مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 8 از 10
دیکھیے! اہلِ سنت کی صحیح بخاری جلد دوم، صفحہ 648 پر ہے:
عن ابن عباس قال کانت عکاظ وذوالجنتہ وذوالمجازا سواق الجاھلیّۃ فتأثموا ان یتجروا فی الموسم فنزلت لیا عَلَیْکُم ْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِن ْ رَّبِّکُمْ فیمواسمِ الحج
دیکھیے! موجودہ قرآن میں فی مواسم الحج کے الفاظ نہیں ہیں۔
تو یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ 
اور روایت بھی بخاری کی ہے، جس کو اہلِ سنت  اصح الکتاب بعد کتاب اللہ  سمجھتے ہیں۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل صاحب! بیچارہ عالمانہ باتوں سے تو بالکل کورا ہے اس کو معلوم نہیں کہ فی مواسم الحج جار مجرور نزلت کے متعلق ہے، نہ کہ آیت کا حصہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت مواسمِ الحج کے متعلق نازل ہوئی۔
2: حاشیہ صحیح بخاری صفحہ 238 پر فی مواسم الحج کے متعلق لکھا ہے: 
کلام الراوی ذکرہ تفسیرا للاٰیة الکریمة۔
3: تفسیر الاتقان صفحہ 111 پر ہے: 
ما زید فی القراءةِعلی وجهِ التفسیر قرأۃ ابن عباس لیا علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم فی مواسم الحج (اخرجھا البخاری)
دیکھیے! ہمارے علماء صاف طور پر لکھ رہے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے الفاظ فی مواسم الحج تفسیری الفاظ ہیں، نہ کہ جزوِ آیت۔
4: بخاری شریف کے حاشیہ صفحہ 238 پر فی مواسم الحج کے متعلق یہ بھی لکھا ہوا ہے:  
من الْقرأۃ الشاذۃ وحکمھا عند الائمۃ حکم التفسیر 
یعنی یہ الفاظ تفسیری ہیں۔
غرض یہ کہ ہمارے تمام ائمہ و علماء نے تمہاری پیش کردہ روایات کو تفسیر قرار دیا ہے، یا اختلافِ قرأت اور نسخ سے متعلق بتایا ہے کسی نے بھی ان روایات کو تحریف سے متعلق نہیں گردانا۔  
بخلاف اس کے، میں نے تمہاری کتابوں سے جو روایاتِ تحریف پیش کی تھیں، ان کا مطلب تمہارے علماء و مشائخ نے بھی تحریف بیان کیا تھا۔ نہ ان کو تفسیر سے کوئی تعلق تھا، اور نہ اختلافِ قراءت یا نسخ سے اور تمہاری روایات کے مطابق تمہارے مشائخ کا اعتقاد تھا کہ قرآن میں تحریف اور کمی بیشی ہو گئی۔
مناظر شیعہ:
حضرات! مولوی عبد الستار صاحب بار بار کہتا ہے کہ ہماری کوئی معتبر اور صحیح روایت پیش کرو۔
لیجیے! یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح بخاری ہے اس کے صفحہ 743 پر ہے:
عن ابن عباس قال لما نزلت: وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ورھطک منھم المخلصین 
دیکھیے مومنینِ کرام! اب موجودہ قرآن میں ورھطک منھم المخلصین  کے الفاظ موجود نہیں۔
اب تو اہلِ سنت کی بڑی سے بڑی کتاب سے ثابت ہو گیا کہ قرآن ناقص ہے۔
تو تونسوی صاحب! ذرا سوچ کر جواب دیجیے۔
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل بیچارہ اپنی فیس کی خاطر دھوکے بازی سے دریغ نہیں کرتا۔
حالانکہ  رھطک منھم المخلصین پر اسی بخاری شریف پر جو حاشیہ لکھا ہوا ہے اس میں صاف طور پر مرقوم ہے: 
تفسیر لقولہ عشیرتک وقراءۃ قرءھا ابن عباس ثم نسخت تلاوتھا 
یعنی رھطک منھم المخلصین یہ عشیرتک کی تفسیر ہے اور یہ ایک قرأت ہے جس کو سیدنا ابنِ عباسؓ نے پڑھا تھا، پھر اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی۔
حضرات غور کیجیے! صاف الفاظ ہیں کہ منسوخ ہو گئی۔
بیچارے اسماعیل کو تحریف کی رو کوئی روایت اہلِ سنت کی کتاب سے ملتی نہیں۔ اسی لیے اَلغریق یتثبت بکل حشیش( یعنی ڈوبنے والا ہر تنکے کا سہارا لیتا ہے۔)کے طور کبھی اختلافِ قرأت کی روایت پڑھتا ہے اور کبھی منسوخ آیات کو پڑھ دیتا ہے، تاکہ ٹائم پورا ہو اور فیس مل جائے۔
مناظر اہل تشیع:
مومنین کرام! اہلِ سنت کی تفسیر خازن جلد سوم، صفحہ 95 پر ہے: 
انزل الله باسماء سبعین منافِق  واٰبائھم۔
ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ نے 70 منافقوں کے نام مع قیدِ ولدیت نازل فرمائے تھے۔
اب تونسوی صاحب! فرمائیے کہ وہ 70 نام موجودہ قرآن میں کہاں ہیں؟
جب نہیں ہیں تو کیا اہلِ سنت کے نزدیک قرآن محرف اور ناقص ہوا یا نہیں؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! سورۃ التوبہ کے اندر ہماری روایات کے مطابق نسخ ہوا تھا جیسا کہ نور الانوار صفحہ 211 پر ہر اور معالم التنزیل کے اندر موجود ہے:
قال ابن عباس: انزل الله ذکر سبعین رجلا من المنافقین باسمائھم واسماء اٰبائھم ثم نسخ ذکر الاسماء رحمة للمؤمنین لئلا یعیر بعضھم بعضا لان اولادھم کانوا مؤمنین۔
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے 70 منافقوں کے نام ان کے آباء کے نام کے ساتھ نازل فرمائے تھے۔ مگر پھر ناموں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے منسوخ کر دیا بوجہ مومنین پر رحمت کرنے کے، کیونکہ ان منافقوں کی اولاد مسلمان ہو چکی تھی، تاکہ ایک دوسرے پر طعن و عار نہ کریں۔
دیکھیے! یہ 70 نام منسوخ ہو گئے تھے۔
مولوی صاحب! ذرا غور کیجیے۔ یہ منسوخ ہیں یا تحریف ہیں۔
اگر ہمت ہے تو دنیا بھر کے شیعہ حضرات مل کر اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے تحریف کی روایت دکھا کر ایک ہزار روپے انعام لیں۔
میں تمہاری کتابوں سے سینکڑوں روایات دکھا سکتا ہوں کہ موجودہ قرآن محرف اور مبدل ہے۔
مناظر اہل تشیع:
دیکھیے حضرات! تفسیر الاتقان کے صفحہ 82 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے قرآن جمع کیا تھا۔
قال علی لما مات رسول اللهﷺ الیت ان لا اخذ علیّ ردائی الا لصلوة جمعة حتی اجمع القراٰن فجمعتہ
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد قسم کھائی کہ نمازِ جمعہ کے علاوہ کسی کاروبار کے لیے خاص کپڑا اوڑھ کر نہ نکلوں گا جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں۔ بس آپ نے قرآن کو جمع کیا۔
حضرات! اب اہلِ سنت کے پاس سیدنا علیؓ کا جمع کردہ قرآن نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا جمع کیا ہوا قرآن لیا ہے اور سیدنا علیؓ کا جمع کردہ قرآن چھوڑ دیا ہے۔
مولوی عبد الستار صاحب! اگر ہمت ہے تو میرے سوال کا جواب دے کہ سیدنا علیؓ کا جو قرآن تمہاری کتابوں سے ثابت ہے وہ کہاں ہے؟ اور تم لوگوں نے اس کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟
مناظر اہل سنت:
حضرات! مولوی اسماعیل بیچارے کو دھوکہ دہی کے سوا کوئی فن آتا ہی نہیں کیا کرے؟ اور تو کچھ اس کے پاس ہے نہیں، اس لیے دھوکے سے اپنی کامیابی چاہتا ہے۔
اس سے پوچھو کہ اس روایت کو آگے کیوں نہیں پڑھتا؟ یہ جو آگے لکھا ہوا ہے: 
قال ابن حجر: ھذا الاثر ضعیف لانقطاعہ۔
علامہ ابنِ حجرؒ نے فرمایا کہ سیدنا علیؓ سے یہ قول نقل کرنا ضعیف ہے، کیونکہ سیدنا علیؓ تک اس کی سند نہیں پہنچتی۔
صفحہ 8 از 10