صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صحابہ رضی اللہ عنہ کا بلند مقام

  حضرت مولانا محمدیوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ 3 از 4

ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابۂ کرامؓ کے بے شمار فضائل بیان فرمائے بالخصوص خلفائے راشدین، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان ذی النورین، حضرت علی مرتضیٰ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے فضائل کی تو انتہا کردی، جس کثرت وشدت اور تواتر و تسلسل کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے فضائل ومناقب ان کے مزایا (خصوصیت اور ان کے اندرونی اوصاف وکمالات کو بیان فرمایا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے علم میں یہ بات لانا چاہتے تھے کہ انھیں عام افراد امت پر قیاس کرنے کی غلطی نہ کی جائے، ان حضرات کا تعلق چونکہ براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے ہے؛ اس لیے ان کی محبت عین محبت رسول ہے اور ان کے حق میں ادنیٰ لب کشائی ناقابل معافی جرم فرمایا:

اللّٰہَ اللّٰہَ فی اصحابی، اللّٰہ اللّٰہ فیاصحابی لا تَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا من بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اذاہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ ومن اذی اللّٰہ فیوشِک ان یأخذَہ۔

ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں مکرر کہتاہوں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا؛ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض رکھنے کی بنا پر جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔

امت کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا گیا کہ تم میں سے اعلیٰ سے اعلیٰ فرد کی بڑی سے بڑی نیکی ادنیٰ صحابی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا مقابلہ نہیں کرسکتی؛ اس لیے ان پر زبانِ تشنیع دراز کرنے کا حق امت کے کسی فرد کو حاصل نہیں، ارشاد ہے:

لاَ تَسُبُّوا أصحابی فلو أنَّ احدََکم اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا ما بَلَغَ مُدَّ احَدِہم ولا نَصِیْفَہٗ (بخاری، مسلم)

میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کو؛ کیونکہ تمہارا وزن ان کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں جتنا پہاڑ کے مقابلہ میں ایک تنکے کا ہوسکتاہے؛ چنانچہ تم میں سے ایک شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کردے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کے عشر عشیر کو۔

مقامِ صحابہ کی نزاکت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ امت کو اس بات کا پابند کیاگیا کہ ان کی عیب جوئی کرنے والوں کو نہ صرف ملعون ومردود سمجھیں؛ بلکہ یہ برملا اس کا اظہار کریں، فرمایا۔

إذَا رَأیتُمُ الذینَ یَسُبُّونَ أصحابی فقولوا لعنۃُ اللّٰہ علی شَرِّکُم (رواہ الترمذی)

جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے اور انھیں ہدف تنقید بناتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے (یعنی صحابہ اور ناقدین صحابہ میں سے) جو بُرا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو (ظاہر ہے کہ صحابہ کوبُرا بھلا کہنے والا ہی بدتر ہوگا)۔

یہاں تمام احادیث کا استیعاب مقصود نہیں؛ بلکہ کہنا یہ ہے کہ ان قرآنی و نبوی شہادتوں کے بعد بھی اگر کوئی شخص حضرات صحابہ کرامؓ میں عیب نکالنے کی کوشش کرے تو اس بات سے قطع نظر کہ اس کا یہ طرز عمل قرآن کریم کے نصوص قطعیہ اور ارشادات نبوت کے انکار کے مترادف ہے، یہ لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو فرائض بحیثیت منصب نبوت کے عائد کیے تھے اور جن میں اعلیٰ ترین منصب تزکیہ نفوس کا تھا، گویا حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فرض منصبی کی بجا آوری سے قاصر رہے اور صحابۂ کرامؓ کا تزکیہ نہ کرسکے اور یہ قرآن کریم کی صریح تکذیب ہے۔ حق تعالیٰ تو ان کے تزکیہ کی تعریف فرمائے اور ہم انھیں مجروع کرنے میں مصروف رہیں اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے تزکیہ سے قاصر رہے تو گویا حق تعالیٰ نے آپؐ کا انتخاب صحیح نہیں فرمایا تھا۔ بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں قصور نکلا تو اللہ تعالیٰ کا علم غلط ہوا۔ (نعوذُ باللّٰہ مِنَ الغَوَایَۃِ والسَّفَاہَۃ) چنانچہ اہل ہوا کی بڑی جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ’’بدا‘‘ ہے یعنی اسے بہت سی چیزیں جو پہلے معلوم نہیں تھیں بعد میں معلوم ہوتی ہیں اور اس کا پہلا علم غلط ہوجاتاہے جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور ہو رسول اور نبی اور ان کے بعد صحابۂ کرامؓ کا ان کے نزدیک کیا درجہ رہے گا؟

الغرض صحابۂ کرامؓ پر تنقید کرنے، ان کی غلطیوں کو اچھالنے اور انھیں موردِ الزام بنانے کا قصہ صرف ان ہی تک محدود نہیں رہتا؛ بلکہ خدا اور رسول، کتاب وسنت اور پورا دین اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور دین کی ساری عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔ بعید نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میںجو اوپر نقل کیا گیاہے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہو۔

من اذاہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ ومن اذی اللّٰہ فیوشِک ان یَاخذَہ۔

جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی اورجس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ۔ لے۔

اور یہی وجہ ہے کہ تمام فرق باطلہ کے مقابلہ میں اہل حق کا امتیازی نشان صحابۂ کرامؓ کی عظمت و محبت رہا ہے۔ تمام اہل حق نے اپنے عقائد میں اس بات کو اجماعی طور پر شامل کیاہے کہ

ونَکُفُّ عن ذکرِ الصحابہ الا بِخَیرٍ

اور ہم صحابہؓ کا ذکر بھلائی کے سوا کسی اور طرح کرنے سے زبان بند رکھیں گے۔

گویا اہل حق اور اہل باطل کے درمیان امتیاز کا معیار صحابۂ کرامؓ کا ’’ذکر بالخیر‘‘ ہے جو شخص ان حضرات کی غلطیاں چھانٹتا ہو ان کو مورد الزام قرار دیتا ہو اور ان پر سنگین اتہامات کی فرد جرم عائد کرتا ہو وہ اہل حق میں شامل نہیں ہے۔ اہل حق کی شان تو یہ ہے کہ اگر ان کے قلم وزبان سے کوئی نامناسب لفظ نکل جائے تو تنبیہ کے بعد فوراً حق کی طرف پلٹ آئیں۔ حق تعالیٰ جل ذکرہ ہمیں اورہمارے تمام مسلمان بھائیوں کو ہر زیغ وضلال سے محفوظ فرمائے اور اتباع حق کی توفیق بخشے۔

صفحہ 3 از 4