صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام

  حضرت مولانا محمدیوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ 2 از 4

اور پھر صرف اتنی بات کو کافی نہیں سمجھا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا؛ بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ان حضرات کی عزت افزائی کی انتہا ہے۔

حضرات صحابۂ کرامؓ کے مسلک کو ’’معیاری راستہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے ہم معنی قرار دیاگیا اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو وعید سنائی گئی۔

وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُؤْمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَائتْ مَصِیراً (سورۃ النساء: آیت، 115)

ترجمہ: اور جو شخص مخالفت کرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی، جب کہ اس کے سامنے ہدایت کھل چکی اور چلے مومنوں کی راہ چھوڑ کر، ہم اسے پھیردیے گے جس طرف پھرتا ہے اور اسے داخل کریںگے جہنم میں اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے لوٹنے کی۔

آیت میں، المومنین ’’کا اولین مصداق اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس جماعت ہے رضی اللہ عنہم، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتباع نبوی کی صحیح شکل صحابہ کرامؓ کی سیرت کو اسلام کے اعلیٰ معیار پر تسلیم کیا جائے۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ انھیں آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سایۂ عاطفت میں آخرت کی ہر عزت سے سرفراز کرنے اور ہر ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنے کا اعلان فرمایا گیا۔

یَوْمَ لَا یُخْزِی اللَّہُ النَّبِیَّ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ نُورُہُمْ یَسْعَی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ

(سوری التحریم: آیت، 8)

ترجمہ: جس دن رسوا نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مومن ہوئے آپ کے ساتھ، ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے داہنے۔

اس قسم کی بیسیوں نہیں سیکڑوں آیات میں صحابۂ کرامؓ کے فضائل ومناقب مختلف عنوانات سے بیان فرمائے گئے ہیں اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر دین کے سلسلۂ سند کی یہ پہلی کڑی اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ حضرات کی جماعت معاذ اللہ، ناقابلِ اعتماد ثابت ہو، ان کے اخلاق واعمال میں خرابی نکال لی جائے اور ان کے بارے میں یہ فرض کرلیا جائے کہ وہ دین کی علمی وعملی تدبیر نہیں کرسکے تو دین اسلام کا سارا ڈھانچہ ہل جاتا ہے اور خاکم بدہن۔ رسالت محمدیہ مجروح ہوجاتی ہے۔ دنیا کا ایک معروف قاعدہ ہے کہ اگر کسی خبر کو، رد کرنا ہو تو اس کے راویوں کو جرح و قدح کا نشانہ بنائو، ان کی سیرت وکردار کو ملوث کرو اور ان کی ثقاہت وعدالت کو مشکوک ثابت کرو۔ صحابۂ کرامؓ چوںکہ دین محمدی کے سب سے پہلے راوی ہیں؛ اس لیے چالاک فتنہ پردازوں نے جب دین اسلام کے خلاف سازش کی اور دین سے لوگوں کو بدظن کرنا چاہا تو اس کا سب سے پہلا ہدف صحابۂ کرامؓ تھے؛ چنانچہ تمام فرق باطلہ اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود جماعت صحابہ کو ہدفِ تنقید بنانے میں متفق نظر آتے ہیں، ان کی سیرت وکردار کو داغدار بنانے اور ان کی شخصیت کو نہایت گھنائونے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی، ان کے اخلاق و اعمال پر تنقیدیں کی گئیں، ان پر مال وجاہ کی حرص میں احکام خداوندی سے پہلو تہی کرنے کے الزامات دھرے گئے۔ ان پر خیانت، غصب اور کنبہ پروری اقربا نوازی کی تہمتیں لگائی گئیں اور غلو وانتہا پسندی کی حد ہے کہ جن پاکیزہ ہستیوں کے ایمان کو حق تعالیٰ نے ’’معیار‘‘ قرار دے کر ان جیسا ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت تھی۔ آمنوا کما آمن الناس (پ۱، البقرہ ع۲) انہی کے ایمان وکفر کا مسئلہ زیربحث لایاگیا اور تکفیر وتفسیق تک نوبت پہنچادی گئی جن جاںبازوں نے دین اسلام کو اپنے خون سے سیراب کیا تھا۔ انہی کے بارے میں چیخ چیخ کرکہا جانے لگا کہ وہ اسلام کے اعلیٰ معیار پر قائم نہیں رہے تھے؛ حالانکہ ان مردانِ خدا کے صدق وامانت کی خداتعالیٰ نے گواہی دی تھی۔

رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُم مَّن قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُم مَّن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلاً (سورۃ الأحزاب: آیت، 23)

ترجمہ: یہ وہ مرد ہیں جنھوں نے سچ کردکھایا جو عہد انھوں نے اللہ سے باندھا، بعض نے تو جان عزیز تک اسی راستہ میں دے دی اور بعض (بے چینی سے) اس کے منتظر ہیں اور ان کے عزم واستقلال میں ذرا تبدیلی نہیں ہوئی۔

انہی کے حق میں بتایا جانے لگا کہ وہ صدق و امانت سے موصوف تھے، اخلاص وایمان کی دولت انھیں نصیب تھی، جن مخلصوں نے اپنے بیوی بچوں کو، اپنے گھر بار کو، اپنے عزیز واقارب کو، اپنے دوست احباب کو، اپنی ہر لذت وآسائش کو، اپنے جذبات و خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کردیا تھا، انہی کو یہ طعنہ دیاگیا کہ وہ محض حرص وہوا کے غلام تھے اور اپنے مفاد کے مقابلے میں خدا ورسول کے احکام کی انھیں کوئی پروا نہیں تھی۔ لقد جئتم شیئًا اِدّاً۔

ظاہر ہے کہ اگر امت کا معدہ ان بے ہودہ نظریات کی مردہ مکھی کو قبول کرلیتا اور ایک بار بھی صحابۂ کرامؓ امت کی عدالت میں مجروح قرار پاتے تو دین کی پوری عمارت گرجاتی قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ایمان اٹھ جاتا اور یہ دین جو قیامت تک رہنے کے لیے آیا تھا ایک قدم آگے نہ چل سکتا؛ مگر یہ سارے فتنے جو بعد میں پیداہونے والے تھے۔علم الٰہی سے اوجھل نہیں تھے؛ اس لیے اس کا اعلان تھا۔

وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ

ترجمہ: اور اللہ اپنا نور پورا کرکے رہے گا۔ خواہ کافروں کو یہ ناگوار ہو۔

یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بار بار مختلف پہلوئوں سے صحابۂ کرامؓ کا تزکیہ فرمایا۔ ان کی توثیق و تعدیل فرمائی اور قیامت تک کے لیے یہ اعلان فرما دیا:

أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِہِمُ الإِیمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ (سورۃ المجادلۃ: آیت، 22)

ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے لکھ دیا ان کے دل میں ایمان اور مدد دی ان کو اپنی خاص رحمت سے۔

صفحہ 2 از 4