مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں…

مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 5

یہ غور سے تفسیر نمونہ میں دیکھو۔ شیعہ مفسر نے مال فئے کے چھ مصارف تفصیل سے بیان کئے ہیں۔

آگے اپنے امام معصوم سے ایک قول بھی نقل کیا ہے، حوالے بھی نیچے دیے ہیں۔


تفسیر نمونہ میں حضرت امام باقر کا اقرار کہ ہم اس مال کے حصہ داروں میں شامل ہیں، یعنی اس مال کو کسی ایک کی ذاتی ملکیت قرار دینا صریح قرآن کریم کی خلاف ورزی ہے۔اس قول سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مال فئے کسی ایک کی شخصی ملکیت نہیں ہے، کیونکہ امام خود کو بھی اس مال کا حصیدار فرما رہے ہیں، اگر مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو امام خود کو ان حصہ داروں میں شامل کیوں فرماتے؟ بلکہ صاف کہہ دیتے کہ مال فئے صرف ہمارا حق ہے۔

جعفری: ہمارے بیچ طے ہوا تھا کہ اصل کتب سے تصدیق کئے بغیر روایات قبول نہیں کریں گے۔

صدیقی: جی بالکل۔ میں اپنی بات پر قائم ہوں، اسی لئے تو تفسیر نمونہ نکال کر دکھائی ہے۔

جعفری: لیکن بھائی! تفسیر نمونہ میں غلطی ممکن ہے، اس نے امام معصوم کی روایت جہاں سے لی ہے، اس میں یہ روایات دیکھنا ضروری ہے، ہوسکتا ہے ان کتب میں یہ قول امام موجود ہی نہ ہو۔

صدیقی: میں نے تفصیر الصافی سے امام جعٖفر صادق کا قول دکھا دیا ہے اور خوش قسمتی سے میرے پاس وسائل الشیعہ اور مجمع البیان کے تمام جلد بھی موجود ہیں۔ ابھی نکال کر حضرت امام باقر کا قول بھی چیک کر لیتے ہیں۔

جعفری: یہ تو بہت آسانی ہو گئی۔ تمہاری لائبریری تو بڑے کام کی ہے۔

اچھا دکھاؤ! وسائل الشیعہ کا جلد 15، مذکورہ روایت میں خود ڈھونڈتا ہوں۔





 

جعفری: روایات قبول کرنے کے لئے ہمارا اصول ہے کہ ہم ہر روایت کو قرآن، احادیث اور دوسرے مضبوط حقائق کی روشنی میں چیک کرتے ہیں، اگر روایت صحیح بھی ہو لیکن قرآن اور کسی متواتر حقیقت کے خلاف ہو تو اس روایت کو دیوار پر مارتے ہیں۔

یہ تمام روایات اگر صحیح بھی ہوں  تب بھی سیدہ ع کے مطالبہ فدک کی روشنی میں ناقابلِ قبول ہے۔

صدیقی: یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تمام روایات قرآن پاک اور دیگر حقائق کی روشنی میں چیک کرتے ہیں۔

ویسے تفسیر نمونہ میں شیعہ محدث علامہ صفدر حسین نجفی نے امام کی یہ روایات اپنی طرف سے نہیں لکھی، میں تمہیں دونوں حوالوں کی تصدیق اصل کتب سے بھی کرا چکا ہوں۔

وسائل الشیعہ کے مصنف جیّد شیعہ عالم محدث اور محقق علامہ الشیخ محمد بن الحسن الحر العاملی ہیں، وہ کوئی معمولی عالم نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ مجمع البیان بھی اہل تشیع کی مشہور تفسیر ہے جس کے مؤلف کو شیعہ علمی حلقوں میں امین الاسلام ابی علی الفضل بن الحسن الطبرسی کہا جاتا ہے۔

اس کے باوجود میں تمہارے اسی اصول کے مطابق تفسیر نمونہ کی یہ روایت قرآن کریم کی روشنی میں بھی قابلِ قبول ثابت کرتا ہوں۔

دلائل:

1: تفسیر الصافی اور تفسیر نمونہ کی یہ روایات سورت الحشر کی آیت 7 کی تائید میں ہیں۔ مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو قرآن کریم میں فدک کے اتنے مصارف بیان نہ کئے جاتے۔

حضرت امام باقر نے عین قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق مال فئے کے چھ حصہ دار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے ہم بھی ان حصہ داروں میں شامل ہیں۔

اگر مال فئے ذاتی ملکیت ہوتا تو امام فرماتے کہ مال فئے نبی کریمﷺ کے بعد ان کی اولاد کا حق ہے اور ہم ہی اس مال کے اکیلے مالک ہیں۔

مطلب قرآن کریم کی روشنی میں تفسیر نمونہ کی روایت بالکل درست ہے۔

2: تم نے اس روایت کے رد میں کہا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ فدک ایک مضبوط حقیقت ہے، جس سے فدک کا ذاتی ملکیت ہونا ثابت ہوتا ہے، یعنی تفسیر نمونہ میں امام کا قول تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

تمہاری یہ بات بھی درست نہیں ہے۔

سیدہ فاطمہؓ نے مطالبہ فدک اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کے خیال میں نبی کریمﷺ کی زندگی میں فدک کی آمدنی اہل بیت کے اخراجات کے لئے استعمال ہوتی تھی تو نبی کریمﷺ کے بعد فدک بطور ورثہ انہیں ملنا چاہئے تاکہ اس کی آمدنی اسی طرح انہیں ملتی رہے جس طرح نبی کریمﷺ سے وصول ہوتی تھی تاکہ اہل بیت اپنا خرچہ حاصل کرتے رہیں۔

جب یہ مطالبہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے آیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی پوری ملکیت سیدہؓ کی خدمت میں پیش کردی اور کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے

لا نورث ما تركنا فهو صدقة

ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔

مطلب انبیاء کرام کی وراثت مال ملکیت نہیں ہوتی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ بھی فرمایا کہ فدک کی آمدنی سے نبی کریمﷺ اہل بیت کو جو خرچہ دیتے تھے وہ ان کے بعد بھی اسی طرح باقائدگی سے دیا جاتا رہے گا۔

سنی و شیعہ معتبر کتب کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ فدک کی آمدنی من و عن اسی طرح خرچ ہوتی رہے گی جس طرح خود نبی کریمﷺ خرچ کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس مؤقف کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے خاموشی اختیار کی، سیدہ فاطمہؓ کی خاموشی ان کی رضامندی ظاہر کرتی ہے، لیکن اس واقعہ کو بیان کرنے والے کئی راویوں میں سے صرف ایک راوی ابن شہاب الزہری نے اس صورتحال سے دو گمان کئے۔

1: سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوگئی ہیں۔

2: سیدہ فاطمہؓ نے اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے وفات تک بات نہیں کی۔

اگر تحقیق کی جائے تو راوی کے دونوں گمان اس کی ذاتی رائے ہیں اور دونوں ہی غلط ہیں۔

کیونکہ سیدہ فاطمہ نے فدک کے معاملہ میں واقعی کوئی بات نہیں کی لیکن اس کی وجہ ناراضگی نہیں تھی، بلکہ صدیقی فیصلے پر وہ راضی تھیں۔

اس کے علاوہ فدک والے معاملے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی سیدہ فاطمہؓ سے ملاقات بھی سنی و شیعہ معتبر کتب کے مطابق ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔

جعفری: یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ سیدہ ع فدک نہ ملنے پر خلیفہ اوّل پر غضب ناک ہوئی تھیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں واضح الفاظ لکھے ہیں۔ آپ اس حدیث کی تاویل کر ہی نہیں سکتے۔

صدیقی: ابھی ہم صحیح بخاری کی حدیث پر بات نہیں کر رہے۔ اس حدیث کے ہر ایک نکتہ پر ہم تفصیل سے بات کریں گے۔

ابھی جو نکتہ زیر بحث ہے، وہ صرف یہ ہے کہ فدک نبی کریمﷺ کی ذاتی ملکیت تھا کہ نہیں۔

صفحہ 4 از 5