میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 10

رافضی شیعہ اہل سنت پر اعتراض کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ یعنی اہل سنت نے میدان کربلا میں حضرت حسینؓ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہتر 72 شہداء کربلا میں سے اکیس شہداء وہ ہیں جو نبی کریمﷺ کے صحابی تھے اور دوسری طرف دشمنوں کی فوج میں کوفی شیعہ تھے جن کے ہزاروں خطوط پڑھ کر اور انہیں اپنا مخلص شیعہ سمجھ کر حضرت حسینؓ اپنے اہل و عیال اور رفقاء کے ساتھ کوفہ آ رہے تھے۔ اصل قاتلینِ حسینؓ و اہل بیت یہی ملعون شیعہ تھے۔

اس تحریر میں صرف ان اصحابِ محمدﷺ کے احوال و واقعات کو درج کیا گیا ہے جو میدان کربلا میں نواسۂ رسولﷺ کی حمایت کرتے ہوئے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔

شہداء کربلا اصحابِ نبی کریمﷺ کو مختلف اہل سنت و اہل تشیع کے معتبر منابع سے ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بعض ان صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی درج کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے جو معتبر کتب میں درج نہ تھے۔

1: اسلم بن کثیر الازدی(مسلم بن کثیر):

زیارت ناحیہ میں ان کا نام’’اسلم‘‘ذکر ہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے’’اسلم‘‘ کے ’’مسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘بیان ہوا ہے زیارت ناحیہ کے جملات یوں ہیں:

السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘ 

(اقبال الاعمال: جلد 3 صفحہ 79)

مرحوم زنجانی نے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحابی رسول(ﷺ) تھے۔ (وسیلۃ الدارین: صفحہ 106)

مرحوم شیخ طوسی اور مامقانی نے اپنی کتب رجال میں نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل میں تیر لگنے سے پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے’’اعرج‘‘ (ایک پاؤں سے اپاہج) ہو گئے انھوں نے صحبتِ پیغمبر اسلامﷺ کو درک کیا تھا۔

عسقلانی لکھتے ہیں:

مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج۔۔۔الکوفی لہ ادراک للنبی(ص) 

مزید اضافہ کرتے ہیں فتح مصر میں بھی یہ صحابی رسول(ﷺ) حاضر تھے۔

طبری اور ابن شھر آشوب نے ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کربلا میں جملۂ اولیٰ میں شہید ہوئے۔

(فرسان الھیجاء: ذبیح اللہ محلاتی: صفحہ 36)

مسلم بن کثیر’’ازد‘‘ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی تو ان دنوں یہ صحابی رسول(ص) کوفہ میں قیام پذیر تھے یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کو کوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں۔ پھر حضرت مسلم بن عقیل جب کوفہ میں سفیرِ حسین بن کر پہنچے تو انھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلم کی شہادت کے بعد کوفہ کو ترک کیا اور کربلا کے نزدیک حضرت امام حسین سے جا ملے اور پہلے حملہ میں جام شہادت نوش کی۔   

(شہدائے کربلا: گروہ مصنفین: صفحہ 358)

حضرت رسول اکرم(ﷺ) نے اپنے اس صحابی کے متعلق جو ایک جنگ میں ’’اعرج‘‘ ہونے کے باوجود شریک ہوئے اور اپنی جان کی قربانی پیش کی فرمایا:

والذی نفسی بیدہ لقد رأیت عمروبن الجموح یطأُ فی الجنہ بعرج‘‘

یعنی مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے دیکھ رہا ہوں عمرو بن الجموح کو کہ لنگڑا ہو کر بھی جنت میں ٹہل رہا ہے۔

 اس بنا پرحضرت مسلم بن کثیر کا بھی وہی مقام ہے کہ اگرچہ قرآن فرماتا ہے:

لیس علی الاعمی خرج ولا علی الاعرج حرج (سورۃ فتح: آیت 17)

یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ ہی لنگڑے پر کوئی مؤاخذہ ہے لیکن اس فداکار اسلام نے نواسۂ رسولﷺ کی حمایت میں اپنی اس اپاہج حالت کے باوجود جان قربان کر کے ثابت کیا کہ اسلام کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے یہی وجہ ہے’’صاحب تنقیح المقال‘‘ کے یہ جملے ہیں:

شہیدالطف غنی عن التوثیق

فرماتے ہیں چونکہ کربلا کے شھداء میں شامل لہٰذا وثاقت کی بحث سے بے نیاز ہیں۔

2: حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ:

 نبی کریمﷺ کے صحابی تھے جنگ بدر و حنین میں شرکت بھی کی۔

(تنقیح المقال: مامقانی: جلد 1 صفحہ 154)

مرحوم مامقانی فرماتے ہیں: (انس)بن حارث صحابی نال بالطف الشھادۃ

صحابی رسول تھے اور کربلا میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔

(مقتل الحسین: مقرم: جلد 2 صفحہ 253)

ابن عبدالبر اپنی کتاب الاستیعاب میں یوں رقمطراز ہیں:

انس بن حارث رویٰ عنہ والد اشعث بن سلیم عن النبی(ص) فی قتل الحسین وقتل مع الحسین رضی اللہ عنھما

’’انس بن حارث کے واسطہ سے اشعث بن سلیم کے والد نے نبی اکرم(ص) سے امام حسین(ع) کی شہادت سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ یہ (انس بن حارث) حضرت حسین(ع) کے ہمراہ شہید ہوئے۔‘‘

(الاستعیاب: ابن عبداللہ: جلد 1 صفحہ 112)

 الاستیعاب نے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ یوں ہے کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا(ﷺ) سے سنا تھا کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا: ’’میرا بیٹا(حسین) کربلا کی سرزمین پر قتل کیا جائے گا جو شخص اس وقت زندہ ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مددونصرت کو پہنچے۔‘‘ 

روای کہتا ہے کہ انس بن حارث نے پیغمبر(ﷺ) کے اس فرمان پر لبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اور امام حسین کے قدموں پر اپنی جان نچھاور کردی۔

یہ مطلب درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:

اسد الغابہ، ابن اثیر، جلد 1،صفحہ 122۔ تاریخ الکبیر: بخاری: جلد 2 صفحہ 30۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن جواہر العسقلانی، جلد 1 صفحہ 270۔)

 اس حدیث نبوی (ﷺ) کی اہمیت کے پیشث نظر ضروری سمجھتے ہیں کہ اسے کامل سند کے ساتھ ذکر کر دیا جائے:

سعد(سعید)بن عبدالملک بن واقد الحرانی بن عطا بن مسلم الخقاف عن اشعث بن سلیم عن ابیہ قال سمعت انس بن حارث یقول:سمعت رسول اللہ(ص) یقول:ان ابنی ھذا(یعنی الحسین)یُقتل بارض یقال لھا کربلا فمن شھد منکم فلینصرہ

قال(العسقلانی): فخرج انس بن الحرث الی کربلا فقتل مع الحسین

صاحب فرسان نے ابن عساکر سے یوں نقل کیا ہے:

وقال ابن عساکر انس بن الحرث کان صحابیاً کبیرا ممن رأی النبی(ص) وسمع حدیثہ وذکرہ عبدالرحمٰن السلمی فی اصحاب الصفہ۔۔

(فرسان الھیجاء: محلاتی: صفحہ 37۔)

ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن الحرث ان عظیم اصحاب رسول(ﷺ) میں سے تھے جنھیں حضرت پیغمبر(ﷺ) کی زیارت نصیب ہوئی انھوں نے آپ(ﷺ) سے حدیث بھی سنی تھی عبدالرحمٰن سلمی نے انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا ہے۔۔۔‘‘

صفحہ 1 از 10