ایمان بچائیے! - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ایمان بچائیے!

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 7

ایمان بچائیے!

ہم اللہ کے بندے ہیں ، ہم پر اسی کی بندگی واجب ہے، اس کے علاوہ کسی کی بندگی جائز نہیں ، یہی ’’توحید‘‘ ہے، بندگی سکھانے کے لیے اللہ نے نبیوں  کو بھیجا یہی ’’رسالت‘‘ ہے، پہلے نبی حضرت آدم اور آخری نبی جناب محمد رسول اللہ… ہیں ، اللہ اور رسول کی باتوں  کو ماننا ہی ’’اسلام‘‘ ہے، اسلام ہر انسان کا اصلی مذہب ہے، اسی پر انسان کو پیدا کیاگیا ہے؛ مگر ماں  باپ اور مخالفِ اسلام ماحول کی وجہ سے انسان اپنے اصل مذہب سے ہٹ جاتا ہے، حدیث شریف میں  ہے:

کُلُّ مولودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہ یُہَوِّدَانِہٖ أو یُنَصِّرانِہٖ أو یُمَجِّسَانِہٖ (بخاری: 1385)

ترجمہ: ’’ہر بچہ (اسلام کی) قابلیت پر پیدا ہوتا ہے؛ لیکن اس کے ماں  باپ اُسے یہودی بنالیتے ہیں ، یا نصرانی بنالیتے ہیں ، یا مجوسی بنالیتے ہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں  کو اس کے اصلی مذہب پر چلنے کا حکم فرمایا ہے، اس کے لیے ’’عہد الست‘‘ میں  اپنی معرفت کی ایک جھلک دکھاکر دلوں  میں  ایمان کی ایک چمک ڈال دی تھی، اگر انسان اپنے خراب ماحول سے متاثر نہ ہوتو وہ بلاتکلف اسلام ہی کو مانے گا، اسی کو یاد دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حنیفًا، فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا(سورۃ روم: آیت،39)

ترجمہ: لہٰذا تو ایک طرف ہوکر دین (اسلام) پر سیدھا منھ کیے چلا جا، اللہ کی دی ہوئی قابلیت و صلاحیت پر، جس پر اس نے لوگوں  کو پیدا کیا ہے۔‘‘

سارے انسانوں  کا مذہب اسلام ہی ہے، آٹھ سو سال بعد حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے گمراہی آئی اور چند لوگوں  نے بتوں  کی پوجا شروع کردی؛ اس لیے اللہ نے جنت کی خوش خبری دینے والے اور جہنم سے ڈرانے والے نبیوں  کو بھیجا۔ (سورۃ بقرہ: آیت، 213 روح البیان)

اصلی مذہب یعنی اسلام کو قبول نہ کرنے والے جہنم میں  جائیں  گے؛ اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ پوری کائنات کے انسانوں  کی خیرخواہی کریں  اور اُن کو فطری مذہب کی طرف بلائیں ، اسی کا نام ’’دعوت‘‘ ہے۔ اگر وہ سارے انسانوں  کو دعوت پہنچا نہیں  سکتے تو کم سے کم اپنے مسلمان بھائیوں  کو سنبھالیں  کہ وہ بھٹک نہ جائیں !

ایمان سب سے بڑی نعمت

دنیا میں  اللہ تعالیٰ نے جتنی نعمتیں  اُتاری ہیں ، اُن میں  سب سے بڑی نعمت ایمان ہے، اس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے، فقہائے کرام نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اگر اسلام کی حفاظت کے لیے مسلمانوں  کو جان، مال اور نسل (اولاد) سب کچھ قربان کردینے کی نوبت آئے تو بھی اس میں  دریغ نہ کرے (موافقات امام شاطبی)

آج ہم دنیا کو دیکھ رہے ہیں ، لذت لے رہے ہیں ؛ اس لیے اس کی قدر ہے، آخرت میں  جنت کو دیکھیں گے اس کی لذت لیں گے تو سمجھ میں  آئے گا کہ جنت کے مقابلے میں  دنیا کی لذت کی کوئی حیثیت نہیں ؛ لیکن یہ دنیا اسی حد تک مفید ہے؛ جب تک کہ اس کے ذریعے اللہ کی فرماں  برداری کی جائے، اگر اس کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی ہونے لگے تو دنیا کو تھوک دینا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

قارون کو اللہ تعالیٰ نے ’’حافظِ تورات‘‘ بنایا تھا؛ مگر دنیا کی محبت اس میں  اتنی داخل ہوگئی کہ وہ زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے لگا اور دین سے پھر گیا، اللہ تعالیٰ نے اُسے پوری دولت کے ساتھ زمین میں  دھنسا دیا، اس کے دھنسنے سے پہلے بہت سے لوگ اس کی دولت پر رال ٹپکارہے تھے؛ مگر جب معلوم ہوا کہ وہ عذاب میں  گرفتار ہوگیا تو لوگوں  نے کہا: توبہ توبہ، دنیا کوئی چیز نہیں ، مال ودولت سب فانی ہیں ، باقی صرف اللہ کی ذات ہے اور آخرت کا ثواب سب سے بہتر ہے اور وہ ایمان اور عمل صالح پر جمنے کے بعد ہی نصیب ہوگا۔ (سورۃ قصص: آیت 79، 80)

ایمان کے لیے نبیوں  کی فکر

دنیا میں  اللہ کا پیغام نبیوں  نے پہنچایا ہے، خود اس پیغام پر ایمان لائے اور عمل کرکے دوسروں  کو بتایا، لوگوں  کو ایمان کی دعوت دی، ماننے والوں  کو جنت کی خوش خبری دی اورنہ ماننے والوں  کو جہنم سے ڈرایا، اس دنیا میں  نبیوں  کے علاوہ کسی کے ایمان کے باقی رہنے کی کوئی گارنٹی نہیں ، پھربھی انبیائے کرامؑ نے ایمان کی فکر کی، ایمان کے ضائع ہونے سے ڈرنے اور ڈرتے رہنے کی تلقین فرمائی۔

حضرت ابراہیم  اور حضرت یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو ایمان پر جمے رہنے اور ایمان پر ہی مرنے کی وصیت فرمائی:

وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (سورۃ البقرہ: آیت، 132)

ترجمہ: اور اسی بات کی ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں  کو تاکید کی کہ اے میرے بیٹو! یقینا اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو چن دیا ہے؛ لہٰذا ہرگز نہ مرنا؛ مگر اس حالت میں  کہ تم مسلمان رہو!

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد سے ایمان پر باقی رہنے کا وعدہ لیا تھا، انھیں  فکر تھی کہ میں  تو مسلمان ہوں ، زندہ ہوں  تو اولاد کی نگرانی کررہا ہوں ؛ لیکن چوں کہ نبیوں  کی اولاد کے ایمان کی کوئی گارنٹی نہیں  تھی کہ وہ ایمان پر باقی رہے گی یا نہیں ؟ اس لیے انھوں  نے وعدہ لیا، جب سب نے مسلمان رہنے کا اقرار کیا اور ان کو اطمینان دلایا تب اُن کی پریشانی دور ہوئی، آیت ملاحظہ ہو!

أَمْ کُنْتُمْ شُہَدَائَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (سورۃ بقرہ: آیت، 133)

ترجمہ: کیا تم موجود تھے جب یعقوب کو موت آئی؟ جب انھوں  نے اپنے بیٹوں  سے کہا: تم میرے بعد کس کی بندگی کروگے؟ انھوں  نے کہا: ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی بندگی کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اُسی کے فرماں  بردار ہیں ۔

اور حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی:

تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَاَلْحِقْنِي بالصالحین (سورۃ یوسف: آیت 101)

ترجمہ: مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں  موت دیجیے! اور نیک لوگوں  سے ملا دیجیے!

صفحہ 1 از 7