میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓرافضی شیعہ اہل سنت پر اعتراض کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ یعنی اہل سنت نے میدان کربلا میں حضرت حسینؓ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہتر 72 شہداء کربلا میں سے اکیس شہداء وہ ہیں جو نبی کریمﷺ کے صحابی تھے اور دوسری طرف دشمنوں کی فوج میں کوفی شیعہ تھے جن کے ہزاروں خطوط پڑھ کر اور انہیں اپنا مخلص شیعہ سمجھ کر حضرت حسینؓ اپنے اہل و عیال اور رفقاء کے ساتھ کوفہ آ رہے تھے۔ اصل قاتلینِ حسینؓ و اہل بیت یہی ملعون شیعہ تھے۔
اس تحریر میں صرف ان اصحابِ محمدﷺ کے احوال و واقعات کو درج کیا گیا ہے جو میدان کربلا میں نواسۂ رسولﷺ کی حمایت کرتے ہوئے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔
شہداء کربلا اصحابِ نبی کریمﷺ کو مختلف اہل سنت و اہل تشیع کے معتبر منابع سے ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بعض ان صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی درج کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے جو معتبر کتب میں درج نہ تھے۔
1: اسلم بن کثیر الازدی(مسلم بن کثیر):
زیارت ناحیہ میں ان کا نام’’اسلم‘‘ذکر ہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے’’اسلم‘‘ کے ’’مسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘بیان ہوا ہے زیارت ناحیہ کے جملات یوں ہیں:
السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘
(اقبال الاعمال: جلد 3 صفحہ 79)
مرحوم زنجانی نے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحابی رسول(ﷺ) تھے۔ (وسیلۃ الدارین: صفحہ 106)
مرحوم شیخ طوسی اور مامقانی نے اپنی کتب رجال میں نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل میں تیر لگنے سے پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے’’اعرج‘‘ (ایک پاؤں سے اپاہج) ہو گئے انھوں نے صحبتِ پیغمبر اسلامﷺ کو درک کیا تھا۔
عسقلانی لکھتے ہیں:
مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج۔۔۔الکوفی لہ ادراک للنبی(ص)
مزید اضافہ کرتے ہیں فتح مصر میں بھی یہ صحابی رسول(ﷺ) حاضر تھے۔
طبری اور ابن شھر آشوب نے ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کربلا میں جملۂ اولیٰ میں شہید ہوئے۔
(فرسان الھیجاء: ذبیح اللہ محلاتی: صفحہ 36)
مسلم بن کثیر’’ازد‘‘ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی تو ان دنوں یہ صحابی رسول(ص) کوفہ میں قیام پذیر تھے یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کو کوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں۔ پھر حضرت مسلم بن عقیل جب کوفہ میں سفیرِ حسین بن کر پہنچے تو انھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلم کی شہادت کے بعد کوفہ کو ترک کیا اور کربلا کے نزدیک حضرت امام حسین سے جا ملے اور پہلے حملہ میں جام شہادت نوش کی۔
(شہدائے کربلا: گروہ مصنفین: صفحہ 358)
حضرت رسول اکرم(ﷺ) نے اپنے اس صحابی کے متعلق جو ایک جنگ میں ’’اعرج‘‘ ہونے کے باوجود شریک ہوئے اور اپنی جان کی قربانی پیش کی فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لقد رأیت عمروبن الجموح یطأُ فی الجنہ بعرج‘‘
یعنی مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے دیکھ رہا ہوں عمرو بن الجموح کو کہ لنگڑا ہو کر بھی جنت میں ٹہل رہا ہے۔
اس بنا پرحضرت مسلم بن کثیر کا بھی وہی مقام ہے کہ اگرچہ قرآن فرماتا ہے:
لیس علی الاعمی خرج ولا علی الاعرج حرج (سورۃ فتح: آیت 17)
یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ ہی لنگڑے پر کوئی مؤاخذہ ہے لیکن اس فداکار اسلام نے نواسۂ رسولﷺ کی حمایت میں اپنی اس اپاہج حالت کے باوجود جان قربان کر کے ثابت کیا کہ اسلام کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے یہی وجہ ہے’’صاحب تنقیح المقال‘‘ کے یہ جملے ہیں:
شہیدالطف غنی عن التوثیق
فرماتے ہیں چونکہ کربلا کے شھداء میں شامل لہٰذا وثاقت کی بحث سے بے نیاز ہیں۔
2: حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ:
نبی کریمﷺ کے صحابی تھے جنگ بدر و حنین میں شرکت بھی کی۔
(تنقیح المقال: مامقانی: جلد 1 صفحہ 154)
مرحوم مامقانی فرماتے ہیں: (انس)بن حارث صحابی نال بالطف الشھادۃ
صحابی رسول تھے اور کربلا میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔
(مقتل الحسین: مقرم: جلد 2 صفحہ 253)
ابن عبدالبر اپنی کتاب الاستیعاب میں یوں رقمطراز ہیں:
انس بن حارث رویٰ عنہ والد اشعث بن سلیم عن النبی(ص) فی قتل الحسین وقتل مع الحسین رضی اللہ عنھما
’’انس بن حارث کے واسطہ سے اشعث بن سلیم کے والد نے نبی اکرم(ص) سے امام حسین(ع) کی شہادت سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ یہ (انس بن حارث) حضرت حسین(ع) کے ہمراہ شہید ہوئے۔‘‘
(الاستعیاب: ابن عبداللہ: جلد 1 صفحہ 112)
الاستیعاب نے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ یوں ہے کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا(ﷺ) سے سنا تھا کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا: ’’میرا بیٹا(حسین) کربلا کی سرزمین پر قتل کیا جائے گا جو شخص اس وقت زندہ ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مددونصرت کو پہنچے۔‘‘
روای کہتا ہے کہ انس بن حارث نے پیغمبر(ﷺ) کے اس فرمان پر لبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اور امام حسین کے قدموں پر اپنی جان نچھاور کردی۔
یہ مطلب درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:
اسد الغابہ، ابن اثیر، جلد 1،صفحہ 122۔ تاریخ الکبیر: بخاری: جلد 2 صفحہ 30۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن جواہر العسقلانی، جلد 1 صفحہ 270۔)
اس حدیث نبوی (ﷺ) کی اہمیت کے پیشث نظر ضروری سمجھتے ہیں کہ اسے کامل سند کے ساتھ ذکر کر دیا جائے:
سعد(سعید)بن عبدالملک بن واقد الحرانی بن عطا بن مسلم الخقاف عن اشعث بن سلیم عن ابیہ قال سمعت انس بن حارث یقول:سمعت رسول اللہ(ص) یقول:ان ابنی ھذا(یعنی الحسین)یُقتل بارض یقال لھا کربلا فمن شھد منکم فلینصرہ
قال(العسقلانی): فخرج انس بن الحرث الی کربلا فقتل مع الحسین
صاحب فرسان نے ابن عساکر سے یوں نقل کیا ہے:
وقال ابن عساکر انس بن الحرث کان صحابیاً کبیرا ممن رأی النبی(ص) وسمع حدیثہ وذکرہ عبدالرحمٰن السلمی فی اصحاب الصفہ۔۔
(فرسان الھیجاء: محلاتی: صفحہ 37۔)
ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن الحرث ان عظیم اصحاب رسول(ﷺ) میں سے تھے جنھیں حضرت پیغمبر(ﷺ) کی زیارت نصیب ہوئی انھوں نے آپ(ﷺ) سے حدیث بھی سنی تھی عبدالرحمٰن سلمی نے انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا ہے۔۔۔‘‘
بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت انس کوفہ سے نکل پڑے ایک مقام پر امام حسین(ع) اور عبیداللہ بن حرجعفی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی فوراً امام حسین(ع) کی خدمت حاضر ہوئے اور قسم کھانے کے بعد عرض کی ’’کوفہ سے نکلتے وقت میری نیت یہ تھی کہ عبیداللہ بن حر کی طرح کسی کا ساتھ نہ دونگا (نہ امام کا نہ دشمن کا) یعنی جنگ سے اجتناب کرونگا لیکن خدواند نے میری مدد فرمائی کہ آپ کی مدد ونصرت کرنے کو میرے دل میں ڈال دیا اور مجھے جرأت نصیب فرمائی تاکہ اس حق کے راستے میں آپ کا ساتھ دوں۔‘‘
حضرت امام حسین (ع) نے انھیں ہدایت اور سلامتی ایمان کی نوید سنائی اور انھیں اپنے ساتھ لے لیا۔
(انساب الاشراف: بلاذری: جلد 3، صفحہ 175 (دارالتعارف)
یہ صحابی رسول نواسۂ رسول امام حسین (ع) کے دشمنوں سے جنگ کرنے کی غرض سے کربلا میں موجود ہیں حضرت امام حسین(ع) نے اپنے اس وفادار ساتھی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ عمر بن سعد کو حضرت کا پیغام پہنچائے اور اس ملعون کو نصیحت کرے کہ شاید وہ ہوش میں آ جائے اور قتلِ حسین سے باز رہے۔ جب حضرت انس، عمر بن سعد کے پاس پہنچے تو اس کو سلام نہ کیا عمر بن سعد نے اعتراض کیا کہ مجھے سلام کیوں نہیں کیا، آیا تو مجھے کافر اور منکر خدا سمجھتا ہے؟
حضرت انسؓ نے فرمایا: ’’تو کیسے منکر خدا و رسول(ﷺ) نہ ہو جبکہ تو فرزند رسول کے خون بہانے کا عزم کر چکا ہے!‘‘
یہ جملہ سن کر عمر بن سعد سر نیچے کر لیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ اس گروہ(گروہ حسین) کا قاتل جہنم میں جائے گا لیکن عبیداللہ بن زیاد کے حکم کی اطاعت ضروری ہے۔
(فرسان الھیجاء: صفحہ 37)
ابتدائے ملاقات سے حضرت انس تکلیف دہ حالات اپنی نظروں سے دیکھ رہے تھے لہٰذا جب دشمن کی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو حضرت انسؓ بھی دیگر اصحابِ حسینؓ کی طرح حضرت امام(ع) سے اجازت طلب کر چکے عازم میدان ہوئے یہ مجاہد جوان نہیں تھا گو ایمان جوان تھا نقل کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ کی حالت یہ تھی کہ سن پیری(بڑھاپے) کی وجہ سے خمیدہ (جھکی ہوئی)کمر کو شال (رومال) سے باندھ کر سیدھا کرتے ہیں، سفید آبرو، آنکھوں پر پڑ رہے تھے، رومال پیشانی پر باندھ کر اپنی آنکھوں سے ان بالوں کو ہٹاتے ہیں اور میدان کارزار میں روانہ ہوتے ہیں۔
حضرت امام حسین(ع) نے جب اپنے اس بوڑھے صحابی کو دیکھا تو حضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: ’"خدا تجھ سے یہ قربانی قبول کرے اے پیرمرد۔‘‘
(حیاۃ الامام الحسین(ع): جلد 3 صفحہ 234)
ہر مجاہد جنگ کرتے وقت رجز(مجاہدانہ اشعار)پڑھا کرتا تھا جو رجز حضرت انسؓ نے پڑھا ہے نہایت پُر معنیٰ تھا پہلے اپنا تعارف کرایا پھر کہا:
واستقلبوا لقوم بغرٍالآن آل علی شیعۃ الرحمٰن،
(وآل حرب شیعۃ الشیطان: صفحہ 20)
کاہل ودان نسب جانتے ہیں کہ میرا قبیلہ دشمن کو نابود کرنے والا ہے اے میری قوم شیرغراں کی طرح دشمن کے مقابلے میں جنگ کرو کیونکہ آل علی رحمان کے پیروکار جبکہ آل حرب(بنوسفیان)شیطان کے پیروکار ہیں۔
(الفتوح: جلد 5، صفحہ 196)
حضرت انسؓ نے بڑھاپے کے باوجود سخت جنگ کی 12 یا 18 دشمنوں کوقتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا زیارت ناحیہ کے جملات یہ ہیں:
السلام علی انس بن الکاھل الاسدی
(الاقبال: جلد 3، صفحہ 344)
3: حضرت بکر بن حی رضی اللہ عنہ:
علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں حدایق الوردیہ سے نقل کیا ہے کہ ’’بکر بن حی‘‘ کوفہ سے عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہو کر کربلا پہنچا لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی تو حضرت امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر عمر بن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہید ہو گئے منھی الآمال میں ان کا ذکر ان شہداء میں موجود ہے جو حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے۔
(منتھی الآمال: جلد 1)
تنقیح المقال نے ’’حضرت بکر بن حیؓ‘‘ کو شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے عبارت یوں ہے:
بکربن حی من شھدالطف بحکم الوثاقۃ
ابن حجر عسقلانیؒ نے حضرت بکر بن حیؓ کے ترجمہ میں لکھا ہے:
بکربن حی بن علی تمیم بن ثعلبہ بن شھاب بن لام الطائی۔۔لہ ادراک ولولدہ مسعود ذکربالکوفہ فی زمان الحجاج وکان فارساً شجاعاً
حضرت بکر بن حیؓ نے حضرت پیغمبر(ﷺ) کے محضر مبارک کو در کیا اور ان کے بیٹے مسعود کے بارے میں ملتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں کوفہ میں مقیم تھا۔
(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 349)
الاصابہ میں حضرت بکر بن حیؓ کے صحابی رسول(ص) ہونے کی گواہی ملتی ہے گو بیان نہیں کیا کہ یہ صحابی کربلا میں شہید ہوئے یا نہیں لیکن دیگر منابع رجال و مقاتل میں انھیں شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے۔
4: حضرت جابر بن عروہ غفاری رضی اللہ عنہ:
کتاب’’شہدائے کربلا‘‘ میں بیان ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک یہ صحابی رسول خدا (ﷺ) تھے جو کربلا میں شہید ہوئے۔
جنگ بدر اور دیگر غزوات میں رسول اکرم(ﷺ) کے ہمراہ شریک ہوئے یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کر اپنے ابروؤں کو آنکھوں سے ہٹاتے ہیں اور عازم میدان جنگ ہوتے ہیں جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی تو فرمایا: اے پیرمرد! خدا تجھے اجر دے۔‘‘
(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 349)
ذبیح اللہ محلاتی نے مقتل خوارزمی سے درج ذیل عبارت نقل کی ہے:
ثم یرز جابر بن عروۃ الغفاری وکان شیخاً کبیراً وقد شھد مع رسول اللہ بدراً او حنیناً وجعل یشد وسطہ بعمامعتہ ثم شدحاجبیہ بعصابتہ حتی رفعھما عن عینیہ والحسین (ع) ینظر الیہ وھویقول شکراللہ سعیک یاشیخ فحمل فلم یزل یقاتل حتی قتل ستین رجلاً ثم استثھد رضی اللہ عنہ‘‘۔
(فرسان الھیجاء: صفحہ 54)
بعض کتب جیسے تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف اور وسیلۃ الدارین میں صحابی رسول(ﷺ) اور شہید کربلا کے عنوان سے بیان ہوا ہے البتہ دیگر معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود نہیں اس وجہ سے بعض محققین ان کے بارے میں مردد ہیں۔
’’تنقیح‘‘ کے جملات یہ ہیں ’’جابر بن عمیر الانصاری، صحانی مجہول‘‘
(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 198)
وسیلۃ الدارین کی عبارت کے مطابق یہ صحابی رسول تھے اور جنگ بدر کے علاوہ دیگر جنگوں میں بھی شریک رہے۔
انّ جابر بن عروہ کان اصحاب رسول اللہ(ص) یوم بدر وغیرھا
(وسیلۃ الدارین: زنجانی: صفحہ 112)
جب دشمن کے مقابلہ میں آئے تو یہ رجز پڑھا:
قد علمت حقاً بنوغفار وخندف ثم بنو نزار
ینصرنا لاحمدمختار یاقوم حاموا عن بنی الاطہار
الطیبین السادۃ الاخیار صلی علھم خالق الابرار
’’یہ بنوغفار و خندف نزار قبائل جانتے ہیں کہ ہم یاور محمد مصطفیٰ(ﷺ) ہیں اے لوگو آل اطہار جو سید و سردار ہیں ان کی حمایت کرو کیونکہ خالق ابرار نے بھی ان پر درودوسلام بھیجا ہے۔‘‘
ان الفاظ کے ساتھ دشمن پر آخری حجت تمام کرتے ہوئے چند افراد کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔
(مقتل الحسین(ع): ابی مخنف: صفحہ 116،115)
5:حضرت جنادۃ بن کعب الانصاری رضی اللہ عنہ:
حضرت جنادہ بن کعب وہ صحابی رسول(ﷺ) ہیں جو حضرت امام حسین(ع) کی نصرت کے لئے کربلا میں اپنی زوجہ اور کم سن فرزند کے ساتھ شریک ہوئے خود کو اپنے بیٹے سمیت نواسۂ رسول کے قدموں پر قربان کر دیا۔
علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں جنادہ صحابی رسول خدا اور حضرت علی(ع) کے مخلص شیعہ تھے۔ جنگ صفین میں حضرت علی (ع) کے ساتھ شریک ہوئے۔
(زندگانی امام حسین(ع)، رسول محلاتی: صفحہ 252)
حضرت جنادۃ بن کعب الانصاریؓ کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کے لئے بیعت لینے والوں میں شامل تھے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کو ترک کیا اور امام حسین سے جا ملے۔
تنقیح المقال نے جنادہ کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے:
جنادۃ بن (کعب)بن الحرث السلمانی الازدی الانصاری الخزرجی من شھداء الطف۔۔۔وقدذکراھل السیرانہ کان من اصحاب رسول اللہ(ص
(تنقیح المقال: مامقانی: جلد 1 صفحہ 234)
صاحب کتاب فرسان نے تاریخ ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے: ابن مسعود روایت کرتے ہیں’’حضرت پیغمبر اکرم(ﷺ) نے حضرت جنادۃ بن الحارث کو ایک مکتوب میں بیان فرمایا کہ یہ مکتوب محمد رسول اللہ(ﷺ) کی جانب سے جنادہ اور اس کی قوم نیز ہر اس شخص کے لئے ہے جو اس کی پیروی کرے گا کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور خدا و رسول(ﷺ) کی اطاعت کریں جو اس حکم پر عمل کرے گا خدا و رسول(ﷺ) کی حفظ وامان میں رہے گا۔‘‘
(فرسان الھیجاء: صفحہ 76)
اس فداکار صحابی رسول(ﷺ) نے اپنے راہبر کے حکم پر عمل کر کے نہ فقط مال کی زکوٰۃ ادا کی بلکہ اپنی جان اور اولاد کی زکوٰۃ بھی دیتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرلی۔ حضرت جنادہ کی زوجہ ’’مسعود خزرجی‘‘ کی بیٹی اور بڑی شجاع و فداکار خاتون تھی جب جنادہ شہید ہوچکے تو اس مجاہدہ عورت نے اپنے خورد سال بیٹے عمرو بن جنادہ کو(جو گیارہ یا نوسال کی عمر میں تھا)کو حکم دیا کہ جاؤ جہاد کرو۔
(تنقیح المقال: جلد 2، صفحہ 327)
یہ باادب بچہ ماں کی اجازت کے باوجود اپنے مولا و آقا حضرت امام حسین کی خدمت میں آیا اور بڑے احترام سے عرض کی مجھے جہاد کی اجازت عطا فرمائیں۔
حضرت امام حسین(ع) نے اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ شاید تیری ماں راضی نہ ہو (کیونکہ تیرا سن چھوٹا ہے اور تیری ماں بوڑھی ہے) یہ جملات سننے تھے کہ اس ننھے مجاہد نے عرض کی کہ
انّ امّی قدامرتنی
(میری ماں تو مجھے اجازت دے چکی ہیں)
میری ماں نے نہ فقط اجازت دی ہے بلکہ مجھے لباس جنگ اس نے خود پہنایا ہے اور حکم دیا ہے آپ پر جان قربان کردوں۔ امام حسین نے جب اس کا جذبۂ جہاد دیکھا تو اجازت دی میدان جنگ میں آ کر صحابی رسول کے اس کمسن فرزند نے اپنا تعارف بڑے نرالے انداز میں کرایا۔ خلاف معمول اپنا نام یا والد اور قبیلہ کا ذکر نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ اس کمسن بچے کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ یہ کس کا فرزند ہے۔ بعض کتب میں یہ جملہ ملتا ہے کہ
خرج شباب قتل ابوہ فی المعرکہ
(حماسہ حسینی: استاد شہید مطہری: (رح) جلد 2 صفحہ 327)
دشمن کو للکار کر کہتا ہے:
امیری حسینٌ ونعم الامیر سرور فواد البشیر النذیر
علیٌ وفاطمہ والداہ فھل تعلمون لہ من نظیر
لہ طلعۃ مثل شمس الضحیٰ لہ غُرّہ مثل بدرالمنیر۔
’’میرے آقا و سردار اور بہترین سردار حسین ہیں بشیر النذیر (پیغمبراکرم(ﷺ) کے دل کا چین ہیں۔
علی و فاطمہ جس کے والدین ہوں کیا اس کی مثال(دنیا میں) کہیں مل سکتی ہے؟
چمکتے سورج کی مانند نور افشانی کرنے والا
اور چودھویں کے چاند کی مانند (تاریکیوں میں) روشنی دینے والا راہنما امام ہیں۔‘‘
(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 282)
میدان جنگ میں شہید ہو جانے کے بعد دشمن نے سر جدا کرکے ماں کی طرف پھینکا ماں نے سر اٹھا کر کہا:’’مرحبا اے نورعین‘‘اور پھر دشمن کو دے مارا اور عمود خیمہ اٹھا کر دشمن کی فوج پر حملہ کرنا چاہا لیکن حضرت امام حسین نے واپس بلالیا اور اس باوفا خاتون کے حق میں دعا فرمائی۔
حضرت جنادہ کا نام بعض منابع میں ’’جابر‘‘
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 226)
یا ’’جبار‘‘ یا ’’جیاد‘‘ درج ہوا ہے ان کے والد کے نام کو بھی بعض نے ’’حارث‘‘(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 226)
اور بعض نے ’’حرث‘‘ (انساب الاشراف، البلاذری: جلد 3 صفحہ 198) ذکر کیا جبکہ قاموس (قاموس الرجال: جلد 2 صفحہ 724) میں ’’جنادہ‘‘ کے نام سے موجود ہے ان کے قبیلہ کا نام ’’سلمانی‘‘(الکامل فی التاریخ: ابن اثیر: جلد 4 صفحہ 74۔)
یا’’سلمانی ازدی‘‘(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 234) بیان ہوا ہے۔
یہ صحابی رسول(ﷺ) ’’عذیت الھجانات‘‘کے مقام پر امام حسین(ع) کے حضور شرفیاب ہوئے اسی دوران’’حر‘‘ امام حسین(ع) کا راستہ روک کر انھیں گرفتار کرنا چاہتا تھا جبکہ امام حسین(ع) کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس کام سے باز رہا امام ان تازہ شامل ہونے والے افراد (جیسے جنادہ بن حارث) کے ذریعے کوفہ کے حالات سے مطلع ہوئے اس وقت سے لے کر روز عاشور تک ساتھ رہے صبح عاشور حضرت جنادہ بعض دیگر افراد کے ساتھ تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کے لشکر پر حملہ آور ہوئے دشمن کے نرغہ میں جانے کی وجہ سے تمام افراد ایک مقام پر درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ زیارت رجبیہ وناحیہ میں ان پر’’سلام‘‘ ذکر ہوا ہے۔
(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 115)
6: حضرت جندب بن حجیر الخولانی الکوفی رضی اللہ عنہ:
حضرت جندب بن حجیر کندی خولانی‘‘یا’’جندب بن حجر‘‘پیغمبر اکرم (ص) کے عظیم صحابی اور اہل کوفہ میں سے تھے۔
(اقبال الاعمال: جلد 3 صفحہ 78)
حضرت جندبؓ ان افراد میں سے ہیں جنھیں حضرت عثمانؓ نے کوفہ سے شام بھیجا تھا جنگ صفین میں بھی شرکت کی اور حضرت علیؓ کی طرف سے قبیلہ’’کندہ اورازد‘‘ کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اور واقعہ کربلا میں امام حسین(ع) کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 136)
صاحب وسیلۃ الدارین لکھتے ہیں:
قال ابن عساکر فی تاریخہ ھوجندب بن حجیر بن جندب بن زھیر بن الحارث بن کثیر بن جثم بن حجیر الکندی الخولانی الکوفی یقال لہ صحبۃ مع رسول اللہ وھو من اھل الکوفہ وشھد مع النبی(ص)۔۔۔وقال علماء السیر ومنھم الطبری:انہ قاتل جندب بن حجیربین یدیہ الحسین(ع) حتی قتل فی اول القتال۔۔۔
مندرجہ بالا ترجمہ کے مطابق یہ صحابی رسول(ﷺ) اور شہدائے کربلا میں سے تھے۔
(وسیلۃ الدارین: صفحہ 114)
حضرت جندب بن حجیرؓ کے صحابی رسول ہونے میں اتفاق ہے لیکن مقام شہادت میں اختلاف ہے۔
ابن عساکر انھیں جنگ صفین کے شہداء میں ذکر کرتے ہیں۔
(تاریخ اسلام: ابن عساکر: جلد 11صفحہ 303)
بعض دیگر معتبر منابع انھیں شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں۔ تنقیح المقال میں ان کا ذکر اس طرح ہے:
شھد الطف۔۔۔وعدہ الشیخ من رجالہ من اصحاب الحسین واقول ھوجندب بن حجیرالکندی الخولانی الکوفی وذکراھل السیر انّ لہ صحبۃ و۔۔۔
(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 236)
رجال طوسی ’’اقبال‘‘ اور’’اعیان الشیعہ‘‘ میں بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا گیا ہے۔
(رجال: شیخ طوسی: صفحہ 72 اقبال: جلد 3 صفحہ 346)
حضرت جندب کوفہ کے نامدار اور معروف افراد سے تعلق رکھتے تھے کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے عراق میں حر کا لشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسین سے مقام ’’حاجر‘‘میں ملاقات کی اور امام کے ہمراہ وارد کربلا ہوئے جب روز عاشور (عمر سعد کی طرف سے) جنگ شروع ہوئی یہ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔
(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 136)
7: حضرت حبیب بن مظاہر الاسدی رضی اللہ عنہ:
خاندان بنی اسد کے معروف فرد حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے صحابی اور حضرت علی، امام حسن و امام حسین کے وفادار ساتھی تھے۔
(رجال: شیخ طوسی: صفحہ 38، 68)
عسقلانی ان کا ذکر بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
’’حبیب بن مظاہر بن رئاب بن الاشتر۔۔۔الاسدی کان صحابیاً لہ ادراک وعمرحتی قتل مع الحسین(ع) یوم الطف مع ابن عمہ ربیۃ بن خوط بن رئاب مکنی اباثور‘‘
(الاصابہ: حرف ’’حا‘‘ حبیب بن مظاہر)
معتبر منابع میں ان کے حالات زندگی اور کربلا میں جہاد کا ذکر مفصل ملتا ہے۔
حضرت حبیب بن مظاہرؓ حضرت علیؓ کے شاگرد خاص اور وفادار صحابی تھے۔ آپ نے مولا علی کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی بہت سے علوم پر دسترس تھی زہد وتقویٰ کے مالک تھے ان کا شمار پارسان شب اور شیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔
(سفینۃ البحار: جلد 2 صفحہ 26)
صاحب رجال کشی (اختیار معرفۃ الرجال) فضیل بن زبیر کے حوالہ سے حضرت حبیب بن مظاہرؓ اور میثم تمار کے مابین ہونے والے مکالمے کو نقل کرتے ہیں جس میں یہ دونوں حضرات اپنی شہادت سے متعلق پیش آنے والے حالات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علیؓ کے یہ تربیت شدہ شاگرد ’’علم باطن‘‘ اور’’ علم بلایا ومنایا‘‘(آئندہ آنے والی مشکلات ومصائب) پر کس قدر تسلط رکھتے تھے۔
تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو۔ ’’رجال کشی: صفحہ 78 ‘‘
حضرت حبیب بن مظاہرؓ کا شمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے۔ روایت میں ہے کہ حضرت حبیب ایک مرتبہ امام حسین سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدم کس صورت میں تھے؟
حضرت امام حسین(ع) نے فرمایا:’’ہم نور کی مانند تھے اور عرش الہٰی کے گرد طواف کررہے تھے اور فرشتوں کو تسبیح و تمحید و تھلیل سکھاتے تھے۔
(بحارالانوار: مجلسی: جلد 40 صفحہ 311)
تسبیح یعنی سبحان اللہ‘تمحید یعنی الحمداللہ، اور تہلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا۔
حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے امام حسین(ع) کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)
جب حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو سب سے پہلا شخص جس نے حضرت مسلمؓ کی حمایت اور وفاداری کا اعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے، اس کے بعد حضرت حبیب بن مظاہرؓ کھڑے ہوئے اور عابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:
’’خدا تم پر رحم کرے کہ تو نے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کا حال بیان کردیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہوں جیسے عابس نے بیان کیا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)
حضرت حبیبؓ حضرت مسلمؓ کے بہترین حامی تھے اور مسلم بن عوسجہ کے ساتھ مل کر حضرت مسلم بن عقیلؓ کے لئے لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔
(ابصارالعین: سماوی: صفحہ 78۔)
جناب مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کے بعد اہل کوفہ کی بےوفائی کی وجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں(حبیب اور مسلم بن عوسجہ)کو مخفی کردیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہرؓ کو امام حسین(ع) کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تو رات کے وقت سے فائدہ اٹھا کر حضرت سے جا ملے حالت یہ تھی کہ دن کو مخفی ہو جاتے اور رات کو سفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کو پالیا۔
(اعیان الشیعہ: جلد 2، صفحہ 544)
بعض منابع نے ذکر کیا ہے کہ حضرت امام حسین(ع) کو جب جناب مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے حبیب بن مظاہرؓ کو خط لکھ کر بلایا۔
(اسرا الشھادہ: صفحہ 396)
لیکن یہ مطلب معتبر ذرائع کی رو سے ثابت نہیں۔(شہدائے کربلا: صفحہ 134)
کربلا پہنچنے کے بعد جب عم زاد سعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا تو امام حسین(ع) سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ ’’بنی اسد‘‘ کے پاس گئے اور مفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسین کی مدد و نصرت کے لئے درخواست کی جس کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:’’۔۔۔میں تمہارے لئے بہترین تحفہ لایا ہوں وہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں فرزند رسول کی مدد کے لئے تیار ہو جاؤ۔۔۔نواسۂ رسول آج عمر سعد کے بائیس ہزار لشکر کے محاصرہ میں ہے آپ لوگ میرے ہم قبیلہ ہیں میری بات پر توجہ کریں تاکہ دنیا وآخرت کی سعادت تمہیں نصیب ہوسکے خدا کی قسم تم میں سے جو بھی فرزند رسول خدا کے قدموں میں جان قربان کرے گا مقام اعلیٰ علیین پر حضرت رسول خدا کے ساتھ محشور ہوگا۔
(الفتوح: جلد 5، صفحہ 159)
حضرت حبیب کی تقریر اتنی موثر تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس آواز پر لبیک کہا اور حضرت امام حسین(ع) کا ساتھ دینے کے لئے آمادہ و تیار ہوگئے لیکن ’’ارزق بن حرب صیدادی‘‘ ملعون نے چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ان افراد پرحملہ کرکے انھیں منتشر کردیا۔ حضرت حبیب نے یہ اطلاع حضرت امام کو پہنچائی جب حضرت امام حسین اپنے خدا سے راز و نیاز کرنے کے لئے عصر تا سوعا(نہم محرم)کو دشمن سے مہلت طلب کی تو اس دوران ’’حبیب ‘‘ نے لشکر عمر سعد کو موعظہ و نصیحت کرتے ہوئے کہا:
’’خدا کی قسم! کتنی بری قوم ہوگی کہ جب فردائے قیامت اپنے پیغمبر کے حضور حاضر ہوں گے تو ایسے حال میں کہ اسی رسول کے نواسہ اور ان کے یار و انصار کے خون سے اس کے ہاتھ آلودہ ہوں گے۔‘‘
شہادت کی موت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھ ’’یزید بن حصین ‘‘سے مزاح کرتے ہیں تو یزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کا جبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اور ہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں تو حبیب نے کہا اے دوست اس سے بہتر کونسا خوشی کا وقت ہوگا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہو کر بہشت میں پہنچنے والے ہیں۔
(اخیارالرجال الکشی: صفحہ 79)
ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کو بتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسین کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کر جائیں تو آپ تمام اصحاب کو جمع کرکے درخیمہ پر لائے اور حضرت زینب کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا دوبارہ عہد کیا تاکہ حضرت زینب کی یہ پریشانی ختم ہوسکے۔
(الدّمعۃ الساکبہ: جلد 4 صفحہ 274)
صبح روز عاشور حضرت امام حسین(ع) نے اپنے لشکر کو منظم کیا دائیں طرف موجود لشکر کی کمانڈ زہیر بن قین اور بائیں طرف حبیب بن مظاہر جبکہ قلب لشکر کی سربراہی حضرت ابوالفضل العباس کے سپرد کی اسی اثنا میں دشمن کے سپاہی وارد میدان ہو کر مبارزہ طلب کرتے ہیں تو حبیب مقابلہ کے لئے آمادہ ہوئے لیکن حضرت امام(ع) نے روک لیا اس طرح ظہر عاشور جب امام نے لشکر عمر سعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لئے کہا تو ایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی(نعوذباللہ)اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اور فوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے
’’اے حمار(گدھے)!تیرے خیال باطل میں آل پیغمبر کی نماز قبول نہیں!؟ اور تمہاری نماز قبول ہے؟!!‘‘
اس طرح دونوں کا مقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کو زمین پر گرا دیا پھر باقاعدہ رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کو واصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کا وار کیا جس کی تاب نہ لاکر آپ شہید ہوگئے اس نے آپ کے سر کو جدا کر لیا اسی سر کو بعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کر کوفہ میں پھرایا گیا گویا کوفہ کا نامور مجاہد اہل کوفہ سے یہ کہہ رہا تھا دیکھو یہ سر آل رسول کی خاطر کٹ سکتا ہے لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں سکتا (شہداء کربلا: صفحہ 135)
السلام علیک یاحبیب بن مظاھرالاسدی۔
8: حضرت زاھر بن عمروالاسلمی رضی اللہ عنہ:
’’زاھر‘‘ شجاع اور بہادر شخص تھے صحابی رسول(ﷺ) اور اصحاب شجرہ میں سے تھے اور محبین اہلِ بیت علیھم السلام میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت رسول خدا (ﷺ) کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ اور جنگ خیبر میں شریک ہوئے۔
ذبیح اللہ محلاتی وسیلۃ الدارین کی عبارت نقل کرتے ہیں:
قال العسقلانی فی الاصابہ ھوزاھر بن عمرو بن الاسود بن حجاج بن قیس الاسدی الکندی من اصحاب الشجرۃ وسکن الکوفہ وروی عن النبی(ص) وشھدالحدیبیہ وخیبر
’’زاھر درحقیقت زاھر بن عمرو الکندی ہیں جواصحاب شجرہ میں سے تھے کوفہ میں مقیم تھے اور حضرت رسول خدا (ص) سے روایت بھی نقل کی ہے حدیبیہ اور خیبر میں شریک تھے۔‘‘
(فرسان الھیجاء: صفحہ 138 از وسیلۃ الدارین: صفحہ 137)
حضرت زاھر کے بیٹے ’’مجزأۃ‘‘ نے اپنے باپ کے واسطہ سے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت بیان کی ہے فوق الذکر مطلب مختصر فرق کے ساتھ دیگر منابع میں بھی موجو د ہے۔
(اسد الغابہ: ابن اثیرعلی بن محمد: جلد 2 صفحہ 192، الاصابہ: جلد 1 صفحہ 542)
بعض محققین کے خیال میں زاھر اور زاھر اسلمی دو الگ الگ افراد ہیں۔(قاموس الرجال: شوشتری: جلد 2 صفحہ 402، 406)
تنقیح المقال کی عبارت میں انھیں اصحاب شجرہ اور شہدائے کربلا میں شمار کیاگیا ہے۔
زاھر اسلمی والدمجزأۃ من اصحاب الشجرہ
نیز فرماتے ہیں:
زاھر صاحب عمرو بن الحمق شھید الطف فوق الوثاقہ وعدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب ابی عبداللہ واقول ھوزاھر بن عمروالاسلمی الکندی من اصحاب الشجرہ روی عن النبی(ص) وشھد الحدیبیہ وخیبر وکان من اصحاب عمربن الحمق الخزاعی کمانص علی ذالک اھل السیرو۔
(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 438)
مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’زاھر‘‘ نام کے دو اشخاص ہیں لیکن مرحوم مامقانی کی نظر میں زاھر بن عمرو اسلمی کاشمار اصحاب شجرہ اور شہدائے کربلا میں ہونا ثابت ہے۔
نیز بیان کرتے ہیں کہ یہ محب اہل بیت تھے بہت بڑا تجربہ کار پہلوان اور بہادر شخص تھا حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد ’’عمرو بن حمق‘‘ کے ساتھ مل کر معاویہ کی ظالمانہ حکومت اور ابن زیاد کے خلاف برسرپیکار رہا جب معاویہ نے ان کی گرفتاری اور قتل کا حکم صادر کیا تو یہ دونوں شہر سے فرار کر گئے پہاڑوں اور جنگلوں میں زندگی بسر کرنے لگے یہاں تک کہ ’’عمرو بن حمق‘‘حکومتی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد شہید کردیا گیا لیکن زاھر زندہ رہا آخرکار 60ھ حج کے موقعہ پر امام حسین کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور آپ کے ساتھ مل کر کربلا کی جنگ میں شرکت کی عاشورا کے دن پہلے حملے میں جام شہادت نوش کیا۔
(شہداء کربلا: صفحہ 164، ازتنقیح: جلد 1 صفحہ 437 تاریخ مدینہ دمشق: جلد 25 صفحہ 502)
زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں سلام ان الفاظ میں ذکر ہوا السلام علی زاھر مولیٰ عمرو بن حمق(اقبال: صفحہ 79)
9: حضرت زیاد بن عریب ابو عمرو رضی اللہ عنہ:
قدیم محققین نے ان سے متعلق کوئی خاص تفصیل بیان نہیں کی، لیکن بعض معاصر نے ان کا ذکر اس طرح درج کیا ہے:
زیاد بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبداللہ بن کعب الصائدبن ہمدان
(جمھرۃ انساب العرب: صفحہ 395)
حضرت ابوعمرو زیاد بن عریب نے حضرت پیغمبر(ﷺ) کے محضر مبارک کو درک کیا ان کے والد بزرگوار بھی صحابی رسول تھے ابوعمرو شجاع، عابد و زاھد اور شب زندہ دار شخص تھے زیادہ نماز گزار تھے زہد و تقویٰ کی وجہ سے دین کی عزت نے آرام سے نہ بیٹھنے دیا لہٰذا واقعہ کربلا میں اپنا کردار ادا کرنے کی غرض سے حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچے اور دشمن کے خلاف جہاد و مبارزہ کرنے کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔
(ابصارالعین: سماوی: صفحہ 134)
10: حضرت سعد بن الحارث مولی امیرالمؤمنین(ع):
حضرت سعد بن حرث خزاعی کے نام سے معروف ہیں۔ قدیم منابع میں ان کا نام شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر نہیں لیکن بعض متاخرین نے شہید کربلا کے عنوان سے ان کے حالات زندگی قلمبند کیے ہیں۔
حضرت سعد بن حرث خزاعی نے محضر پیغمبر اکرم (ص) کو درک کیا اس لحاظ سے صحابی رسول(ﷺ) ہیں۔ پھر امیرالمؤمنین سیدنا علی(ع) کے ہمراہ رہے حضرت نے انھیں کچھ عرصہ کے لئے سپاہ کوفہ کی ریاست سونپی تھی نیز کچھ مدت کے لئے انھیں آذربائیجان کا گورنر بھی منصوب کیا۔ صاحب فرسان نے ’’حدایق الوردیہ‘‘، ’’ابصارالعین‘‘، ’’تنقیح المقال‘‘ اور’’الاصابہ‘‘ جیسی معتبر کتب سے ان کے حالات نقل کیے ہیں۔
(فرسان الھیجاء: صفحہ 154)
صاحب فراسان نے الاصابہ کے حوالے سے حضرت سعد کا ذکر یوں کیا ہے (لیکن الاصابہ میں مراجع کرنے سے یہ ذکر نہیں ملا)
سعید بدل سعد بن الحارث بن شاربہ بن مرۃ بن عمران بن ریاح بن سالم بن غاضر بن حبشہ بن کنجب الخزاعی مولیٰ علی بن ابی طالب(ع) لہ ادارک وکان علی شرطۃٍ علی (ع) فی الکوفہ وولاۃ آذربایجان ۔۔
(فرسان الھیجاء: صفحہ 154)
وسیلۃ الدارین نے بھی صفحہں128 پر صحابی اور شہید کربلا کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ تنقیح المقال کی عبارت میں بھی اس طرح موجود ہے:
سعد بن الحارث الخزاعی مولیٰ امیرالمؤمنین صحابی امامی شہید الطف ثقہ
مذید لکھتے ہیں کہ سعد بن الحارث لہ ادراک الصحبۃ النبی(ص) وکان علی شرطۃ امیرالمؤمنین فی الکوفہ وولاۃ آذربائیجان۔
(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 12)
مزید تفصیلات ان کتب میں موجود نہیں البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ’’حضرت سعد‘‘ امیرالمؤمنین سیدنا علی(ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کا ہر میدان میں یار و مددگار رہا جب حضرت امام حسین(ع) نے قیام کیا تو ابتداء میں اپنے مولا کی خدمت میں مکہ میں جا ملے پھر مکہ سے کربلا آئے اور روز عاشور جنگ کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔
(شہداء کربلا: صفحہ 180)
اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ’’مرحوم محقق شوشتری‘‘ نے اپنی کتاب میں ان کے صحابی ہونے پر تنقید کی ہے، اس دلیل کی بنا پر کہ اگر صحابی ہوتے تو قدیم منابع نے کیوں ذکر نہیں کیا۔
(قاموس الرجال: شوشتری: جلد 5 صفحہ 27، 28)
لیکن مذکورہ بالا بعض معتبر منابع میں ان کا ذکر صحابی رسول(ص) ہونے کے عنوان سے آ جانا ہمارے مطلب کے اثبات کے لئے کافی ہے۔
11: حضرت شبیب بن عبداللہ (مولیٰ الحرث) رضی اللہ عنہ:
حضرت شبیبؓ بن عبداللہ بن شکل بن حی بن جدیہ حضرت رسول اکرمﷺ کے صحابی اور کوفہ کی معروف و مشہور شخصیت اور بڑے بافضیلت انسان تھے۔
(وسیلۃ الدارین: صفحہ 155، نقل از الاصابہ: جلد 3 صفحہ 305)
جہاں بھی ظلم وستم دیکھا اس کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی اور حضرت علیؓ کے وفادار یار و مددگار رہے۔
(فرسان الھیجاء: صفحہ 167)
مختلف معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے جیسے رجال طوسی، استرآبادی، تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف، تاریخ طبری وغیرہ۔
’’تنقیح‘‘ میں ان کا ذکر اس طرح درج ہے:
’’شبیب بن عبداللہ مولی الحرث صحابی شہیدالطف، فوق الوثاقہ‘‘ شبیب سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اور اپنے مولا امام حسین کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
(کتاب روضۃ الشھداء: صفحہ 295 میں ان پرسلام نقل ہوا ہے۔)
السلام علی شبیب بن عبداللہ مولیٰ بن سریع
12: حضرت شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری رضی اللہ عنہ:
حضرت شوذبؓ صحابی رسول اور حضرت علی (ع) کے باوفا ساتھی تھے۔ مرحوم ’’زنجانی‘‘ نے علامہ’’مامقانی‘‘ سے ان کا ذکر نقل کیا ہے:
ذکرالعلامہ مامقانی فی رجالہ شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری ان بعض من لایحصل لہ ترجمہ تخیل انّہ شوذب مولی عابس والحال ان مقامہ اجل من عابس من حیث العلم والتقویٰ وکان شوذب صحابیاً واشترک مع امیرالمؤمنین(ع)
(وسیلۃ الدارین: صفحہ 154)
حضرت شوذب علم و تقویٰ کے اعتبار سے بلندپایہ شخصیت تھے۔ کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لئے حضرت امیرالمؤمنین کی احادیث نقل کرتے تھے امام علی کے ساتھ تینوں جنگوں میں شریک رہے۔
جب حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ میں پہنچے تو ان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسین(ع) تک اہل کوفہ کے مزید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔ نہایت مخلص اور عابد و زاھد انسان تھے۔ بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ کوفہ میں حضرت مسلمؓ کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسین کی خدمت میں کربلا پہنچتے ہیں۔ جب حنظلہ بن سعد شبامی شہید ہوگئے تو عابس نے شوذب سے پوچھا کہ کیا خیال ہے؟
کہتے ہیں تیرے ہمراہ فرزند رسول خدا کی نصرت کے لئے جنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ شہادت کا مقام حاصل کر سکوں عابس نے کہا اگر یہ ارادہ ہے توامام کے پاس جا کر اجازت طلب کرو۔ حضرت امام حسین کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت جہاد حاصل کی اور وارد جنگ ہوئے چند دشمنوں کو واصل جہنم کیا آخر میں شہید ہوگئے۔
(شہدائے کربلا: صفحہ 198)
ان الفاظ میں زیارت رجبیہ اور زیارت ناحیہ میں ان پر سلام بھیجا گیا ہے۔
السلام علی شوذب مولی شاکر
(اقبال: صفحہ 346)
قابل توجہ امر یہ ہے کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شوذب، عابس شاکر کے غلام تھے جبکہ اہل علم حضرات سے پوشیدہ نہیں کہ لفظ مولی صرف غلام کے معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ’’ہم پیمان‘‘ کے معنیٰ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ چونکہ شوذب مقام علمی ومعنوی کے اعتبار سے عابس پر برتری رکھتے تھے لہذا انھیں غلام عابس نہیں کہہ سکتے بلکہ عابس اور اس کے قبیلہ کے ہم پیمان و ہم عہد تھے۔
(عنصرشجاعت: جلد 1 صفحہ 130)
یہی دلیل علامہ مامقانی سے نقل شدہ ترجمہ میں بیان کی گئی ہے۔
13: حضرت عبدالرحمٰن الارحبی رضی اللہ عنہ:
حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے بزرگ صحابی تھے۔ تمام معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے۔
جیسے ’’رجال شیخ طوسی،'' ’’رجال استرآبادی،" ’’مامقانی،" نیز ’’الاستیعاب،" ’’الاصابہ‘‘ اور’’وسیلۃ الدارین‘‘ نے بھی نقل کیا ہے۔
تاریخ طبری اور الفتوح میں تو ان کے بعض واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔
’’الاستیعاب‘‘ کی عبارت اس طرح ہے:
۔۔۔ھوعبدالرحمن بن عبداللہ بن الکدن الارحبی۔۔۔‘‘انہ کان من اصحاب النبی(ص) لہ ھجرۃ۔۔۔
حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کی خبر جب کوفہ پہنچی تو کچھ لوگ ’’سلمان بن صرد خزاعی‘‘ کے گھر جمع ہوئے تاکہ اجتماعی طور پر حضرت امام حسین(ع) کو خط لکھ کر دعوت دیں اور خلافت کو ان کے سپرد کریں نیز کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کو کوفہ سے باہر نکال دیں ان خطوط کو’’قیس مسہرصیداوی،" عبدالرحمٰن ارحبی اور عمارۃ بن عبداللہ السلولی لے کر حضرت امام حسین کی خدمت میں ہوئے اس طرح یہ گروہ دوم تھا جو حضرت کو دعوت دینے کے لئے آیا۔ پہلا گروہ عبداللہ بن سمیع کی قیادت میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن ارحبیؓ شجاع تجربہ کار فاصل اور فصیح و بلیغ صحابی تھے۔
(یاران پائیدار: صفحہ 97)
50 یا 52 ددعوت نامے
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)
سے لے کر 12 رمضان المبارک 60 ھ کو مکہ کی طرف روانہ ہوئے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن ارحبیؓ 150 افراد پر مشتمل ایک وفد کے ہمراہ حضرت امام حسین(ع) کی خدمت اقدس میں پہنچے۔
(الفتوح: جلد 5 صفحہ 48)
مکہ میں حضرت امام(ع) کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا پھر حضرت کے نمائندہ خاص جناب امیر مسلم کے لئے کوفہ میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ کوفہ میں حالات خراب ہونے کے بعد کربلا میں دشمنان دین کے خلاف جنگ میں شرکت کی جب عمر بن سعد نے امام حسین(ع) کے قتل کا پختہ ارادہ کر لیا تو اس صحابیِ رسول(ﷺ) نے اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اپنے مولا و آقا کی حمایت کا اعلان کیا اپنی شجاعت کے کارنامے دکھانے کے علاوہ فصاحت و بلاغت کے ذریعے بھی حسین ابن علی کی حقانیت اور بنوامیہ کے بطلان کو اپنے اشعار میں واضح کیا تاریخ میں اس وفادار صحابی کے جو رجز بیان ہوئے ہیں اس زمانہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ کیونکہ بنوامیہ نے اسلام کے نام پر اسلام کی نابودی کا تہیہ کر رکھا تھا اس لئے وہ صحابہ کرامؓ جو اب پیغمبر اکرمﷺ کے قول و فعل کے ذریعے حقیقی اسلام کے راہبر کی شناخت کر چکے تھے آج دشمنان دین کو اسلام کے حقیقی راہبر کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف دعوت دینا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن کے رجز کا ایک مصرعہ یوں ہے:
انی لمن ینکرنی ابن الکدن انی علی دین حسین وحسن۔
(انساب الاشراف: جلد 3 صفحہ 196)
اس طرح امام حسین(ع) کو’’دین حق‘‘ کا علمبردار سمجھتے ہوئے ان کے قدموں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اس شہید باوفا پر زیارت ناحیہ میں ان الفاظ میں سلام پیش کیا گیا ہے:
السلام علی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کدرالارحبی۔
(الاقبال: جلد 3 صفحہ 79)
14: حضرت عبدالرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی رضی اللہ عنہ:
مختلف منابع نے ان کے لئے صحابی رسولﷺ ہونے کی گواہی دی ہے انھیں بعض نے انصاری بھی لکھا ہے اصل میں مدینہ میں مقیم تھے جب پیغمبر اسلام(ﷺ) نے مدینہ میں ہجرت فرمائی تو اوس و خزرج قبائل نے اسلام قبول کیا۔ اس وقت سے ان سب کو انصاری کہا جاتا تھا۔
صاحب قاموس الرجال نقل کرتے ہیں کہ:
عبدالرحمٰن بن عبدربہ الانصاری الخزرجی کان صحابیاً لہ ترجمۃ ورویۃ وکان من مخلص اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام۔
صحابی رسولﷺ تھے جن سے روایت بھی نقل ہوئی ہے اور حضرت امیر علیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے۔
جس روایت کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ درحقیقت ’’غدیرخم‘‘ کے مقام پر پیغمبر اسلامﷺ کی جانب سے ولایتِ علی کا واضح اعلان کرنا ہے پھر جب وفات پیغمبر(ص) کے بعد اکثر افراد جن میں بعض نے دنیاوی مقاصد اور بعض نے خوف کی وجہ سے علی علیہ السلام خلیفہ تسلیم نہ کیا تو ایک مرتبہ رحبہ کے مقام حضرت علیؓ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا کہ جس نے پیغمبر(ص) سے میرے بارے میں کوئی حدیث فضیلت سنی ہو تو بلند ہو کر بیان کرے اسی اثنا میں حضرت عبدالرحمٰن خاموش نہ بیٹھ سکے اور اٹھ کر کہا کہ میں نے غدیر خم کے مقام پر رسول خدا (ص) کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ فرمایا:
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ
جس کا میں مولا و سردار ہوں اس کا یہ علی مولا و سردار ہے۔
مناسب ہوگا کہ الاصابہ فی تمیز الصحابہ کی عبارت نقل کی جائے العسقلانی یوں رقمطراز ہیں:
عبدالرحمٰن بن عبدرب الانصاری ذکرہ ابن عقدہ فی کتاب المولاۃفی من روی حدیث:من کنت مولاہ فعلیٌّّ مولاہ وساق من طریق الاصبغ بن نباتہ قال لما نشدعلیٌّ الناس فی الرحبہ من سمع النبی (ص) یقول یوم غدیر خم ماقال الاقام ، ولایقوم الامن سمع ، فقام بضعۃ عشررجلاً منھم:’’ابوایوب‘‘،’’ابوزینب‘‘ و’’عبدالرحمٰن بن عبدرب‘‘ فقالوا نشھد انا سمعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول ’’ان اللہ ولی وانا ولی المومنین ؛فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘
(الاصابہ: جلد 2 صفحہ 328)
اس عظیم محقق کی عبارت کے مطابق دس سے زیادہ افراد کھڑے ہوئے اور گواہی دی کہ ہم نے سنا تھا کہ پیغمبر اکرم(ﷺ) نے فرمایا:
بے شک اللہ ولی ہے میں بھی مومنین کا ولی ہوں پس جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔
ابصارالعین نے بھی بیان کیا ہے کہ:
کان ھذا صحابیاً وعلمہ امیرالمؤمنین القرآن ورباہ وھواحدرواۃ حدیث من کنت مولاہ۔۔۔حین طلب علیہ السلام۔۔‘‘
یعنی یہ صحابی پیغمبر/ﷺ) تھے حضرت علی(ع) نے ان کی تربیت کی اور انھیں قرآن مجید کی تعلیم دی اور من کنت مولاہ کی حدیث کو اس صحابی نے اس وقت بیان کیا جب حضرت علی(ع) نے گواہی طلب کی تھی۔
(ابصارالعین فی انصارالحسین(ع): صفحہ 92)
پیغمبر(ﷺ) کی وفات کے بعد کوفہ میں سکونت اختیار کر لی اور کوفہ کی معروف شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ کوفہ میں امام حسین کے لئے لوگوں سے بیعت طلب کرتے تھے لیکن جب کوفہ میں امام حسین(ع) کے لئے راہ ہموار کرنے میں ناکام ہوئے تو کربلا میں امام سے ملحق ہو کر دشمن کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے پہلے حملہ میں یا بعداز ظہر شہید ہوگئے۔
(ذخیرالدارین: صفحہ 270)
15: حضرت عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ:
کتاب ’’شہدائے کربلا ‘‘ نے درج ذیل عبارت ’’الاصابہ‘‘ سے نقل کی ہے:
ابوالھیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی۔
(شہدائے کربلا: صفحہ 228، نقل از الاصابہ: جلد 7 صفحہ 151)
لیکن جب مراجع کیا تو ہمارے ہاں موجود ’’الاصابہ‘‘ کی عبارت اس طرح تھی:
عبداللہ بن الحارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی ابن عم النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وکان اسمہ عبدشمس فغیرہ النبی(ص)۔
(الاصابہ: جلد 4 صفحہ 27)
حضرت عبداللہ بن حارث کا باپ حضرت رسول اکرم(ﷺ) کا عم زاد اور برادر رضاعی تھا۔ یہ صحابی رسول(ﷺ)، عظیم شاعر بھی تھے اور انھوں نے پیغمبر(ﷺ) سے روایت بھی نقل کی ہے۔ اپنے بعض اشعار میں حضرت علی(ع) کی مدح وثنا بھی بیان کی ہے۔
حضرت رسول اکرم(ﷺ) کی وفات کے بعد امام علی کے ساتھ رہے انھیں کے ہمرکاب مختلف جنگوں میں شرکت کی۔ ایک مرتبہ جب حضرت عبداللہ کو علم ہوا کہ عمرو عاص نے بنی ھاشم پر طعن و تشنیع اور عیب جوئی کی ہے تو عمرو بن عاص پر سخت غصہ ہوئے اور اسے مورد عتاب قرار دیا۔ آخر تک اہل بیت کے ہمراہ رہے کربلا میں جب حضرت امام حسین(ع) کا معلوم ہوا تو ان کی خدمت میں پہنچ کر اپنی وفاداری کا عملی ثبوت دیا۔
اس طرح عاشور کے دن رسول خدا (ﷺ) کے نواسہ کی حمایت کرتے ہوئے یزیدی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
(شہدائے کربلا: صفحہ 229)
16: حضرت عمرو بن ضبیعۃ رضی اللہ عنہ:
مختلف منابع رجال و مقاتل میں ذکر ہوا ہے کہ یہ صحابی پیغمبر(ﷺ) تھے اور کربلا میں حضرت امام حسین(ع) کے ہمرکاب شہادت پائی۔ کتاب فرسان میں الاصابہ سے نقل کیاگیا ہے کہ
ھوعمروبن ضیبعۃ بن قیس بن ثعلبہ الضبعی التمیمی لہ ذکرفی المغازی۔۔۔‘‘
نیز ’’رجال استرآبادی‘‘ سے بھی نقل کرتے ہوئے یوں بیان ہوا ہے: ’’قال المحقق استرآبادی فی رجالہ ھوعمروبن ضبیعہ۔۔۔وکان فارساً شجاعاً لہ ادراک۔
(فرسان الھیجاء: جلد 2 صفحہ 7)
جناب مامقانی نے بھی انہیں صحابی ادراکی نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ تجربہ کار اور ماہر جنگجو شخص تھا کئی ایک جنگوں میں شرکت کی نیز شجاعت میں شہرت رکھتا تھا۔
( تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 332)
حضرت عمرو بن ضبیعتہ ابتداء میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ وارد کربلا ہوئے لیکن جب دیکھا کہ عمر سعد نواسہ رسول(ﷺ) کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو فوراً حضرت امام حسین(ع) کے ساتھ ملحق ہوگئے۔ حملہ اولیٰ میں شہادت پائی۔ زیارت ناحیہ میں عمر کے نام سے ذکر ہوا ہے:
السلام علی عمربن ضبیعہ الضجی
(الاقبال: جلد 3 صفحہ 78)
17: حضرت عون بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ:
کنیت ابوالقاسم ہے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب کے بیٹے ہیں۔ اگرچہ سن ولادت واضح بیان نہیں ہوا لیکن چونکہ واقعہ کربلا میں 54 یا 56 سال کے تھے۔ لہٰذا امکان ہے کہ 4 ھ یا 5 ھ کو حبشہ میں ولادت ہوئی ہوگی۔
یعقوبی کے نقل کے مطابق حضرت رسول اکرم(ﷺ) نے جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد سال ہشتم ہجری میں عون اور ان کے بھائی عبداللہ و محمد کو اپنی گود میں بٹھایا اور پیار کرتے رہے۔
(تاریخ یعقوبی: جلد 2 صفحہ 65)
ایک روایت کے مطابق رسول اکرم(ﷺ) نے حضرت جعفر طیار کے بیٹوں کو بلایا اور سلمانی کو بلا کر کہا کہ ان بچوں کے سر کی اصلاح کرے اور پھر فرمایا:
عون خلقت اور اخلاق میں میری شبیہ ہے الاصابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
(الاصابہ: جلد 4 صفحہ 74 نمبرشمار 6111)
حضرت عون کا شمار حضرت علی (ع) کے یار و انصار میں ہوتا ہے۔ حضرت علی(ع) کے ہمراہ جنگوں میں بھی شریک رہے حضرت ام کلثوم (حضرت زینب صغریٰ) کا عقد حضرت علی نے عون سے کر دیا تھا۔
(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 355)
حضرت علیؓ(ع) کی شہادت کے بعد ہمیشہ امام حسن و حسین علیھما السلام کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ جب حضرت امام حسین یزید بن معاویہ کے مظالم کی وجہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے، حضرت عون بھی اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ اپنے مولا کے اس جہاد میں شریک رہے اور روز عاشور حضرت علی اکبر کی شہادت کے بعد حضرت امام (ع) کی اجازت سے وارد میدان ہوئے 30 سوار اور 18 پیادہ سپاہ یزید کو واصل جہنم کیا لیکن زید رقاد جہنمی نے آپ کے گھوڑے کو زخمی کردیا جس کی وجہ سے آپ گھوڑے پر نہ سنبھل سکے پھر اس ملعون نے تلوار کا وار کر کے شہید کر دیا۔
ان کے رجز کو تاریخ نے یوں نقل کیا ہے:
ان تنکرونی فانا بن جعفر شھید صدق فی الجنان ازھر
یطیر فیھا بجناح اخضر کفی بھذٰا شرفاً فی المحشر۔
(مقتل الحسین(ع): خوارزمی: جلد 2 صفحہ 31)
18: حضرت کنانہ بن عتیق رضی اللہ عنہ:
حضرت کنانہ کوفہ کے شجاع اور متقی و پرہیزگار افراد میں سے تھے اور ان کا شمار قاریان کوفہ میں ہوتا ہے۔
(ابصارالعین: صفحہ 199)
حضرت کنانہ اور ان کا باپ عتیق حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے ہمرکاب جنگ احد میں شریک ہوئے۔
(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 42)
وسیلۃ الدارین نے حضرت کنانہ کے ترجمہ کو رجال ابوعلی سے یوں نقل کیا ہے:
قال ابوعلی فی رجالہ کنانۃ بن عتیق الثعلبی من اصحاب الحسین(ع) قتل معہ بکربلا وقال العسقلانی فی الاصابہ ھوکنانۃ بن عتیق بن معاویہ بن الصامت بن قیس الثعلبی الکوفی شھداء احداً ھووابوہ عتیق فارس رسول اللہ(ص) وقدذکرہ ابن منذہ فی تاریخہ۔۔۔۔۔۔‘‘
(وسیلۃ الدارین: صفحہ 184)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ’’حضرت کنانہ‘‘ بھی ان اصحاب رسول خدا (ﷺ) میں سے ہیں جو حضرت امام حسین(ع) کی مدد و نصرت کے لئے کربلا تشریف لائے اور اپنی جانوں کو نواسہ رسول کے قدموں میں نچھاور کیا۔
زیارت رجبیہ اور ناحیہ میں ان پر سلام پیش کیا گیا ہے:
السلام علی کنانۃ بن عتیق۔
(الاقبال: صفحہ 78)
19: حضرت مجمّع بن زیاد جھنّی رضی اللہ عنہ:
حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے اصحاب میں سے تھے۔ جنگ بدر و احد میں شریک رہے۔ مختلف منابع نے ان کو صحابی رسول(ﷺ) اور شھید کربلا کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ جیسے ذخیرۃ الدارین، حدایق، ابصارالعین، تنقیح المقال، اور وسیلۃ الدارین وغیرہ۔
کتاب’’الدوافع الذایتہ‘‘ نے ’’الاستعیاب ‘‘ سے عبارت نقل کی ہے کہ’’ھو مجمّع بن زیاد بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجھنی شھدا بدراً واحد
اس کے عبارت کے نقل کرنے کے بعد خود تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
اَی انّہ صحابیٌ جلیل بناءً علی ذالک۔۔۔
تنقیح المقال نے بھی الاصابہ اور الاستعیاب سے اس طرح کی عبارت نقل کی ہے کہ یہ صحابی رسول(ﷺ) تھے بدر و احد میں شریک بھی رہے لیکن ہمارے ہاں موجود الاصابہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔
بہرحال جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم کو چھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع بن زیاد ان افراد میں سے تھے جو ڈٹے رہے اور کوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے کربلا میں حضرت امام حسین(ع) سے ملحق ہو کر یزیدی ارادوں کو خاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسین(ع) کا ساتھ دیا یہاں تک کہ اپنی جان قربان کردی۔ دشمن کربلا میں اس مجاہد کو آسانی سے شکست نہ دے سکا تو ان کا محاصرہ کر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہید ہو جاتے ہیں۔
(ابصارالعین: صفحہ 201)
20: حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ:
شیعہ و سنی کے تمام معتبر ترین منابع جیسے الاستعیاب، الاصابہ، طبقات بن سعد، تنقیح المقال، تاریخ طبری وغیرہ میں ان کا ذکر موجود ہے کہ یہ صحابی رسول خدا (ﷺ) تھے اور صدر اسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے۔ غزوہ آذربائیجان اور جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی۔ حضرت علی(ع) کے باوفا یار و مددگار تھے۔
(فرسان الھیجاء: جلد 2 صفحہ 116)
حضرت مسلم بن عوسجہ مختلف صفات کے مالک بھی تھے شجاع و بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری قرآن، عالم علوم اور متقی و پرہیزگار، باوفا اور شریف انسان تھے۔
(تنقیح المقال: جلد 3 صفحہ 214)
حضرت مسلم بن عقیلؓ کے کوفہ وارد ہوتے ہی ان کی مدد و نصرت میں پیش پیش تھے اور ان کی حمایت میں لوگوں سے بیعت لیتے تھے نیز مجاہدین کے لئے اسلحہ کی فراہمی اور دیگر امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 4 صفحہ 3)
حضرت مسلم و جناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طور پر رات کے وقت اپنی زوجہ کو ساتھ لے کر حضرت امام حسین کی خدمت میں پہنچے۔ سات یا آٹھ محرم کو مسلمؓ کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اور سپاہ یزید کے خلاف ہر مقام پر پیش پیش رہے۔جب امام نے حکم دیا کہ خیمہ کے اطراف میں آگ روشن کی جائے تو شمر ملعون نے آکر توہین آمیز جملات کہے جس پر حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت امام حسین(ع) سے عرض کی کہ اگر اجازت دیں تو اسے ایک تیر سے ڈھیر کر دوں لیکن حضرت نے فرمایا نہیں کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ ہماری طرف سے جنگ کا آغاز ہو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 424)
شب عاشور جس وقت امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب کو چلے جانے کی اجازت دی تو جہاں بعض دیگر اصحاب امام نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جو تاثرات بیان کئے وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی:
’’خدا کی قسم! ہرگز نہیں چھوڑ کے جاؤں گا یہاں تک کہ اپنے نیزہ کو دشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں خداکی قسم اگر ستر بار مجھے قتل کردیا جائے پھر جلا کر راکھ کر دیا جائے اور ذرہ ذرہ ہو جاؤں پھر اگر زندہ کیا جاؤں تو بھی آپ سے جدا نہیں ہونگا۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ہر بار آپ پر اپنی جان قربان کرونگا اس لئے کہ جان تو ایک ہی جائے گی لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 419)
حضرت مسلم بن عوسجہ عظیم صحابی رسول و امام ہیں کہ جن کو حضرت امام حسین(ع) نے ایک آیت قرآنی کا مصداق قرار دیا جب مسلم بن عوسجہ پچاس دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہوگئے تو حضرت امام حسین نے فوراً ان کی لاش پر پہنچے اور فرمایا:
’’خدا تم پر رحمت کرے اے مسلم‘‘
پھر سورۂ احزاب کی آیت 23 کی تلاوت کی:”
مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا
مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا۔
اس طرح امام حسین(ع) نے اپنے نانا رسول اللہ(ﷺ) کے صحابی کو الوداع کہا۔
السلام علی مسلم بن عوسجہ الاسدی۔۔۔وکنت اول من اشتری نفسہ واول شھید شھداللہ۔
21: حضرت نعیم بن عجلان رضی اللہ عنہ:
ایک روایت کے مطابق حضرت نعیمؓ اور ان کے دو بھائیوں نظر و نعمان نے حضرت رسول اکرم(ﷺ) کو درک کیا اس طرح یہ صحابی ادرکی ہیں۔ خزرح قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت رسول اللہ (ﷺ) کی وفات کے بعد سیدنا علی(ع) کے ساتھی جنگ صفین میں حضرت کا ساتھ دیا۔ حضرت علی(ع) نے ان کے بھائی نعمان کو بحرین کے علاقے کا والی بنایا۔
(تنقیح المقال: جلد 3 صفحہ 274)
حضرت نعیم کے دونوں بھائی حضرت امام حسن(ع) کے زمانہ میں انتقال کرگئے جبکہ حضرت نعیم کوفہ میں زندگی بسر کر رہے تھے کہ مطلع ہوئے کہ حضرت امام حسین(ع) عراق میں وارد ہو چکے ہیں کوفہ کو ترک کرتے ہیں اور حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوکر غیرت دینی کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں اور نواسۂ رسول کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے سپاہ یزید کے خلاف جنگ میں اپنے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کر دیتے ہیں۔
(تنقیح المقال: جلد 3 صفحہ 274)
کتاب مناقب کے مطابق روز عاشور اولین حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔ (مناقب آل ابی طالب(ع): جلد 4 صفحہ 122)
زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں ان پر سلام ذکر ہوا ہے:
السلام علی نعیم بن العجلان الانصاری۔
(الاقبال: جلد 3 صفحہ 77)
