میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 10

نیز بیان کرتے ہیں کہ یہ محب اہل بیت تھے بہت بڑا تجربہ کار پہلوان اور بہادر شخص تھا حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد ’’عمرو بن حمق‘‘ کے ساتھ مل کر معاویہ کی ظالمانہ حکومت اور ابن زیاد کے خلاف برسرپیکار رہا جب معاویہ نے ان کی گرفتاری اور قتل کا حکم صادر کیا تو یہ دونوں شہر سے فرار کر گئے پہاڑوں اور جنگلوں میں زندگی بسر کرنے لگے یہاں تک کہ ’’عمرو بن حمق‘‘حکومتی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد شہید کردیا گیا لیکن زاھر زندہ رہا آخرکار 60ھ حج کے موقعہ پر امام حسین کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور آپ کے ساتھ مل کر کربلا کی جنگ میں شرکت کی عاشورا کے دن پہلے حملے میں جام شہادت نوش کیا۔

(شہداء کربلا: صفحہ 164، ازتنقیح: جلد 1 صفحہ 437 تاریخ مدینہ دمشق: جلد 25 صفحہ 502)

 زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں سلام ان الفاظ میں ذکر ہوا السلام علی زاھر مولیٰ عمرو بن حمق(اقبال: صفحہ 79)

9: حضرت زیاد بن عریب ابو عمرو رضی اللہ عنہ:

 قدیم محققین نے ان سے متعلق کوئی خاص تفصیل بیان نہیں کی، لیکن بعض معاصر نے ان کا ذکر اس طرح درج کیا ہے:

زیاد بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبداللہ بن کعب الصائدبن ہمدان

(جمھرۃ انساب العرب: صفحہ 395)

 حضرت ابوعمرو زیاد بن عریب نے حضرت پیغمبر(ﷺ) کے محضر مبارک کو درک کیا ان کے والد بزرگوار بھی صحابی رسول تھے ابوعمرو شجاع، عابد و زاھد اور شب زندہ دار شخص تھے زیادہ نماز گزار تھے زہد و تقویٰ کی وجہ سے دین کی عزت نے آرام سے نہ بیٹھنے دیا لہٰذا واقعہ کربلا میں اپنا کردار ادا کرنے کی غرض سے حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچے اور دشمن کے خلاف جہاد و مبارزہ کرنے کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔

(ابصارالعین: سماوی:  صفحہ 134)

10: حضرت سعد بن الحارث مولی امیرالمؤمنین(ع):

 حضرت سعد بن حرث خزاعی کے نام سے معروف ہیں۔ قدیم منابع میں ان کا نام شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر نہیں لیکن بعض متاخرین نے شہید کربلا کے عنوان سے ان کے حالات زندگی قلمبند کیے ہیں۔

 حضرت سعد بن حرث خزاعی نے محضر پیغمبر اکرم (ص) کو درک کیا اس لحاظ سے صحابی رسول(ﷺ) ہیں۔ پھر امیرالمؤمنین سیدنا علی(ع) کے ہمراہ رہے حضرت نے انھیں کچھ عرصہ کے لئے سپاہ کوفہ کی ریاست سونپی تھی نیز کچھ مدت کے لئے انھیں آذربائیجان کا گورنر بھی منصوب کیا۔ صاحب فرسان نے ’’حدایق الوردیہ‘‘، ’’ابصارالعین‘‘، ’’تنقیح المقال‘‘ اور’’الاصابہ‘‘ جیسی معتبر کتب سے ان کے حالات نقل کیے ہیں۔

(فرسان الھیجاء: صفحہ 154) 

صاحب فراسان نے الاصابہ کے حوالے سے حضرت سعد کا ذکر یوں کیا ہے (لیکن الاصابہ میں مراجع کرنے سے یہ ذکر نہیں ملا)

سعید بدل سعد بن الحارث بن شاربہ بن مرۃ بن عمران بن ریاح بن سالم بن غاضر بن حبشہ بن کنجب الخزاعی مولیٰ علی بن ابی طالب(ع) لہ ادارک وکان علی شرطۃٍ علی (ع) فی الکوفہ وولاۃ آذربایجان ۔۔

(فرسان الھیجاء: صفحہ 154)

وسیلۃ الدارین نے بھی صفحہں128 پر صحابی اور شہید کربلا کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ تنقیح المقال کی عبارت میں بھی اس طرح موجود ہے:

سعد بن الحارث الخزاعی مولیٰ امیرالمؤمنین صحابی امامی شہید الطف ثقہ

مذید لکھتے ہیں کہ سعد بن الحارث لہ ادراک الصحبۃ النبی(ص) وکان علی شرطۃ امیرالمؤمنین فی الکوفہ وولاۃ آذربائیجان۔

(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 12)

 مزید تفصیلات ان کتب میں موجود نہیں البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ’’حضرت سعد‘‘ امیرالمؤمنین سیدنا علی(ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کا ہر میدان میں یار و مددگار رہا جب حضرت امام حسین(ع) نے قیام کیا تو ابتداء میں اپنے مولا کی خدمت میں مکہ میں جا ملے پھر مکہ سے کربلا آئے اور روز عاشور جنگ کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔

(شہداء کربلا: صفحہ 180)

 اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ’’مرحوم محقق شوشتری‘‘ نے اپنی کتاب میں ان کے صحابی ہونے پر تنقید کی ہے، اس دلیل کی بنا پر کہ اگر صحابی ہوتے تو قدیم منابع نے کیوں ذکر نہیں کیا۔

(قاموس الرجال: شوشتری: جلد 5 صفحہ 27، 28)

لیکن مذکورہ بالا بعض معتبر منابع میں ان کا ذکر صحابی رسول(ص) ہونے کے عنوان سے آ جانا ہمارے مطلب کے اثبات کے لئے کافی ہے۔

11: حضرت شبیب بن عبداللہ (مولیٰ الحرث) رضی اللہ عنہ:

حضرت شبیبؓ بن عبداللہ بن شکل بن حی بن جدیہ حضرت رسول اکرمﷺ کے صحابی اور کوفہ کی معروف و مشہور شخصیت اور بڑے بافضیلت انسان تھے۔

(وسیلۃ الدارین: صفحہ 155، نقل از الاصابہ: جلد 3 صفحہ 305)

جہاں بھی ظلم وستم دیکھا اس کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی اور حضرت علیؓ کے وفادار یار و مددگار رہے۔

(فرسان الھیجاء: صفحہ 167)

مختلف معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے جیسے رجال طوسی، استرآبادی، تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف، تاریخ طبری وغیرہ۔

’’تنقیح‘‘ میں ان کا ذکر اس طرح درج ہے:

’’شبیب بن عبداللہ مولی الحرث صحابی شہیدالطف، فوق الوثاقہ‘‘ شبیب سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اور اپنے مولا امام حسین کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

(کتاب روضۃ الشھداء: صفحہ 295 میں ان پرسلام نقل ہوا ہے۔)

السلام علی شبیب بن عبداللہ مولیٰ بن سریع 

12: حضرت شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری رضی اللہ عنہ:

حضرت شوذبؓ صحابی رسول اور حضرت علی (ع) کے باوفا ساتھی تھے۔ مرحوم ’’زنجانی‘‘ نے علامہ’’مامقانی‘‘ سے ان کا ذکر نقل کیا ہے: 

ذکرالعلامہ مامقانی فی رجالہ شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری ان بعض من لایحصل لہ ترجمہ تخیل انّہ شوذب مولی عابس والحال ان مقامہ اجل من عابس من حیث العلم والتقویٰ وکان شوذب صحابیاً واشترک مع امیرالمؤمنین(ع)

(وسیلۃ الدارین: صفحہ 154)

حضرت شوذب علم و تقویٰ کے اعتبار سے بلندپایہ شخصیت تھے۔ کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لئے حضرت امیرالمؤمنین کی احادیث نقل کرتے تھے امام علی کے ساتھ تینوں جنگوں میں شریک رہے۔

صفحہ 6 از 10