میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 10

ینصرنا لاحمدمختار یاقوم حاموا عن بنی الاطہار

الطیبین السادۃ الاخیار صلی علھم خالق الابرار

’’یہ بنوغفار و خندف نزار قبائل جانتے ہیں کہ ہم یاور محمد مصطفیٰ(ﷺ) ہیں اے لوگو آل اطہار جو سید و سردار ہیں ان کی حمایت کرو کیونکہ خالق ابرار نے بھی ان پر درودوسلام بھیجا ہے۔‘‘

ان الفاظ کے ساتھ دشمن پر آخری حجت تمام کرتے ہوئے چند افراد کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔

 (مقتل الحسین(ع): ابی مخنف: صفحہ 116،115)

5:حضرت جنادۃ بن کعب الانصاری رضی اللہ عنہ:

 حضرت جنادہ بن کعب وہ صحابی رسول(ﷺ) ہیں جو حضرت امام حسین(ع) کی نصرت کے لئے کربلا میں اپنی زوجہ اور کم سن فرزند کے ساتھ شریک ہوئے خود کو اپنے بیٹے سمیت نواسۂ رسول کے قدموں پر قربان کر دیا۔

 علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں جنادہ صحابی رسول خدا اور حضرت علی(ع) کے مخلص شیعہ تھے۔ جنگ صفین میں حضرت علی (ع) کے ساتھ شریک ہوئے۔

(زندگانی امام حسین(ع)، رسول محلاتی: صفحہ 252)

 حضرت جنادۃ بن کعب الانصاریؓ کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کے لئے بیعت لینے والوں میں شامل تھے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کو ترک کیا اور امام حسین سے جا ملے۔

تنقیح المقال نے جنادہ کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے:

جنادۃ بن (کعب)بن الحرث السلمانی الازدی الانصاری الخزرجی من شھداء الطف۔۔۔وقدذکراھل السیرانہ کان من اصحاب رسول اللہ(ص 

(تنقیح المقال: مامقانی: جلد 1 صفحہ 234)

 صاحب کتاب فرسان نے تاریخ ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے: ابن مسعود روایت کرتے ہیں’’حضرت پیغمبر اکرم(ﷺ) نے حضرت جنادۃ بن الحارث کو ایک مکتوب میں بیان فرمایا کہ یہ مکتوب محمد رسول اللہ(ﷺ) کی جانب سے جنادہ اور اس کی قوم نیز ہر اس شخص کے لئے ہے جو اس کی پیروی کرے گا کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور خدا و رسول(ﷺ) کی اطاعت کریں جو اس حکم پر عمل کرے گا خدا و رسول(ﷺ) کی حفظ وامان میں رہے گا۔‘‘

(فرسان الھیجاء: صفحہ 76)

 اس فداکار صحابی رسول(ﷺ) نے اپنے راہبر کے حکم پر عمل کر کے نہ فقط مال کی زکوٰۃ ادا کی بلکہ اپنی جان اور اولاد کی زکوٰۃ بھی دیتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرلی۔ حضرت جنادہ کی زوجہ ’’مسعود خزرجی‘‘ کی بیٹی اور بڑی شجاع و فداکار خاتون تھی جب جنادہ شہید ہوچکے تو اس مجاہدہ عورت نے اپنے خورد سال بیٹے عمرو بن جنادہ کو(جو گیارہ یا نوسال کی عمر میں تھا)کو حکم دیا کہ جاؤ جہاد کرو۔ 

(تنقیح المقال:  جلد 2، صفحہ 327)

یہ باادب بچہ ماں کی اجازت کے باوجود اپنے مولا و آقا حضرت امام حسین کی خدمت میں آیا اور بڑے احترام سے عرض کی مجھے جہاد کی اجازت عطا فرمائیں۔

حضرت امام حسین(ع) نے اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ شاید تیری ماں راضی نہ ہو (کیونکہ تیرا سن چھوٹا ہے اور تیری ماں بوڑھی ہے) یہ جملات سننے تھے کہ اس ننھے مجاہد نے عرض کی کہ

انّ امّی قدامرتنی

 (میری ماں تو مجھے اجازت دے چکی ہیں)

میری ماں نے نہ فقط اجازت دی ہے بلکہ مجھے لباس جنگ اس نے خود پہنایا ہے اور حکم دیا ہے آپ پر جان قربان کردوں۔ امام حسین نے جب اس کا جذبۂ جہاد دیکھا تو اجازت دی میدان جنگ میں آ کر صحابی رسول کے اس کمسن فرزند نے اپنا تعارف بڑے نرالے انداز میں کرایا۔ خلاف معمول اپنا نام یا والد اور قبیلہ کا ذکر نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ اس کمسن بچے کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ یہ کس کا فرزند ہے۔ بعض کتب میں یہ جملہ ملتا ہے کہ

خرج شباب قتل ابوہ فی المعرکہ

(حماسہ حسینی: استاد شہید مطہری: (رح) جلد 2 صفحہ 327)

دشمن کو للکار کر کہتا ہے:

امیری حسینٌ ونعم الامیر سرور فواد البشیر النذیر 

علیٌ وفاطمہ والداہ فھل تعلمون لہ من نظیر

لہ طلعۃ مثل شمس الضحیٰ لہ غُرّہ مثل بدرالمنیر۔

’’میرے آقا و سردار اور بہترین سردار حسین ہیں بشیر النذیر (پیغمبراکرم(ﷺ) کے دل کا چین ہیں۔

علی و فاطمہ جس کے والدین ہوں کیا اس کی مثال(دنیا میں) کہیں مل سکتی ہے؟

چمکتے سورج کی مانند نور افشانی کرنے والا 

اور چودھویں کے چاند کی مانند (تاریکیوں میں) روشنی دینے والا راہنما امام ہیں۔‘‘

(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 282)

 میدان جنگ میں شہید ہو جانے کے بعد دشمن نے سر جدا کرکے ماں کی طرف پھینکا ماں نے سر اٹھا کر کہا:’’مرحبا اے نورعین‘‘اور پھر دشمن کو دے مارا اور عمود خیمہ اٹھا کر دشمن کی فوج پر حملہ کرنا چاہا لیکن حضرت امام حسین نے واپس بلالیا اور اس باوفا خاتون کے حق میں دعا فرمائی۔

حضرت جنادہ کا نام بعض منابع میں ’’جابر‘‘

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 226)

یا ’’جبار‘‘ یا ’’جیاد‘‘ درج ہوا ہے ان کے والد کے نام کو بھی بعض نے ’’حارث‘‘(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 226)

اور بعض نے ’’حرث‘‘ (انساب الاشراف، البلاذری: جلد 3 صفحہ 198) ذکر کیا جبکہ قاموس (قاموس الرجال: جلد 2 صفحہ 724) میں ’’جنادہ‘‘ کے نام سے موجود ہے ان کے قبیلہ کا نام ’’سلمانی‘‘(الکامل فی التاریخ: ابن اثیر: جلد 4 صفحہ 74۔)

یا’’سلمانی ازدی‘‘(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 234) بیان ہوا ہے۔

یہ صحابی رسول(ﷺ) ’’عذیت الھجانات‘‘کے مقام پر امام حسین(ع) کے حضور شرفیاب ہوئے اسی دوران’’حر‘‘ امام حسین(ع) کا راستہ روک کر انھیں گرفتار کرنا چاہتا تھا جبکہ امام حسین(ع) کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس کام سے باز رہا امام ان تازہ شامل ہونے والے افراد (جیسے جنادہ بن حارث) کے ذریعے کوفہ کے حالات سے مطلع ہوئے اس وقت سے لے کر روز عاشور تک ساتھ رہے صبح عاشور حضرت جنادہ بعض دیگر افراد کے ساتھ تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کے لشکر پر حملہ آور ہوئے دشمن کے نرغہ میں جانے کی وجہ سے تمام افراد ایک مقام پر درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ زیارت رجبیہ وناحیہ میں ان پر’’سلام‘‘ ذکر ہوا ہے۔

(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 115)

6: حضرت جندب بن حجیر الخولانی الکوفی رضی اللہ عنہ:

 حضرت جندب بن حجیر کندی خولانی‘‘یا’’جندب بن حجر‘‘پیغمبر اکرم (ص) کے عظیم صحابی اور اہل کوفہ میں سے تھے۔

(اقبال الاعمال: جلد 3 صفحہ 78)

صفحہ 3 از 10