حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا…

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور دفن کردیا کسی کو بتایا ہی نہیں۔

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

 یہ واقعات شیعوں کی ہر اس کتاب میں مذکور ہیں جس میں حضرت فاطمہ کی وفات اور تجہیز و تکفین کے واقعات درج ہیں۔ جیسے جلاء العیون، ناسخ التواریخ وغیرہ… نہ صرف یہ بلکہ کتب شیعہ میں یہ بھی تصریح ہے کہ جب حضرت فاطمہ کو یہ خیال ہوا کہ کپڑے سے عورتوں کا پردہ اچھی طرح نہیں ہوتا ہے تو گہوارہ کا مشورہ حضرت ابوبکر کی زوجہ محترمہ ہی نے دیا تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ حبشہ میں انہوں نے یہ صورت دیکھی ہے کہ جنازہ پر لکڑیاں باندھ کر گہوارہ بناتے ہیں۔ چنانچہ اسی صورت گہوارہ کو جناب سیدہ نے پسند کیا اور حضرت ابوبکر کی زوجہ محترمہ نے موافق وصیت جناب سیدہ ان کے غسل و تجہیز و تکفین میں شریک ہوئیں۔ اس سچے تاریخی واقعہ سے جو شیعوں کی تمام کتب میں موجود ہے۔ مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے۔
اول: اگر جناب سیدہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ناراض ہوتیں تو حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کبھی ان کی زوجہ محترمہ سے خدمت لینا پسند نہ کرتیں اور نہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اپنی زوجہ کو یہ اجازت دیتے کہ وہ شبانہ روز سیدہ کے گھر مقیم رہیں اور ان کی تیمارداری میں مشغول ومصروف رہیں۔
دوم: بالکل وضاحت سے ثابت ہوا کہ جناب سیدہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے قطعاً راضی تھیں اور اسی سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو اپنی زوجہ محترمہ سے سیدہ کے حالات معلوم ہوجاتے تھے۔ یا وہ خود اپنی زوجہ سے پوچھ لیتے تھے۔ 
 ♦️یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ وفات کی اطلاع خصوصی طور پر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو بھیجنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ جب ان کی زوجہ محترمہ سیدہ کی تیمارداری میں مصروف تھیں تو حضرت ابوبکر کو ایک ایک پل کے حالات معلوم ہوتے رہتے ہوں گے۔ 
 ♦️ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مشکوٰۃ کی جلد آخر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ گہوارہ کی خبر پاکر ابوبکر رضی اﷲ عنہ یہ پوچھنے آئے کہ یہ نئی چیز کیوں بنائی تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی زوجہ نے ان کو سمجھا دیا کہ جناب سیدہ نے اس کی وصیت کی تھی اور گہوارہ کو پسند کیا تھا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر خاموش ہوگئے۔ 
♦️ ان مذکورہ بالا امور سے واضح ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا بوقت وفات حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے بالکل راضی تھیں۔ لہذا جنازہ میں ابوبکر کی عدم شرکت بالکل خلافِ عقل دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا عبارات سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سیدہ کے جنازہ میں شریک ہوئے تھے۔
حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے پڑھی
 بخاری یاصحاح ستہ کی کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی نماز جنازہ کی نماز میں شریک نہ تھے، سیدنا علی رض کا اطلاع نہ دینا عدم شرکت پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ وفات کی اطلاع دینے کی ضرورت ہی نہ تھی، رات کو تدفین کرنا بھی کوئی معیوب فعل نہیں ہے ۔

بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابوبکر نماز جنازہ کے امام تھے۔ طبقات ابن سعد میں امام شعبی و امام نخعی سے دو روایتیں مروی ہیں۔

(١) عن الشعبی قال صلی علیہا ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

(٢) عن ابراہیم قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اﷲ وکبر علیہا اربعاً

امام شعبی و ابراہیم نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے حضرت فاطمہ بنت حضور اکرمﷺ کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔

اہل تشیع کے ہاں وقت کے حکمران کی موجودگی میں کوئی دوسرا نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔

شیعہ کتب سے حوالاجات

اس میں پہلی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے


اس میں مذکور ہے
کہ جب وقت کا حاکم موجود ہو جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار وہی ہے۔ 
اگلی روایت اس میں واضح موجود ہے کہ وہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 
کہ ولی سے زیادہ حقدار وقت کا سلطان اور حاکم ہے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وقت کے حاکم تھے وہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق حقدار تھے 
اور نیچے مذکور ہے کہ ام کثوم بنت علی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور زوجہ حضرت عمر فاروق تھیں، اس کا جنازہ مروان نے پڑھایا جو اس وقت مدینہ کا والی تھا اس موقعہ پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر یہ سنت نہ ہوتی تو جنازہ میں خود پڑھاتا اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا حسین ر ضی اللہ عنہ نے بھی اقرار کیا ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ وقت کا حاکم جنازہ پڑھائے
اس سے شیعوں کا اعتراض ختم ہوتا ہے

دوسری روایت شیعہ کتب سے


اس میں مذکور ہے 
شیعوں کے امام معصوم کا قول ہے
کہ مستحب یہ ہے کہ جنازہ نماز کو پھلایا جائے اور اعلان کیا جائے تانکہ اور بھی اس میں شامل ہوں اور اس سے میت کو بہت اجر ملتا ہے اور اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں
اب شیعہ یہاں بھی بند دیواروں میں پھنس جاتا ہے
کیونکہ اس کا اپنا اصول ہے امام کا قول ہے کہ جنازہ کو پھیلانا ہر کسی کو اطلاع پہنچانا مستحب ہے
اس سے ثابت ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا نہیں کیا ہوگا کہ اکیلے نماز جنازہ پڑھ کر سیدہ رض کو اجر سے محروم کردیا ہو کبھی نہیں۔


صفحہ 2 از 2