صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

  مولانا ابوعبيدالرحمن عارف محمود‏،  استاذ جامعه فاروقيہ، كراچی

صفحہ 3 از 5
اور یہ ان لوگوں کے ليے ہے جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں، بڑے گناہوں اور بے حیائی سے اجتناب کرتے ہیں، غصہ آ جائے تو معاف کرتے ہیں، اپنے رب کے حکم کو انہوں نے مان لیا ہے اور نماز کو قائم کیا ہے، ان کے معاملات باہمی مشاورت سے طے پاتے ہیں، ان اہلِ ایمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کتنے ہی وہ مرد ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ كيے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا اور اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور کتنے ہی ایسے ہیں جو انتظار میں ہیں، اور ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی، اللہ تعالیٰ سچوں کو بدلہ دے گا اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ بخشنے والے اور مہربان ہیں، کیا وہ جو رات کی گھڑیوں میں بندگی میں لگا ہوا ہے سجدے کرتا ہے، قیام کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے، اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، تو کیا سمجھ رکھنے والے اور ناسمجھ برابر ہوتے ہیں، ہرگز نہیں۔
ایمان اور دیگر ایمانی صفات، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد فی سبیل اللہ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تقویٰ، پرہیزگاری، انفاق فی سبیل اللہ، اور اخلاصِ نیت وغیرہ پر حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ کاربند اور عمل پیرا رہے اور باہمی الفت و محبت، شفقت و رحمت کی صفت پر بھی ان کا عمل دائمی رہا کیونکہ اللہ نے ان پر پرہیزگاری کی بات کو لازم کر دیا تھا اور وہ اس کے حق دار اور اہل بھی تھے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ كا فرمان:
انہيں اوصافِ کریمہ اور خصالِ حمیدہ کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
’’من كان مُستنًّا فليَستنَّ بِمَن ْقد مَاتَ فإنَّ الحَیَّ لا تُؤمَنُ عليها الفتنة، أولئك أصحابُ محمَّدٍ صَلَّى الله عليه وسلمَ كانوا أفضلَ هذه الأمَّة، أبرَّهَا قلوبًا وأعمقَها علماً وأقلَّها تكلّفًا، اختارهُمُ اللهُ لصحبةِ نبيهٖ ولإقامةِ دينهٖ فاعرِفُوا لهم فضْلَهمْ و اتبعوهم على آثارهِم وتمَسَّكوا بما استطعتُم من أخْلاقِهم و ِسيَرِهِم فإنَّهم كانوا على الهدى المستقيمِ‘‘
(جامع بیان العلم وفضلہ لابنِ عبدالبر: رقم، 1820 جلد، 2 صفحہ، 134)
(مشکاۃ المصابیح، باب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ: رقم، 193 جلد، 1 صفحہ، 111) 
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جسے دین کی راہ اختیار کرنی ہے تو اُن کی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے، ان كے قلوب پاک تھے، ان كا علم گہرا تھا، ان ميں تکلف اور تصنع نہ تھا، اللہ جل شانہ نے انہيں اپنے نبی کریمﷺ کی صحبت اور دین کی اشاعت کے ليے چنا تھا اس ليے ان کی فضیلت اور برگذیدگی کو پہچانو، ان کے نقشِ قدم پر چلو اور طاقت بھر ان کے اخلاق اور ان کی سیرتوں کو مضبوط پکڑو اس ليے کہ وہی ہدایت کے راستے پر تھے۔
حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں کے دلوں پر پہلی دفعہ نگاہ ڈالی تو ان میں سے محمدﷺ کو پسند فرمایا اور انہيں اپنا رسول بنا کر بھیجا اور ان کو اپنا خاص علم عطا فرمایا، پھر دوبارہ لوگوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی اور آپﷺ کے ليے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چنا اور ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیﷺ کی ذمہ داری کا اٹھانے والا بنایا، لہٰذا جس چیز کو مؤمن (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اچھا سمجھیں گے وہ چیز اللہ کے يہاں بھی اچھی ہو گی اور جس چیز کو بُرا سمجھیں گے، وہ چیز اللہ کے يہاں بھی بُری ہو گی۔
(حلیۃ الاولیاء: رقم الترجمہ، 84 الطفاوی الدوسی: جلد، 1 صفحہ، 376)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد:
حضرت ابو اِراکہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی جب آپؓ نماز سے فارغ ہوئے اور داہنی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ آپؓ بے چین اور غمگین ہیں، حتیٰ کہ جب سورج مسجد کی دیوار سے ایک نیزہ بلند ہوا تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنے ہاتھ کو پلٹ کر فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے آج ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا ہے، صبح کے وقت ان کی یہ حالت ہوتی تھی کہ رنگ زرد اور بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا تھا، ان کی پیشانی پر (سجدہ کا) اتنا بڑا نشان نمایا ہوتا تھا جتنا بڑا نشان بکری کے گھٹنے پر ہوتا ہے، ساری رات اللہ کے سامنے سجدہ کرتے اور کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزار دیتے تھے اور سجدہ اور قیام ہی میں راحت حاصل کرتے تھے، جب صبح ہو جاتی اور وہ اللہ کا ذکر کرتے تو ایسے جھومتے جیسے کہ تیز ہوا کے دن (یا بادِ صبا کے وقت) درخت جھومتا ہے اور اس طرح روتے کہ کپڑے گیلے ہو جاتے، خدا کی قسم (ان کے رونے سے یوں نظر آتا تھا کہ) گویا انہوں نے رات غفلت میں گزار دی ہو، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اس کے بعد کبھی آہستہ ہنستے ہوئے بھی نظر نہ آئے، یہاں تک کہ اللہ کے دشمن ابنِ ملجم فاسق نے آپؓ کو شہید کر دیا۔ 
(حلیۃ الاولیاء: رقم الترجمہ، 4 علی ابنِ ابی طالب: جلد، 1 صفحہ، 76)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم كی صفات:
صفحہ 3 از 5