میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 10

حضرت جندبؓ ان افراد میں سے ہیں جنھیں حضرت عثمانؓ نے کوفہ سے شام بھیجا تھا جنگ صفین میں بھی شرکت کی اور حضرت علیؓ کی طرف سے قبیلہ’’کندہ اورازد‘‘ کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اور واقعہ کربلا میں امام حسین(ع) کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 136)

 صاحب وسیلۃ الدارین لکھتے ہیں:

قال ابن عساکر فی تاریخہ ھوجندب بن حجیر بن جندب بن زھیر بن الحارث بن کثیر بن جثم بن حجیر الکندی الخولانی الکوفی یقال لہ صحبۃ مع رسول اللہ وھو من اھل الکوفہ وشھد مع النبی(ص)۔۔۔وقال علماء السیر ومنھم الطبری:انہ قاتل جندب بن حجیربین یدیہ الحسین(ع) حتی قتل فی اول القتال۔۔۔

 مندرجہ بالا ترجمہ کے مطابق یہ صحابی رسول(ﷺ) اور شہدائے کربلا میں سے تھے۔

(وسیلۃ الدارین: صفحہ 114)

 حضرت جندب بن حجیرؓ کے صحابی رسول ہونے میں اتفاق ہے لیکن مقام شہادت میں اختلاف ہے۔

ابن عساکر انھیں جنگ صفین کے شہداء میں ذکر کرتے ہیں۔

(تاریخ اسلام: ابن عساکر: جلد 11صفحہ 303)

 بعض دیگر معتبر منابع انھیں شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں۔ تنقیح المقال میں ان کا ذکر اس طرح ہے:

شھد الطف۔۔۔وعدہ الشیخ من رجالہ من اصحاب الحسین واقول ھوجندب بن حجیرالکندی الخولانی الکوفی وذکراھل السیر انّ لہ صحبۃ و۔۔۔

(تنقیح المقال: جلد 1 صفحہ 236)

 رجال طوسی ’’اقبال‘‘ اور’’اعیان الشیعہ‘‘ میں بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا گیا ہے۔

(رجال: شیخ طوسی: صفحہ 72 اقبال: جلد 3 صفحہ 346)

 حضرت جندب کوفہ کے نامدار اور معروف افراد سے تعلق رکھتے تھے کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے عراق میں حر کا لشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسین سے مقام ’’حاجر‘‘میں ملاقات کی اور امام کے ہمراہ وارد کربلا ہوئے جب روز عاشور (عمر سعد کی طرف سے) جنگ شروع ہوئی یہ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔

(شہدائے کربلا عبدالحسین بینش: صفحہ 136)

7: حضرت حبیب بن مظاہر الاسدی رضی اللہ عنہ:

خاندان بنی اسد کے معروف فرد حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے صحابی اور حضرت علی، امام حسن و امام حسین کے وفادار ساتھی تھے۔

(رجال: شیخ طوسی: صفحہ 38، 68)

 عسقلانی ان کا ذکر بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ

’’حبیب بن مظاہر بن رئاب بن الاشتر۔۔۔الاسدی کان صحابیاً لہ ادراک وعمرحتی قتل مع الحسین(ع) یوم الطف مع ابن عمہ ربیۃ بن خوط بن رئاب مکنی اباثور‘‘

(الاصابہ: حرف ’’حا‘‘ حبیب بن مظاہر)

معتبر منابع میں ان کے حالات زندگی اور کربلا میں جہاد کا ذکر مفصل ملتا ہے۔

 حضرت حبیب بن مظاہرؓ حضرت علیؓ کے شاگرد خاص اور وفادار صحابی تھے۔ آپ نے مولا علی کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی بہت سے علوم پر دسترس تھی زہد وتقویٰ کے مالک تھے ان کا شمار پارسان شب اور شیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔

(سفینۃ البحار: جلد 2 صفحہ 26)

 صاحب رجال کشی (اختیار معرفۃ الرجال) فضیل بن زبیر کے حوالہ سے حضرت حبیب بن مظاہرؓ اور میثم تمار کے مابین ہونے والے مکالمے کو نقل کرتے ہیں جس میں یہ دونوں حضرات اپنی شہادت سے متعلق پیش آنے والے حالات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علیؓ کے یہ تربیت شدہ شاگرد ’’علم باطن‘‘ اور’’ علم بلایا ومنایا‘‘(آئندہ آنے والی مشکلات ومصائب) پر کس قدر تسلط رکھتے تھے۔

 تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو۔ ’’رجال کشی: صفحہ 78 ‘‘

حضرت حبیب بن مظاہرؓ کا شمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے۔ روایت میں ہے کہ حضرت حبیب ایک مرتبہ امام حسین سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدم کس صورت میں تھے؟

حضرت امام حسین(ع) نے فرمایا:’’ہم نور کی مانند تھے اور عرش الہٰی کے گرد طواف کررہے تھے اور فرشتوں کو تسبیح و تمحید و تھلیل سکھاتے تھے۔

(بحارالانوار: مجلسی: جلد 40 صفحہ 311)

 تسبیح یعنی سبحان اللہ‘تمحید یعنی الحمداللہ، اور تہلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا۔

حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے امام حسین(ع) کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)

جب حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو سب سے پہلا شخص جس نے حضرت مسلمؓ کی حمایت اور وفاداری کا اعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے، اس کے بعد حضرت حبیب بن مظاہرؓ کھڑے ہوئے اور عابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:

’’خدا تم پر رحم کرے کہ تو نے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کا حال بیان کردیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہوں جیسے عابس نے بیان کیا ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)

حضرت حبیبؓ حضرت مسلمؓ کے بہترین حامی تھے اور مسلم بن عوسجہ کے ساتھ مل کر حضرت مسلم بن عقیلؓ کے لئے لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔

 (ابصارالعین: سماوی: صفحہ 78۔)

جناب مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کے بعد اہل کوفہ کی بےوفائی کی وجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں(حبیب اور مسلم بن عوسجہ)کو مخفی کردیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہرؓ کو امام حسین(ع) کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تو رات کے وقت سے فائدہ اٹھا کر حضرت سے جا ملے حالت یہ تھی کہ دن کو مخفی ہو جاتے اور رات کو سفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کو پالیا۔

(اعیان الشیعہ: جلد 2، صفحہ 544)

بعض منابع نے ذکر کیا ہے کہ حضرت امام حسین(ع) کو جب جناب مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے حبیب بن مظاہرؓ کو خط لکھ کر بلایا۔

(اسرا الشھادہ: صفحہ 396)

لیکن یہ مطلب معتبر ذرائع کی رو سے ثابت نہیں۔(شہدائے کربلا: صفحہ 134)

صفحہ 4 از 10