صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

  مولانا ابوعبيدالرحمن عارف محمود‏،  استاذ جامعه فاروقيہ، كراچی

صفحہ 2 از 5
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ 
(آسان ترجمہ قرآن: جلد، 1 صفحہ، 550)
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَاكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ (سورۃ آل عمران: آیت 103)
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آ جاؤ۔
(آسان ترجمہ قرآن: جلد، 1 صفحہ، 212)
 هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ 
 (سورۃ الأنفال: آیت، 62- 63)
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔ اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقینا اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
(آسان ترجمہ قرآن: جلد، 1 صفحہ، 546)
مذکورہ بالا آیات کا خلاصہ:
قرآن کریم میں اس مضمون کی اور بھی بہت ساری آیات موجود ہیں لیکن جو آیات ہم نے ذکر کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان میں اُخوّت و برادری کا تعلق ہوتا ہے، ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کی رسی مضبوطی سے تھامے رکھنی چاہيے کیونکہ اللہ نے ہی دیرینہ دشمنیوں کو محبت و الفت میں بدل دیا اور اب ایمان والوں کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا، یہی وہ ایمان والے ہیں جن کے ذریعے سے اللہ نے اپنے نبیﷺ کی تائید اور مدد و نصرت فرمائی، ان کے دلوں میں الفت و شفقت ڈال دی، پھر بتلایا کہ اہلِ ایمان کی وہ اولین جماعت جو مہاجرین اور انصار ہیں، مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں، مہاجرین کو ٹھکانہ فراہم کرنے والے اور ان کی نصرت و امداد کرنے والے ہیں، ایک دوسرے کے دوست اور امین، معاون و مددگار ہیں، حضور اکرمﷺ کی معیت میں رہنے والے مقدس اور پاک باز لوگوں کی جماعت ہے، کفار کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں مہربان، نرم دل اور شیر و شکر ہیں۔
عبادتِ خداوندی میں مصروف رہتے ہیں، اپنے رب کی رضا کو چاہنے والے ہیں، ان کی بزرگی اور نیکی کے آثار و انوار ان کے مبارک چہروں سے ظاہر و تاباں ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ صفات صرف قرآن کریم ہی میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی کتابوں، تورات، انجیل، میں بھی مذکور چلی آ رہی ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے تدریجاً ارتقاء عطا فرمایا، اسی طرح تدریجاً دینِ اسلام اور اہلِ ایمان کا غلبہ اور ارتقاء ہو گا، ان کی ترقی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ليے باعثِ خوشی ہے اور کفار کے ليے باعثِ عداوت ہے، اللہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
اللہ رب العزت نے یہ بھی بتلایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کو معتدل جماعت بنایا ہے، یہ لوگوں پر گواہ ہوں گے اور رسول اللہﷺ ان پر گواہ ہوں گے، یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ لوگ ہیں جو اُس نبی کی اتباع و پیروی کرتے ہیں جس کی صفات تورات و انجیل میں مذکور ہوئی ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے آپﷺ پر ایمان لایا، آپﷺ کی رفاقت اختیارکی، مدد و نصرت کی اور آپﷺ پر اترے ہوئے قرآن کریم کی اتباع کی، وہی لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اپنی مراد کو پہنچنے والے اور فلاح پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی نبی کریمﷺ پر ان کے ساتھی مہاجرین و انصار پر جو ان کے ساتھ مشکل وقت میں ساتھ رہے، وہ ایمان والے جنہوں نے درخت کے نیچے اللہ کے نبی کے ہاتھ پر بیعت کی اللہ ان سے راضی ہوا، ان پر سکینہ نازل فرمایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے، ان کی مدد کرنے والے انصار، ان کے پیروکار، ان سب سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے ليے جنت تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیابی کو پانے والے ہیں۔
اللہ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا، اس سے خوفِ خدا رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں، ان کی کھال اور دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو جاتے ہیں، اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب ان آیات کو سنتے ہیں تو سجدے میں گر پڑتے ہیں، اور اس پاک ذات کو یاد کرتے ہیں، ان کے پہلو اپنے خواب گاہوں سے دور رہتے ہیں، یہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، لہٰذا ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے ليے جو کچھ اللہ نے چھپا رکھا ہے وہ کسی نفس کو معلوم نہیں، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا بھی۔
صفحہ 2 از 5