مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں…

مکالمہ فدک: (پہلی قسط) فدک نبی کریم ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 5

میں نے تمہیں قرآن کریم اور شیعہ تفسیر سے اسی آیت کی تائید میں امام کا قول بھی دکھا کر ثابت کیا ہے کہ باغ فدک مال فئے تھا، بلکہ اس تفسیر کے حوالوں کو تم نے اصل کتب سے خود چیک بھی کر لیا ہے، اس تمام تفصیل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ مال فئے بشمول باغ فدک کے کئی حصہ دار تھے اور یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق مال فئے کی آمدنی خرچ کرے۔

اگر تمہیں فدک کی ذاتی ملکیت پر مزید کوئی ابہام ہو تو بتاؤ۔

جعفری: نہیں دوست! تم نے قرآن کریم اور تفسیر نمونہ سے جو قول امام معصوم دکھایا ہے اس کی تاویل مجھ سے نہیں ہو پا رہی، کیونکہ قرآن کریم میں اس قول کی تائید بھی موجود ہے۔

لیکن سیدہ ع کا مطالبہ فدک کرنا اور سیدہ ع کا خلیفہ اوّل پر غضب ناک ہونا تو صحیح بخاری سے ثابت ہے۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فدک کے معاملے میں حق تلفی ضرور ہوئی ہے۔

صدیقی: اچھا۔۔ اگر حق تلفی ہوئی ہے تو فدک کی آمدنی سے اہل بیت کو خرچہ حکومت وقت کس قانون کے تحت دیتی رہی؟ اور اہل بیت شریعت کے کس قانون کے تحت وہ خرچہ وصول بھی کرتے رہے؟

حکومت وقت آپ کے نزدیک غاضب تھی تو اسے فدک کی آمدنی پر مکمل کنٹرول کرنا چاہیے تھا اور اپنی مرضی کے مطابق استعمال میں بھی لانا چاہیے تھا، لیکن یہ کیسی غاضب حکومت ہے کہ فدک کی آمدنی من وعن قرآن و رسول کی ہدایات کے مطابق خرچ کر رہی ہے؟

کیا تاریخ میں کوئی ایک ضعیف روایت موجود ہے کہ فدک کی آمدنی سے حضرت ابوبکر صدیقؓ یا خلفائے ثلاثہؓ میں سے کسی ایک خلیفہ نے ذاتی ملکیت بنائی ہو؟

یا مال فئے کو ذاتی ملکیت قرار دیا ہو اور ان کے بعد مال فئے یا فدک بطورِ وراثت ان کی اولاد کو ملا ہو؟

جعفری: نہیں میرے علم میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔

لیکن فدک اہل بیت کا ہی حق تھا، اس لئے اس کی آمدنی بھی اہل بیت کے لئے جائز تھی۔

صدیقی: اوّل تو فدک کسی کی بھی ذاتی ملکیت نہیں تھا، میں قرآن کریم اور حضرت امام باقر کے قول سے ثابت کر چکا ہوں، اور تم ان دلائل سے عاجز بھی ہوچکے ہو۔

جو ملکیت حکومت وقت کی ہو، وہ کسی کا حق کیسے ہوسکتی ہے؟

اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ فدک اگر ناجائز حکومت وقت کے پاس تھا تو اس کی آمدنی بھی ناجائز ہو جاتی ہے، اور ناجائز آمدنی کو اہل بیت کی طرف سے وصول کرنا اور استعمال کرنا بذات خود شان اہل بیت کے خلاف ہے۔

جعفری: تمہاری بات درست ہے، لیکن ہمارے لئے سیدہ ع کا قول و عمل حجت ہے، معصومہ کبھی بھی غلط دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ غضب خدا کا! تم لوگ خلیفہ اول کو بچانے کے لئے سیدہ ع کو معاذاللہ جھوٹا کہنے میں بھی دیر نہیں کرتے!!

صدیقی: نہیں دوست۔۔۔ تم نے بھی وہی عام لوگوں جیسی بات کہہ دی ہے۔

میں نے یہ نہیں کہ معاذاللہ سیدہ فاطمہؓ نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور مطالبہ فدک غلط تھا۔

میں عرض کر چکا ہوں کہ سیدہ فاطمہؓ کا مقصد یہ تھا کہ فدک کی آمدنی نبی کریمﷺ کے دور میں جس طرح ملتی تھی اسی طرح ہمیں ملتی رہے، اس لئے فدک کو بطور میراث طلب کیا تاکہ اس کا خرچہ باقاعدگی سے ملتا رہے۔

کسی اہل سنت عالم نے کبھی بھی سیدہ فاطمہؓ کے مطالبہ کو غلط نہیں کہا بلکہ خود حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی ایسے الفاظ نہیں کہے۔

سیدہ کا مؤقف حق پر مبنی تھا، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اکڑ کر، غصہ ہو کر یا ناراض ہو کر سیدہ کا مطالبہ ردّ نہیں کیا بلکہ نہایت عاجزی سے اپنی مجبوری بتائی، اپنا سارہ مال تک پیش کردیا اور قول نبی جو براہ راست نبی کریمﷺ سے خود اپنے کانوں سے سنا تھا، اسے سنا کر فدک کی آمدنی کو بطور وراثت دینے سے معذرت کی۔

تم بتاؤ۔ فدک کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خود کیا تھا؟ یا وہ فیصلہ نبی کریمﷺ خود فرما گئے تھے۔

جو فیصلہ نبی کریم سے ثابت ہو جائے، اس کا الزام حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دینا ناانصافی نہیں ہے؟

کیا کوئی مسلمان نبی کریمﷺ کی مرضی کے خلاف کچھ کر سکتا ہے؟

جعفری: دوست۔۔ تمہاری منطق تو نرالی ہے۔ مجھے آج تک اس طرح کسی نے نہیں بتایا۔

اچھا یہ کیسے ممکن ہے کہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر نے نبی پاک سے سن لی، کسی اور صحابی نے کیوں نہیں سنی؟ سیدہ ع کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی!!

یہ کیسے ممکن ہے؟

صدیقی: زبردست۔۔۔ یہ تم نے اہم اعتراض وارد کیا ہے۔

اگر یہ حدیث لانورث صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سنی تھی اور کسی دوسرے صحابی سے مروی نہیں ہے تو واقعی تمہاری بات درست ہے۔

اس کے علاوہ سیدہ فاطمہؓ کو اس حدیث کا علم تھا کہ نہیں، یہ نکتہ بھی اہم ہے۔

جعفری: یہی تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی یہ قول نبی پاک صرف حضرت ابوبکر کو کیسے سنا سکتے ہیں؟ کیا انہیں کان میں سنایا تھا تاکہ کوئی کسی اور کو معلوم نہ ہوسکے!!! کم از کم گھر والوں کو ہی بتا دیتے کہ میرے بعد وراثت نہیں ہوتی!!

صدیقی: اچھا آج ہم گفتگو کو اسی اعتراض کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ ٹائم بھی کافی ہو گیا ہے۔ کل میں تمہیں اس اعتراض کا تفصیل سے جواب دوں گا۔

جعفری: ہا ہا ہا۔۔ دوست۔۔ پھنس گئے نا۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ مسلک اہل بیت کو تسلیم کر لو۔۔۔ جوانانِ جنت کے سردار کو راضی کر لو۔۔ ان کے بغیر جنت نہیں ملے گی۔

صدیقی: پیارے۔۔۔ اہل سنت کا مسلک ہی اصل میں مسلک اہل بیت ہے۔ تمام اہل بیتؓ اور تمام صحابہ کرامؓ ایک ہی مسلک پر تھے۔ ہم کبھی اس موضوع پر بھی گفتگو کریں گے۔

فی الوقت اتنا سن لو کہ میں تمہیں حدیث لانورث دیگر صحابہ کرامؓ کی روایات سے بھی دکھاؤں گا، اور شیعہ کی معتبر کتب سے اماموں کی روایات سے بھی ثابت کروں گا کہ نبیوں کی میراث نہیں ہوتی۔ ان شاء اللہ

جعفری: اچھا کل کوشش کر لینا۔۔۔ میں بھی دیکھوں کہ حدیث لانورث سنی و شیعہ کتب میں کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے ہو۔

ابھی تو میں نے قرآن سے ثابت کرنا ہے کہ نبیوں کی میراث ہوتی ہے۔

صدیقی: ٹھیک ہے دوست ۔ پھر کل رات کو ملتے ہیں۔ اللہ حافظ۔

جعفری: اللہ حافظ۔


صفحہ 5 از 5