میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 10

کربلا پہنچنے کے بعد جب عم زاد سعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا تو امام حسین(ع) سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ ’’بنی اسد‘‘ کے پاس گئے اور مفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسین کی مدد و نصرت کے لئے درخواست کی جس کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:’’۔۔۔میں تمہارے لئے بہترین تحفہ لایا ہوں وہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں فرزند رسول کی مدد کے لئے تیار ہو جاؤ۔۔۔نواسۂ رسول آج عمر سعد کے بائیس ہزار لشکر کے محاصرہ میں ہے آپ لوگ میرے ہم قبیلہ ہیں میری بات پر توجہ کریں تاکہ دنیا وآخرت کی سعادت تمہیں نصیب ہوسکے خدا کی قسم تم میں سے جو بھی فرزند رسول خدا کے قدموں میں جان قربان کرے گا مقام اعلیٰ علیین پر حضرت رسول خدا کے ساتھ محشور ہوگا۔

(الفتوح: جلد 5، صفحہ 159)

حضرت حبیب کی تقریر اتنی موثر تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس آواز پر لبیک کہا اور حضرت امام حسین(ع) کا ساتھ دینے کے لئے آمادہ و تیار ہوگئے لیکن ’’ارزق بن حرب صیدادی‘‘ ملعون نے چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ان افراد پرحملہ کرکے انھیں منتشر کردیا۔ حضرت حبیب نے یہ اطلاع حضرت امام کو پہنچائی جب حضرت امام حسین اپنے خدا سے راز و نیاز کرنے کے لئے عصر تا سوعا(نہم محرم)کو دشمن سے مہلت طلب کی تو اس دوران ’’حبیب ‘‘ نے لشکر عمر سعد کو موعظہ و نصیحت کرتے ہوئے کہا:

’’خدا کی قسم! کتنی بری قوم ہوگی کہ جب فردائے قیامت اپنے پیغمبر کے حضور حاضر ہوں گے تو ایسے حال میں کہ اسی رسول کے نواسہ اور ان کے یار و انصار کے خون سے اس کے ہاتھ آلودہ ہوں گے۔‘‘

شہادت کی موت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھ ’’یزید بن حصین ‘‘سے مزاح کرتے ہیں تو یزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کا جبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اور ہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں تو حبیب نے کہا اے دوست اس سے بہتر کونسا خوشی کا وقت ہوگا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہو کر بہشت میں پہنچنے والے ہیں۔

(اخیارالرجال الکشی: صفحہ 79)

ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کو بتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسین کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کر جائیں تو آپ تمام اصحاب کو جمع کرکے درخیمہ پر لائے اور حضرت زینب کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا دوبارہ عہد کیا تاکہ حضرت زینب کی یہ پریشانی ختم ہوسکے۔

(الدّمعۃ الساکبہ: جلد 4 صفحہ 274)

صبح روز عاشور حضرت امام حسین(ع) نے اپنے لشکر کو منظم کیا دائیں طرف موجود لشکر کی کمانڈ زہیر بن قین اور بائیں طرف حبیب بن مظاہر جبکہ قلب لشکر کی سربراہی حضرت ابوالفضل العباس کے سپرد کی اسی اثنا میں دشمن کے سپاہی وارد میدان ہو کر مبارزہ طلب کرتے ہیں تو حبیب مقابلہ کے لئے آمادہ ہوئے لیکن حضرت امام(ع) نے روک لیا اس طرح ظہر عاشور جب امام نے لشکر عمر سعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لئے کہا تو ایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی(نعوذباللہ)اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اور فوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے

 ’’اے حمار(گدھے)!تیرے خیال باطل میں آل پیغمبر کی نماز قبول نہیں!؟ اور تمہاری نماز قبول ہے؟!!‘‘

اس طرح دونوں کا مقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کو زمین پر گرا دیا پھر باقاعدہ رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کو واصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کا وار کیا جس کی تاب نہ لاکر آپ شہید ہوگئے اس نے آپ کے سر کو جدا کر لیا اسی سر کو بعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کر کوفہ میں پھرایا گیا گویا کوفہ کا نامور مجاہد اہل کوفہ سے یہ کہہ رہا تھا دیکھو یہ سر آل رسول کی خاطر کٹ سکتا ہے لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں سکتا (شہداء کربلا: صفحہ 135)

السلام علیک یاحبیب بن مظاھرالاسدی۔

8: حضرت زاھر بن عمروالاسلمی رضی اللہ عنہ:

 ’’زاھر‘‘ شجاع اور بہادر شخص تھے صحابی رسول(ﷺ) اور اصحاب شجرہ میں سے تھے اور محبین اہلِ بیت علیھم السلام میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت رسول خدا (ﷺ) کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ اور جنگ خیبر میں شریک ہوئے۔

ذبیح اللہ محلاتی وسیلۃ الدارین کی عبارت نقل کرتے ہیں: 

قال العسقلانی فی الاصابہ ھوزاھر بن عمرو بن الاسود بن حجاج بن قیس الاسدی الکندی من اصحاب الشجرۃ وسکن الکوفہ وروی عن النبی(ص) وشھدالحدیبیہ وخیبر

’’زاھر درحقیقت زاھر بن عمرو الکندی ہیں جواصحاب شجرہ میں سے تھے کوفہ میں مقیم تھے اور حضرت رسول خدا (ص) سے روایت بھی نقل کی ہے حدیبیہ اور خیبر میں شریک تھے۔‘‘

(فرسان الھیجاء: صفحہ 138 از وسیلۃ الدارین: صفحہ 137)

 حضرت زاھر کے بیٹے ’’مجزأۃ‘‘ نے اپنے باپ کے واسطہ سے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت بیان کی ہے فوق الذکر مطلب مختصر فرق کے ساتھ دیگر منابع میں بھی موجو د ہے۔

(اسد الغابہ: ابن اثیرعلی بن محمد: جلد 2 صفحہ 192، الاصابہ: جلد 1 صفحہ 542)

 بعض محققین کے خیال میں زاھر اور زاھر اسلمی دو الگ الگ افراد ہیں۔(قاموس الرجال: شوشتری: جلد 2 صفحہ 402، 406)

 تنقیح المقال کی عبارت میں انھیں اصحاب شجرہ اور شہدائے کربلا میں شمار کیاگیا ہے۔

زاھر اسلمی والدمجزأۃ من اصحاب الشجرہ

نیز فرماتے ہیں:

زاھر صاحب عمرو بن الحمق شھید الطف فوق الوثاقہ وعدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب ابی عبداللہ واقول ھوزاھر بن عمروالاسلمی الکندی من اصحاب الشجرہ روی عن النبی(ص) وشھد الحدیبیہ وخیبر وکان من اصحاب عمربن الحمق الخزاعی کمانص علی ذالک اھل السیرو۔

(تنقیح المقال:  جلد 1 صفحہ 438)

 مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’زاھر‘‘ نام کے دو اشخاص ہیں لیکن مرحوم مامقانی کی نظر میں زاھر بن عمرو اسلمی کاشمار اصحاب شجرہ اور شہدائے کربلا میں ہونا ثابت ہے۔ 

صفحہ 5 از 10