مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں…

مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 5
وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ  ‌وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞ (سورۃ الحشر آیت 6)
ترجمہ: اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کا جو مال بھی فئےکے طور پر دلوایا۔ اس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے، تسلط عطا فرما دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًبَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوااللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌۞
(سورۃ الحشر آیت 7)
ترجمہ: اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔
فدک کی ملکیت کے حصہ دار

1: اللہ عزوجل

2: نبی کریمﷺ 

3: نبی کریمﷺ کے قرابت دار

4: یتیم

5: حاجت مند 

6: مسافر

فدک کی آمدنی قرآن پاک کے مطابق نبی کریمﷺ خرچ کرتے رہے۔

ان آیات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال فئے کی ملکیت نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتی، ورنہ اس ملکیت کے اتنے حصہ دار کیسے ممکن ہیں؟

دلیل 2: رسول پاک کو ان قطعات زمین سے جو آمدنی ہوتی تھی وہ مختلف امور پر خرچ فرماتے تھے۔

1: اپنی ذات مبارک پر اپنے اہل و عیال، ازواج مطہرات پر اور تمام بنی ہاشم کو اس آمدنی سے کچھ عطا فرماتے تھے۔

2: مہمان اور بادشاہوں کے جو سفیر آتے تھے، ان کی مہمان نوازی بھی اسی آمدنی سے ہوتی تھی۔

3: حاجت مندوں اور غریبوں کی امداد بھی اسی سے فرماتے تھے۔

4: جہاد کے لئے اسلحہ بھی اسی آمدنی سے خرید فرماتے تھے۔

5: آپﷺ اسی آمدنی سے مجاہدین کی امداد بھی فرماتے تھے۔ جس کو تلوار کی ضرورت ہوتی اس کو تلوار اور جس کو گھوڑے یا اونٹ کی حاجت ہوتی، اسے عطا فرماتے۔

6: اصحابِ صفہ کی خبر گیری اور ان کے مصارف بھی نبی کریمﷺ اسی سے پورا فرماتے تھے۔

صدقہ کا جو مال آتا تھا، نبی کریمﷺ اس سے کچھ نہیں لیتے تھے، آتے ہی فوراً غریبوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔

اب ظاہر ہے کہ یہ آمدنی ان تمام مصارف کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ ازواجِ مطہرات کو شکایت رہتی تھی۔ آپ نے بنی ہاشم کا جو وظیفہ مقرر کیا تھا، وہ بھی مناسب تھا۔

حضرت سیدہ فاطمہؓ آپﷺ کو حد سے زیادہ عزیز تھیں۔ مگر ان کی بھی پوری کفالت نہیں فرماتے تھے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قطعات زمین کی آمدنی حضورﷺ مخصوص مدّوں میں خرچ فرماتے تھے اور ان کو آپ نے اپنے ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ فرما دیتے تھے۔

جعفری: بیشک نبی پاک فدک اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ آمدنی کو مختلف جگہ خرچ کرتے تھے، لیکن اس سے یہ تھوڑی ثابت ہوتا کے کہ فدک نبیﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا؟

صدیقی: تم نے سورت الحشر کی آیات پر غور نہیں کیا۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ کسی ذاتی ملکیت کے متعلق اللہ عزوجل یہ فرمائے کہ وہ اس کی بھی ملکیت ہے اور نبی کریمﷺ سمیت قرابت داروں، یتیموں، حاجت مندوں اور مسافروں کی بھی ملکیت ہے؟

جعفری: یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ اس آیت سے مراد باغ فدک ہی ہے؟

صدیقی: قرآن میں دو قسم کے اموال کا ذکر آیا ہے۔

1: مال انفال: وہ مال جو جنگ کے نتیجہ میں حاصل ہو یعنی مالِ غنیمت۔

2: مال فئے: وہ مال جو بغیر جنگ کے حاصل ہو۔

باغ فدک بغیر جنگ کے نبی کریمﷺ کو یہودیوں نے دیا تھا۔ سورت الحشر آیت 7 میں اسی مال فئے کا ذکر اور اس کے حصہ داروں کا بتایا گیا ہے جبکہ مال انفال کے بارے میں تو الگ سے واضح مصارف بیان کردیے گئے ہیں۔

مال انفال کا حکم سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے پانچ حصے کیے جائیں چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کر دیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں داخل کر کے ان مصارف میں صرف کیا جائے جو اس آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (سورۃ الانفال آیت 41)

ترجمہ: اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (ﷺ) کے لیے اور (رسول اللہﷺ) کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدانِ بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ مال انفال کا پانچواں حصہ بھی نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس میں بھی قرابت دار، یتیم، محتاج اور مسافر حصہ دار ہیں۔

اور مال فئے کا حکم یہ ہے کہ اسے فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ وہ ملکیت یا اس سے حاصل شدہ آمدنی پوری کی پوری ان مصارف کے لیے مخصوص کر دی جائے جو سورت الحشر کی آیت 7 میں بیان کیے گئے ہیں۔

جعفری: اس کے باوجود تمہاری یہ بات کیسے تسلیم کی جائے کہ مال فئے نبی پاکﷺ کو بحیثیت سربراہ دیا گیا تھا؟

صفحہ 2 از 5