رافضیت میں چھپی ناصبیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیت میں چھپی ناصبیت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے ساتھ فتنوں کا عظیم سلسلہ شروع ہوا، ان فتنوں کی زد میں صحابہ کرامؓ بھی آئے لیکن رافضیوں نے ان پاک ہستیوں کی اجتہادی غلطیوں کا اتنا پرچار کیا کہ عوام الناس بڑی تعداد میں گمراہ ہونے لگے۔   رافضیت کو بہرحال ہمیشہ سے یہودیت کی سرپرستی جو حاصل رہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں رافضی تو الگ لیکن اہل سنت میں آپس میں رافضیت و ناصبیت کا جھگڑا اصل میں اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ ہمارے اکثر محققین نے واقعۂ شہادت عثمانؓ اور خصوصاً واقعہ کربلا کو اپنی اہل بیت سے جذباتی وابستگی کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے  جو کہ تاریخ دانی کا اصول نہیں ہے جب کہ تاریخی واقعات کو غیر جانبداری سے پرکھنا ہی تاریخ کا صحیح اصول و نہج ہے 

اس جذباتی پن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن تاریخ دانوں یا محققین نے ان واقعات سے متعلق اپنی حقیقت پر مبنی آراء بیان کیں اب چاہے وہ دور قدیم کے محقق ابن خلدون، یا ابن کثیر وغیرہ ہوں یا پھر دور جدید کے محققین محمود احمد عباسی، یوسف صلاح الدین، زبیر علی زئی، حبیب الرحمٰن کاندھلوی یا تمنا عمادی وغیرہ ہوں ان پر رافضی نما اہل سنت نے جھٹ سے “ناصبی” ہونے کا لیبل لگا دیا یہ دیکھے بغیر کہ آخر حقائق تو حقائق ہی ہوتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تاریخی اعتبار سے مذکورہ محققین کے بیان کردہ آراء کے 100 فیصد درست ہونے کا دعویٰ کرنا بھی بہرحال بےانصافی ہے کیونکہ اہم واقعات سے متعلق تاریخی معلومات کی ترتیب و تدوین کی صورت میں عینی شہادت، آثار و شواہد اور گواہوں کو یکجا کرنے کا مرحلہ کوئی آسان کام نہیں لیکن بہرحال تاریخ اسلام کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ احباب اہل سنت جن میں مولانا مودودی جیسے علماء سرفہرست تھے ان کی جانبداری اور جذباتیت نے تاریخ اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا حتیٰ کہ اپنے آپ کو جھوٹا محب اہل بیت ثابت کرنے کے لئے کذاب و دجال راوی ابو مخنف، واقدی، ہشام کلبی کی روایات کو من و عن قبول کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔

جب عوام و خواص سمجھنے لگیں گے کہ عصمت صرف اور صرف انبیاء و رسل کا خاصہ ہے تو ان کو ناصبیت کا طعنہ دینے کی عادت چھوٹ جائے گی۔ کاش ہمارے شیعہ نواز اہلِ سنت کبھی تو جذبات کو الگ کر کے سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق لگائے گئے بہتان و افتراء کا جائزہ لیں۔ اس کام کو کرنے کے لیے عقل کی کچھ زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں ہے، بس تعصب و عناد کو چھوڑنا واجب ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت کو شیعہ نواز اہلِ سنت کبھی بھی درد مندی سے بیان نہیں کرتے جتنی حضرت حسینؓ کے سیاسی معاملے کو بیان کرتے ہیں۔ سچ ہی فرمایا ہے کسی نے کہ سبائیت نے اچھے اچھوں کی عقل کو ختم کر دیا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ جنہوں نے حقائق کا ساتھ دیا ان پر “ناصبی" کا لیبل لگانا رافضی نما اہل سنت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں رہا۔

بلاشبہ یہ بات درست ہے  ویسے رافضی نما اہل سنت کہنے سے بہتر ہے اگر انہیں رافضی نما “تحریکی” کہہ دیا جائے  کیونکہ اہلنست والجماعت جنہیں کہا جاتا ہے ان میں عقل و شعور پایا جاتا ہےـ

اگر اہل تشیع کے مطابق اہل بیتؓ سے بغض رکھنے والا ناصبی ہے تو پھر سب سے پہلے شیعہ خود اس جال میں پھنستے ہیں

ازواج مطہراتؓ کے بارے  میں راجح قول یہ ہے کہ وہ اہل بیتؓ میں داخل ہيں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی بیویوں کو پردہ کا حکم دینے کے بعد فرمایا ہے کہ:

" اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کرے) سورۃ الاحزاب آیت 33)" 

اور ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ سارہؓ کو بھی اہل بیت کہنا جیسا کہ اس فرمان میں ہے:

"فرشتوں نے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔"  (سورۃ ھود آیت 73)

اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کو آل لوط سے خارج کرتے ہوۓ فرمایا:

"سوائے لوط علیہ السلام کی آل کے ہم ان سب کو تو ہم ضرور بچا لیں گے مگر اس کی بیوی۔"  (الحجر آیت 59، 60 )

تو یہ سب آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ زوجہ اہل بیت اور آل میں داخل ہے۔

پس ثابت ہوا کہ اہل بیت یعنی امہات المؤمنینؓ سے بغض رکھنے والا ناصبی ہے

رافضی اور ناصبی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔


صفحہ 2 از 2