رافضیت میں چھپی ناصبیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیت میں چھپی ناصبیت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

رافضیت میں چھپی ناصبیت

اہل تشیع کے نزدیک ”ناصبیت” کی تعریف کچھ مختلف ہے۔ان کے نزدیک تمام اہل سنت ناصبی ہیں۔

اہل تشیع کے مطابق

  اہل تشیع کے نزدیک ”ناصبیت” کی تعریف مختلف ہے ۔

اہل تشیع کے ہاں اپنے تمام مخالف مسالک کو ناصبی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

 ہر وہ شخص جو حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے عقیدت رکھتا ہو، چاہے وہ اہل بیت کرامؓ کے فضائل و شان کا معترف کیوں نہ ہو، شیعہ کے نزدیک ناصبی میں شمار ہوتا ہے

آج کے شیعہ رافضی عوام اہل سنت کو اکثر یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے بغض نہیں رکھتے بلکہ ناصبیوں سے بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ شیعہ کی معتبر کتب میں عام طور پر اہل سنت سے بغض کا اظہار “ناصبی” کہہ کر کیا جاتا ہے۔

آیے دیکھتے ہیں کہ شیعہ رافضیوں کے نزدیک ناصبی کسے کہا جاتا ہے۔

شیعہ عالم شیخ محمد حسن نجفی لکھتے ہیں کہ

عن شرح مقداد: ناصبی کا اطلاق، پانچ طریقوں سے ہوتا ہے۔

 الخارجی: جو امام علی علیہ السلام پر قدح کریں۔

 ایسا آدمی جو ائمہ علیہم السلام کی طرف ایسی نسبت دے جس سے ان کی عدالت ساقط ہو جاتی ہو۔

ایسا آدمی جو اہلبیت علیہم السلام کی فضیلت سن کر اس کا انکار کرے۔

 ایسا آدمی جو علی علیہ السلام پر کسی اور کو فضیلت دے۔

ایسا آدمی جو علی علیہ السلام کے متعلق، نص کو سننے کے بعد اس کا انکار کرے جبکہ وہ نص مصدقہ طریقے سے اس تک پہنچی ہو۔

(جواھرالکلام: جلد 6 صفحہ 66 کتاب الطہارۃ فی المراد من الناصب)

غور فرمائیں: شیعہ کے نزدیک ناصبیت کی ان چار اقسام میں اہل سنت چوتھی قسم کے ناصبی تصور کئے جاتے ہیں۔

خلفائے راشدینؓ جس پر پوری امت مسلمہ متفق ہے، خود حضرت علیؓ اور اہل بیت کرامؓ ان صحابہ کرامؓ کے ساتھ پوری زندگی ساتھ رہے، رشتہ داریاں تک کی گئیں، اور حضرت علیؓ بیس سال سے زیادہ عرصہ تک مسجد نبوی میں خلفائے ثلاثہؓ کی امامت میں نماز ادا کرتے رہے۔ ان کی فضیلت کے معترف رہے اور شیعہ رافضی اسی فضیلت کو بنیاد بنا کر تمام اہل سنت کو ناصبی قرار دیتے ہیں، حالانکہ اہل بیت کی محبت کو اہل سنت کے ہاں ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

1: سیدنا علیؓ کی خلافت میں تمام صحابہ کرامؓ خود کو شیعان علی کہتے تھے۔

یعنی شیعہ بمعنیٰ جماعت یا گروہ

شیعان علی کا مطلب کوئی مسلک یا فرقہ نہیں تھا، کیونکہ اس وقت کسی فرقہ یا مسلک کا وجود ہی نہیں تھا۔

تمام صحابہ کرامؓ سیدنا علیؓ کا احترام و عزت کرتے تھے، ظاہر اسی لئے خود کو شیعان علی کہتے تھے۔

2: شیعہ عالم کی یہ بات غلط ہے کہ اہل سنت نام رکھنے کی وجہ سیدنا علیؓ سے دشمنی ہے، یا حضرت امیر معاویہؓ نے اہل سنت و جماعت نام رکھا، تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ سبائی گروہ نے جب حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا اور صحابہ کرامؓ میں اختلاف رائے کرا دیا گیا تو اس وقت امت مسلمہ دو گروہ میں بٹ گئی تھی، یہ اختلاف مذہبی اختلاف ہرگز نہیں تھا بلکہ سیاسی اختلاف تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ایک سیاسی گروہ شیعان علی اور دوسرا گروہ شیعان معاویہ کہلایا۔

3: شیعہ کے نزدیک تمام اہل سنت معاذاللہ ناصبی ہیں۔

شیعہ عالم کی خیانت ملاحظہ فرمائیں۔

یہ اقرار بھی کر رہا ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کر لی اور اس سال کو عام الجماعۃ کہا گیا۔

یعنی امت مسلمہ کے دو گروہ ایک ہو گئے، نبی کریمﷺ کی وہ پیشیں گوئی من و عن پوری ہوگئی کہ “میرا یہ بیٹا (حضرت امام حسن) مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔”

تعجب کی بات ہے کہ شیعہ عالم اس جماعت کو جو پہلے دو گروہوں میں تقسیم تھی، اس جماعت کو سنی جماعت اور باغی جماعت بھی کہہ رہا ہے، پھر اس پوری جماعت کو معاذ اللہ ناصبی جماعت بھی کہہ دیا ہے!!!

اگر اس دور میں پوری امت مسلمہ یعنی حضرت امام حسن کا گروہ (شیعان علی) اور حضرت امیر معاویہ کا گروہ (شیعان معاویہ) صلح کے بعد ایک ہو گئے تھے، وہ ایک جماعت شیعہ عالم کے مطابق باغی اور ناصبی جماعت تھی تو پھر اس وقت شیعہ کہاں تھے؟

کیا عام الجماعت کے سال بلکہ حضرت امیر معاویہؓ کے بیس سالہ دور حکومت میں امت مسلمہ ایک نہیں تھی؟ کوئی اور گروہ بھی موجود تھا؟

تاریخ میں صرف ایک دشمن اسلام کا سازشی گروہ یعنی سبائی گروہ موجود ہے جو اس وقت گنے چنے افراد پر مشتمل تھا۔

غور فرمائیں! شیعہ عالم سبائی گروہ کو اصل مسلمان مؤمن کہہ کر صحابہ کرامؓ اور اہل بیت کرامؓ کی پوری جماعت کو معاذاللہ باغی اور ناصبی کہہ رہا ہے یہ جماعت ان دو گروہ سے مل کر بنی تھی جنہیں صحیح احادیث میں نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں کہا ہے۔

ناصبی وہ ہے جو امام علی یا اہل بیت میں سے کسی ایک کے ساتھ دشمنی رکھتا ہو اور اپنی دشمنی کا اظہار بھی کرتا ہو۔ اہلبیت کے فضائل کا انکار کرتا ہو

لیکن ہر وہ شخص جو صحابہ کرام خاص طور پر خلفاء ثلاثہؓ  اور معاویہؓ سے عقیدت رکھتا ہے، رافضیوں کے نزدیک ناصبیوں میں شمار ہوتا ہے۔

ممکن ہے کہ اہل تشیع کے معتدل لوگوں کا مؤقف اس سلسلے میں مختلف ہو تاہم ان کے متشدد لوگوں کا موقف یہی معلوم ہوتا ہے۔

یزید بن ہارون سے کہا گیا: ”آپ حضرت عثمانؓ کے فضائل تو بیان کرتے ہیں لیکن حضرت علیؓ کے فضائل کیوں بیان نہیں کرتے؟” انہوں نے جواب دیا: ”حضرت عثمانؓ کے ساتھی تو حضرت علیؓ کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرتے لیکن جو لوگ خود کو اصحاب علی کہتے ہیں، وہ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔

امام ابن قیم رحمۃاللہ نے اپنے قصیدے کے شروع میں کہا ہے:

’’اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنی “ناصبیت” ہو تو ثقلین گواہ رہیں کہ میں ناصبی ہوں (الکافیہ الشافیہ)

حضرت علی و حضرت فاطمہ اور دیگر اہل بیت رضوان الله اجمین سے مسلمانوں کی محبت فطری ہے اور ہونی بھی چاہیے کہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اہل بیت اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہرحال انسان تھے نبی کی طرح معصوم نہیں تھے کہ اجتہادی غلطیوں سے مبرّا ہوں۔

صفحہ 1 از 2