مناظر بر موضوع دوم - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر بر موضوع دوم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 9 از 10
دیکھیے! ایسی فضول اور کمزور روایت سے سیدنا علیؓ کا قرآن ثابت کرتا ہے۔
معتبر روایت لیجیے الاتقان فی علوم القرآن صفحہ 85 پر ہے:  
قال علیّ لا تقولوا فی عثمان الا عثمان الا خیراً فواللہ مقبول الذی فعل فی المصاحف الا ون ملا منا
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ کے حق میں سوائے نیکی کے کچھ نہ کہو۔ کیونکہ انہوں نے قرآن کے متعلق جو کچھ کیا ہمارے مشورے سے کیا۔
تو سیدنا علیؓ کا قرآن یہی تھا اور انہی کے مشورے سے جمع ہوا تھا۔
2: دوسری تفسیر الاتقان صفحہ 86 پر ہے:  
قال علی: لو ولیتُ لعملتُ بالْمصاحف التی عمل بھا عثمان۔
ترجمہ: سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر میری ولایت و حکومت ہوتی تو میں بھی قرآنِ مجید کے متعلق یہی کرتا جو سیدنا عثمانؓ نے کیا۔ کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہمارے مشورے سے کیا۔
تو سیدنا علیؓ کو یہ قرآن، سیدنا عثمانؓ والا ہی پسند اور منظور تھا۔ کوئی دوسرا قرآن ان کے پاس نہ تھا۔ اس لیے ہمیشہ یہی قرآن پڑھا کرتے تھے۔
مناظر شیعہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ ایک شخص کو طَعَامُ الْاَثِیْمِ بار بار پڑھا رہے تھے، مگر وہ تھا طعام البثیم پڑھتا تھا لفظ اَثِیْم نہ پڑھ سکتا تھا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے ان کو فرمایا: چلو طعام الفاجر پڑھ لو۔
اور دیکھیے! اہلِ سنت اپنی طرف سے کمی پیشی، تغیر و تبدل کر لیتے ہیں۔  (تفسیر الاتقان: صفحہ67)
مناظر اہل سنت:
مولوی اسماعیل! اگر کوئی تحریف کی روایت ہے تو دکھاؤ، ورنہ خواہ مخواہ کیوں وقت ضائع کر رہے ہو؟
میرا تو دعویٰ ہے کہ ساری دنیا کے شیعہ مجتہد اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے کوئی ایک روایت نہیں دکھا سکتے۔
یہ جو تم نے روایت پیش کی ہے کہ وہ اَثِیْم نہیں پڑھ سکتا تھا معذور تھا اور ایسے معذور کے لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے دوسری قراءت بیان کر دی کہ وہ پڑھ لو۔
تو یہ اختلافِ قرأت کا بیان ہے ہمارے علماء نے اس روایت کو اختلافِ قراءت کی بحث میں داخل اور شمار کیا ہے اور اسی اختلافِ قرأت کی وجہ سے اس معذور کو سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نےطعام الفاجر پڑھایا۔ یہ کوئی تحریف نہیں ہے بلکہ دوسری قرأت کا اظہار کیا۔
مناظر شیعہ:
سیدنا عمرؓ قرآن کو جمع کرنے کے وقت آیتِ رجم کو لائے تھے کہ اس کو لکھا جائے۔ جیسا کہ تفسیر الاتقان میں ہے: 
اِنَّ عُمَرَ اَتٰی بِاٰیَةِ الرَّجْمِ فلم یکتبھا لانہ کان وحدہ
مولوی عبد الستار صاحب بتائیے! آپ کے سیدنا عمرؓ آیتِ رجم کو کیوں لائے تھے؟ اگر وہ آیتِ رجم کو قرآن نہ سمجھتے تو لکھوانے کے لیے نہ لاتے مگر وہ اکیلے تھے، ان کا کہنا نہ مانا گیا۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ تمہارے نزدیک قرآن کم ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! آیتِ رجم کا باقی الحکم اور منسوح التلاوت ہونا فریقین اہلِ سنت اور شیعہ کو مسلّم ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب کو تو اپنی کتاب سے بھی واقفیت نہیں۔
دیکھیے! شیعہ کی کتاب تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 180 پر ہے: 
منھا ما یرتفع اللفظ ویثبت الحکم کاٰیۃ  العجم فقد قیل انھا کانت منزلۃ فرفع لفظھا
اسی طرح ہم اہلِ سنت کی کتاب تفسیر الاتقان صفحہ 316 پر اس آیت الرجم کو ما نسخ التلاوۃ کے تحت ذکر کیا گیا ہے اور نور الانوار میں بھی منسوخ التلاوۃ کی مثال میں آیتِ رجم کو ذکر کیا گیا ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو تحریف کی روایت دکھایئے۔
باقی یہ بات کہ سیدنا عمرؓ لکھوانے کے لیے کیوں لائے تھے تو اس کا جواب یہ ہے: 
سیدنا عمرؓ اپنی فراستِ خدا داد سے جانتے تھے کہ آئندہ نسلیں رجم سے انکار کر دیں گی۔ تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ اگر اس آیتِ منسوخہ کو حاشیہ مصحف پر یادداشت کے طور پر لکھ دیا جائے تو اچھا ہوگا قرآن کے اندر نہیں لکھوانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ مسند امام احمد میں ہے: 
فی ناحية من المصحف۔ 
ترجمہ: یعنی مصحف کے کنارے پر لکھوانا چاہتے تھے۔
اور علامہ اسفرائینی کی کتاب الناسخ والمنسوخ میں ہے: علی حاشیة   المصحف
اور تفسیر روح المعانی جلد 18 سورۃ النور صفحہ 79 پر ہے کہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: 
لو لا ان یقال ان عمر زاد فی الکتاب لکتبتھا فی حاشیۃ المصاحف الشریف 
اور یہی الفاظ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر مظہری جلد ششم صفحہ 422 پر ہیں کہ سیدنا عمرؓ قرآن کے حاشیہ پر لکھوانا چاہتے تھے، نہ کہ قرآن کے اندر درج فرمانے کا خیال رکھتے تھے۔
تو تحریفِ قرآن سے اس روایت کو دور کا بھی واسطہ نہیں ہو سکتا اگر سیدنا عمرؓ اس کو قرآن سمجھتے تو ضرور لکھواتے، کیونکہ خلافت ان کی تھی۔ شیعہ کے نزدیک تو وہ ہر چیز کر سکتے تھے۔ تو بتائیں اگر وہ ضرور لکھوانا چاہتے تو کون روک سکتا تھا؟
مناظر شیعہ:
اہلِ سنت کی تفسیر الاتقان صفحہ 310 پر ہے:  
قال عمر لعبد الرحمٰن بن عوف الم تجد فیما انزل علینا  ان جاھدوا کما جاھدتم اول مرۃ فانا لا نجدھا  قال اسقطت فیما اُسقط من القراٰن 
دیکھیے! سیدنا عمرؓ سے سیدنا عبد الرحمٰنؓ کہہ رہے ہیں کہ جو حصہ قرآن کا ساقط کیا گیا ہے، اس کے ساتھ یہ آیت بھی ساقط کر دی گئی ہے۔ تو یہ تحریف کو کھلم کھلا ثابت کرتی ہے۔
مناظر اہل سنت:
حضرات! یہ روایت بھی تفسیر الاتقان میں آیاتِ منسوخہ کی بحث میں لائی گئی ہے تحریف سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔
علاوہ اس کے سیدنا عمرؓ کا سیدنا عبد الرحمٰنؓ سے پوچھنا بھی واضح دلیل ہے نسخ کی کیونکہ شیعہ کے زعم میں تحریف کرنے والے تو یہی خلفاءِ راشدینؓ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ تھے۔ اور سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت میں جو کچھ ہوتا تھا سیدنا عمرؓ کے مشورے سے ہوتا تھا۔
مولوی اسماعیل صاحب! اگر اس آیت کا منسوخ نہ ہونا ثابت کر دیں تو البتہ ایک بات ہو گئی۔ لیکن ان کا تو سارا سلسلہ ہی دھوکے بازی اور فریب کاری کا ہے۔ خدا ان کو راہِ راست پر چلنے کی توفیق دے۔
مناظر شیعہ:
آپ کی کتاب نور الانوار میں لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نماز فارسی زبان میں ادا کرنا جائز ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے امام تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔
مناظر اہل سنت:
مولوی صاحب! ذرا سوچ کر بات کرو۔ یہی موضوعِ بحث مسئلہ تحریفِ قرآن ہے، نہ کہ قرأۃ فی الصلوٰۃ آپ یا تو تحریف کے معنیٰ نہیں سمجھتے، یا جان بوجھ کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
ذرا حوالہ دیجیے کہ امام صاحبؒ نے کہاں لکھا ہے کہ قرآن محرف ہے؟
صفحہ 9 از 10