مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں…

مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 5

مکالمہ فدک (پہلی قسط)

علی عباس جعفری اور میں عثمان صدیقی بچپن سے گہرے دوست ہیں ہم دونوں کا مزاج، عادات، پسند، ناپسند تقریباً ایک جیسے ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ دوستی قائم و دائم ہے۔

ہم ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں، دونوں کے گھرانوں میں دینی ماحول ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کو دین کی بھی اچھی خاصی معلومات ہے۔

علی عباس جعفری کے والدین شیعہ اثنا عشریہ تھے جبکہ میرے والدین اہل سنت فقہ حنفی سے منسلک تھے۔

علی عباس ایران کے شہر قُم کے ایک مدرسہ سے دس سال دینی تعلیم حاصل کر کے گذشتہ دنوں واپس لوٹے تو اتنے سالوں کے بعد اس کی واپسی پر مجھے بےحد خوشی ہوئی، آج میں نے اسی خوشی میں اپنے گھر پر اس کی دعوت کی تھی۔

کھانے کے دوران ہم پرانی باتیں کر کے ماضی کو یاد کرتے رہے، پھر میں نے اس سے قُم میں پڑھائی کے متعلق پوچھا

تو اس نے کہا: یار ہم شیعوں کے لئے دینی تعلیم ایران سے حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔

تم ایسے سمجھو کہ جیسے دنیا میں مغربی تعلیم کے لئے آکسفورڈ اور کیمبرج کو جتنی اہمیت حاصل ہے، اتنی ہی اہمیت شیعہ فقہ کے تعلیمی مراکز کے طور پر عراق کے شہر نجف اور ایران کے شہر قم کی ہے۔

کوئی دوست کافی دنوں بعد ملتا ہے تو اس سے ملکر دل کو بےحد خوشی ہوتی ہے۔ جعفری سے بہت سی باتیں کیں اور واقعی دل مسرت سے بھر گیا۔

دورانِ گفتگو جعفری نے گفتگو کو ان اہم شیعہ اعتراضات کی طرف موڑ دیا جن کی بازگزشت اکثر و بیشتر مختلف جگہوں پر اور سوشل میڈیا پر سنتے رہتے ہیں۔ مجھے بڑا دکھ اور افسوس ہوا کہ میرا اتنا قریبی دوست ایران سے عالم کا کورس کر کے اتنی ساری خرافات ذہن میں بٹھا کر آیا ہے۔

میں نے جعفری کو راضی کر لیا کہ وہ دن بھر کے معاملات نپٹا کر روز رات کو کھانا کھا کر میرے گھر آجایا کرے، ہم لائبریری میں بیٹھ کر دو سے تین گھنٹے سکون سے ان اعتراضات پر علمی گفتگو کیا کریں گے اور تحقیق طلب اعتراضات کو معتبر کتب سے چیک کر کے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش بھی کریں گے۔

ہم دونوں یہ جاننا چاہتے تھے کہ امت مسلمہ کے اندر دو اہم مسالک کے درمیان پائے جانے والے بنیادی اختلافات واقعی حقیقت ہیں یا کسی اسلام دشمن سازشوں کا نتیجہ ہیں۔

علی عباس جعفری نے روزانہ کی بنیاد پر میرے گھر آنے اور علمی گفتگو کرنے پر گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ میں اہل بیت کے فکر و خیالات سے آشنا نہیں ہوں اور جبتک مسلک اہل بیت کو تسلیم نہیں کروں گا میری نجات ممکن نہیں ہے۔

کھانے سے فراغت پا کر ہم نے یہ طے کیا کہ کل سے ہم علمی نشست کا آغاز کریں گے، پہلی نشست میں علی عباس جعفری مجھ سے فدک کے متعلق شیعہ کے اہم اعتراضات زیرِ بحث لائے گا، جن پر ہم اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے اور ان اعتراضات کے ہر پہلو پر تفصیل سے بات کریں گے۔ دورانِ گفتگو جو جو روایات زیر بحث آتی جائیں گی ان پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک اصل کتاب میں اس کی موجودگی ثابت نہ ہو جائے۔

رات کے نو بجے میرا جگری دوست علی عباس جعفری میرے گھر آ پہنچا، علیک سلیک کے بعد ہم نے فدک پر گفتگو شروع کی۔

جعفری: آپ کو نہیں معلوم یہی آپ کے جناب ابوبکر اور عمر ہیں جنہوں نے سیدہ ع کا حق فدک نہ دیا اور دربار میں کھڑے رکھا اور خالی ہاتھ واپس بھیجا۔

صدیقی: فدک پر کئی طرح کے اعتراضات سنتے رہتے ہیں۔ لیکن میں آپ کے اسی اعتراض سے گفتگو شروع کرتا ہوں۔

تمہارے اس اعتراض میں دو اہم نکتے ہیں۔

1: حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کا حق فدک انہیں نہیں دیا۔

2: سیدہ فاطمہؓ کو دربار میں کھڑے رکھا اور خالی ہاتھ واپس بھیجا۔

کیا خیال ہے۔ ہم باری باری ان پر گفتگو کرلیں؟ اس طرح ایک ایک نکتہ کلیئر ہوتا جائے اور چھوٹی بڑی تمام باتیں ہی زیرِ بحث آجائیں گی؟

جعفری: جی بھائی۔ یہ طریقہ مناسب رہے گا۔ اس طرح تو اصل حقیقت اور بھی واضح ہوجائے گی۔

میرے نزدیک سیدہ کی حق تلفی ہوئی اور فدک کا فیصلہ تاریخ اسلام کا سیاہ ترین فیصلہ ہے۔

صدیقی: اچھا یہ بتاؤ فدک سیدہ کا حق کس دلیل سے تھا؟

جعفری: سنی و شیعہ علمائے کرام اس پر متفق ہیں کہ فدک مال فئے تھا، کیونکہ فدک جنگ و جدل کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوا اس لئے وہ خاص نبی کی ملکیت تھا، ظاہر ہے نبی کی ملکیت بعد میں اس کی اولاد کی ملکیت ہوگی۔ سیدہ ع نبی کے بعد واحد اولاد تھی، اس لئے فدک انہی کا حق تھا۔

صدیقی: دیکھو! یہ بات تو متفق علیہ ہے کہ فدک مال فئے تھا۔

لیکن مال فئے خاص نبی کریمﷺ کی ملکیت تھا یعنی ان کی ذاتی ملکیت تھا، اس پر ہمیں شیعہ سے اختلاف ہے۔

پہلے ہم یہ کلیئر کر لیتے ہیں کہ فدک نبی کریم کی ذاتی ملکیت تھا کہ نہیں۔ کیونکہ جو چیز ذاتی ملکیت ہی نہ ہو وہ اولاد کا حق کیسے بن سکتی ہے؟

جعفری: جی بالکل۔ یہ نکتہ کلیئر ہوجائے تو آگے بات کرتے ہیں۔

ہمارے نزدیک فدک خاص نبی پاک کا تھا۔ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ فدک نبی پاک کی ذاتی ملکیت نہیں تھا؟

صدیقی: دیکھیں دلیل ایک نہیں بلکہ بیشمار دلائل ہیں۔ میں صرف دو کا ذکر کردیتا ہوں۔

اسلامی تاریخ کے مطابق بعض قطعات زمین ایسے تھے جو مسلمانوں کے حملے کے وقت کفار نے مغلوب ہوکر بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے حوالے کردیئے تھے۔ جنہیں مال فئے کہا جاتا ہے۔

اس مال میں سے ایک باغ فدک بھی تھا جو مدینہ منورہ سے تین منزل پر ایک گائوں تھا اس کی نصف زمین یہودیوں نے بطور صلح کے دی تھی۔

اسی طرح سات قطعات زمین اور تھے جو مدینہ سے ملحق تھے۔ جن کو یہود بن نضیر سے حاصل کیا گیا تھا۔

یہ تمام قطعات زمین مع فدک کے رسول پاکﷺ نے اپنی حاجتوں کے لئے اپنے قبضہ میں رکھ لئے تھے۔ جن کی آمدنی سے پانچواں حصہ حضورﷺ کو ملتا تھا۔

اسی طرح بعض قطعات خیبر کے تھے۔

جہاد میں جو مالِ غنیمت آتا تھا اس میں بھی نبی کریمﷺ کا حصہ مقرر تھا۔

یہ ملکیتیں نبی کریمﷺ کو بحیثیت سربراہ حاصل ہوئی تھیں، یعنی حکومت وقت کی ملکیتیں تھیں۔ اس لئے نبی کریمﷺ کے بعد اسلامی حکومت کے سربراہ کی طرف منتقل ہونی تھیں، لیکن ذاتی ملکیت کسی کی بھی نہ تھیں۔

دلیل 1: اس بات کی تائید قرآن پاک کی سورت الحشر کی آیات چھ اور سات سے بھی ثابت ہے۔

صفحہ 1 از 5