میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 10

جب حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ میں پہنچے تو ان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسین(ع) تک اہل کوفہ کے مزید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔ نہایت مخلص اور عابد و زاھد انسان تھے۔ بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ کوفہ میں حضرت مسلمؓ کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسین کی خدمت میں کربلا پہنچتے ہیں۔ جب حنظلہ بن سعد شبامی شہید ہوگئے تو عابس نے شوذب سے پوچھا کہ کیا خیال ہے؟

کہتے ہیں تیرے ہمراہ فرزند رسول خدا کی نصرت کے لئے جنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ شہادت کا مقام حاصل کر سکوں عابس نے کہا اگر یہ ارادہ ہے توامام کے پاس جا کر اجازت طلب کرو۔ حضرت امام حسین کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت جہاد حاصل کی اور وارد جنگ ہوئے چند دشمنوں کو واصل جہنم کیا آخر میں شہید ہوگئے۔

(شہدائے کربلا: صفحہ 198) 

ان الفاظ میں زیارت رجبیہ اور زیارت ناحیہ میں ان پر سلام بھیجا گیا ہے۔

 السلام علی شوذب مولی شاکر

(اقبال: صفحہ 346)

 قابل توجہ امر یہ ہے کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شوذب، عابس شاکر کے غلام تھے جبکہ اہل علم حضرات سے پوشیدہ نہیں کہ لفظ مولی صرف غلام کے معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ’’ہم پیمان‘‘ کے معنیٰ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ چونکہ شوذب مقام علمی ومعنوی کے اعتبار سے عابس پر برتری رکھتے تھے  لہذا انھیں غلام عابس نہیں کہہ سکتے بلکہ عابس اور اس کے قبیلہ کے ہم پیمان و ہم عہد تھے۔

(عنصرشجاعت: جلد 1 صفحہ 130)

 یہی دلیل علامہ مامقانی سے نقل شدہ ترجمہ میں بیان کی گئی ہے۔

13: حضرت عبدالرحمٰن الارحبی رضی اللہ عنہ:

حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے بزرگ صحابی تھے۔ تمام معتبر منابع میں ان کا ذکر موجود ہے۔ 

جیسے ’’رجال شیخ طوسی،'' ’’رجال استرآبادی،" ’’مامقانی،" نیز ’’الاستیعاب،" ’’الاصابہ‘‘ اور’’وسیلۃ الدارین‘‘ نے بھی نقل کیا ہے۔

 تاریخ طبری اور الفتوح میں تو ان کے بعض واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔

’’الاستیعاب‘‘ کی عبارت اس طرح ہے:

۔۔۔ھوعبدالرحمن بن عبداللہ بن الکدن الارحبی۔۔۔‘‘انہ کان من اصحاب النبی(ص) لہ ھجرۃ۔۔۔

 حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کی خبر جب کوفہ پہنچی تو کچھ لوگ ’’سلمان بن صرد خزاعی‘‘ کے گھر جمع ہوئے تاکہ اجتماعی طور پر حضرت امام حسین(ع) کو خط لکھ کر دعوت دیں اور خلافت کو ان کے سپرد کریں نیز کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کو کوفہ سے باہر نکال دیں ان خطوط کو’’قیس مسہرصیداوی،" عبدالرحمٰن ارحبی اور عمارۃ بن عبداللہ السلولی لے کر حضرت امام حسین کی خدمت میں ہوئے اس طرح یہ گروہ دوم تھا جو حضرت کو دعوت دینے کے لئے آیا۔  پہلا گروہ عبداللہ بن سمیع کی قیادت میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔

حضرت عبدالرحمٰن ارحبیؓ شجاع تجربہ کار فاصل اور فصیح و بلیغ صحابی تھے۔

 (یاران پائیدار: صفحہ 97)

 50 یا 52 ددعوت نامے  

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 352)

سے لے کر 12 رمضان المبارک 60 ؁ھ کو مکہ کی طرف روانہ ہوئے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن ارحبیؓ 150 افراد پر مشتمل ایک وفد کے ہمراہ حضرت امام حسین(ع) کی خدمت اقدس میں پہنچے۔

(الفتوح: جلد 5 صفحہ 48)

مکہ میں حضرت امام(ع) کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا پھر حضرت کے نمائندہ خاص جناب امیر مسلم کے لئے کوفہ میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ کوفہ میں حالات خراب ہونے کے بعد کربلا میں دشمنان دین کے خلاف جنگ میں شرکت کی جب عمر بن سعد نے امام حسین(ع) کے قتل کا پختہ ارادہ کر لیا تو اس صحابیِ رسول(ﷺ) نے اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اپنے مولا و آقا کی حمایت کا اعلان کیا اپنی شجاعت کے کارنامے دکھانے کے علاوہ فصاحت و بلاغت کے ذریعے بھی حسین ابن علی کی حقانیت اور بنوامیہ کے بطلان کو اپنے اشعار میں واضح کیا تاریخ میں اس وفادار صحابی کے جو رجز بیان ہوئے ہیں اس زمانہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ کیونکہ بنوامیہ نے اسلام کے نام پر اسلام کی نابودی کا تہیہ کر رکھا تھا اس لئے وہ صحابہ کرامؓ جو اب پیغمبر اکرمﷺ کے قول و فعل کے ذریعے حقیقی اسلام کے راہبر کی شناخت کر چکے تھے آج دشمنان دین کو اسلام کے حقیقی راہبر کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف دعوت دینا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن کے رجز کا ایک مصرعہ یوں ہے:

انی لمن ینکرنی ابن الکدن انی علی دین حسین وحسن۔

(انساب الاشراف: جلد 3 صفحہ 196)

اس طرح امام حسین(ع) کو’’دین حق‘‘ کا علمبردار سمجھتے ہوئے ان کے قدموں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اس شہید باوفا پر زیارت ناحیہ میں ان الفاظ میں سلام پیش کیا گیا ہے:

السلام علی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کدرالارحبی۔

(الاقبال: جلد 3 صفحہ 79)

14: حضرت عبدالرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی رضی اللہ عنہ:

 مختلف منابع نے ان کے لئے صحابی رسولﷺ ہونے کی گواہی دی ہے انھیں بعض نے انصاری بھی لکھا ہے اصل میں مدینہ میں مقیم تھے جب پیغمبر اسلام(ﷺ) نے مدینہ میں ہجرت فرمائی تو اوس و خزرج قبائل نے اسلام قبول کیا۔ اس وقت سے ان سب کو انصاری کہا جاتا تھا۔

صاحب قاموس الرجال نقل کرتے ہیں کہ:

عبدالرحمٰن بن عبدربہ الانصاری الخزرجی کان صحابیاً لہ ترجمۃ ورویۃ وکان من مخلص اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام۔

صحابی رسولﷺ تھے جن سے روایت بھی نقل ہوئی ہے اور حضرت امیر علیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے۔

  جس روایت کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ درحقیقت ’’غدیرخم‘‘ کے مقام پر پیغمبر اسلامﷺ کی جانب سے ولایتِ علی کا واضح اعلان کرنا ہے پھر جب وفات پیغمبر(ص) کے بعد اکثر افراد جن میں بعض نے دنیاوی مقاصد اور بعض نے خوف کی وجہ سے علی علیہ السلام خلیفہ تسلیم نہ کیا تو ایک مرتبہ رحبہ کے مقام حضرت علیؓ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا کہ جس نے پیغمبر(ص) سے میرے بارے میں کوئی حدیث فضیلت سنی ہو تو بلند ہو کر بیان کرے اسی اثنا میں حضرت عبدالرحمٰن خاموش نہ بیٹھ سکے اور اٹھ کر کہا کہ میں نے غدیر خم کے مقام پر رسول خدا (ص) کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ فرمایا:

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ

 جس کا میں مولا و سردار ہوں اس کا یہ علی مولا و سردار ہے۔

صفحہ 7 از 10