میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل…

میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 9 از 10

یطیر فیھا بجناح اخضر کفی بھذٰا شرفاً فی المحشر۔

(مقتل الحسین(ع): خوارزمی: جلد 2 صفحہ 31)

18: حضرت کنانہ بن عتیق رضی اللہ عنہ:

حضرت کنانہ کوفہ کے شجاع اور متقی و پرہیزگار افراد میں سے تھے اور ان کا شمار قاریان کوفہ میں ہوتا ہے۔

(ابصارالعین: صفحہ 199)

حضرت کنانہ اور ان کا باپ عتیق حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے ہمرکاب جنگ احد میں شریک ہوئے۔

(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 42)

وسیلۃ الدارین نے حضرت کنانہ کے ترجمہ کو رجال ابوعلی سے یوں نقل کیا ہے:

قال ابوعلی فی رجالہ کنانۃ بن عتیق الثعلبی من اصحاب الحسین(ع) قتل معہ بکربلا وقال العسقلانی فی الاصابہ ھوکنانۃ بن عتیق بن معاویہ بن الصامت بن قیس الثعلبی الکوفی شھداء احداً ھووابوہ عتیق فارس رسول اللہ(ص) وقدذکرہ ابن منذہ فی تاریخہ۔۔۔۔۔۔‘‘

(وسیلۃ الدارین: صفحہ 184)

 خلاصہ کلام یہ ہے کہ ’’حضرت کنانہ‘‘ بھی ان اصحاب رسول خدا (ﷺ) میں سے ہیں جو حضرت امام حسین(ع) کی مدد و نصرت کے لئے کربلا تشریف لائے اور اپنی جانوں کو نواسہ رسول کے قدموں میں نچھاور کیا۔

 زیارت رجبیہ اور ناحیہ میں ان پر سلام پیش کیا گیا ہے:

السلام علی کنانۃ بن عتیق۔

(الاقبال: صفحہ 78)

19: حضرت مجمّع بن زیاد جھنّی رضی اللہ عنہ:

حضرت رسول اکرم(ﷺ) کے اصحاب میں سے تھے۔ جنگ بدر و احد میں شریک رہے۔ مختلف منابع نے ان کو صحابی رسول(ﷺ) اور شھید کربلا کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ جیسے ذخیرۃ الدارین، حدایق، ابصارالعین، تنقیح المقال، اور وسیلۃ الدارین وغیرہ۔

 کتاب’’الدوافع الذایتہ‘‘ نے ’’الاستعیاب ‘‘ سے عبارت نقل کی ہے کہ’’ھو مجمّع بن زیاد بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجھنی شھدا بدراً واحد

اس کے عبارت کے نقل کرنے کے بعد خود تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 

اَی انّہ صحابیٌ جلیل بناءً علی ذالک۔۔۔

تنقیح المقال نے بھی الاصابہ اور الاستعیاب سے اس طرح کی عبارت نقل کی ہے کہ یہ صحابی رسول(ﷺ) تھے بدر و احد میں شریک بھی رہے لیکن ہمارے ہاں موجود الاصابہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔

بہرحال جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم کو چھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع بن زیاد ان افراد میں سے تھے جو ڈٹے رہے اور کوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے کربلا میں حضرت امام حسین(ع) سے ملحق ہو کر یزیدی ارادوں کو خاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسین(ع) کا ساتھ دیا یہاں تک کہ اپنی جان قربان کردی۔ دشمن کربلا میں اس مجاہد کو آسانی سے شکست نہ دے سکا تو ان کا محاصرہ کر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہید ہو جاتے ہیں۔

(ابصارالعین: صفحہ 201)

20: حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ:

 شیعہ و سنی کے تمام معتبر ترین منابع جیسے الاستعیاب، الاصابہ، طبقات بن سعد، تنقیح المقال، تاریخ طبری وغیرہ میں ان کا ذکر موجود ہے کہ یہ صحابی رسول خدا (ﷺ) تھے اور صدر اسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے۔ غزوہ آذربائیجان اور جنگ جمل و صفین و نہروان میں بھی شرکت کی۔ حضرت علی(ع) کے باوفا یار و مددگار تھے۔

(فرسان الھیجاء: جلد 2  صفحہ 116)

حضرت مسلم بن عوسجہ مختلف صفات کے مالک بھی تھے شجاع و بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری قرآن، عالم علوم اور متقی و پرہیزگار، باوفا اور شریف انسان تھے۔

(تنقیح المقال: جلد 3 صفحہ 214)

حضرت مسلم بن عقیلؓ کے کوفہ وارد ہوتے ہی ان کی مدد و نصرت میں پیش پیش تھے اور ان کی حمایت میں لوگوں سے بیعت لیتے تھے نیز مجاہدین کے لئے اسلحہ کی فراہمی اور دیگر امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 4 صفحہ 3)

حضرت مسلم و جناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طور پر رات کے وقت اپنی زوجہ کو ساتھ لے کر حضرت امام حسین کی خدمت میں پہنچے۔ سات یا آٹھ محرم کو مسلمؓ کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اور سپاہ یزید کے خلاف ہر مقام پر پیش پیش رہے۔جب امام نے حکم دیا کہ خیمہ کے اطراف میں آگ روشن کی جائے تو شمر ملعون نے آکر توہین آمیز جملات کہے جس پر حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت امام حسین(ع) سے عرض کی کہ اگر اجازت دیں تو اسے ایک تیر سے ڈھیر کر دوں لیکن حضرت نے فرمایا نہیں کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ ہماری طرف سے جنگ کا آغاز ہو۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 424)

شب عاشور جس وقت امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب کو چلے جانے کی اجازت دی تو جہاں بعض دیگر اصحاب امام نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جو تاثرات بیان کئے وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی:

’’خدا کی قسم! ہرگز نہیں چھوڑ کے جاؤں گا یہاں تک کہ اپنے نیزہ کو دشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں خداکی قسم اگر ستر بار مجھے قتل کردیا جائے پھر جلا کر راکھ کر دیا جائے اور ذرہ ذرہ ہو جاؤں پھر اگر زندہ کیا جاؤں تو بھی آپ سے جدا نہیں ہونگا۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ہر بار آپ پر اپنی جان قربان کرونگا اس لئے کہ جان تو ایک ہی جائے گی لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 419)

حضرت مسلم بن عوسجہ عظیم صحابی رسول و امام ہیں کہ جن کو حضرت امام حسین(ع) نے ایک آیت قرآنی کا مصداق قرار دیا جب مسلم بن عوسجہ پچاس دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہوگئے تو حضرت امام حسین نے فوراً ان کی لاش پر پہنچے اور فرمایا:

’’خدا تم پر رحمت کرے اے مسلم‘‘

پھر سورۂ احزاب کی آیت 23 کی تلاوت کی:”

مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا  

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا۔

اس طرح امام حسین(ع) نے اپنے نانا رسول اللہ(ﷺ) کے صحابی کو الوداع کہا۔

 السلام علی مسلم بن عوسجہ الاسدی۔۔۔وکنت اول من اشتری نفسہ واول شھید شھداللہ۔

21: حضرت نعیم بن عجلان رضی اللہ عنہ:

صفحہ 9 از 10