صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام

  حضرت مولانا محمدیوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ 1 از 4

صحابہؓ کا مقامِ بلند

اسلام محض چند اصول ونظریات اور علوم وافکار کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ وہ اپنے جلو میں ایک نظامِ عمل لے کر چلتا ہے، وہ جہاں زندگی کے ہرشعبے میں اصول وقواعد پیش کرتا ہے وہاں ایک ایک جزئیہ کی عملی تشکیل بھی کرتا ہے؛ اس لیے یہ ضروری تھا کہ شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) کی علمی وعملی دونوں پہلوئوں سے حفاظت کی جائے اور قیامت تک ایک ایسی جماعت کا سلسلہ قائم رہے جو شریعت مطہرہ کے علم وعمل کی حامل اور امین ہو۔ حق تعالیٰ نے دین محمدی کی دونوں طرح حفاظت فرمائی، علمی بھی اور عملی بھی۔

حفاظت کے ذرائع میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سرفہرست ہے، ان حضرات نے براہِ راست صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کو سمجھا، دین پر عمل کیا اور اپنے بعدآنے والی نسل تک دین کو من وعن پہنچایا، انھوں نے آپ کے زیرتربیت رہ کر اخلاق واعمال کو ٹھیک ٹھیک منشائے خداوندی کے مطابق درست کیا، سیرت وکردار کی پاکیزگی حاصل کی، تمام باطل نظریات سے کنارہ کش ہوکر عقائد حقہ اختیار کیے رضائے الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کردیا، ان کے کسی طرزِ عمل میں ذرا خامی نظر آئی تو فوراً حق جل مجدہ نے اس کی اصلاح فرمائی، الغرض حضرات صحابۂ کرامؓ کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کی تعلیم وتربیت اور تصفیہ وتزکیہ کے لیے سرورکائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم ومزکی اور استاد واتالیق مقرر کیاگیا۔ اس انعام خداوندی پر وہ جتنا شکر کریں کم ہے، جتنا فخر کریں بجا ہے۔

لَقَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَی الْمُؤمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِن کَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِی ضَلالٍ مُّبِینٍ۔

ترجمہ: بخدا بہت بڑا احسان فرمایا اللہ نے مومنین پر کہ بھیجا ان میں ایک عظیم الشان رسول ان ہی میں سے وہ پڑھتا ہے ان کے سامنے اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے، ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور گہری دانائی، بلاشبہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔ (سورۃ آل عمران: آیت، 164)

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی وعملی میراث اور آسمانی امانت چونکہ ان حضرات کے سپرد کی جارہی تھی؛ اس لیے ضروری تھا یہ حضرات آئندہ نسلوں کے لیے قابل اعتماد ہوں؛ چنانچہ قرآن وحدیث میں جابجا ان کے فضائل مناقب بیان کیے گئے؛ چنانچہ:

 وحی خداوندی نے ان کے تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاق وللہیت کی شہادت دی اور انہیں یہ رتبہ بلند ملا کہ ان کو رسالت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) کے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا۔

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ۔ (سورۃ الفتح: آیت، 29)

ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور جوایماندار آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں شفیق ہیں، تم ان کو دیکھوگے رکوع، سجدے میں، وہ چاہتے ہیں صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی۔ ان کی علامت ہے ان کے چہروں میں سجدے کا نشان۔

گویا یہاں محمد رسول اللہ (محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں) ایک دعویٰ ہے اوراس کے ثبوت میں حضرات صحابۂ کرامؓ کی سیرت وکردار کو پیش کیا گیا ہے کہ جسے آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں شک وشبہ ہو، اسے آپؐ کے ساتھیوں کی پاکیزہ زندگی کا ایک نظر مطالعہ کرنے کے بعد خود اپنے ضمیر سے یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ جس کے رفقاء اتنے بلند سیرت اور پاکباز ہوں وہ خود صدق وراستی کے کتنے اونچے مقام پر فائز ہوںگے ع

کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا

حضرات صحابہؓ کے ایمان کو ’’معیار حق‘‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی؛ بلکہ ان حضرات کے بارے میںلب کشائی کرنے والوں پر نفاق وسفاہت کی دائمی مہر ثبت کردی گئی۔

وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ آمِنُواْ کَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُواْ أَنُؤْمِنُ کَمَا آمَنَ السُّفَہَائُ أَلا إِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَاء وَلَـکِن لاَّ یَعْلَمُونَ

(سورۃ البقرۃ: آیت، 13)

ترجمہ: اور جب ان (منافقوں) سے کہا جائے ’’تم بھی ایسا ہی ایمان لائو جیسا دوسرے لوگ (صحابہ کرام) ایمان لائے ہیں‘‘ تو جواب میںکہتے ہیں ’’کیاہم ان بے وقوفوں جیسا ایمان لائیں‘‘؟ سن رکھو! یہ خود ہی بے قوف ہیں؛ مگر نہیں جانتے۔

حضرات صحابۂ کرام کو بار بار ’’رضی اللّٰہ عنہم ورضوا عنہ‘‘ (اللہ ان سے راضی ہوا، وہ اللہ سے راضی ہوئے) کی بشارت دی گئی اور امت کے سامنے اسے اتنی شدت وکثرت سے دہرایا گیا کہ صحابۂ کرامؓ کا یہ لقب امت کا تکیۂ کلام بن گیا کسی نبی کا اسم گرامی آپ ’’علیہ السلام‘‘ کے بغیر نہیں لے سکتے اور کسی صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام نامیؓ رضی اللہ عنہ کے بغیر مسلمان کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔

ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہر کو دیکھ کر راضی نہیں ہوا، نہ صرف ان کے موجودہ کارناموں کو دیکھ کر ان سے رضامندی کا اظہار کردیا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر وباطن اور حال و مستقبل کو دیکھ کر ان سے راضی ہوا ہے، یہ گویا اس بات کی ضمانت ہے کہ آخر دم تک ان سے رضائے الٰہی کے خلاف کچھ صادر نہیں ہوگا۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جس سے خدا راضی ہوجائے خدا کے بندوں کو بھی اس سے راضی ہوجانا چاہیے، کسی اور کے بارے میں تو ظن وتخمین ہی سے کہا جاسکتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہے یا نہیں؛ مگر صحابۂ کرامؓ کے بارے میں تو نص قطعی موجود ہے، اس کے باوجود اگر کوئی ان سے راضی نہیں ہوتا؛ بلکہ ان کو بہر۔ صورت، ’’غلط کار‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو گویا اسے اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے۔

صفحہ 1 از 4