رافضیت میں چھپی ناصبیت
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓرافضیت میں چھپی ناصبیت
اہل تشیع کے نزدیک ”ناصبیت” کی تعریف کچھ مختلف ہے۔ان کے نزدیک تمام اہل سنت ناصبی ہیں۔
اہل تشیع کے مطابق
اہل تشیع کے نزدیک ”ناصبیت” کی تعریف مختلف ہے ۔
اہل تشیع کے ہاں اپنے تمام مخالف مسالک کو ناصبی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
ہر وہ شخص جو حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے عقیدت رکھتا ہو، چاہے وہ اہل بیت کرامؓ کے فضائل و شان کا معترف کیوں نہ ہو، شیعہ کے نزدیک ناصبی میں شمار ہوتا ہے
آج کے شیعہ رافضی عوام اہل سنت کو اکثر یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے بغض نہیں رکھتے بلکہ ناصبیوں سے بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ شیعہ کی معتبر کتب میں عام طور پر اہل سنت سے بغض کا اظہار “ناصبی” کہہ کر کیا جاتا ہے۔
آیے دیکھتے ہیں کہ شیعہ رافضیوں کے نزدیک ناصبی کسے کہا جاتا ہے۔
شیعہ عالم شیخ محمد حسن نجفی لکھتے ہیں کہ
عن شرح مقداد: ناصبی کا اطلاق، پانچ طریقوں سے ہوتا ہے۔
الخارجی: جو امام علی علیہ السلام پر قدح کریں۔
ایسا آدمی جو ائمہ علیہم السلام کی طرف ایسی نسبت دے جس سے ان کی عدالت ساقط ہو جاتی ہو۔
ایسا آدمی جو اہلبیت علیہم السلام کی فضیلت سن کر اس کا انکار کرے۔
ایسا آدمی جو علی علیہ السلام پر کسی اور کو فضیلت دے۔
ایسا آدمی جو علی علیہ السلام کے متعلق، نص کو سننے کے بعد اس کا انکار کرے جبکہ وہ نص مصدقہ طریقے سے اس تک پہنچی ہو۔
(جواھرالکلام: جلد 6 صفحہ 66 کتاب الطہارۃ فی المراد من الناصب)
غور فرمائیں: شیعہ کے نزدیک ناصبیت کی ان چار اقسام میں اہل سنت چوتھی قسم کے ناصبی تصور کئے جاتے ہیں۔
خلفائے راشدینؓ جس پر پوری امت مسلمہ متفق ہے، خود حضرت علیؓ اور اہل بیت کرامؓ ان صحابہ کرامؓ کے ساتھ پوری زندگی ساتھ رہے، رشتہ داریاں تک کی گئیں، اور حضرت علیؓ بیس سال سے زیادہ عرصہ تک مسجد نبوی میں خلفائے ثلاثہؓ کی امامت میں نماز ادا کرتے رہے۔ ان کی فضیلت کے معترف رہے اور شیعہ رافضی اسی فضیلت کو بنیاد بنا کر تمام اہل سنت کو ناصبی قرار دیتے ہیں، حالانکہ اہل بیت کی محبت کو اہل سنت کے ہاں ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
1: سیدنا علیؓ کی خلافت میں تمام صحابہ کرامؓ خود کو شیعان علی کہتے تھے۔
یعنی شیعہ بمعنیٰ جماعت یا گروہ
شیعان علی کا مطلب کوئی مسلک یا فرقہ نہیں تھا، کیونکہ اس وقت کسی فرقہ یا مسلک کا وجود ہی نہیں تھا۔
تمام صحابہ کرامؓ سیدنا علیؓ کا احترام و عزت کرتے تھے، ظاہر اسی لئے خود کو شیعان علی کہتے تھے۔
2: شیعہ عالم کی یہ بات غلط ہے کہ اہل سنت نام رکھنے کی وجہ سیدنا علیؓ سے دشمنی ہے، یا حضرت امیر معاویہؓ نے اہل سنت و جماعت نام رکھا، تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ سبائی گروہ نے جب حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا اور صحابہ کرامؓ میں اختلاف رائے کرا دیا گیا تو اس وقت امت مسلمہ دو گروہ میں بٹ گئی تھی، یہ اختلاف مذہبی اختلاف ہرگز نہیں تھا بلکہ سیاسی اختلاف تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک سیاسی گروہ شیعان علی اور دوسرا گروہ شیعان معاویہ کہلایا۔
3: شیعہ کے نزدیک تمام اہل سنت معاذاللہ ناصبی ہیں۔
شیعہ عالم کی خیانت ملاحظہ فرمائیں۔
یہ اقرار بھی کر رہا ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کر لی اور اس سال کو عام الجماعۃ کہا گیا۔
یعنی امت مسلمہ کے دو گروہ ایک ہو گئے، نبی کریمﷺ کی وہ پیشیں گوئی من و عن پوری ہوگئی کہ “میرا یہ بیٹا (حضرت امام حسن) مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔”
تعجب کی بات ہے کہ شیعہ عالم اس جماعت کو جو پہلے دو گروہوں میں تقسیم تھی، اس جماعت کو سنی جماعت اور باغی جماعت بھی کہہ رہا ہے، پھر اس پوری جماعت کو معاذ اللہ ناصبی جماعت بھی کہہ دیا ہے!!!
اگر اس دور میں پوری امت مسلمہ یعنی حضرت امام حسن کا گروہ (شیعان علی) اور حضرت امیر معاویہ کا گروہ (شیعان معاویہ) صلح کے بعد ایک ہو گئے تھے، وہ ایک جماعت شیعہ عالم کے مطابق باغی اور ناصبی جماعت تھی تو پھر اس وقت شیعہ کہاں تھے؟
کیا عام الجماعت کے سال بلکہ حضرت امیر معاویہؓ کے بیس سالہ دور حکومت میں امت مسلمہ ایک نہیں تھی؟ کوئی اور گروہ بھی موجود تھا؟
تاریخ میں صرف ایک دشمن اسلام کا سازشی گروہ یعنی سبائی گروہ موجود ہے جو اس وقت گنے چنے افراد پر مشتمل تھا۔
غور فرمائیں! شیعہ عالم سبائی گروہ کو اصل مسلمان مؤمن کہہ کر صحابہ کرامؓ اور اہل بیت کرامؓ کی پوری جماعت کو معاذاللہ باغی اور ناصبی کہہ رہا ہے یہ جماعت ان دو گروہ سے مل کر بنی تھی جنہیں صحیح احادیث میں نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں کہا ہے۔
ناصبی وہ ہے جو امام علی یا اہل بیت میں سے کسی ایک کے ساتھ دشمنی رکھتا ہو اور اپنی دشمنی کا اظہار بھی کرتا ہو۔ اہلبیت کے فضائل کا انکار کرتا ہو
لیکن ہر وہ شخص جو صحابہ کرام خاص طور پر خلفاء ثلاثہؓ اور معاویہؓ سے عقیدت رکھتا ہے، رافضیوں کے نزدیک ناصبیوں میں شمار ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ اہل تشیع کے معتدل لوگوں کا مؤقف اس سلسلے میں مختلف ہو تاہم ان کے متشدد لوگوں کا موقف یہی معلوم ہوتا ہے۔
یزید بن ہارون سے کہا گیا: ”آپ حضرت عثمانؓ کے فضائل تو بیان کرتے ہیں لیکن حضرت علیؓ کے فضائل کیوں بیان نہیں کرتے؟” انہوں نے جواب دیا: ”حضرت عثمانؓ کے ساتھی تو حضرت علیؓ کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرتے لیکن جو لوگ خود کو اصحاب علی کہتے ہیں، وہ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔
امام ابن قیم رحمۃاللہ نے اپنے قصیدے کے شروع میں کہا ہے:
’’اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنی “ناصبیت” ہو تو ثقلین گواہ رہیں کہ میں ناصبی ہوں (الکافیہ الشافیہ)
حضرت علی و حضرت فاطمہ اور دیگر اہل بیت رضوان الله اجمین سے مسلمانوں کی محبت فطری ہے اور ہونی بھی چاہیے کہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اہل بیت اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہرحال انسان تھے نبی کی طرح معصوم نہیں تھے کہ اجتہادی غلطیوں سے مبرّا ہوں۔
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے ساتھ فتنوں کا عظیم سلسلہ شروع ہوا، ان فتنوں کی زد میں صحابہ کرامؓ بھی آئے لیکن رافضیوں نے ان پاک ہستیوں کی اجتہادی غلطیوں کا اتنا پرچار کیا کہ عوام الناس بڑی تعداد میں گمراہ ہونے لگے۔ رافضیت کو بہرحال ہمیشہ سے یہودیت کی سرپرستی جو حاصل رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں رافضی تو الگ لیکن اہل سنت میں آپس میں رافضیت و ناصبیت کا جھگڑا اصل میں اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ ہمارے اکثر محققین نے واقعۂ شہادت عثمانؓ اور خصوصاً واقعہ کربلا کو اپنی اہل بیت سے جذباتی وابستگی کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ تاریخ دانی کا اصول نہیں ہے جب کہ تاریخی واقعات کو غیر جانبداری سے پرکھنا ہی تاریخ کا صحیح اصول و نہج ہے
اس جذباتی پن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن تاریخ دانوں یا محققین نے ان واقعات سے متعلق اپنی حقیقت پر مبنی آراء بیان کیں اب چاہے وہ دور قدیم کے محقق ابن خلدون، یا ابن کثیر وغیرہ ہوں یا پھر دور جدید کے محققین محمود احمد عباسی، یوسف صلاح الدین، زبیر علی زئی، حبیب الرحمٰن کاندھلوی یا تمنا عمادی وغیرہ ہوں ان پر رافضی نما اہل سنت نے جھٹ سے “ناصبی” ہونے کا لیبل لگا دیا یہ دیکھے بغیر کہ آخر حقائق تو حقائق ہی ہوتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تاریخی اعتبار سے مذکورہ محققین کے بیان کردہ آراء کے 100 فیصد درست ہونے کا دعویٰ کرنا بھی بہرحال بےانصافی ہے کیونکہ اہم واقعات سے متعلق تاریخی معلومات کی ترتیب و تدوین کی صورت میں عینی شہادت، آثار و شواہد اور گواہوں کو یکجا کرنے کا مرحلہ کوئی آسان کام نہیں لیکن بہرحال تاریخ اسلام کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ احباب اہل سنت جن میں مولانا مودودی جیسے علماء سرفہرست تھے ان کی جانبداری اور جذباتیت نے تاریخ اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا حتیٰ کہ اپنے آپ کو جھوٹا محب اہل بیت ثابت کرنے کے لئے کذاب و دجال راوی ابو مخنف، واقدی، ہشام کلبی کی روایات کو من و عن قبول کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔
جب عوام و خواص سمجھنے لگیں گے کہ عصمت صرف اور صرف انبیاء و رسل کا خاصہ ہے تو ان کو ناصبیت کا طعنہ دینے کی عادت چھوٹ جائے گی۔ کاش ہمارے شیعہ نواز اہلِ سنت کبھی تو جذبات کو الگ کر کے سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق لگائے گئے بہتان و افتراء کا جائزہ لیں۔ اس کام کو کرنے کے لیے عقل کی کچھ زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں ہے، بس تعصب و عناد کو چھوڑنا واجب ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت کو شیعہ نواز اہلِ سنت کبھی بھی درد مندی سے بیان نہیں کرتے جتنی حضرت حسینؓ کے سیاسی معاملے کو بیان کرتے ہیں۔ سچ ہی فرمایا ہے کسی نے کہ سبائیت نے اچھے اچھوں کی عقل کو ختم کر دیا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جنہوں نے حقائق کا ساتھ دیا ان پر “ناصبی" کا لیبل لگانا رافضی نما اہل سنت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں رہا۔
بلاشبہ یہ بات درست ہے ویسے رافضی نما اہل سنت کہنے سے بہتر ہے اگر انہیں رافضی نما “تحریکی” کہہ دیا جائے کیونکہ اہلنست والجماعت جنہیں کہا جاتا ہے ان میں عقل و شعور پایا جاتا ہےـ
اگر اہل تشیع کے مطابق اہل بیتؓ سے بغض رکھنے والا ناصبی ہے تو پھر سب سے پہلے شیعہ خود اس جال میں پھنستے ہیں
ازواج مطہراتؓ کے بارے میں راجح قول یہ ہے کہ وہ اہل بیتؓ میں داخل ہيں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی بیویوں کو پردہ کا حکم دینے کے بعد فرمایا ہے کہ:
" اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کرے) سورۃ الاحزاب آیت 33)"
اور ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ سارہؓ کو بھی اہل بیت کہنا جیسا کہ اس فرمان میں ہے:
"فرشتوں نے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔" (سورۃ ھود آیت 73)
اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کو آل لوط سے خارج کرتے ہوۓ فرمایا:
"سوائے لوط علیہ السلام کی آل کے ہم ان سب کو تو ہم ضرور بچا لیں گے مگر اس کی بیوی۔" (الحجر آیت 59، 60 )
تو یہ سب آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ زوجہ اہل بیت اور آل میں داخل ہے۔
پس ثابت ہوا کہ اہل بیت یعنی امہات المؤمنینؓ سے بغض رکھنے والا ناصبی ہے
رافضی اور ناصبی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔