لفظ شیعہ کے لغوی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کے لغوی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 5

کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ وسلام حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کے گھروں سے اور ان کے معنی منہج اور طریقہ کار پر عمل پیرا تھے 
تفسیر طبری جلد ہی صفحہ 23/69
تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 13
تفسیر قرطبی جلد 15 صفحہ 91 
زادالمسیر جلد 7 صفحہ 67 
اس آیت کریمہ کے سیاق و سباق کی رو سے بھی یہی تفسیر درست معلوم ہوتی ہے 
یہاں ایک ضعیف قول بھی منقول ہے جو فراء کی طرف منسوب ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ وسلام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گروہ اور متبعین میں سے ہیں امام شوکانی فرماتے ہیں اس قول کی کمزوری اور سیاق  سے مخالفت مخفی نہیں ہے
فتح القدیر جلد 4 صفحہ 401 
علامہ آلوسی رقمطرازہیں فراء کا قول  کہ اس لفظ شیعتہ میں ضمیر کا مرجع جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
لیکن راجہ بات وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے کہ یہ ضمیر نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہی بات ائمہ تفسیر ابن عباس مجاہد قتادہ اور سدی سے منقول ہے
اور اس لئے بھی کہ کسی متقدم کے حق میں یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے سے متاخر کا شیعہ پیروکار ہے 
روح المعانی جلد23/99۔۔
کیونکہ اس آیت سے ماقبل کی آیت حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام ہی سے متعلق ہے اور یہ امر توجہ طلب ہے کہ کہ شیعہ مفسرین نے بھی اس آیت کی تفسیر میں علماء اہلسنت کے قول ہی کو ترجیح دی ہے اور اپنے ہم مذہب علماء کی رائے کو نظر انداز کر دیا ہے
مجمع البیان جلد 5 صفحہ 67 
قرآن مجید میں جہاں پر ابراہیم علیہ السلام کے دین کا ذکر کیا ہے، وہاں یوں ارشاد فرمایا ہے:
'' ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی لیکن وہ تو یک سو مسلم تھے۔"(آل عمران ۶۷)
اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا دین بیان کرتے ہوئے ( حنیفاً مسلما )کہا ہے ۔ اگر وہ مذہباً شیعہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتے:ما کان ابراھیم یھودیا ولا نصر انیا ولکن کان شیعۃ۔ لیکن قرآن میں اس طرح مذکور نہیں۔ تو یہ واضح دلیل ہے
 تفسیر مجمع البیان ؛۔ 

"وان من شیعتہ لابراھیم ای واِنَ من شیعۃ نوح ابراھیم یعنی انہ علیٰ منھاجہ وسنتہ فی التوحید والعدل واتباع الحق"۔ حوالہ۔ تفسیر مجمع البیان جلد ۴ جز ۸ ص ۴۴۹ پاره نمبر ۲۳مطبوعه تهران طبع جديد۔ 

ترجمہ؛۔ "اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اور بے شک ابراہیم اس کے شیعہ میں سے ہیں) یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے شیعہ میں سے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام اسی طریقہ اور اسی راستہ ء توحید وعدل اور اتباع حق پر تھے ۔ جو حضرت نوح علیہ السلام کا تھا"۔
حدیث میں میں لفظ شیعہ کا ورود 
سنت مطہرہ میں لفظ شیعہ اتباع پیروکار کے معنوں میں وارد ہوا ہے جیسے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا :لم ارک عدلت۔ میری رائے میں آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا تو اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
سیکون لہ شیعة یتعمقون فی الدین حتی یخرجوامنہ
رواہ احمد 12۔3۔5
السنہ 2/454
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کی سنجیدہ ہے اور اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں 
امام عبداللہ بن امام احمد فرماتے ہیں اس حدیث کے آسمان میں متعدد طرق ہیں جو سارے صحیح ہیں 
علامہ احمد شاکر فرماتے ہیں اس کی سند صحیح ہے 
عنقریب اس کے ایسے پیروکار ہوں گے جو دین میں بڑا تشدد کریں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا وہ دین سے باہر نکل جائیں گے 
اسی طرح ایک اور حدیث میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں فرمایا ہے 
وھم شیعة الدجال:یعنی وہ دجال کے پیروکار ہوں گے 
سنن ابی داود جلد 5 صفحہ 67 
سنن ابی داود للمنذری جلد 7 صفحہ 61 
مسند احمد جلد 5 صفحہ 407 
امام منزری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کی سند میں عمر مولا راوی نہ قابل احتجاج ہے ہر ایک انصاری آدمی موجود ہے 
بس لفظ شیعہ یہاں اصحاب اتباع اور انصار کے مترادف استعمال ہوا ہے
کتب احادیث میں  تلاش وجستجو کے باوجود مجھے  موجودہ فرقہ شیعہ کے لیے بطور علم اس لفظ کا استعمال نظر نہیں آیا  البتہ بعض ضعیف اور موضوع روایات میں یہ لفظ شیعان علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وارد ہوا ہے ایک من گھڑت حدیث میں ہے 
فاستغفرت لعلی وشیعتہ
پس میں نے علی اور ان کے متبعین کے لیے دعائے مغفرت کی ہے 
امام عقیلی فرماتے ہیں یہ بے اصل روایت ہے اور امام کنانی نے اسے موضوع قرار دیا ہے دیکھی
 تنزیہ الشریعہ جلد 1 صفحہ 414 
 ایک حدیث میں ہے 

مثلی مثل شجرة انا اصلھاوعلی فرعھا والشیعة ورقھا

صفحہ 4 از 5