صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم

  مولانا ابوعبيدالرحمن عارف محمود‏،  استاذ جامعه فاروقيہ، كراچی

صفحہ 5 از 5
ابنِ صباء کے پیروکار چونکہ جھوٹی روایات گھڑ گھڑ کر آلِ بیت کی طرف منسوب کرتے تھے، اسی وجہ سے ائمہ اہلِ بیت نے اس بات پر خاص طور سے لوگوں کو متنبہ کیا کہ جو چیز بھی کتاب اللہ، سنتِ نبوی کے خلاف ہو اس کو ہماری طرف منسوب کر کے مت قبول کرو، چنانچہ شیعوں کی معتبر کتاب میں حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ سے مروی ہے:
’’فاتَّقُوا اللهَ وَلَا تَقْبِلُوا عَلَيْنَا مَا خَالفَ قولَ ربِّنا تعالىٰ وسَّنةَ نبيِّنا مُحمَّدٍﷺـ‘‘
(تذکرہ مغیرہ بن سعید: صفحہ، 146)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ سے خوف کرو جو چیز کتاب اللہ اور سنتِ نبوی کے خلاف ہو اس کو ہماری طرف منسوب کر کے مت قبول کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد:
’’امالی شیخ صدوق‘‘ میں حضرت جعفر صادق و محمد باقر رحمہمااللہ کی سند سے خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
’’فَمَا وافَقَ كتَابَ اللهِ فخُذوهُ ومَا خَالفَ كتابَ اللهِ فدَعُوهُ‘‘
(مجلس الثامن والخمسون: صفحہ، 221)
ترجمہ: وہ بات جو کتاب اللہ کے موافق ہو اسے قبول کرو اور جو بات کتاب اللہ کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو۔
’’احتجاج طبرسی‘‘ میں حضرت باقر رحمۃ اللہ نے حضور اکرمﷺ سے خطبۂ حجۃ الوداع کے سلسلے میں یہی بات نقل کی ہے:
’’فإذَا أتَاكُم الحديثُ فاعْرِضُوه عَلىٰ كتابِ الله عزَّوجلَّ و سُنَّتی، فمَا وافَقَ كتابَ اللهِ و سنَّتی فخُذُوا به وما خَالفَ كتابَ الله و سنَّتی فلا تأخُذُوا به‘‘
(احتجاج ابی جعفر محمد بن علی الثانی علیہما السلام فی انواع شتّٰی: صفحہ، 229)
ترجمہ: امام محمد باقر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی حدیث پہنچے تو اس کو کتاب اللہ اور میری سنت پر پیش کرو، جو کتاب اللہ اور میری سنت کے موافق ہو اس کو قبول کرو اور جو کتاب اللہ اور میری سنت کے خلاف ہو اس کو قبول مت کرو۔
اہلِ سنت والجماعت کا مسلمہ قاعدہ:
اہلِ سنت والجماعت کے نزديک تو یہ ایک مستقل قاعدہ اور مسلّمہ حقیقت ہے کہ نصِ قرآن اور سنتِ مشہورہ کے خلاف جو روایت پائی جائے تو وہ مردود ہے وه ہرگز قابلِ التفات نہیں چنانچہ حافظ المشرق علامہ خطیب بغدادی (المتوفیٰ 463ھ) "الکفایۃ فی معرفۃ أصولِ علمِ الروایۃ" میں لکھتے ہیں:
’’عن أبی هريرة عن النَّبیﷺ أنَّه قال: سَيَأْتِيْكُمْ عنِّی أحاديثُ مختلفةٌ فَمَا جَاءَكُمْ موافِقًا لِكتابِ الله وَسُنَّتی فهو مِنِّی وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالفًا لكتابِ الله تَعَالىٰ وَسُنَّتِیْ فَلَيْسَ مِنِّی‘‘
ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میری طرف منسوب شدہ مختلف قسم کی روایات عنقریب تمہارے پاس پہنچیں گی، جو کتاب اللہ اور میری سنت (مشہورہ) کے مطابق ہوں وہ درست ہوں گی اور جو کتاب اللہ اور میری سنت کے معارض ہوں، وہ صحیح نہ ہوں گی۔ 
(بابٌ فِیْ وُجُوْبِ إِطْرَاحِ الـمُنْكَرِ وَالمستحيلِ مِنَ الْأَحَادِيْثِ:رقم الحدیث، 1309 جلد، 2 صفحہ، 552)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ابو الطفیل نے نقل کیا ہے:
’’حدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُوْنَ وَدَعُوْا مَا يُنكِرُوْنَ أتُحِبُّونَ أنْ يُكذَّبَ اللهُ وَ رَسُوْلُه‘‘
ترجمہ: لوگوں سے مشہور و معروف چیزیں بیان کرو اور غیر معروف یعنی منکر باتیں عوام میں ذکر مت کرو، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تکذیب کی جائے؟
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ کا قول:
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ "تذکرۃ الحفاظ" میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد گرامی نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’فَقدْ زَجَر الإمامُ علیُّ رضء الله عنه عَنْ رِوايةِ الـمُنكرِ، وحَثَّ عَلى التَّحْدِيْثِ بِالْمَشْهُوْرِ، وَهٰذا أصلٌ كبيرٌ فی الكفِّ عَنْ بَثِّ الأشْيَاءِ الوَاهِيَةِ و الْمُنكَرَةِ مِنَ الأحاديثِ فی الفَضَائلِ و العَقَائدِ و الرِّقائقِ‘‘
(امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب: جلد، 1 صفحہ، 13)
ترجمہ: ہمارے امام و مقتدیٰ سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں شاذ و منکر روایات کے بیان کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور مشہور و معروف چیزوں کے بیان کرنے میں رغبت دلائی ہے اور بے سروپا روایات کے پھیلانے اور تشہیر کرنے سے روکنے کے ليے یہ شان دار قاعدہ بیان فرمایا ہے، یہ روایات خواہ عقائد سے تعلق رکھتی ہوں، یا فضائل اور ترغیبات کے باب سے ہوں، سب کی خاطر یہ قانون قابلِ عظمت ہے۔

صفحہ 5 از 5