مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں…

مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 5

صدیقی: اگر شیعہ کے جیّد مفسر سے یہ ثابت ہو جائے، بلکہ اس نے تو ایک امام سے روایت کر کے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مال فئے کے چھ حصہ دار ہیں اور نتیجہ نکالا ہے کہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریمﷺ کی ملکیت تھا تو پھر تمہارا مؤقف کیا ہوگا؟

جعفری: نہیں یہ کیسے ممکن ہے۔ ہم فدک کو مال فئے تو تسلیم کرتے ہیں لیکن مال فئے کو حکومت کی ملکیت ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔

ہمارے تمام علماء فدک کو نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں اور سیدہ ع بھی فدک کو ذاتی ملکیت تصور کرتی تھیں، اگر مال فئے حکومت کی ملکیت ہوتا تو سیدہ فدک کا مطالبہ کیوں کرتیں؟

ہمارے کسی امام سے ایسا قول موجود نہیں ہو سکتا کہ مال فئے حکومتِ وقت کی ملکیت ہے۔

صدیقی: سیدہ کا مطالبہ فدک کس وجہ سے تھا، اس نکتہ پر بھی بات کرتے ہیں۔ ابھی صرف مال فئے کی حیثیت کو کلیئر کرتے ہیں۔

نکتہ بہ نکتہ بات کرتے رہیں گے تو مسئلہ سمجھ میں آتا جائے گا۔

جعفری: درست فرمایا۔ تم شیعہ کتب سے دلیل دو کہ مال فئے نبی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ حکومت وقت کی ملکیت ہوتا ہے۔

 صدیقی: ٹھیک ہے میں اس  کے متعلق کچھ اہم دلائل پیش کرتا ہوں۔

پہلی دلیل 1: مال فئے کے متعلق اہل تشیع کی کتاب تفسیر صافی صفحہ 210 پر ہے کہ امام جعفر صادق رحمۃاللہ علیہ نے انفال فئ کے متعلق فرمایا

فئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا حق ہے اور اس کا حق ہے جو حضورﷺ کے بعد اس کا قائم مقام خلیفہ بنے۔

و فی الجوامع عن الصادق علیه السلام:اَلْأَنْفٰالِ

کل ما أخذ من دار الحرب بغیر قتال و کل أرض انجلی أهلها عنها بغیر قتال و سماها الفقهاء فیئاً و الأرضون الموات و الآجام و بطون الأودیه و قطایع الملوک و میراث من لا وارث له و هی للّٰه و للرسول و لمن قام مقامه بعده

(تفسیر الصافی: ملا محسن فیض کاشانی)

حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ “انفال اور فئے میں وہ مال داخل ہیں جو بغیر لڑائی کے دارالحرب سے حاصل ہوں اور جس کے رہنے والے نکال دیے گئے ہوں اور بغیر جنگ کے ہاتھ آئے ہوں اور زمین اور جنگل اور بادشاہوں کی جاگیریں اور لاوارث کا مال سب فئے میں داخل ہیں، اور وہ خدا اور اس کے رسول کا ہے اور اس کے بعد جو اس کا قائم مقام ہو اس کا ہے۔”

اس سے ثابت ہوا کہ فئی کسی کی شخصی ملکیت اور وراثت نہیں ہے۔

دوسری دلیل 2: اہل تشیع کی تفسیر نمونہ میں سورت الحشر کی ان آیات کے تحت شیعہ مفسر کی چند عبارات پیش کرتا ہوں۔

 جو کچھ خدا نے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول (ﷺ) کی طرف پلٹایا ہے وہ خدا رسول (ﷺ) اس کی زوی القربیٰ یتیموں، مسکینوں اور راستوں میں در ماندہ لوگوں کے لیے ہے۔ یعنی مسلح جنگ کے اموال غنیمت کی مانند نہیں جن کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر (ﷺ) اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے۔ باقی چار حصہ جنگجو افراد کے لیے ہیں۔ نیز اگر گزشتہ آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام کا تمام رسول خدا (ﷺ) سے متعلق ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ  سارے کا سارا اپنے شخصی اور ذاتی مصارف میں صرف کریں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اور خصوصاً حاجت مندوں کے حقوق کے محافظ ہیں لہٰذا اس کا زیادہ حصہ ان پر خرچ کریں گے۔


  اور ایک جگہ بیان کیا ہے کہ:

“فئے کا مصرف وہ اموالِ غنیمت جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں ان کا مصرف وہ اموال جو فئے کے عنوان سے رسول اللہ (ﷺ) کے قبضہ میں سربراہ حکومت اسلامی کی حیثیت سے آتے تھے وہ ان تمام اموال پر مشتمل ہوتے تھے جو بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگتے تھے۔”

مزید یہ بھی بیان کیا ہے کہ:

“ان تمام اموال کو اپنی ذات کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ حکومت اسلامی کے سربراہ و امیر کی حیثیت سے جس شعبہ میں ضرورت محسوس کرتے ہیں صرف فرماتے ہیں۔''

ان عبارات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے بشمول باغ فدک کسی کی شخصی ملکیت اور وراثت نہیں ہے۔

اب خود انصاف سے بتاؤ کہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریمﷺ کے زیرِ قبضہ میں آیا اور حکومت وقت کی ملکیت تھا اور اس کے واضح مصارف کا قرآن کریم میں ذکر بھی موجود ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی کریمﷺ باغ فدک کو سیدہ فاطمہؓ کی ملکیت بنادیں!؟؟ نبی کریمﷺ قرآن کریم کی مخالفت کس طرح کر سکتے ہیں۔


  تم بتاؤ! ان تمام عبارات سے تمہیں کیا سمجھ آ رہا ہے؟

جعفری: اگر مال فئے حکومت وقت کی ملکیت تھا تو پھر سارہ جھگڑا ہی ختم ہو جاتا۔ تم مجھے تفسیر نمونہ کے اصل نسخہ سے یہی عبارات دکھاؤ، اس کے بعد اپنا مؤقف بتاتا ہوں۔

صدیقی: ایک منٹ! میں شیعہ کی تفسیر نمونہ نکال لوں، سامنے کے شیلف میں ہی پڑی ہے۔

یہ دیکھو! سورت الحشر کی انہی آیات کے تحت شیعہ مفسر کی پہلی عبارت کی تصدیق کرلو۔

یہ دوسری عبارت کا عکس بھی غور سے پڑھنا۔

شیعہ مفسر نے مال فئے کے متعلق دو باتوں کا واضح اقرار کیا ہے۔

1: مال فئے وہ اموال ہیں جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں۔

2: مال فئے وہ اموال ہیں جو نبی کریم(ﷺ) کو بحیثیت سربراہ قبضہ میں آئے تھے۔

یہ دیکھ لو۔! تیسری عبارت بھی غور طلب ہے۔

شیعہ مفسر نے اقرار کیا ہے کہ مال فئے کہ چھ مصارف قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں، پھر یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ مال فئے بحیثیت سربراہ نبی کریمﷺ کے زیر قبضہ میں آیا ہے۔

آگے اس نے شیعہ عقائد کو زبردستی داخل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مال فئے نبی کے بعد ائمہ معصومین کا حق ہے اور ان کے بعد نائبین کو یعنی مجتہدین کو جامع الشرائط کو پہنچتا ہے۔

بحرحال یہاں تک یہ نکتہ تو کلیئر ہو گیا کہ مال فئے کسی کی شخصی ملکیت ہرگز نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ کے بعد جو بھی سربراہ ہوگا اسی کی زیر اثر رہے گا، لیکن وہ بھی اس مال فئے کو ذاتی ملکیت قرار دینے کا مجاز نہیں ہے، بلکہ سورت الحشر کی آیات پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔

اب یہ ایک اور بحث ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد سربراہ بننے کا حق کسے تھا۔ پھر کبھی اس پر بھی تفصیل سے بات کریں گے۔

جعفری: تم نے شیعہ مفسر کی رائے تو پیش کردی، لیکن کسی امام معصوم کا قول تو دکھایا نہیں۔

ہمارے نزدیک امام معصوم کا قول حجت ہے۔

صدیقی: جی بالکل۔ میں تمہیں اسی تفسیر سے حضرت امام باقر کا واضح قول بھی دکھا رہا ہوں، جو انہی آیات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

صفحہ 3 از 5