صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

  مولانا ابوعبيدالرحمن عارف محمود‏،  استاذ جامعه فاروقيہ، كراچی

صفحہ 4 از 5
قرآن و حدیث میں مذکور ان تمام صفات میں بے شک تمام کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک ہیں، خواہ مہاجرین ہوں یا انصار، مکہ کے رہنے والے ہوں یا مدینہ کے، قریشی ہوں یا کسی اور قبیلے کے، عربی ہوں یا عجمی، وہ تمام کے تمام باہمی خیرخواہی، ہمدردی، غم خواری اور خوش خلقی میں بے نظیر و بے مثال تھے، زمانہ ان کی مثال لانے سے عاجز ہے، پھر ان سب میں خصوصاً خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم حضور اقدسﷺ کے بعد تمام امت میں بہترین اور افضل ترین لوگ ہیں، یہ لوگ آپس میں شیر و شکر تھے، ایک دوسرے کے معاون و مددگار تھے، ان میں کسی طرح کا اختلاف و انتشار نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ان میں باہمی رشتے بھی ہوئے، حضرات شیخین حضرت ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بابرکت دور میں امتِ مسلمہ متفق و متحد تھی، اس مبارک دور میں امت میں دور دور تک کہیں بھی کسی طرح کے نظریاتی اختلاف کا وجود نہ تھا، پوری امت یک جان و دل کفر کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مقابلہ کے ليے سینہ سپر تھی۔
نظریاتی اختلافات کی ابتداء:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ابتدائی زمانہ ٔخلافت بھی اختلافات سے محفوظ تھا البتہ ان کے خلافت کے آخری زمانہ میں ’’ابنِ سبا‘‘ نامی ایک یہودی الاصل شخص نے’’ آلِ رسولﷺ‘‘ کے خوشنما نعرے کی آڑ میں امت میں اختلاف و افتراق اور انتشار کا بیچ بویا، اسی نقطۂ نظر پر ایک مستقل اور اسلام کے متوازی مذہب کی بنیاد رکھی گئی، ابتداء میں بہت سادہ اور عام الفاظ میں یہ کہا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکرمﷺ کے عزیز و قریب ہیں، لہٰذا وہی جانشینی و خلافت کے زیادہ حقدار و مستحق ہیں حالانکہ قرابت اور آلِ رسول کے لبادہ میں لپٹا ہوا یہ نعرہ جتنا سادہ اور خوشنما ہے، اتنا ہی یہ تعلیماتِ الہٰی اور حضور اقدسﷺکی 23 سالہ مبارک زندگی اور آپﷺ کے لائے ہوئے دین اور اس کے منشا کے بھی خلاف تھا؛ اس ليے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے نسلی امتیاز اور خاندانی فخر و غرور کے تمام بتوں کو نہ صرف پاش پاش کر دیا بلکہ عزت و شرافت، بزرگی و بڑائی، سیادت و قیادت ک امدار تقویٰ کو قرار دیا۔
الأتقیٰ کا مقام:
قرآن کریم کا واضح اور ببانگِ دہل یہ اعلان ہے کہ صفتِ تقویٰ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام جماعتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ممتاز و فائق اور سب کے سرتاج و سرخیل تھے، قرآن نے الاتقیٰ سب سے زیادہ متقی کا تاج انہی کے سر پر سجایا ہے، قرآن کی یہ کوئی من گھڑت اور تراشیدہ تفسیر نہیں بلکہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب کوفہ کی جامع مسجد میں برسرِ منبر سوال کیا گیا کہ آپ لوگوں نے آنحضرتﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ کیوں بنایا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا: دین کے کاموں میں سب سے اہم تر نماز ہے، حضور اقدسﷺ نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو ہمارا امامِ نماز بنایا تھا حالانکہ میں وہاں موجود تھا، حضور اکرمﷺ کو میری وہاں موجودگی کا علم بھی تھا مگر اس کام کے ليے آپﷺ نے مجھے یاد نہیں فرمایا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، لہٰذا جس شخص کو حضور اقدسﷺ نے ہمارے دین کی امامت کے ليے منتخب فرمایا ہے، ہم نے دنیا کی امامت و قیادت کے ليے بھی اسی کو منتخب کر لیا ہے۔
جھوٹا پروپیگنڈہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ان تعلیمات کے برعکس ابنِ سباء اور اس کے پیروکاروں نے تب سے آج تک عوام اور جاہل طبقہ میں بڑی شد و مد کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ کیا کہ خلافت صرف حضرت علیؓ کا حق تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خصوصاً خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے العیاذ باللہ ان کے حق کو غصب کیا، ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا،خاندانِ نبوت پر بڑے بڑے مظالم ڈھائے، جو زبان و بیان سے بالا تر ہیں، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف تھا، وغیرہ وغیرہ، انہوں نے ان مبارک ہستیوں اور پاک باز نفوس کے درمیان کشیدگی اور رنجیدگی کے نہ جانے کتنی داستانیں گھڑ لیں ہیں، اور انہيں حق و باطل کا معیار قرار دے کر بڑے زور و شور سے بیان کرتے پھرتے ہیں حالاں کہ یہ سب محض جھوٹ اور من گھڑت ہے، اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آپس میں تعلقات:
خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم خاص طور سے اور باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے خاندان نہ صرف باہم شیر و شکر تھے بلکہ ہر ایک دوسرے کا غم خوار، غم گسار، ہمدرد، مہربان اور حقوق کو ادا کرنے والا تھا، خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فریقین کی کتابوں میں سيکڑوں احادیث و روایات مروی ہیں، جن سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عمومی اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی خصوصی فضیلت، منزلت و مرتبت اور بزرگی و تقویٰ کا اظہار ہوتا ہے، یہ بات صرف اہلِ سنت کی معتبر کتابوں سے ہی ثابت نہیں بلکہ اہلِ تشیع کی بنیادی اور معتبر کتابوں میں بھی ہيں، خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جن کو وه كبھی نہیں جھٹلا سکتے۔
جو چیز نصِ قرآنی اور سنتِ مشہورہ کےخلاف ہو وہ مردود ہے۔
حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت و منقبت، بزرگی و تقویٰ، قرآن و سنت سے ثابت ہے البتہ روایات اور تاریخی روایات میں ان حضرات کے درمیان مشاجرات کا شائبہ نظر آتا ہے، یہ لوگ ان کے درمیان تنازعات و رنجیدگی کے جو نقشے کھینچتے ہیں، نصوصِ قرآنیہ اور سنتِ مشہورہ کے مقابلہ میں ان کی چنداں حیثیت نہیں اور نہ ہی وہ قرآن و سنت کے معارض بن سکتی ہیں اس ليے کہ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا اس بات پر اتفاق ہے اور یہ فریقین کے يہاں مسلّم ہے کہ جو روایت بھی نصِ قرآنی اور سنتِ مشہورہ مسلّمہ کے خلاف مروی ہو اور اس کی کوئی تاویل ممکن نہ ہو، یا تطبیق و موافقت کی کوئی صورت نہ بن سکتی ہو، تو وہ قابلِ تسلیم نہیں۔
سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد:
صفحہ 4 از 5