صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں علمائے…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں علمائے دیوبند کا معتدل موقف

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2
غیر مقلدین شیعوں کی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تئیں سب سے زیادہ گستاخ ہیں، مذکورہ بالا مثالیں محض نمونہ کے لیے دی گئی ہیں، ورنہ ان کی کتابیں اس طرح کے مکروہ مواد سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ”عظمتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم“ کے عنوان سے جہاں کہیں پروگرام کرتے ہیں وہ محض اہلِ سنت والجماعت کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں کہ آؤ! غیر مقلدیت قبول کر لو، ہم بھی تمہاری طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ شیعوں کی طرح تقیہ کرتے ہیں۔
علمائے دیوبند نے سلفِ صالحین کی طرح بلا استثناء سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عادل و معتبر سمجھا ہے، ان کے نزدیک احکامِ شرعیہ کے لیے ایک طرف آیات و احادیث مآخذ ہیں، دوسری طرف آثارِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی مآخذِ شریعت ہیں، ان سے بھی شرعی احکام ثابت ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو براہِ راست دیکھا، اسلام کا کون سا حکم ناسخ اور کون سا حکم منسوخ ہے؟ یہ وہی بتا سکتے ہیں، کون سا عمل آپﷺ کے لیے خاص تھا اور کون سا امت کے لیے تھا؟ سب کو اچھی طرح جانتے تھے۔
قرآن و حدیث کی تشریحات کے ناقابلِ اعتماد ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درمیان سے نکال دیا جائے، مسلمانوں کے جس فرقے نے آثارِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درمیان سے نکال دیا، ان کی تحریروں کو دیکھا جائے تو اندازہ ہو گا کہ انہوں نے دین میں اپنی طرف سے بہت سی باتیں بڑھا دی ہیں؛ بلکہ انہوں نے دین اور احکامِ شرعیہ کو کھلونا بنا رکھا ہے شیعہ، جماعتِ اسلامی اور غیر مقلدین سب نے ایک ہی حجام سے سر مونڈوایا ہے۔
علمائے دیوبند نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں بار بار درج ذیل موقف کی صراحت کی ہے کہ:
1: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور منتخب بندے ہیں، انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ جن و اِنس کا کوئی بھی فرد ان کے مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
2: عہدِ نبوی کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور سب سے بہتر ہے۔
3: صحابہ کرام کی محبت رسول اللہﷺ سے محبت کی علامت ہے اور اُن سے بغض و عناد رسول اللہﷺ سے بغض و عناد کی نشانی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیت دینا خود رسول اللہﷺ کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔
4: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عیب جوئی کرنا اور ان کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا حرام، ناجائز اور اکبر الکبائر گناہ ہے۔
5: امت کا سارا مجد و شرف، بزرگی اور وقار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ وابستگی پر موقوف ہے، اور ان کا قول و عمل امت کے لیے حجت ہے۔
جو لوگ رطب و یابس تاریخی روایات پر اعتماد کر لیتے ہیں، اور محض ان بے سروپا روایات کی وجہ سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سخت و سست تنقید کرنے لگتے ہیں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہائے امت نے اس کی تاکید فرمائی ہے کہ عقائد و احکام اور حلال و حرام کے باب میں ان روایات کی ہرگز کوئی اہمیت نہیں وہ ناقابلِ اعتبار ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عقیدت و احترام کا راست تعلق عقائد سے ہے، عقیدے کے بغیر دین و ایمان سلامت نہیں رہ سکتا۔ 
(مقامِ صحابہ: صفحہ، 23)
اخیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نَوَّرَ اللہ مَرْقَدَہ کا ایک مکتوب نقل کرنا مناسب ہے، فرماتے ہیں:
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں جو آیات وارد ہیں وہ قطعی ہیں، جو احادیثِ صحیحہ ان کے متعلق وارد ہیں وہ اگرچہ ظنی ہیں؛ مگر ان کی اسانید اس قدر قوی ہیں کہ تواریخ کی روایات ان کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس لیے اگر کسی تاریخی روایت میں اور آیات و احادیثِ صحیحہ میں تعارض واقع ہو گا تو تواریخ کو غلط کہنا ضروری ہو گا“۔ 
(مکتوباتِ شیخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 242 مکتوب نمبر: 88)

صفحہ 2 از 2