس آیت کے خلاف یہ حکمِ صحیح اور مسئلہ بیان کیا ہے۔ کیونکہ شاید منسوخ تھی اور دوسری آیت میں بیان کردہ مسئلہ ثابت تھا، جس کا اس وقت تک اس شخص کو علم حاصل نہیں ہو سکا۔
اصول کرخی کی اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو آیت اصحاب کے قول کے مخالف ہو بس اس آیت کو منسوخ کر دو بوجہ اصحاب کے قول کے۔ مولوی اسماعیل بیچارہ یا تو دھوکہ اور فریب بازی سے کام لینا چاہتا ہے یا بوجہ جہالت کے اس کا مطلب نہیں سمجھتا۔
مناظر شیعہ:
اہلِ سنت کی معتبر کتاب شرح مواقف کے صفحہ 68 پر ہے:  
اَلنَّبِی اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ وھوابّ لھم۔ 
حضرات! اب موجودہ قرآن میں و ھو اب لھم کے الفاظ نہیں ہیں یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:حضرات! اس روایت کو بھی تحریف سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی قرأت میں و ازواجہ امھٰتھم کے بعد و ھو اب لھم کا جملہ تفسیری طور پر منقول ہے جس کی تفسیری ہونے کو و ھو کا لفظ ازواجہ امھٰتھم کے بعد واضح کرتا ہے۔
1: یہ آیت سورۃ الاحزاب کی ہے اور سورۃ الاحزاب کی بہت سی آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ جیسا کہ نور الانوار صفحہ 211 پر ہے:  
مانسخ من القراٰن فی حیاۃالرسولﷺ بالانساکماروی ان سورۃالاحزاب کانت تعدل سورۃالبقرہ۔الخ
دیکھیے اس سے ثابت ہوا کہ سورۃ الاحزاب سورۃ البقرہ کے برابر تھی اور اس کی بہت سی آیات حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ میں منسوخ کی گئیں۔ تو ھو اب لھم بھی انہی منسوخہ آیات میں سے ہے۔ لہٰذا تحریف پر آپ کا استدلال باطل ہے۔ جب تک اس آیت کو اختلافِ قرأۃاور نسخ سے خارج ثابت نہ کریں ہم تو دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ ھو اب لھم یا تو قرأت کا اختلاف تھا یا منسوخ ہو گئے تحریف کا قول ہم میں سے کسی کا نہیں اور ہمارے اسلاف اور علماء میں سے کسی نے اس کو تحریف پر محمول نہیں کیا۔
مناظر شیعہ:مومنو! اہلِ سنت کے نزدیک دو سورتیں قرآن میں تھیں لیکن اب نہیں ہیں تفسیر الاتقان صفحہ 318 پر ہے:  
اما رفع  رسمہ من القراٰن ولم یرفع من القلوب حفظہ سورتی القنوت فی الوتروتسمّٰی سورتی الخلع والحفد
ترجمہ: من جملہ ان صورتوں اور آیات کے جن کے نقوش  قرآن سے اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کی یاد  دلوں سے نہیں گئی، وہ وتر کی قنوت والی دو سورتیں ہیں جن کا نام سورۃ خلع اور سورۃ حفد ہے۔
لو حضرات! اب تو قرآن میں سورۃ خلع اور سورۃ حفد کا نام و نشان بھی نہیں ہے تو یہ تحریف نہیں تو کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل ! مجلس نہیں پڑھ رہے تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو اس عبارت کا ما قبل کیوں نہیں پڑھتے؟  
قال ابو الحسن المنادی فی کتابہ الناسخ والمنسوخ۔ دیکھیے چونکہ یہ کلام ناسخ و منسوخ میں چل رہا ہے اور دو سورتیں اسی منسوخ کی قسم سے تھیں جس کا ذکر تفسیر اتقان میں ہو رہا ہے یعنی یہ دو سورتیں بھی منسوخ ہو گئیں۔ 
صفحہ 6 از 10