اہل بیت کا کیا مطلب ہے اور اس کے مصداق کون لوگ ہیں؟
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبنداہل بیت عربی زبان میں اہل خانہ کو کہتے ہیں لیکن وہ لوگ جو مستقل طور پر گھر میں رہتے ہوں۔ چنانچہ عرف عام میں جب اہل خانہ کہا جاتا ہے تو اس میں بیوی نابالغ اولاد وغیره داخل ہوتے ہیں۔ شادی شدہ اولاد جو دوسرے گھر میں رہائش پذیر ہو اپنے اہل خانہ میں بالعموم داخل نہیں سمجھی جاتی۔ لغت اور عرف عام میں اہل خانہ کا مطلب یہی ہے باقی قرآن و سنت کی روشنی میں اہل بیت اور عترت میں رسول اللہﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے علاوہ آپﷺ کی صاجزادیاں آپﷺ کے داماد حضرت علیؓ اور آپ کے نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین (اور آپ کے چچا حضرت عباس اور ان کی اولاد اور دوسرے رشتہ دار بھی داخل ہیں۔
ازواج مطہراتؓ اہل بیت میں اولاً اس لئے داخل ہیں کہ عرف میں اہل بیت (اہل خانہ) میں بیویاں ضرور داخل ہوتی ہیں۔
ثانیاً اس وجہ سے کہ ازواج مطہرات کے اہل بیت میں شامل ہونے پر قرآن کریم کی نص قطعی ہے۔ قرآن حکیم میں واضح ارشاد ہے:
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا (سورت الاحزاب 33)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو۔ اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔
یہ آیت اس بارے میں صریح ہے کہ ازواج مطہرات، اہل بیت ہیں کیونکہ یہ ایک رکوع کی آیات میں شامل ہے۔ یہ رکوع آیت نمبر 28 "یا ایها النبي قل لازواجك‘‘ سے شروع ہوا ہے اور مذکورہ آیات پر آ کر ختم ہوا اس میں سارا خطاب ازواج مطہرات سے ہے۔ اس رکوع میں اول سے لیکر آخر تک چھبیس 26 صیغے اور ضمیریں مونث کی لائی گئی ہیں جو سب کی سب بلاشبہ ازواج مطہرات کی طرف راجع ہیں۔
اس لئے ازواج مطہرات کا “اہل بیت‘‘ میں داخل ہونا تو قرآن مجید کی اس نص قطعی سے ثابت ہوا۔
باقی سیدنا حضرت علی، سیدہ حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا اہل بیت‘‘ میں داخل ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
حضرت زید بن ارقم نے بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا
ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ
پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں، تین بار فرمایا اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپﷺ کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپﷺ کی ازواج مطہراتؓ اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زیدؓ نے کہا کہ ازواج مطہراتؓ بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ حصین نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زیدؓ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زیدؓ نے کہا کہ ہاں۔ (صحیح مسلم: 6225)
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب
باب: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل
خلاصہ یہ کہ اہل بیت میں رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات آپ کی صاجزادیاں آپ کے داماد آپ کے نواسے، آپ کے چچا آپ کے چچا زاد بھائی درجہ بدرجہ داخل ہیں جو اپنے اپنے فضائل منصوصہ کی بناء پر اسی تعظیم و اکرام کے مستحق ہیں جس کا رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہے اور اسی عظمت و مرتبہ کے مستحق ہیں جو رسول اللہ نے احادیث صحیحہ میں انکے لئے ثابت کر دیا ہے۔
البتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے اگرچہ تمام اہل بیت فی الجملہ اکرام، تعظیم اور محبت کے مستحق ہیں مگر ان میں فرق مراتب بھی ہے اور یہ فرق مراتب بھی صرف احادیث صحیحہ سے ثابت ہے (جس کی پوری تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ مثلاً رسول اللہﷺ کی چاروں صاحبزادیاں ہمارے لئے قابل احترام قابل تعظیم و اکرام ہیں مگر ان چاروں میں سے جو مقام سیدہ فاطمہؓ کا ہے وہ باقی بنات مکرمات کا نہیں کیونکہ آپﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو سيدة نساء اهل الجنة ( یعنی اہل جنت خواتین کی سردار) کا لقب دیا ہے۔ وہ لقب آپﷺ نے باقیوں کو نہیں دیا۔
آخر میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اہل بیت کی محبت اور ان کے اکرام کا جو حکم دیا گیا اس کی وجہ صرف رشتہ داری کا تعلق نہیں (ورنہ خالی رشتہ داری تو ابولہب اور ابو جہل سے بھی تھی) بلکہ رشتہ داری کے ساتھ اسکی اصلی وجہ ایمان اور قوت ایمانیہ کی وہ دولت ہے جو ان اہل بیت کو رسول اللہ کی محبت اور قربت کے نتیجہ میں نصیب ہوئی۔ یہ اہل بیت چونکہ رسول اللہﷺ کی براہ راست تربیت اور نگرانی میں رہے اس لئے انہیں تزکیہ نفس میں حصہ وافر نصیب ہوا اور اس طرح قوت ایمانی کے ساتھ رشتہ داری کے تعلق نے ان حضرات کے لئے سونے پر سہاگہ کا کام دیا ہے۔