مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 7 از 10
اس لیے مولوی اسماعیل بے چارے ناسخ و منسوخ کے الفاظ حقیقت ظاہر کرنے والے چھوڑ کر آگے پڑھنا شروع کر دیا کہ شاید میرا یہ مکر کامیاب ہو جائے لیکن خدا کی قدرت جو لفظ پڑھے وہ بھی ان سورتوں کے منسوخ ہونے کا اظہار کرتے ہیں جیسے کے ما رفع رسمہ من القران کے الفاظ منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں لہٰذا اس کو تحریف سے ذرا بھی واسطہ نہیں۔
مناظر شیعہ:
مومنو! اہلِ سنت کی کتاب مشکوٰۃ شریف کے صفحہ 273 پر ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:  
قالت: کان فیما انزل من القراٰن: عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن بخمس معلومات فتوفی رسول اللهِﷺ وھن فیما یقرء من القراٰن
ترجمہ: یعنی قرآن میں   عشر رضعات معلومات یحرمن نازل ہوا تھا پھر خمس معلومات سے وہ منسوخ ہوا رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت خمس معلومات قرآن میں پڑھا جاتا تھا مگر اب تو قرآن مجید میں خمس معلومات کے الفاظ کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل ! یہ بھی آیاتِ منسوخہ میں سے ہے۔ ہمارے علماء میں سے کسی نے بھی اس روایت سے تحریف کے معنیٰ نہیں سمجھے دیکھیے اس روایت کے حاشیہ نمبر 8 پر لکھا ہے:  
فیما یقرء من القراٰن: ای عند بعض من لم یَبْلُغْہ النسخ کان یَقْرَءُہٗ عَلی الرَّسْمِ الاول
یعنی یہ خمسٍ معلومات کے الفاظ منسوخ تو حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہو چکے تھے۔ مگر جن لوگوں کو نسخ کا علم نہ ہوا تھا وہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی ان لفظوں کو پڑھا کرتے تھے۔ مگر جب ان کو نسخ کی خبر پہنچی تو سب نے متفقہ طور پر ان منسوخ الفاظ کو ترک کر دیا۔ تو یہ منسوخ ہے نہ کہ محرف۔ مولوی صاحب! اس روایت کو تحریف سے کوئی تعلق نہیں۔
منسوخ کے متعلق تفسیر الاتقان صفحہ 318 پر ہے:  
ثم لا ہخلوذلك من ان يكون فى زمان النبى ﷺ حتى اذا توفى لا يكون متلوا من القراٰن او يموت وهو متلو موجود بالرسم ثم ينسيه الله الناس يعرفه من اذهانهم وغير جائز نسخ شئ من القراٰن بعد وفات النبىﷺ
ترجمہ: یہ لازمی بات ہے کہ نسخ حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہوا تھا مگر اس کی یہ صورتیں ہوتی ہیں کہ بعض منسوخ آیات آپ کی وفات کے وقت ہی قرآن میں متلو اور موجود نہ ہوں، یا آپﷺ کی وفات کے وقت وہ موجود اور متلو ہوں، پھر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے دلوں سے ان منسوخ آیات کو اٹھا لے اور ان کو بھلوا دے۔ اور قرآن میں سے کسی لفظ کا نسخ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد جائز نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ خمس رضعات منسوخ تو حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ہو چکی تھی۔ مگر بعض لوگوں کو نسخ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے کی نوبت آئی۔ پھر بعد میں دوسرے لوگوں کے ذریعے ان کو نسخ کا علم ہو گیا اور وہ آیت بالکلیہ منسوخ ہو گئی۔
اگر مولوی اسماعیل صاحب میں کچھ ہمت اور علمی قابلیت ہے تو اختلافِ قرأت اور منسوخ شدہ آیت کے علاوہ کوئی تحریف کی ایک روایت پیش کریں۔ جس طرح کہ میں نے ان کتابوں سے روایاتِ تحریفِ متواترہ معتبرہ ائمہِ معصومین کی دیکھائی تھیں کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون ہیں شراب خور لوگوں کے لیے ہےاس قرآن میں نبی کریمﷺ کی ہتک درج کی گئی ہے۔ اور مرتدین نے ائمہ و علیؓ کا نام متعدد مقامات سے گرا دیا ہے۔ تحریف اس کا نام ہے۔ اس قسم کی کوئی روایت اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے کوئی شیعہ مجتہد قیامت تک نہیں دکھا سکتا۔
مناظر شیعہ:
مومنینِ کرام! میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کی مشہور کتاب سنن ابنِ ماجہ ہے اس کے صفحہ 141 پر مرقوم ہے:
عن عائشة قالت: لقد نزلت اٰية الرجم، ورضاعة الكبير عشرا، ولقد كان فی صحيفة تحت سريری، فلما مات رسول اللهﷺ وتشاغلنا بموته، دخل داجن فاكلها
دیکھیے! سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آیتِ رجم اور دس رضاعت والی آیات نازل ہوئی تھیں۔ جس دن حضورِ اکرمﷺ کا انتقال ہوا تو ان آیات کو بکری کھا گئی۔
تو ثابت ہوا کہ اہلِ سنت کے قرآن کو بکری کھا گئی اور اہلِ سنت کا قرآن ناقص اور ادھورا رہ گیا۔ موجودہ قرآن میں کہیں بھی آیتِ رجم اور عشررضعات کا ذکر نہیں۔
بتائیے تونسوی صاحب! ہمارا قرآن ناقص ہے یا آپ کا؟
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل صاحب! ہمارے قرآن کا خدا محافظ ہے: 
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9) 
لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ‌ الخ۔(سورۃ فصلت: آیت 42)
قرآن صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
بَلۡ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِىۡ صُدُوۡرِ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ‌ الخ۔(سورۃ العنکبوت: آیت 49)
بلکہ یہ آیاتِ بینات ہیں جو سمجھ والوں کے سینوں میں موجود ہیں۔
رجم کی آیت بوجہ منسوخِ التلاوت ہونے کے قرآن میں درج نہیں نہ اس لیے کہ اس کو بکری کھا گئی
تفسیر الاتقان صفحہ 316 پر ہے:
1: آیتِ رجم کو الثالث ما نسخ تلاوتهٗ کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
2: نور الانوار صفحہ 212 پر آیتِ رجم الشیخ والشیخة  کو منسوخ التلاوۃ دون الحکم کی مثال میں ذکر کیا گیا ہے۔
3: خود شیعہ کی کتاب تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 180 پر ہے:   
ومنھا مایرتفع اللفظ ویثبت الکحم کایۃ العجم فقد قیل انھا کانت منزلۃ فرفع لفظھا۔  
اور منسوخ کے اقسام میں سے وہ آیات بھی ہیں جن کے صرف الفاظ منسوخ کر کے اٹھا لیے گئے تو معلوم ہوا یہ آیتِ رجم منسوخ ہے نہ کہ محرف۔
اسی طرح عشر رضعات والی آیات بھی منسوخ ہے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف صفحہ 272 پر صاف طور پر مرقوم ہے:  
عن عائشہؓ قالت کان فیما انزل من القراٰن عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن 
ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ قرآن میں عشر رضعات معلومات کی حرمت نازل ہوئی تھی، پھر منسوخ کر دی گئی۔
معلوم ہوا کہ عشر رضعات کا قرآن میں درج نہ ہونا بوجہِ نسخ کے ہے، نہ اس لیے کہ اس کو بکری کھا گئی۔
مولوی صاحب! اگر منسوخ چیزوں کو بکری کھا گئی تو اہلِ سنت کے قرآن میں کون سا نقص آ گیا؟
بلکہ اگر بالفرض غیر منسوخ قرآن کے ورقوں کو بھی کوئی بکری یا دشمنِ قرآن کھا جائے تو اہلِ سنت کے سینے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے موجود ہیں۔
اگر ہمت ہے تو کوئی ایک روایت تحریف کی لائیں۔ عوام کو دھوکہ نہ دیجیے۔
مناظر شیعہ
صفحہ 7 از 10