میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 10

بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت انس کوفہ سے نکل پڑے ایک مقام پر امام حسین(ع) اور عبیداللہ بن حرجعفی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی فوراً امام حسین(ع) کی خدمت حاضر ہوئے اور قسم کھانے کے بعد عرض کی ’’کوفہ سے نکلتے وقت میری نیت یہ تھی کہ عبیداللہ بن حر کی طرح کسی کا ساتھ نہ دونگا (نہ امام کا نہ دشمن کا) یعنی جنگ سے اجتناب کرونگا لیکن خدواند نے میری مدد فرمائی کہ آپ کی مدد ونصرت کرنے کو میرے دل میں ڈال دیا اور مجھے جرأت نصیب فرمائی تاکہ اس حق کے راستے میں آپ کا ساتھ دوں۔‘‘

حضرت امام حسین (ع) نے انھیں ہدایت اور سلامتی ایمان کی نوید سنائی اور انھیں اپنے ساتھ لے لیا۔

(انساب الاشراف: بلاذری: جلد 3، صفحہ 175 (دارالتعارف)

یہ صحابی رسول نواسۂ رسول امام حسین (ع) کے دشمنوں سے جنگ کرنے کی غرض سے کربلا میں موجود ہیں حضرت امام حسین(ع) نے اپنے اس وفادار ساتھی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ عمر بن سعد کو حضرت کا پیغام پہنچائے اور اس ملعون کو نصیحت کرے کہ شاید وہ ہوش میں آ جائے اور قتلِ حسین سے باز رہے۔ جب حضرت انس، عمر بن سعد کے پاس پہنچے تو اس کو سلام نہ کیا عمر بن سعد نے اعتراض کیا کہ مجھے سلام کیوں نہیں کیا، آیا تو مجھے کافر اور منکر خدا سمجھتا ہے؟

حضرت انسؓ نے فرمایا: ’’تو کیسے منکر خدا و رسول(ﷺ) نہ ہو جبکہ تو فرزند رسول کے خون بہانے کا عزم کر چکا ہے!‘‘

یہ جملہ سن کر عمر بن سعد سر نیچے کر لیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ اس گروہ(گروہ حسین) کا قاتل جہنم میں جائے گا لیکن عبیداللہ بن زیاد کے حکم کی اطاعت ضروری ہے۔ 

(فرسان الھیجاء: صفحہ 37)

 ابتدائے ملاقات سے حضرت انس تکلیف دہ حالات اپنی نظروں سے دیکھ رہے تھے لہٰذا جب دشمن کی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو حضرت انسؓ بھی دیگر اصحابِ حسینؓ کی طرح حضرت امام(ع) سے اجازت طلب کر چکے عازم میدان ہوئے یہ مجاہد جوان نہیں تھا گو ایمان جوان تھا نقل کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ کی حالت یہ تھی کہ سن پیری(بڑھاپے) کی وجہ سے خمیدہ (جھکی ہوئی)کمر کو شال (رومال) سے باندھ کر سیدھا کرتے ہیں، سفید آبرو، آنکھوں پر پڑ رہے تھے، رومال پیشانی پر باندھ کر اپنی آنکھوں سے ان بالوں کو ہٹاتے ہیں اور میدان کارزار میں روانہ ہوتے ہیں۔

حضرت امام حسین(ع) نے جب اپنے اس بوڑھے صحابی کو دیکھا تو حضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: ’"خدا تجھ سے یہ قربانی قبول کرے اے پیرمرد۔‘‘  

(حیاۃ الامام الحسین(ع): جلد 3 صفحہ 234)

 ہر مجاہد جنگ کرتے وقت رجز(مجاہدانہ اشعار)پڑھا کرتا تھا جو رجز حضرت انسؓ نے پڑھا ہے نہایت پُر معنیٰ تھا پہلے اپنا تعارف کرایا پھر کہا:

واستقلبوا لقوم بغرٍالآن آل علی شیعۃ الرحمٰن،

(وآل حرب شیعۃ الشیطان: صفحہ 20)

کاہل ودان نسب جانتے ہیں کہ میرا قبیلہ دشمن کو نابود کرنے والا ہے اے میری قوم شیرغراں کی طرح دشمن کے مقابلے میں جنگ کرو کیونکہ آل علی رحمان کے پیروکار جبکہ آل حرب(بنوسفیان)شیطان کے پیروکار ہیں۔

(الفتوح: جلد 5، صفحہ 196)

 حضرت انسؓ نے بڑھاپے کے باوجود سخت جنگ کی 12 یا 18 دشمنوں کوقتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا زیارت ناحیہ کے جملات یہ ہیں:

السلام علی انس بن الکاھل الاسدی

(الاقبال: جلد 3، صفحہ 344)

3: حضرت بکر بن حی رضی اللہ عنہ:

 علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں حدایق الوردیہ سے نقل کیا ہے کہ ’’بکر بن حی‘‘ کوفہ سے عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہو کر کربلا پہنچا لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی تو حضرت امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر عمر بن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہید ہو گئے منھی الآمال میں ان کا ذکر ان شہداء میں موجود ہے جو حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے۔

(منتھی الآمال: جلد 1)

تنقیح المقال نے ’’حضرت بکر بن حیؓ‘‘ کو شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے عبارت یوں ہے:

بکربن حی من شھدالطف بحکم الوثاقۃ

ابن حجر عسقلانیؒ نے حضرت بکر بن حیؓ کے ترجمہ میں لکھا ہے:

بکربن حی بن علی تمیم بن ثعلبہ بن شھاب بن لام الطائی۔۔لہ ادراک ولولدہ مسعود ذکربالکوفہ فی زمان الحجاج وکان فارساً شجاعاً

حضرت بکر بن حیؓ نے حضرت پیغمبر(ﷺ) کے محضر مبارک کو در کیا اور ان کے بیٹے مسعود کے بارے میں ملتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں کوفہ میں مقیم تھا۔

(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 349)

 الاصابہ میں حضرت بکر بن حیؓ کے صحابی رسول(ص) ہونے کی گواہی ملتی ہے گو بیان نہیں کیا کہ یہ صحابی کربلا میں شہید ہوئے یا نہیں لیکن دیگر منابع رجال و مقاتل میں انھیں شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے۔

4: حضرت جابر بن عروہ غفاری رضی اللہ عنہ:

کتاب’’شہدائے کربلا‘‘ میں بیان ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک یہ صحابی رسول خدا (ﷺ) تھے جو کربلا میں شہید ہوئے۔ 

جنگ بدر اور دیگر غزوات میں رسول اکرم(ﷺ) کے ہمراہ شریک ہوئے یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کر اپنے ابروؤں کو آنکھوں سے ہٹاتے ہیں اور عازم میدان جنگ ہوتے ہیں جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی تو فرمایا: اے پیرمرد! خدا تجھے اجر دے۔‘‘

(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 349)

 ذبیح اللہ محلاتی نے مقتل خوارزمی سے درج ذیل عبارت نقل کی ہے:

ثم یرز جابر بن عروۃ الغفاری وکان شیخاً کبیراً وقد شھد مع رسول اللہ بدراً او حنیناً وجعل یشد وسطہ بعمامعتہ ثم شدحاجبیہ بعصابتہ حتی رفعھما عن عینیہ والحسین (ع) ینظر الیہ وھویقول شکراللہ سعیک یاشیخ فحمل فلم یزل یقاتل حتی قتل ستین رجلاً ثم استثھد رضی اللہ عنہ‘‘۔

(فرسان الھیجاء: صفحہ 54)

 بعض کتب جیسے تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف اور وسیلۃ الدارین میں صحابی رسول(ﷺ) اور شہید کربلا کے عنوان سے بیان ہوا ہے البتہ دیگر معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود نہیں اس وجہ سے بعض محققین ان کے بارے میں مردد ہیں۔

’’تنقیح‘‘ کے جملات یہ ہیں ’’جابر بن عمیر الانصاری، صحانی مجہول‘‘

(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 198)

وسیلۃ الدارین کی عبارت کے مطابق یہ صحابی رسول تھے اور جنگ بدر کے علاوہ دیگر جنگوں میں بھی شریک رہے۔

انّ جابر بن عروہ کان اصحاب رسول اللہ(ص) یوم بدر وغیرھا

(وسیلۃ الدارین: زنجانی: صفحہ 112)

جب دشمن کے مقابلہ میں آئے تو یہ رجز پڑھا:

قد علمت حقاً بنوغفار وخندف ثم بنو نزار

صفحہ 2 از 10